جے سنڈا آرڈرن اوراکبر لون

(Dilpazir Ahmed, Rawalpindi)
جنگ کا عنوان ہی نہیں مقام بھی بدل رہا ہے۔ ۱۹۷۹ میں شروع ہونے والی جنگ اب نفرت اور محبت میں بدل چکی ہے۔نفرت پھیلانے والے دہشت گرد اور انسانیت کے دشمن ہیں۔انسانیت کے دشمنوں کا نام اگر ایک انسان دوست شخصیت لینا پسند نہیں کرتی تو ہم اس عمل کیتقلید میں اپنے خطے کے انسان دشمنوں کے نام بھی نہیں لیتے ۔ انسانیت کے دوستوں کا نام البتہ کہیں جے سنڈا آرڈرن اورکہیں اکبر لون ہے۔

رابرٹ حارس نے کہا تھا آپ پہاڑ کو دیکھیں آپ کو ایک منظر دکھائی دے گا، وقت کی تبدیلی ، روشینیوں کے زاویے کی تبدیلی یا دیکھنے کے مقام کی تبدیلی پر پورا منظر ہی تبدیل ہو جاتا ہے ۔ حالانکہ پہاڑ وہی ہوتا ہے۔
واقعات بھی پہاڑ کی طرح ہوتے ہیں۔ان کے دیکھنے کے مقام اور حالات واقعات کے منظر کو بدل کر رکھ دیتے ہیں۔

۱۵ جنوری ۲۰۱۹ کو نیوزی لینڈ میں دو مساجد میں پیش آنے والے واقعات نے واقعات کے اس پہاڑ کا منظر بدل کر رکھ دیا ہے ۔ جس پہاڑ کا نام ْ امن ْ ہے، حالیہ تاریخ میں اسلام کے پیروکاروں کی یہ خوبی با شعور لوگوں کو پہلی بار دکھائی دی ہے کہ وہ دوسرے انسان سے ملتے وقت اس پر ْ امن ْ کی دعا پڑہتے ہیں ۔ ایک ٹی وی چینل کی نمائندہ محترمہ کانوا للوڈیہ سن کر ششدر رہ گی ۔ جب ایک مسلمان خاتون ، اپنے خاوند اور ۲۲ سالہ جوان بیٹے کی میت پر قاتل کے لیے اپنے دل میں رحم کا جذبہ پاتی ہے۔اس کی یہ بات سننے والوں کو نئی لگی کہ اس کا دین ایسے لمحات میں اس کو سہارا دیتا ہے۔محترمہ امبریں نعیم نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ انھیں قاتل پر اس لیے رحم آرہا ہے کہ اس کے دل میں نفرت تھی۔

۱۹۷۹ میں جنم لینے والی جنگ کو مختلف اوقات اور مختلف ممالک میں مختلف نام دیے گئے۔پہلے یہ نظریات کی جنگ تھی، پھر اس کا عنوان تہذیبوں کی جنگ رکھا گیا، بعد میں یہ مذہبی جنگ کہلائی مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ نفرت اور محبت کی جنگ ہے۔ نام کی تبدیلی کے ساتھ ہی اس جنگ کے مقامات بھی تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ جب یہ نظریات کی جنگ تھی اس وقت جرمنی اور روس میں لڑی گئی۔ مذہبی جنگ افغانستان سے لے کر مشرق وسطیٰ تک لڑی گئی۔ نیوزی لینڈ میں ہونے والے واقعات لبنان کے صابرہ اور شتیلا کے مقام پر ہونے والے واقعات کا تسلسل ہیں ۔اس وقت بھی بنیاد انسانوں سے نفرت تھی اس وقت بھی منشور انسانوں سے نفرت پر مبنی ہے۔

نیوزی لینڈمیں ہونے والے واقعات پر نیوزی لینڈ کے اندر سے جو رد عمل اٹھا ہے اسے دنیا کے مختلف مقامات سے مختلف نظر سے دیکھا گیا ہے۔امریکہ والے یہ دیکھ کرحیران ہوئے کہ ۳۸ سالہ کیوی وزیر اعظم نے اپنے شہریوں سے خودکار مہلک ہتھیار واپس لینے کے لیے اس واقعہ کو کس خوبصورتی سے استعمال کیا ہے۔ نیوزی لینڈ کے شہریوں نے اس حکمت عملی کی داد دی جس کے تحت ملک کے اندر نفرت پر مبنی ۷۲ صفحات کے منشورکے غبارے سے ہوا نکالی گئی۔ جو عشروں میں نہائت نفرت سے تیار کیا گیا تھا۔ مسلمان ممالک میں بسنے والے لوگوں نے پہاڑ کے نامانوس منظر کو مانوس بیانیے میں ڈہلتے منظر میں بدلتے دیکھا۔ دنیا کے حکمرانوں کو ْ کسی بھی وقت پھٹ جانے کو تیارْ بارود کا بتایا گیا پہاڑ، جس کی وادیوں میں مقیم سارے کے سارے لوگ دہشت گرد اور انتہا پسند بنا کر پیش کیے جاتے تھے۔ ان لوگوں کو دنیا نے دیکھا کہ ۵۰ لاشے اٹھا کر بھی یہ لوگ انسانیت کو امن کی دعا دے رہے ہیں۔

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے واقعات کو دیکھنے کا نیا انداز دنیا کے سامنے رکھا ہے، امریکی صدر کے انداز کے برعکس، دنیا نے اس انداز کی تعریف ہی نہیں کی بلکہ اس انداز پر اطمینان کا سانس لیا ہے۔ دنیا کے بیشتر حصوں میں ان چشموں کی فروخت رک گئی ہے جن کو پہن کرکالا کوا سفید دکھائی دیتا تھا۔ البتہ کشمیر میں نفرت کے ان چشموں کی لوٹ سیل لگ چکی ہے۔اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ جنت نظیر کشمیر کے پہاڑ خوبصورت نہیں ہیںیا ان پہاڑوں کے دامن میں بسنے والے انسان کسی ایسے نظریے کے پیروکار ہیں جو انسانیت کے لیے خظرناک ہیں بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ ان خوبصورت پہاڑوں اور ان کی وادیوں میں بسنے والے مظلوم لوگوں کی جو تصویر کشی کی جارہی ہے وہ حقیقی نہیں ہے ۔ پہاڑ کی منظر کشی کے لیے کیمرہ مین کو جس مقام پر کھڑا کیا جاتا ہے۔اس مقام سے خوبصورتی کا منظر دحندلاجاتا ہے۔ عکاس کیمروں کے عدسوں پر جو فلٹر لگایا جاتا ہے ناقص ہے۔یہ سارا عمل جھوٹ اور بد نیتی پر مبنی ہے ۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ نیوزی لینڈ سے محترمہ جے سنڈا آرڈرن صاحبہ محبت اور رواداری کا پرچار کریں تو ان کی تعریف کی جائے ۔ مگر کشمیر میں کھڑے ہو کر جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس پارٹی کے رکن جناب اکبر لون صاحب سرحد کے پار بسنے مسلمان ملک کو ہمیشہ آباد اور کامیاب ہونے کی دعا دیں تو ان کے اس عمل کی مذمت کی جائے۔ نیوزی لینڈ کے کریسنٹ چرچ اور جموں کے درمیاں ۱۳ ہزار کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ دونوں شہر دنیا کی دو انتہاوں پر واقع ہیں ۔ مواصلاتی رابطوں نے آج ذہنی فاصلوں کو مگرسمیٹ دیا ہے۔ نیوزی لینڈ میں بیٹھ کر قاتل کے لیے دل میں رحم محسوس کرنا محبت کا عنوان بنتا ہے تو ہمسائے ملک کو دعا دینا تو اس سے بڑھ کر کلمہ خیر اور امن آور ہے۔ جناب اکبر لون کا بیان قابل مذمت نہیں ہے ۔قابل مذمت وہ رویہ ہے جو نفرتوں کو جنم دیتا ہے ، انسان کو انسان کا دشمن بناتا ہے، مظلوموں کو ظالم اور ریاستی جبر کے شکار معصوم انسانوں کو دہشت گرد بنا کر پیش کرتا ہے۔

جنگ کا عنوان ہی نہیں مقام بھی بدل رہا ہے۔ ۱۹۷۹ میں شروع ہونے والی جنگ اب نفرت اور محبت میں بدل چکی ہے۔نفرت پھیلانے والے دہشت گرد اور انسانیت کے دشمن ہیں۔انسانیت کے دشمنوں کا نام اگر ایک انسان دوست شخصیت لینا پسند نہیں کرتی تو ہم اس عمل کیتقلید میں اپنے خطے کے انسان دشمنوں کے نام بھی نہیں لیتے ۔ انسانیت کے دوستوں کا نام البتہ کہیں جے سنڈا آرڈرن اورکہیں اکبر لون ہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 167 Print Article Print
About the Author: Dilpazir Ahmed

Read More Articles by Dilpazir Ahmed: 93 Articles with 34949 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: