پاکستان اﷲ کی پناہ میں ہے۔ ان شاء اﷲ

(Aslam Lodhi, Lahore)

وہ بزرگ بولے ڈاکٹر صاحب مجھے بتائیے کیا چاغی کے اس علاقے میں سانپ ‘ بچھو تھے ‘ ڈاکٹر صاحب نے بتایا بے شمار ‘ بزرگ بولے تو یہ بتائیں کسی ایک بچھو یا سانپ نے آپ یا آپ کی ٹیم کے کسی فرد کو ڈسا ‘ ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا ہرگز نہیں بلکہ ہم خودحیران تھے کہ موذی جانور وں کا کام ہی ڈسناہے کبھی نیند کی حالت میں ہماری چھاتی پر بھی رینگتے پائے گئے توہم گبھرا کر اٹھ کھڑے ہوئے ‘ بزرگ پھر بولے‘ بچھوؤں اور سانپوں کو ڈسنے سے اس طرح منع کردیاگیا تھا جس طرح آگ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جلانے سے منع کردیا گیا تھا ۔پھر بزرگ نے کہا کیا کیمپوٹر اور ایٹم بم کے درمیان تنصیبات میں پانی نہیں بھر گیا تھا ‘ عام دنوں میں وہ پانی کتنے وقت میں خشک ہوتا ہے لیکن آپ کیمپوٹر کتنے وقت میں دوبارہ ایکٹو ہوگیا تھا ‘ ڈاکٹر صاحب نے کہا بالکل ٹھیک ہے ‘ ہم تو پریشان ہوگئے تھے کہ کہیں ایٹمی دھماکے کرنے میں ہم ناکام ہی نہ ہوجائیں ‘نواز شریف بار بار ہم سے ایٹمی دھماکوں کے بارے میں پوچھ رہے تھے ‘ پھر حیرت انگیز طور پر کمیپوٹراورایٹم بم کے درمیان تنصیبا ت خودبخود ایکٹو ہوگئیں ۔بزرگ نے کہا یہ کام اﷲ کے حکم سے فرشتوں نے انجام دیا ۔آخر میں بزرگ نے بتایا کہ میں نے آپ کو اس لیے دیکھتے ہی پہچان لیا کہ آپ کی شکل جیسی شبیہ نبی کریم ﷺ نے پوری کائنات کے ولیوں کو دکھاکر فرمایا تھا کہ ہر صورت ان کی حفاظت کرنی ہے ۔ واقعات تو بے شمار ہیں لیکن فی الوقت اسی پر اکتفا کرتے ہیں ‘آج جب پاکستان اور بھارت کی فوجیں ایک بار پھر آمنے سامنے تیار کھڑی ہیں چندایک واقعات کاتذکرہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں ‘ رات کے اندھیرے میں 26فروری کو بھارتی فضائیہ کے طیارے ہدف پر بم گرانے میں ناکام رہے ‘ بلکہ اسرائیلی ساخت کے یہ بم بالکل صحیح سلامت افواج پاکستان کے ہاتھ لگے جیسے کوئی مفت میں جدید ٹیکنالوجی سے پاکستان کو آراستہ کرنے کا اسباب پیدا کررہا ہے ۔اگلے دن دشمن پوری دنیامیں رسوا ہوجاتاہے بھارت کے دوجنگی طیارے ‘ایک ہیلی کاپٹر اور سات آٹھ اعلی افسران سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ‘بھارتی فضائیہ کا ایک اعلی افسر جسے پاکستان پر حملہ آور ہونے کے لیے بھیجا جارہاتھا اچانک خود کشی کرلیتا ہے ۔ایک بھارتی پائلٹ تو طیارے سمیت گرکر ہلاک ہوجاتاہے تو دوسرا پائلٹ ابھی نندن پاکستانی فوج کے ہاتھ گرفتار ہوجاتا ہے ‘ یاد رہے کہ اس حملے سے پہلے دو بھارتی طیارے آپس میں ٹکرا کر تباہ ہوجاتے ہیں جبکہ ایک پرندہ بھارتی طیارے سے ٹکرا تا ہے اور طیارہ زمین بوس ہوجاتاہے ‘پاکستان کا بھارت پر ایسا رعب پڑتاہے کہ اس کی فوج پاکستان کے خلاف براہ راست جنگ سے صاف انکار کردیتی ہے مجبورا بھارت میزائل حملے کی تیاری کرتاہے ابھی حملے سے متعلق میٹنگ ختم نہیں ہوپاتی کہ پاکستان کو خبر ہوجاتی ہے پاکستان ‘ بھارت سے پہلے اپنے میزائل فائرنگ رینج میں لگالیتا ہے اس سے دشمن پرایسا رعب پڑتا ہے کہ اس کے اوسان خطا ہوجاتے ہیں ۔جنگ سے قبل دشمن کا خوفزدہ ہوجانا یہ اﷲ تعالی کی خصوصی مدد قرارپاتی ہے ۔ یہ بھی دیکھیں کہ بھارت نے واشگاف الفاظ میں پاکستانی دریاؤں کا پانی بند کرنے کااعلان کیا تھا قدرت خداوندی حرکت میں آتی ہے اور آسمان پر کالی گھٹائیں چھاجاتی ہیں ملک کے طول وعرض میں ایسی بارشیں برستی ہیں کہ جل تھل ہوجاتا ہے ‘وہ بلوچستان جو خشک سالی کا شکا ر تھا اس کے ذرے ذرے میں بارش کا پانی پہنچ چکا ہے ۔پہاڑوں میں غیر متوقع طوپر برف باری شروع ہوجاتی ہے ‘ یہ کہا جاسکتا ہے کہ لوگوں کو ایک منٹ کے لیے بھی پانی کی کمی محسوس نہیں ہوئی ۔بھارتی آبدوز پاکستانی سمندر میں نقب لگانے کی جستجوکرتی ہے ‘ پاک بحریہ کی وارننگ کے بعد اسے دوبارہ ہمت نہیں ہوتی ‘ زمینی افواج کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کے چھکے چھڑا رہے ہیں ‘ کنٹرول لائن سے بھارتی فوجیوں کی اتنی نعشیں گھروں کو جاچکی ہیں کہ بھارتی حکومت بوکھلا چکی ہے ۔وہ اپنے سرپرستوں کے سہارے سلامتی کونسل میں ایک پاکستانی مسعود اظہر پر پابندی کی قرار داد لے کر جاتا ہے وہاں چین کا ویٹو کام آتاہے ۔ اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگاکہ بھارت بیک وقت سمندر ‘ فضا اور زمین پر مسلسل شکست سے ہمکنار ہورہا ہے ۔کیایہ عجیب بات نہیں کہ بھارت ‘ اپنی خفت مٹانے کے لیے افغانستان کو پاکستان پر حملہ آور ہونے کے لیے اکساتا ہے ابھی یہ منصوبہ سوچ بچار پر ہی مشتمل تھا کہ افغان ائیرپورٹ طالبان یلغار کرکے کتنے ہی افغان فوجیوں کو ہلاک کردیتے ہیں ‘افغان فوج اندرون ملک ہی طالبا ن مصروف جنگ ہوجاتی ہے ۔بھارت اور اس کے سرپرست امریکہ کی ہر ممکن کوشش تھی کہ عوام اور فوج کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی کی جائے تاکہ اپنے مذموم مقاصد پر عمل کیاجاسکے ‘ لیکن جیسے ہی کشیدگی عروج پر آتی ہے تو پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی بھارت کوللکار رہی ہے ‘ دشمنوں نے کھلی آنکھوں کے ساتھ پاکستانی قو م کو اپنے فوج پر پھول نچھاور کرتے دیکھا ۔ ہم اس اعتبار سے بے حد خوش قسمت ہیں کہ ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جس کی حفاظت اﷲ تعالی کے حکم پر فرشتے کرتے ہیں ‘ جس کے دفاع کے لیے نبی کریم ﷺ اپنے صحابہ کرام کے ہمراہ میدان جنگ میں اترتے ہیں ‘ تعداد میں کم ہونے کے باوجود اگر پاک فوج کا رعب بھارتی فوج پر پڑ چکا ہے تو اس کا کریڈٹ یقینا اﷲ تعالی اور نبی کریم ﷺ کو ہی جاتا ہے ۔ پاکستان کلمہ طیبہ کے نام سے دنیا کے نقشے پر ابھرا اور اس کے خلاف سازشیں کرنے والے اور اسے مٹانے خود مٹ گئے لیکن یہ آج بھی دنیا کے نقشے پر ایک باوقار ایٹمی طاقت کے روپ میں سربلند کھڑا ہے ۔ شیخ مجیب الرحمان ‘ ذوالفقار علی بھٹو ‘ یحیی خان ‘ اندرا گاندھی‘ راجیو گاندھی جیسے لوگ پاکستان دشمنی کی سزا بھگت چکے ہیں ہمارا تو پختہ ایمان ہے کہ جو شخص یا جو ملک بھی پاکستان کے خلاف سازشیں کرکے اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا وہ قدرت کے ہاتھوں ناقابل تلافی نقصان اٹھائے گا ۔ ان شاء اﷲ۔اﷲ اپنی حفاظت میں رکھے مفتی تقی عثمانی کو جن کو کتنی بار نبی کریم ﷺ کی خواب کی حالت میں زیارت ہوئی اور نبی کریم ﷺ نے پاکستان کو مشکلات حالات سے نکالنے کے لیے مقتدر شخصیات کے نام انہیں پیغام اور سلام بھی بھیجا ۔ 2005ء میں جو قیامت خیز زلزلہ پاکستان کے شمالی علاقوں میں آیا تھا جس میں ہزاروں انسان زمین برد ہوگئے تھے ‘ سڑکیں ‘ پل اور عمارتیں زمین بوس ہوچکی تھیں ‘ انہی دنوں اﷲ کا نام بادلوں کی شکل میں ابھرکر آسمان پر طلوع ہوا تھا اس قیامت خیز زلزلے کے فورا بعد مانسہرہ کے کسی دینی مدرسے کے ایک طالب علم کو نبی کریم ﷺ کی زیارت ہوئی تھی جس میں پاکستانی قوم کو کوئی قرآنی آیات پڑھ کر زلزلوں سے بچنے کی ہدایت کی تھی ۔ ان واقعات کا تذکرہ 2005ء کے اردو اخبارات میں دیکھاجاسکتا ہے ۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 117 Print Article Print
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 467 Articles with 195259 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: