چلتے پھرتے بم اور ننھے مودی

(Tahir Ahmed Farooqi, Muzaffarabad)
چلتے پھرتے بم اور ننھے مودی

آزاد جموں وکشمیر میں چیف الیکشن کمشنر گزشتہ سے پیوستہ عام انتخابات کے بعد علماء مشائخ کی نشست پر فاتح جماعت کی نامزد شخصیت کے کاغذات نامزدگی مستردقرار دینے کی درخواست پر سماعت کر رہے تھے ان کی تعلیمی سند پر اعتراض کیا گیا تھا بطور دلیل نان کسٹم کہا گیا تو سوال پوچھا گیا یہ کس طرح نان کسٹم ہے تو اعتراض کنندہ مولانا صاحب نے کہا کہ آپ کے زیر استعمال سرکاری گاڑی چالیس لاکھ کی ہے جب کہ خود میرے زیر استعمال سو فیصد آپ جیسی گاڑی ہے مگر پانچ لاکھ کی ہے کیوں کہ یہ نان کسٹم ہے اعتراض کرانے والے مولانا بہ مقابلہ مولانا صورت حال پر مزے لے رہے تھے یہ کیفیت ہمارے سماج میں بڑے نام یا اختیار یا ان سے منسلک پہچان والا ہو تو ان کی دو نمبر چیزیں بھی ایک نمبر دیکھی سنی جاتی ہیں پورے ملک بشمول آزادکشمیر میں یہ طرز عمل ہر سطح ہر شعبہ زندگی میں معمولی بات بنا رہا جرم کو جرم نہ سمجھا جانے لگا جس کی سزا سارا نظام خصوصاً عوام بھگتے آ رہے ہیں ‘ بم دھماکوں کی تباہی ہو یا کرپشن کی بربادی ہو سیاسی سماجی اخلاقی پستی کے زہر سے نظام کو کھوکھلا بنانے والوں نے پاکستان کو اسلام ‘ قومی مفاد ‘ صوبہ ‘ علاقہ ‘ زبان سمیت ہر اس پہلو کے ساتھ عوام کو بیوقوف بنائے رکھا اپنے جرائم کو تحفظ دیا جیسے آج جمہوریت کے نام پر شور ہے یہاں آزادکشمیر میں بڑے عرصے تک تحریک کشمیر متنازعہ علاقہ تشخص سمیت منسلکہ نعروں جذبوں کا اپنے اپنے مفادات کا محافظ بناتے ہوئے عام طبقات کو شرقی آسودگی ذرائع روزگار سے محروم رکھا گیا ان کے حصے میں ذہنی عیاشی کرا کر اپنے اور اپنے خاندانوں کے معاشی استحکام کو یقینی بناتے رہے ‘ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت یہ علاقے متنازعہ اس لیے ہیں کہ ان کے مستقبل کا فیصلہ ہونا باقی ہے ‘ مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارت کے غیر قانونی قبضے کیخلاف تحریک برپا کیے ہوئے ہیں مگر یہاں اس کی آڑ میں غیر قانونی بدمعاشیوں کے تحفظ کیلئے تماشہ لگا رہا اور فرائض کی بجاآوری سے کارگزاری کے خلق خدا کے حق میں مثالی نتائج کے بجائے ماسوائے محدود ناموں کے باقی جھنڈی ‘ گریڈوں نے خود اپنے اور اپنے استفادہ کار عناصر کو دو نمبریوں میں تباہی کی فصل پروان چڑھائی جس کے پروردہ ننھے ننھے مودی نیب ہو اینٹی نارکوٹکس ہو ‘ ایف آئی آے یا کوئی جرم پکڑنے والا ادارہ ہو ان کا دائرہ کار یہاں تک لانے کی بات پر چیخ چلا اُٹھتے ہیں مگر یہ غنیمت ہے کہ سیاست سرکاری مشینری سمیت تمام شعبہ جات میں بہتری کیلئے کام کرنے کا ہمت حوصلہ رکھنے والے موجود ہیں ‘ خصوصاً عدلیہ سے بڑی اُمیدیں رہتی ہیں جسٹس ہائی کورٹ صداقت حسین راجہ نے زمینوں کی خرید پر انتقال کاغذات کرانے کیلئے آدھی قیمت کے برابر ٹیکس ادا کرنے کے ظالمانہ نوٹیفکیشن کو معطل کیا جس کا اطلاق کرنے والے شاید یہاں سے روزگار کیلئے بیرون ملک خصوصاً پاکستان کے بڑے شہروں میں آدھی سے زیادہ آبادی کو نکال باہر کرنا چاہتے تھے تو جسٹس رضا علی خان نے نان کسٹم گاڑیوں کے حوالے سے تاریخی فیصلہ دیا ہے کہ یہ چلتا پھرتا بم ہیں ان کا قلع قمع کیا جائے ناصرف چیف سیکرٹری ‘ آئی جی پولیس کو حکم دیا ہے اس حوالے سے ٹھوس اقدامات کر کے رپورٹ پیش کریں بل کہ ماتحت عدلیہ و مجسٹریٹ کا اختیار رکھنے والے آفیسران کو پابند کیا ہے وہ کسٹم ایکٹ 1998 کو سامنے رکھیں ایسی گاڑی جس کی رجسٹریشن نہ ہو اس کا کوئی کیسے مالک ہو سکتا ہے یہ دہشت گردی ‘ منشیات ‘ سمگلنگ سمیت جرائم میں استعمال ہوتی ہیں اور پھر ان کی تلاش کوئی ریکارڈ نہ ہونے کے باعث نہیں ہو سکتی ان کے کاروبار استعمال کو تہہ تیغ کیا جائے ‘ چیف جسٹس ہائی کورٹ جسٹس ایم تبسم آفتاب علوی کی سربراہی میں یہ فیصلے تاریخی اور سماج دوست حیثیت رکھتے ہیں جو حکومت اور سرکاری مشینری کے لیے بڑی قوت ہیں اب آزادکشمیر کو غیر ملکی سیاحوں کے لیے کھولتے ہوئے این او سی کی شرط ختم کر دی گئی ہے ‘ شاردہ ٹمپل کی بحالی راہداری متوقع ہے تو ہر وہ چیز اور سرگرمی کا نام نشان ختم ہونا چاہیے جس کے باعث قومی تحریکی عوامی وقار کامیابی ترقی مفاد میں زرہ بھر خدشہ ناکامی پیدا ہو اور لوگ بھی اس ضمن میں عدلیہ سے رجوع کریں اپنی اجتماعی بھلائی و نسلوں کے مستقبل کے لیے دو نمبری کو ختم کرنے میں کردار ادا کریں ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Ahmed Farooqi

Read More Articles by Tahir Ahmed Farooqi: 205 Articles with 71250 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Apr, 2019 Views: 266

Comments

آپ کی رائے