دشمن کا منصوبہ نمبر 2، معاشی جال

(Roshan Khattak, Peshawar)

 بِلا شک و شبہ پاکستان کا وجود اس وقت دنیا کے کئی ممالک کے آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے ،جس کی بڑی وجہ ان کا خوف ہے ،وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے ،جسے زیر نہیں کیا جاسکتا، جس کے پاس دنیا کی بہترین فوج ہے، جس کے پاس ایٹم بم بھی ہے ،جس نے بھارت جیسے بڑے ملک کو کئی مرتبہ ناکوں چنے چھبوائے ہیں ،جس نے روس جیسے سپر پاور کو شکست دے کر پارہ پارہ کر دیا ہے ،جس نے کمزور معیشت کے باوجود بہترین میزائیل ٹیکنالوجی حاصل کی ہے ،جس نے جے ایف تھنڈر جیسے ائیر فائٹر بنا لئے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ 25 فروری 2019کو افغانستان کے شہر ’شوراب ‘ میں بھارت،امریکہ،اسرائیل اور افغانستان کے حکام نے مِل کر پاکستان کے خلاف ایک منصوبہ بنایا ، منصوبہ یہ تھا کہ 26فروری کو بھارت پاکستان کے مشرقی سرحد پر ہوائی حملہ کرے گا اس ہوائی حملہ میں اسرئیل اس کی مدد کرے گا ، دوسری طرف امریکہ اور افغا نستان مغربی سرحد کے طرف سے ایک پوری کھیپ پاکستان میں داخل کرے گا جو پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں پبلک مقامات پر بم بلاسٹ کریں گے ،جس کی وجہ سے پوری پاکستانی عوام میں خوف کی لہر دوڑ جائیگی اور یوں بھارت کو پاکستان پر بھر پور حملے کا موقعہ مل جائے گا۔اس منصوبہ کے تحت انڈین ائیر فورس کے جہازوں نے 26فروری کو پاکستان کے شہر بالا کوٹ کی طرف آنے کی بزدلانہ کو شش کی مگر پاکستان کے شا ہینوں نے انہیں بھاگنے پر مجبور کر دیا اور ایک ویران جگہ پر پے لوڈ یعنی بم گراتے ہو ئے دم دبا کر بھاگ گئے جبکہ دوسری طرف شوراب میں منصوبہ بندی کرنے والے حکام پر طالبان نے دھاوا ڈال دیا، انہیں 40 گھنٹے محصور کئے رکھا، انہیں جان کے لالے پڑ گئے ،اگلے ہی دن پاکستانی شاہینوں نے بھارت کے دو جہاز مار گرائے اور ایک پائلٹ بھارت کا، جبکہ دوسرا پائلٹ اسرائیل کا گرفتار کر لیا گیا۔یوں ان کا یہ منصوبہ خاک میں مِل گیا۔اس منصوبے کی ناکامی سے ان کو یہ یقین ہو گیا کہ پاکستان کو طاقت کے ذریعے زیر کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے،۔ لہذا انہوں نے منصوبہ نمبر 2 پر عمل درآمدشروع کر دیا ،شنید ہے کہ ان کا منصوبہ نمبر 2یہ ہے کہ پاکستان کو معیشت کے میدان میں اتنا کمزور کیا جائے کہ ان کی کمر ٹوٹ جائے،اور پاکستانی عوام حکومت سے مکمل طور پر نا امید،بد دل اور بغاوت پر آمادہ ہو جائیں۔ اس کے لئے انہوں نے کئی جال بچھا رکھے ہیں ۔جس میں آئی ایم ایف صفِ اول کا کردار ادا کرے گا۔جیسے کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ڈالر کی اونچی اڑان شروع ہو چکی ہے ، بوقتِ تحریر ڈالر 148روپے کا ہو چکا ہے اور خود بذبانِ حکومت ڈالر کا ریٹ 165روپے تک جانے کا امکان ہے ۔آئی ایم ایف سے بجلی، گیس اور پٹرول مہنگا کرنے کا معاہدہ ہو چکا ہے ۔مہنگائی پہلے سے ہی عوام کی قوتِ خرید سلب کر چکی ہے مگر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد مہنگائی کا جادو سر چڑھ کر بولے گا ،لوگ چیخیں گے، بے روزگاری میں مزید اضافہ ہوگا، ہمارے بجٹ کی ترجیحات اب ملک سے باہر کے لوگ یا ان کے بھیجے ہوئے نمائیندے طے کریں گے۔منصوبے کے مطابق آئی ایم ایف پاکستانی حکومت کو سہانے خواب دکھا رہا ہے کہ اگر پاکستان میں غریبوں کے لئے کروڑوں مکانات،بہترین سڑکیں اور بڑے بڑے ہسپتال تعمیر ہو نگے تو دنیا کے سر مایہ دار اپنا سرمایہ لے کر ان کے ملک میں چلا آئے گا ، سر مایہ آنے سے کروڑوں ملا زمتیں پیدا ہو نگی اور یوں یہ پرانا پاکستان ایک نیا پاکستان بن جائے گا۔آئی ایم ایف اپنے نمائیندے ہماری معیشت کے شہ رگ میں داخل کرا چکی ہے ۔سابق وزیر خزانہ اسد عمر کو ہٹا کرحفیظ شیخ کووزیر خزانہ بنانا اور اسٹیٹ بنک کا گورنر ڈاکٹر رضا باقر کو بنا نا اسی منصوبہ کی ایک کڑی ہو سکتی ہے۔اس منصوبہ کے تحت ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کو اس سطح پر لے جایا جائے گا کہ عوام حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہو ں۔ سیاسی جماعتوں سے مکمل طور پر مایوس ہو جائیں ،ملک میں انارکی پھیل جائے ، اندریں حالات ملک میں خانہ جنگی کرا دی جائے اور پھر امریکہ لوگوں کی مدد کے لئے اپنی فوج داخل کراکر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔

ملک کے موجودہ وزیر اعظم عمران خان کی نیت پر ہمیں کو ئی شک نہیں ہے مگر ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وطنِ عزیز کے خلاف بغض رکھنے والے کئی لوگ اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک موجود ہیں جو ہمارے پیارے ملک کے خلاف سازشوں کے تانے بانے بن رہے ہیں عمران خان مشکل حالات پر قابو پانے کے لئے پر امید ہیں، ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں مگر انہیں یہ بھی یاد دلانا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں غریب طبقے کا بہت برا حال ہے آپ سے پیوستہ غریب عوام کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں ۔لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ فوری طور پر غریب عوام کے زخموں پر مرہم رکھا جائے ورنہ دشمنوں کے منصوبہ نمبر 2 کی تکمیل آسان ہو جائے گی۔۔۔۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 165 Print Article Print
About the Author: roshan khattak

Read More Articles by roshan khattak: 226 Articles with 112211 views »
I was born in distt Karak KPk village Deli Mela on 05 Apr 1949.Passed Matric from GHS Sabirabad Karak.then passed M A (Urdu) and B.Ed from University.. View More

Reviews & Comments

Language: