اسیر جان (قسط ٢)

(Kanwal Naveed, Karachi)

اس کے کان میں آوازوں نے ہلکے ہلکے سرگوشی کی۔ اس نے غور کیا تو بات اسی کی ہو رہی تھی۔ کنول کے بارے میں کہا کیا ان لوگوں نے ایسے کیسے انکار کر سکتے ہیں ، پڑھی لکھی ہے ۔ شکل بھی اچھی ہے ۔ انہوں نے کچھ تو کہا ہو گا نا۔ انہیں کیا چیز قابل اعتراض لگی ہے۔ہم نے کچھ چھپایا ہی نہیں ان سے ۔اس طرح تو نہیں کرنا چاہیے ۔ بے چاری میری بیٹی۔کیسا دل بُرا ہوگا میری بچی کا۔

کنول کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی ۔ یہی تو وہ چاہتی تھی۔ انکار ۔ اسے شادی کے نام سے ہی خوف آتا تھا۔ وہ اپنی نانی کے گھر رہتی تھی ۔ اس کی امی نے طلاق کے بعد شادی نہیں کی تھی۔ ان کے لیے سب کچھ کنول ہی تھی۔ کنول کے لیے مگر سب کچھ کیا تھا وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔ بی ۔اے کرنے کے بعد وہ اب فارغ تھی ۔اس کا بیشتر وقت صوفیا کی سوانح عمریاں پڑھتے گزرتا۔ اسے مولانا روم سے والہانا عقیدت تھی۔ وہ اکثر اپنی ماں سے کہتی ، اگر میں لڑکا ہوتی تو کسی درگاہ کا مجاوز بن جاتی۔ اس کی ماں ہنستی اورکہتی ،پھر تو اچھا ہی ہے کہ تم میرا بیٹا نہیں ۔ وہ اپنی ماں کی انکھوں میں اپنی شادی کا خواب واضح دیکھ سکتی تھی۔ اس کی ماں جلد اذ جلد اس کی شادی کرنا چاہتی تھی۔ ان کی اپنی شادی صرف ایک سال ہی چلی تھی ، وہ طلاق کی بڑی وجہ اپنی بڑی عمر میں شادی کو ہی قرار دیتی تھیں ۔ ان کا خیال تھا کہ چھوٹی عمر کی لڑکی ،اپنے شوہر کے لیے ہر دل عزیز ہوتی ہے۔ ان کی سوچوں کو کنول نے کبھی چیلنج نہیں کیا تھا۔ وہ ایک فرمابردار بیٹی تھی۔ اسے اندازہ تھا کہ اس کی ماں اپنی ہر حسرت اس کے سہارے سے پوری کرنا چاہتی ہے۔ کبھی کبھی اسے اپنی ماں پر بہت غصہ آتا مگر وہ خود کو سمجھا بجھا کر اپنے آپ پر قابو رکھتی۔

ساجدہ نے رشتہ کروانے والی کو مذید رشتے لانے کو کہا۔ جب سے کنول کے امتحان ختم ہوئے تھے ۔تب سے اس کی ماں کی کوششوں میں تیزی آ گئی تھی۔اللہ تعالی ٰ کو مگر کچھ اور ہی منظور تھا۔ ہر رشتہ کسی نہ کسی وجہ سے جڑنے سے پہلے ہی ختم ہو جاتا۔

کبھی کبھی کہانیاں پڑھنے اور شعر لکھنے سے بھی وہ اکتا جاتی اور بیٹھ کر بیزاری سے سوچنے لگتی ۔ آخر یہ جینا کیوں ۔ اللہ نے یہ انسانوں کا جنگل کیوں تشکیل دیا۔ جہاں ہم خواہشوں کی تکمیل کے لیے ہر پل محنت کرتے اور ادھوری تمناوں اور محرومیوں کو دل میں لیے چلے جاتے ہیں ۔ آخر یہ سب ہے کیا؟ اس کے سوالوں کاجواب دینے والا کوئی نہ تھا۔

اسے مولانا روم کی مثنوی بہت پسند تھی ، جس کا ترجمہ وہ کہیں بار پڑھ چکی تھی۔ اسے اس مثنوی کی ہر بات متاثر کرتی تھی۔ وہ مولانا روم کی باتوں کو بار بار پڑتی ۔یہاں تک کہ اسے بہت سی باتیں زبانی یاد تھیں ۔ اس کی امی ساجدہ اکثر اسے پروفیسر کہہ کر چڑھاتی تھیں ۔ کبھی کبھار وہ چڑ جاتی مگر اکثر اوقات اسےامی کا دیا ہوا خطاب پسند آتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمر نے ایان کا ہاتھ پکڑ کر ذورسے دبایا اور مسکراتےہوئے بولا۔ روکھے سوکھے جیون میں کوئی چاہت بھرے ہاتھوں سے تمہیں چھو کر بولے کہ زندگی تمہارے بغیرنامکمل ہے۔ تمہاری ذات کا احساس اس پھوہار جیسا ہے، جو گلاب پر موتی کی سی معلوم ہوتی ہے ۔جس سے روح کو اپنے ہونے کا ایسے احساس ہوتا ہے ،جیسے اسے جیون ابھی ابھی سونپا گیا ہو۔ تو تمہیں کیسا لگے گا؟

ایان نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے کھینچ کر نکال لیا اور اسے پیٹھ پر ایک تھپڑ مار کر کہا۔ مجھے یہ لگے گا کہ وہ مجھے پاگل بنا رہی ہے تاکہ اس کے فون میں پیسے بھیجوں ۔ آج کے دور میں کون ایسے ڈائیلاگ استعمال کرتا ہے ۔ ہم انارکلی کے ڈرامے میں بسنے والے لوگ نہیں ۔ آج کی دنیا میں بسنے والے لوگ ہیں ، جہاں احساس مطلب سے شروع ہوتے ہیں اور فائدہ اور نقصان کو دیکھتے ہوئے ختم ہو جاتے ہیں۔یہاں کوئی کسی کو کچھ نہیں کہتا۔ سمجھے!آج کل تو ،اپنی ذات بھاری بھرکم لگتی ہے ،کسی اور کی کیا پھوہار لگے گی۔

یہ تم پرانی فلمیں نہ دیکھا کرو۔ آج کل کی فلمیں دیکھا کرو۔ جو آج کے لوگوں کی عکاسی کرتی ہیں ۔ احمر نےاس کی انکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔ انسان ہر دور میں انسان ہی ہے پیارے۔ تم یہ بات اس وقت سمجھو گئے جب تمہیں سچ میں کسی کا احساس اپنے اندر محسوس ہو گا۔ایان نے ایک اور تھپڑ اس کی پیٹھ پر رسید کرتے ہوئے کہا۔ تم یہ ڈائیلاگ رہنے دو ۔ مجھے اپنے اندر بھوک محسوس ہو رہی ہے ۔جو تمہیں آج کل الو بنا رہی ہے ،اسے اپنا اصلی فوٹو بھیج دینا ،پھر دیکھیں گئے کیامیسج بھیجتی ہے۔ احمر نے منہ بناتے ہوئے کہا۔ اس نے دیکھا ہوا ہے مجھے۔ یہ سب میں اسے کہنا چاہتا ہوں مگر ابھی کہا نہیں ۔ اپنے احساس کو ایسے انسان کو بتانا بہت مشکل ہے ،جس کو دیکھ کر دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہو۔ زبان دانتوں سے چپک جاتی ہو، ہاتھوں میں عجب سی لہریں دوڑتی ہوں ،جیسے طوفان آنے سے پہلے تیز ہوائیں چلتی ہیں ۔

ایان نے غور سے اسے دیکھا۔ مطلب تم یہ خود سے سب کہہ رہے تھے ۔کسی نے کوئی میسج نہیں کیا۔ احمر نے افسردگی سے کہا۔ میسج ۔۔۔۔۔اسے تو پتہ ہی نہیں ۔پتہ نہیں کبھی پتہ چلے گا بھی یا نہیں کہ میں اس کے لیے کیا محسوس کرتا ہوں ۔ایان نے ہنس کر کہا،اسے بتانے کا چھوڑو۔امی سے بات کرو۔ اس کا رشتہ مانگ لیں ۔ کیسا خیال ہے؟میں تو کہتا ہوں ، مسلہ کا حل جتنی جلدی ہو جائے ، اُتنا اچھا۔

احمر نے قدرے غصے سے ایان کی طرف دیکھا۔ ایان نے مذاق اُڑانے والے انداز میں کہا۔ دیکھتے کیا ہو۔ مرد کی محبت بس شادی تک ہی ہوتی ہے پیارے۔یہ لہریں دیکھنا ایک دن میں ختم ہو جائیں گی۔مجال ہے پھر کبھی دل کی دھڑکن تیز ہو۔زبان کے بارے میں مجھے ٹھیک سے پتہ نہیں ہے، کہتے ہیں جب عورت بولتی ہے تو اچھے اچھوں کی زبان بند ہو جاتی ہے۔ ایان ابھی بھی ہنس رہا تھا۔

احمر نے افسردگی اور غصے سے کہا۔ میرے جذبات کا مذاق اُڑا رہے ہو ۔کاش کہ تم سمجھ سکتے۔تمہیں کسی سے محبت ہوتی۔ ایان نے ہنستے ہوئے کہا۔یہ محبت میرے بس کا کام نہیں ۔میں تو بس نفع ،نقصان سمجھتا ہوں ۔ جو مجھے اچھا محسوس کروانے میں کامیاب ہو گا۔ اس وقت میں اسی کا۔ ورنہ بائے بائے ۔ ٹاٹا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنول جب کالج میں محبت سے متعلق باتیں سنتی تو اسے تعجب ہوتا کیسے کوئی کسی سے محبت کرنے لگتا ہے۔وہ جب بھی سنتی کہ لوگ عشق مجازی سے عشق حقیقی تک کا سفر کرتے ہیں تو وہ افسردہ ہو کر سوچتی۔ ہر دل وہ زرخیزی نہیں رکھتا جس میں محبت کا بیج اُگ سکے۔وہ اسی سوچ کے ساتھ اب تک جی رہی تھی۔ اس کو بی ۔ اے کیے ہوئے جب پورا سال گزر گیا تو اس کی امی کو شدید مایوسی ہوئی۔ جن لوگوں کو وہ قابل قبول ہونے کی سند دیتی ۔وہ کنول کو انکار کر دیتے اور جن کو کنول پسند آتی وہ ساجدہ کو ناقابل قبول دیکھائی دینے لگتے۔ یوں وقت گزر رہا تھا۔

کنول کے ماموں کراچی میں تھے۔ ان کوبڑے بیٹے محمود کی شادی کرنی تھی ۔ انہوں نے سب کو کراچی بلوایا تھا۔ ٹکٹ کے انتظام ہو چکے تھے ۔ کنول نے ابھی تک جہاز کا سفر نہیں کیا تھا۔ اس کے ماموں دو تین سال بعد ہی آتے ۔ ان کا کاغذ کا بزنس تھا۔کنول جہاز کے سفر کا سن کر خوش تھی ۔ اسے جہاز کے سفر کابہت شوق تھا۔ وہ اس گھڑی کا انتظار کر رہی تھی ، جب وہ آسمان کی طرف اُڑان بھرتی ۔ جب سے ٹکٹ اس کے ہاتھ میں آئے تھے وہ بار بار آسمان کی طرف دیکھتی ۔اسے ایسے لگتا جیسے آسمان اسے اپنی طرف بلا رہا ہو۔اس کی امی اگرچہ خرید و فروخت میں مصروف تھیں ۔ ساجدہ کی بھابھی کے سامنے بھائی کی نہیں چلتی تھی۔ ساجدہ کا دل تھا کہ اس کے بھائی کے بیٹوں میں سے کوئی کنولؔ سے شادی کر لے۔ احمر کنول سے چھوٹا تھا جب کہ محمود تین سال بڑا تھا۔ کنول کی نانی نے جب دبے لفظوں مصطفی سے کنول اور محمود کی شادی کی بات کی تھی تو اس نے صاف صاف ماں کو منع کر دیا۔ ساجدہ نے بھی دل کو سمجھا لیا تھا کہ شادی بیاہ تقدیر کا کھیل ہے۔ شادی کے لیے کنول کی نانی ،اور امی کے کپڑے سل کر آچکے تھے۔ کنول نے امی کو ٹرائی کرنے کا کہا تو وہ ہنسنے لگی۔ کنول نے اصرار کرتے ہوئے کہا۔ امی آپ سمجھتی نہیں ہیں ، وہاں جا کر اگر کوئی خرابی نکل آئی ۔ ابھی دیکھیں ۔ ساجدہ نے ہنستے ہوئے کہا۔ اس عمر میں مجھے کسی نے نہیں دیکھنا ، شادی میں ۔ تم اپنے لیے سوچو۔ کیا پہنوں گی ۔ کیا کرو گی۔ میں چاہتی ہوں ۔میری بیٹی دلہن سے بھی پیاری لگے۔ ساجدہ نے پیار سے اس کے ماتھے کو چوما۔
کنول نے مسکراتے ہوئے کہا۔ امی دلہن سے ذیادہ کوئی لڑکی خوبصورت نہیں لگ سکتی۔ ساجدہ نے پھر الجھے ہوئے لہجے میں کہا۔ دیکھو، ہم نے جیولری اور گفٹ بھی لینے ہیں ۔ آج ہی جانا ہو گا۔کنول نے امی کی کمر میں بائیں ڈالتے ہوئے کہا۔ بس مجھے آدھا گھنٹہ اور دیں پھر آپ مرنے کا کہیں گی تو مر جاوں گی۔ ساجدہ نے اس کی کلائی پکڑ کر آگے کرتے ہوئے کہا۔ مریں تمہارے دشمن ،مجھے غسل تمہیں ہی دینا ہے۔سمجھی ! میں تو بس چاہتی ہوں، کل صرف ایک کام رہ جائے ۔ درزی سے تمہارے کپڑے اُٹھا نے کا۔ کنول نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔ اچھا امی چلیں مگر جانا کہا ں ہے۔ ساجدہ نے ایک لمبی سانس لے کر کہا۔ موتی بازار۔انہوں نے رکشہ کیا۔ کنول اور ساجدہ موتی بازار جانے لگی تو نانی نے دروازے پر ا ٓ کر انہیں اللہ حافظ کہا۔ موتی بازار کی تنگ تنگ دوکانوں میں جانا ،کنول کو بلکل پسند نہیں تھا۔ان دوکانوں کی خاص بات یہ تھی کہ چیزیں بہت نایاب ہوتیں ۔ ان دوکانوں سے ایسی ایسی جیولری ملتی تھی کہ دیکھ کر بنانے والے کے لیے دل سے دُعائیں نکلتیں ۔ یہاں کپڑے اور جوتے لینے کے لیے کنول کئی بار اپنی امی کے ساتھ پہلے آ چکی تھی۔ سامان لینے کے بعد اکثر ساجدہ کہتی ۔ اتنی چھوٹی چھوٹی دوکانیں ہیں ۔ یہ بازاربھی نا۔ اس میں آنا ہی نہیں چاہیے۔ کنول امی کی بات سن کے بے اختیار کہتی ، آپ کو یہ بات اڑھائی گھنٹے شاپنگ کر کے ہی کیوں سمجھ میں آتی ہے۔پھر وہ دن آ گیا۔ آسمان پر بادل چھائے تھے وہ اسلام آباد ایرپورٹ پر کھڑی لوگوں کے بھاری بھرکم اور کچھ لوگوں کے چھوٹے چھوٹے بیگ دیکھ کر محظوظ ہو رہی تھی۔

صرف ایک گھنٹہ چالیس منٹ میں ہم کراچی پہنچ جائیں گئے۔ وہاں کمرے میں بیٹھ کر شعر نہ لکھتی رہنا۔ سمجھی ۔ ساجدہ نے کنول کو سمجھاتے ہوئے اپنی طرف متوجہ کیا ۔ جو لوگوں کے ہجوم سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔

ساجدہ نے جب دوبارہ بات کی تو کنول نے جی جی کہہ کر جان چھڑوائی۔ ساجدہ نے پھر اسے اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہا۔ شادی میں کہیں لوگ آئیں گئے۔ سب سے اچھے سے بات کرنا ۔ ممکن ہے تم کسی کو پسند آ جاو ۔ تمہاری شادی بھی وہیں ہو جائے۔ دوسری بات انہوں نے دُعا کرنے والے انداز میں کہی تھی۔ کنول نے بیزاری سے ان کی طرف دیکھا۔ پھر منہ بناتے ہوئے کہا۔ پہلے ،جس کی شادی کے لیے جا رہے ہیں ،اس کی ہو جائے امی۔ کیا خیال ہے۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 452 Print Article Print
About the Author: kanwalnaveed

Read More Articles by kanwalnaveed: 123 Articles with 137819 views »
Most important thing in life is respect. According to human being we should chose good words even in unhappy situations of life. I like those people w.. View More

Reviews & Comments

Language: