نواز شریف کی درفنطنیاں

(Sarwar Siddiqui, Lahore)

کبھی کبھار اپنے میاں نوازشریف کمال کی باتیں کرتے ہیں آپ انہیں مزیداربھی کہہ سکتے ہیں مگر دراصل یہ درفنطنی ہے آپ جناب فرماتے ہیں مجھے تو یہ بھی علم نہیں کس جرم میں سزادی گئی ہے اور میں کیوں جیل میں ہوں؟۔۔ اس ستم ظریفی پر عرض ہے کہ جب پانامہ لیکس نے دنیا بھرکی اڑھائی سو سے زائد شخصیات کا بھانڈہ عین چوراہے میں پھوڑا تو نہ جانے کتنے لوگ اس حمام میں ننگے ہوگئے ذرا یاد کریں آپ کا حافظہ ابھی اتنا کمزور بھی نہیں ہوا فقط دماغ پر ذرا سا زور دیں ان شاء اﷲ آپ کو ذرا ذرا یاد آجائے گاپانامہ لیکس کے قیامت خیز انکشافات کے بعد کئی عالمی لیڈر مشکل کا شکار ہوئے آئس لینڈ کے وزیر ِ اعظم عوامی دباؤ کے پیش ِ نظرمستعفی ہوکر گھر چلے گئے والد کی آف شور کمپنیوں کے بارے میں جھوٹ بولنے اور مالی فوائد حاصل کرنے کے اعتراف پر برطانوی وزیر ِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے استعفےٰ دیدیا کئی اور اہم شخصیات نے بدنامی کے خوف سے اپنے منصب چھوڑ ڈالے کرپشن کے خلاف احتجاج کرکے برطانیہ اور آئس لینڈکی عوام نے زندہ قوم ہونے کا ثبوت دیا جبکہ وطن عزیز میں عوام اب بھی کرپٹ سیاستدانوں کے حق میں نعرے لگاتے پھرتے ہیں شاید وہ کرپشن کو کوئی برائی سمجھتے ہی نہیں ہیں حالانکہ ہم جس مذہب کے پیروکارہیں اس میں کرپشن بہت بڑا گناہ ہے۔میاں صاحب کی بھابھی اور چھوٹے میاں کی اہلیہ تہمینہ درانی نے بھی آف شور کمپنیوں کو غیر اخلاقی قراردیدیاتھا ویسے تو مشہور یہی ہے کہ غیرقانونی سرمائے سے بنائی جانے والی کمپنیوں کی اصطلاح آف شور کمپنیاں کیلئے استعمال کی جاتی ہے۔ایک شخص نے کسی دانشور سے دریافت کیا حضرت !کرپشن کی تعریف کیا ہے؟

اس نے بلا تامل جواب دیا اپنے اختیارات سے تجاوز کرنا کرپشن ہے۔ اگر اس فارمولے پر عمل کیا جائے تو ہماری پوری کی پوری بیوروکریسی اور سارے کے سارے سیاستدان کرپٹ ہو جاتے ہیں ہمارا مذہب تو ہر قسم کی کرپشن کے خلاف ہے ہمارے مذہبی، سیاسی و سماجی ،مذہبی رہنماؤں اور اداروں کو کرپشن کے خلاف میدان میں آنا چاہیے جرأت مندی سے اس فتنے کا مقابلہ کیا جا سکتاہے علماء کرام حلال و حرام کے فلسفہ کو اجاگر کرنے کیلئے بڑے ممدو معاون ثابت ہو سکتے ہیں یہ بات سب سے اہم ہے کہ ایک مسلم معاشرے میں حلال و حرام کی تمیز کے بغیر کرپشن کا خاتمہ ناممکن ہے ۔ حکمرانوں کو اس سلسلہ میں بہت زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہے وزیر ِ اعلیٰ پنجاب کی اہلیہ تہمینہ درانی نے سچ کہاہے آف شور کمپنیاں غیر اخلاقی ہیں ملکی سرمائے کی غیر قانونی ذرائع سے غیرممالک میں منتقلی انتہائی خوفناک بات ہے دنیا کے کئی ممالک میں منی لانڈرنگ بہت بڑا جرم تصورکیا جاتاہے کیونکہ اس سے بہت سی معاشرتی برائیاں اور جرائم جنم لے سکتے ہیں اسلام نے ہر قسم کی کرپشن کو حرام قرار دیا ہے اس کیلئے حرام اور حلال کا ایک وسیع تصور ا س کے مفہوم ومعانی کااحاطہ کرتاہے جس مذہب میں اختیارات سے تجاوز کرنا کرپشن تصورکیا جاتاہو اس کے حکمران کے لئے کیسا معیار ہونا چاہیے اس کا خود تصورکیا جا سکتاہے یہ الگ بات کہ اب پاکستانی معاشرے میں حرام اور حلال کی تمیز ختم ہو تی جارہی ہے یہی مسائل کی اصل جڑ ہے دولت کی ہوس ، ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ، معاشرہ میں جھوٹی شان و شوکت اورراتوں رات امیربننے کی خواہش نے اکثریت کو بے چینی میں مبتلا کرکے رکھ دیاہے۔۔انہی خواہشات نے اختیارات سے تجاوز کرنے پر مجبور کررکھاہے لیکن میاں نوازشریف فیملی پر تو اﷲ کا خاص کرم رہاہے انہیں ایسی کمپنیاں بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ یہ بات سمجھ سے بالا ہے یہ سچ ہے کہ میاں نوازشریف کی فیملی کی آف شور کمپنیوں کے انکشاف کا عوام کو بہت بڑا دھچکا لگاہے کیونکہ میاں نوازشریف کروڑوں عوام کیلئے ایک آئیڈیل کی حیثیت رکھتے ہیں ماضی میں آصف علی زرداری کی کرپشن کے قصے مشہور تھے پھر سید یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کی ایسی ہی کئی کہانیاں گردش کرنے لگیں اب وزیر ِ اعظم اور آصف علی زرداری دونوں کی بہنوں کی بے نامی جائیدادوں کا انکشاف ہورہاہے جس پر بڑی لے دے ہورہی ہے سب بھانت بھانت کی بولیاں بول بول کر اپنی اپنی تاویلیں پیش کرتے پھرتے ہیں لیکن تسلی بحش جواب کسی کے پاس نہیں ۔بہرحال بات ہوروی تھی میاں نوازشریف کی درفنطیوں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ میاں نوازشریف نے کبھی عوام کو اپنی فیملی کے بارے میں’’ حقائق‘‘ بتانے کی کوشش نہیں کی کاش وہ یہ بھی بتاتے تھے سعودی عرب والی سٹیل ملز انہوں نے کتنے میں فروخت کی؟ ان کے خاندان کی ملکیت آف شور کمپنیاں کتنی ہیں اور ان کا کاروباری سرمایہ کتنا ہے ؟ اور ان کے اثاثوں کی کل مالیت کیاہے؟ کتنا سرمایہ پاکستان سے بھیجا گیا کاش وہ مجھے کیوں نکالا کی گردان میں یہ ساری باتیں بتاکر قوم کو اعتماد میں لیتے یا قوم پر اعتماد کرتے تو کیا ہی اچھا ہوتا لیکن انہوں نے ادھورے حقائق بیان کرکے معاملات تشنہ چھوڑ دئیے۔سادہ دل عوام کس پر اب یقین کریں کس پر اعتماد کریں شاید اب راہبرکے روپ میں راہزن ہی لوگوں کو بے وقوف بناتے رہتے ہیں۔ جس اندازسے شریف فیملی، شہبازشریف اینڈ سنز،زرداری خاندان، عمران خان کی ہمشیرہ کی بے نامی جائیداد پر الفاظ و دشنام کی گولہ باری جاری ہے یہ احساس شدید ہوتاجارہاہے کہ ماضی و حال کے سب حکمران واقعی مشکل میں ہیں اس مشکل کا واحد حل یہی ہے کہ قوم کو حقائق بتائے جائیں سچ میں بڑی طاقت ہوتی ہے جھوٹ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا ایک جھوٹ کو چھپانے کیلئے ہزار جھوٹ بولنا پڑتے ہیں ہم سب کو اس حقیقت کو ادراک کرنا ہوگا قوم کو ادھورے سچ قبول نہیں ہیں زندہ قومیں ہی فتحیاب ہوتی ہیں زندہ قوموں کو سچائی سے پیارہوتاہے ہمیں بھی ایک زندہ قوم ہونے کا ثبوت دینا ہوگا۔بڑے میاں صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ جے آئی ٹی اور نیب عدالتوں کے باربار پوچھنے پر بھی آپ اور آپ کی اولاد نے منی ٹریل بارے کچھ نہیں بتایا آپ پھر پوچھتے پھررہے ہیں مجھے تو یہ بھی علم نہیں کس جرم میں سزادی گئی ہے اور میں کیوں جیل میں ہوں؟ ۔۔جناب یہ درفنطیاں اب جانے دیں معاف کرنا اب آپ کی عمر بوگیاں مارنے کی نہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sarwar Siddiqui

Read More Articles by Sarwar Siddiqui: 254 Articles with 78197 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 May, 2019 Views: 416

Comments

آپ کی رائے