پاکستان میں دجال کا ظہور

(Sobia Zaman, Faisalabad)
پاکستان کی سیاست اور معیشت پر یہودی لابی کا بڑھتا ہوا اقتدار

ظہور قیامت کی نشانیوں میں سے سب سے بڑی نشانی دجال کی آمد ہے۔ احادیث اور مستند روایات کے مطابق دجال کا ظہور قوم یہود میں ہو گا دنیا کی تمام نعمتیں اس کے پاس ہوں گی جو کوںی اس کا ساتھ دے گا اور اس کے احکامات کی تعمیل کرے گا اسے تمام نعمتوں سے نوازا جاںے گا اسے کھانے، پینے کےلںے دنیا کی ہر نعمت دی جاںے گی اور جو کوںی اس سے روگردانی کرے گا وہ محروم رکھا جاںے گا۔ اس کے ایک طرف جنت ہو گی اور دوسری طرف جہنم، اپنے پیروکاروں کو وہ جنت میں داخل کرے گا اور اپنے مخالفین کو جہنم میں ڈال دے گا۔ دجال کا ظاہر ہو نا دراصل ایک آزماںش ہو گی جس میں ایمان والوں کو آزمایا جاںے گا جن کا ایمان پختہ ہو گا وہ ہی اس آزماںش پر پورا اتر سکیں گے۔

دجال کی نمود و نماںش، اس کے پاس نعمتوں کی فراوانی یہ سب وقتی اور ظاہری ہو گا یہ سب کچھ لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے ہو گا۔ ان سب چیزوں کی ظاہری کشش وقتی ہو گی ان کو اپنا نے والا اصل میں اپنا ایمان اپنی عاقبت سب کچھ برباد کر لے گا

آج کے ماڈرن اور ساںنسی دور میں دجال اپنے ماتھے پر ایک آنکھ سجا کر ہاتھ میں نیزہ پکڑے نہیں آیے گا بلکہ وہ یہ سب دھوکہ دہی سے کرے گا

موجودہ دور میں یہودی سرمایہ درانہ نظام، عالمی معیشت پر یہودی بنکاری کا تسلط، ا ی۔ایم۔ایف اور ورلڈ بنک سب دجالیت کی مثالیں ہیں، اور ہم مغربی دنیا کی خوشحالی اور نعمتوں کی فراوانی سے متاثر ہو نا اپنا فرض سمجھتے ہیں، ہم ورلڈ بنک اور آںی۔ایم۔ایف کو اپنا نجات دہندہ سمجھ کر زرا سی مشکل پر نے پر اپنے پاءوں پر خود کھڑا ہونے کی بجاںے ہر مشکل کا آسان حل سمجھتے ہوںے ان دجالی اداروں کی طرف بھاگے چلے جاتے ہیں۔ ان کی امداد اور قرض سے ہم اپنی معیشت کو وقتی سہارا تو فراہم کرتے ہیں لیکن اس سودی نظام کی وجہ سے ہماری معیشت پر جو منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ان سے ہر صاحب بصیرت آگاہ ہے۔ مختلف ادوار میں ان یہودی اداروں سے لیے گے قرض کی واپسی اب ناممکن نظر آتی ہے۔
ہماری معاشی غلامی موجودہ دور میں ہر عام و خاص کے لیے ذہنی کوفت و پریشانی کا باعث ہے۔ اور ہم دھوپ میں چمکتی ریت کو پانی سمجھ کر صحرا کی دھوپ میں جلنے کے لیے بھاگے چلے جاتے ہیں۔

زرا غور کریں دجالیت کی ظاہری نمود و نماںش سے متاثر ہو نے والے، اور یہودی پیروں کی کرامتوں سے متاثر ہو نے والے ممالک ترقی اور خودمختاری کے کس دھانے پر کھڑے ہیں۔ اور دجال سے انحراف کر نے والے مسلم ممالک کا بھی زرا بغور جایزہ لیجیںے کہ وہاں خون اور بارود کے کون کون سے کھیل کھیلے گیے ہیں اور فی الوقت کھیلے جا رہے ہیں۔

اس وقت ہمارے معاشرے کو "دو قومی نظریہ" کی تجدید کی اشد ضرورت ہے، جس کی بنیاد متحدہ قومیت ہے اور جس کی اساس اسلام ہے۔

اسلام ہی وہ نظام ہے جو سود اور سودی نظام کی نفی کرتا ہے اسلام ہی وہ نظام ہے جو دافع دجالیت ہے۔ اسلام ہی پاکستان کی بنیاد ہے اور اسلام کے اصول ہی پاکستان کے موجودہ مساںل کا حل ہیں۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 3767 Print Article Print
About the Author: Sobia Zaman

Read More Articles by Sobia Zaman: 9 Articles with 5249 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

بھائی اسلام ایک ہی ہے اور وہ ہے نبی پاک کی سنت الله پاک ھم سب کو نبی پاک کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
By: Ashfaq Uddeen, Karachi on Jun, 28 2019
Reply Reply
0 Like
hm SB jantay hain ye SB par phir bhi laparwai or khush fehmi Ki waja say zillat o ruswai hmara mukaddar bn chuki hai.AGR iss zindgai ka anjam mot he hai tou iss BT sy koi dark ni prhta k hm aik din k liay zinda rahain ya 100 sal k liay
By: Awais Ahmad, Burewala on Jun, 22 2019
Reply Reply
0 Like
ہمارے حالات کوئی باہر سے آ کر نہیں بدلے گا، ہمیں پہلے خود کو بدلنا ہو گا پھر اپنے حالات کو، آپ مایوسی کا شکار لگتے ہیں
مایوسی گناہ ہے۔
By: Sobia, Faisalabad on Jun, 25 2019
0 Like
بات تو آپ کی سو فیصد ٹھیک ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کونسا اسلام اور کس کا اسلام؟ اس بات پر ڈیبیٹ ہونا بہت ضروری ہے کہ دین اسلام کا حقیقی چہرہ آخر ہے کیا ؟ اور ایسا کونسا نظام ہو سکتا ہے جس پر سب مسلمان ایک ہو کر باعمل ہو جائیں۔
By: سکندر بٹ, گوجرانولہ on Jun, 21 2019
Reply Reply
1 Like
اگر آپ کو اسلام کی صحیح شکل نہیں پتا تو صرف نبی کریم کا خطبہ حجتہ الوداع پڑھ لیں۔ امید ہے پتہ چل جائے گا۔
By: Sobia, Faisalabad on Jun, 25 2019
0 Like
بھائی سکندر صاحب ، دین اسلام ایک ہی ہے..
By: Saif , Karachi on Jun, 22 2019
0 Like
bilkl aisa e o ra system.mai
By: adnan, faisalabad on Jun, 21 2019
Reply Reply
0 Like
Language: