محمد بلال خان۔۔۔ بڑا دکھ دیا تم نے

(Amir jan haqqani, Gilgit)

محمد بلال خان شہید کی ایک یادگار فوٹو

عبدالخالق ھمدر کی آواز میری سماعتوں سے ٹکرا گٸی ”جی وہ فوت ہوگٸے“۔برادرم عبدالخالق ھمدر نے تصدیق کردی۔میرے ہاتھ سے کتاب گر گٸی اور پوری رات سکتے کے عالم میں گزری۔سونے کی کوشش کی مگر کٸی بار ہڑبڑا کر جاگ گیا۔ کچھ ڈروانے سپنے بھی نیم خوابی میں دھمکاتے رہے۔محمد بلال خان ایک سوشل ایکٹویسٹ تھا۔ایک کم عمر صحافی اور اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی کا طالب علم اور بس۔ان کا تعلق چلاس نیاٹ سے تھا مگر ایک طویل عرصے سے ایبٹ أباد میں قیام پذیر تھے۔یہ ایک نوجوان تھا عمر بمشکل 22 ، 23سال ہوگی۔وہ اسلام أباد بارہ کہوہ میں اپنے چچا اور میرے جگری دوست اور صاحب کتب عالم دین مولانا عبدالخالق ھمدرد کے گھر ضیافتی خربوزے کھانے کے بعد اپنی خالہ بناٸی ہوٸی بریانی کھانے کے لیے منتظر تھا۔ فون کرکے اسلام أباد جی ناٸین میں بلایا گیا اور خنجروں کے درجنوں وار کرنے کے سیدھا گولی مار دی گٸی۔ جب مجھے یہ اندوہناک خبر ملی تو برادرم عبدالخالق ھمددر نے تصدیق کردی۔بلال کے ساتھ ان کے انکل اور گلگت بلتستان کے معروف و معمر عالم دین حضرت مولانا قاری گلزار صاحب خطیب مرکزی جامع مسجد استور کے خطیب ہیں کے چھوٹے صاحبزادے احتشام بھی تھے۔احتشام بھی دہشت گردوں کے خنجری وار سے شدید زخمی ہوٸے۔

مجھے معلوم نہیں کہ محمد بلال خان کیسے میرے فیس بک فرینڈ بنے تھے مگر جب ان کی دو ٹوک تحریریں دیکھنے کو ملی تو اپنے ناقدانہ کمنٹس کردیے۔ بلال بھی میری سماجی مصروفیات کو غور سے دیکھ رہے تھے اور میری ہر تحریر کا باریک بینی سے جاٸزہ بھی لیتے رہے۔بلال خان کا ایک مخصوص نکتہ نظر تھا اس پر وہ کسی صورت کمپروماٸز نہیں کرتے تھے۔میں بھی ان کی زد میں أیا اور اس نے میری بے دینیوں سے زچ ہوکر دوستی کا ہاتھ کھینچ لیا۔

جب اس کا علم ہوا تو مجھے بلال کی کمنٹمنٹ پر رشک أیا۔وہ اپنے نکتہ نگاہ اور مخصوص نظریات سے انتہاٸی شدت کے ساتھ وابستہ تھے۔اس باب میں بلال خان کسی کو معاف کرنے کے رودار نہیں تھے۔بلال کے بھاٸی کمیل بھی ایک اچھے نوجوان ہیں مگر بلال کی مقبولیت اور اسکی قلمی روانی بہتوں کو متاثر کرگٸی تھی۔ وہ اپنے تیٸیں ہر باطل اور گمراہ سے ٹکرانا اپنے فراٸض منصبی سمجھتے تھے۔اس باب میں بلال نے اپنوں کو بلکہ جید علماٸے کرام کو بھی نہیں بخشا ۔بلال کی بدقسمتی یہ بھی ہوٸی کہ اس کو بہت سارے عاقبت نااندیشوں سے پالا پڑا۔ پھر کیا تھا کہ یہ گھبرو نوجوان واہ واہ کی زد میں أیا۔وہ بنی بناٸی پگڈنڈی پر سفر کرتا رہا یہاں تک کہ وہ بڑا روڈ بن گیااور اس روڈ پر بگٹٹ دوڑتا رہا۔مجھے ان خود ساختہ لیڈروں پر بے تحاشا افسوس ہوتا ہے کہ جو بلال جیسے ذہین و فطین اور انٹیلکچول نوجوانوں کو جذباتیت کی پگڈنڈی پر دھکیل دیتے ہیں اور معقولیت سے بیزار کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے پاس حیات نو کا کوٸی پلان نہیں ہوتا یہ لوگ طرز کہن پر أڑے رہتے اور اپنے سوا سب کو لتاڑتے رہتے ہیں۔ بدقسمتی یہ کہ بلال جیسے ذہین بچے ان کا أسانی سے شکار بن جاتے ہیں۔واللہ مجھے بلال کی ناگہانی شہادت نے بہت افسردہ کیا۔ کھبی کھبار بلال کے بھاٸی کمیل کے ذریعے بلال کو سلام دعا بیجتا رہتا۔ بلال أپ نے ہم سب کو افسردہ کیا۔بلال تم نے صرف اپنی فیملی کو نہیں ان سب کو بھی رلا دیا جو أپ سے اختلاف کے باوجود بھی أپ کی کمنٹمنٹ پر رشک کرتے تھے اور مقدور بھر سمجھاتے بھی تھے۔ تین سال پہلے مارگلہ ہوٹل میں برادرم سبوخ سید سے عرض کیا تھا کہ بلال کو درست نہج پر ڈال دیں۔ شاہ جی کہنے لگے بہت سمجھایا ہے مگر وہ جذبات کی رو میں بہتا جارہا ہے۔ کاش بلال زندہ رہتے اور اپنے خوابوں کی تعبیر کرتے رہتے لیکن منشا ٕ الہی پر راضی ہونا ہے سب کی بہتری ہے۔ بلال وہاں گٸے جہاں ہم ہم سب نے جانا ہے۔ مولا کروٹ کروٹ راحتیں دے۔أمین تو
احباب کیا کہتے ہیں؟
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 223 Print Article Print
About the Author: Amir jan haqqani

Read More Articles by Amir jan haqqani: 257 Articles with 122840 views »
Amir jan Haqqani, Lecturer Degree College Gilgit, columnist Daily k,2 and pamirtime, Daily Salam, Daily bang-sahar, Daily Mahasib.

EDITOR: Monthly
.. View More

Reviews & Comments

Language: