قومی بجٹ : مطلب نکل گیا ہے تو پہچانتے نہیں

(Dr Salim Khan, India)

وزیراعظم نریندر مودی نے نرملا سیتا رامن سے اپنے خوابوں کا بجٹ پیش کروادیا۔ انتخاب سے قبل ایک ضمنی بجٹ پیش کرکے انہوں نے جو خواب دیکھے تھے وہ شرمندۂ تعبیر ہوگئے ۔ الیکشن میں انہیں غیر متوقع کامیابی نصیب ہوئی لیکن کسانوں اور متوسط طبقے کو جو خواب دکھائے گئے تھے وہ الیکشن کے بعد والے بجٹ نے چکنا چور کردیئے۔ فروری ۲۰۱۹؁ میں حکومت سب سے زیادہ کسانوں پر مہربان تھی ۔ سرکار نے اعلان کیا تھا کہ ۵ ایکڑ کی زرعی زمین کے حامل کسانوں کو سالانہ ۶ ہزار روپئے سرکاری امداد دی جائے گی۔ ماہی گیروں اور مویشی پالنے والوں کو بنک سے ملنے والے قرض میں ۲ فیصد کی سہولت ملے گی۔ قدرتی آفات میں گرفتار ہونے والے کاشتکاروں کوکسانوں کا سود ۲ فیصد کم کردیا جائے اور وقت پر ادائیگی کرنے والوں کو مزید ۳ فیصد کی چھوٹ ملے گی لیکن اس نئے بجٹ میں ان کسانوں کا ذکر ڈھونڈنے سے نہیں ملتا۔

متوسط طبقہ کی خوشنودی کے لیے انکم ٹیکس کی حد کو بڑھا کر ۵ لاکھ کیا گیا تھااور خرچ کی حد میں چھوٹ ۴۰ ہزار سے بڑھا کر ۵۰ ہزار کردی گئی۔ بنک میں جمع بالواسطہ ٹیکس کے وصولی کی حد دس ہزار سے بڑھا کر چالیس ہزار کردی گئی تھی ۔ کرایہ وصولی پر ٹیکس کی چھوٹ کو ایک لاکھ اسیّ ہزار سے بڑھا کر ۲ لاکھ چالیس ہزار کردیا گیا تھا ۔ غیر منظم شعبوں میں ملازمت کرنے والوں محنت کشوں ۶۰ سال کے بعد ۳ ہزار روپئے ماہانہ پنشن کا اعلان کیا گیا۔ اس کے لیے ہرماہ سو روپئے جمع کرنے کی شرط لگائی گئی تھی۔اکیس ہزار تک کمانے والوں کو ۷ ہزار بونس اور ای پی ایف کے ذریعہ جائے کار پر انتقال کرنے والوں کی مدد کو ڈھائی لاکھ سے بڑھا کر ۶ لاکھ کردیا گیا تھا لیکن انتخاب کے بعد اس سرکار نےمزدوروں اور متوسط طبقات کو پوری طرح فراموش کردیا۔مودی جی کو ووٹ کے ساتھ اپنا دل نکال کر دے دینے والوں کی زبان پراب حسن بریلوی کا یہ شعر ہے ؎
مل گیا دل نکل گیا مطلب
آپ کو اب کسی سے کیا مطلب

اس بجٹ میں جہاں غریبوں اور متوسط طبقات کو مہنگائی کے دلدل میں ڈھکیلنے کی خاطر پٹرول اور ڈیزل پر ۲ روپئے اضافی ٹیکس لگایا گیا ہے وہیں بڑے سرمایہ داروں کو ٹیکس میں خصوصی رعایت دی گئی۔ پہلے ڈھائی سو کروڈ روپیہ سالانہ کا ٹرن اوور کرنے والی صنعتوں پر ۲۵ فیصد اور اس سے زیادہ والوں پر ۳۰ فیصد کارپوریٹ ٹیکس لگتا تھا ۔ اب ۲۵ فیصد والی حد کو بڑھا کر ۴۰۰ کروڈ تک کردیا گیا جس سے ۹۹ فیصد رجسٹرڈ کمپنیوں کو اس کا فائدہ ہوگا ۔ جن لوگوں کے چندے سے بی جے پی نے انتخابی کامیابی حاصل کی ہے ان کے تئیں احسانمندی لازمی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے ووٹ دینے والے متوسط اور غریب لوگوں کی جیب کاٹ کر نوٹ دینے والوں کے وارے نیارے کیے جارہے ہیں ۔
 
عوام کو بہلانے پھسلانے کے لیے یہ کہا جارہا ہے کہ جن لوگوں کی سالانہ آمدنی پانچ کروڈ سے زیادہ ہے اب انہیں ۳۵ فیصد کے بجائے ۴۲ فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ ۱۳۰ کروڈ کی آبادی والے اس ملک میں ایسے لوگوں کی تعداد صرف ۶ ہزار سے کچھ زیادہ ہے۔ ان لوگوں کو ٹیکس بچانے کے بہت سارے طریقے معلوم ہیں لیکن ان پر ٹیکس لگا کر غریبوں کو یہ فریب دیا جارہا ہے کہ دیکھو تمہاری سرکار نے امیروں کی کمر توڑ دی حالانکہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ سے کروڈوں غرباء اور مساکین کا سرپھوڑ دیا گیا ہے۔ اس نئے ٹیکس سے تین لاکھ کروڈ ڈالر والی معیشت میں صرف پانچ ہزار کروڈ روپیہ کا اضافہ ہوگا جو جئے شاہ کی جعلی کمپنی کے برابر ہے۔ اس صورتحال پر یہ شعر صادق آتا ہے؎
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا

اس بجٹ سے عام آدمی تو بیوقوف بن جائے گا اور آئندہ ریاستی انتخابات میں بی جے پی کو ووٹ بھی دے گا لیکن اس سے سرمایہ دار وں کو بھی مایوسی ہوئی۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ بجٹ پیش ہونے سے قبل حصص بازار میں جو تیزی دکھائی دے رہی تھی وہ گدھے کے سر سینگ کی طرح غائب ہوگئی۔ سینسیکس جو ۱۲۴ پوائنٹ بڑھ کر ۴۰ ہزار سے اوپر پہنچ گیا تھا ۴۲۶ پوائنٹ گرگیا اور نفٹی میں بھی ۱۳۳ پوائنٹ کی گرواٹ آئی ۔ سینسیکس کے ۳۰ میں سے ۲۵ اور نفٹی کے ۵۰ میں سے ۴۲ شیئر خسارے میں کاروبار کرنے پر مجبور ہوگئے۔ اسی کے ساتھ ڈالر کے مقابلے ہندوستانی روپیہ بھی ۱۶ پیسہ سستا ہوگیا۔ اس حکومت نے تیس سال بعد غیرملکی اداروں کو بانڈ بیچ کر خسارہ پورا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام اگر کوئی اور کرتا تو یہ زعفرانی دیش بھکت قومی سلامتی کے نام پر آسمان سر پر اٹھالیتے لیکن اب ان کے خلاف کون بولے ۔ پہلے دوسروں کے گھر میں گھس کر مارا اور اب دوسروں کو اپنے گھر میں گھس کر لوٹنے کی اجازت دے دی۔ اس سے بی جے پی کی جعلی قوم پرستی اپنے آپ بے نقاب ہوگئی ہے
جی ڈی پی کو لے کر پچھلے دنوں یہ تنازع سامنے آیا کہ سرکار نے عوام کو فریب دینے کے لیے اس کے اعدادو شمار سے کھلواڑ کیا ہے لیکن اگر حکومت کی بات مان لی جائے تو آئندہ سال جی ڈی پی میں متوقع ترقی ۷ فیصد ہوگی جبکہ پچھلے ۵ سالوں کا اوسط ساڑھے سات ہے نیز اہداف کے حصول کی خاطر اس کو کم ازکم ۸ فیصد ہونا چاہیے۔ مودی جی کو اس میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے کیونکہ اس سے بے نیاز عوام جذبات میں سرشار ہوکر ان کو ووٹ دیتے ہیں ورنہ کیا وجہ ہے کہ پچھلے سال شرح نمو سب سے کم ۶ عشاریہ ۸ فیصد تھی نیزانتخابی سہ ماہی میں تو پانچ عشاریہ آٹھ پر پہنچ گئی تھی جو گزشتہ سترہ سہ ماہی میں سب سے کم تھی اس کے باوجود لوگوں نے بی جے پی کی ۲۱ نشستیں بڑھا دیں۔ اس لیے بجٹ میں ملحوظِ خاطر رکھے جانے والے اہداف یعنی مستحکم معیشت ، قومی سلامتی کو لاحق خطرات اور عوام کی فلاح و بہبود کو اقتدار کے بھوکے سیاستداں کوئی اہمیت نہیں دیتے ۔ ان کا معاملہ تو یہ ہوتا ہے؎
اپنے مطلب سے آشنا ہے وہ
سچ ہے ان کو کسی سے کیا مطلب
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 122 Print Article Print
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 734 Articles with 223902 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: