اسیر جان (قسط ٧)

(Kanwal Naveed, Karachi)

کنول بیٹا میں جانتا ہوں کہ اچانک ہونے والے حادثہ نے ہم سب کی سوچوں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ میں یہ بھی جانتا ہوں ہی تم اور احمر دونوں اس وقت غم کی کیفیت میں ہو ۔
ماموں کے الفاظ نے کنول کے دل ہی دھڑکن کو تیز کر دیا۔ اس کے دماغ نے فوراً سے کہا ، احمر سے شادی ۔۔۔۔۔۔
ابھی اس کے دماغ میں آدھے الفاظ ہی آئے تھے کہ ماموں کی بات پر وہ متوجہ ہوئی۔
دیکھو بیٹا وقت کسی کے لیے نہیں رُکتا۔ تمہاری مرضی کےبغیر تو ممکن نہیں ،لیکن میں چاہتا ہوں کہ تم آگے پڑھو۔۔۔۔کنول نے ایک گہری سانس لی ۔ اس کے چہرے پر غیر دانستہ طور پر مسکراہٹ آئی تھی۔ ماموں نے اس کے چہرے کو دیکھ کر کہا۔
میں نے احمر سے کہا ہے ،وہ یونیورسی میں ایڈمیشن لے اور تمہارے لیے بھی بات کی تو وہ کہنے لگا ،تمہاری مرضی معلوم کروں ۔ اسی لیے میں یہاں آیا ہوں ۔
کنول نے ہونٹوں ہر زبان پھیرتے ہوئے کہا۔ جو آپ کو بہتر لگے ماموں ۔ وہ دل ہی دل میں اپنی سوچ پر ہنس رہی تھی۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر ماموں نے سر پر ہاتھ پھیرا اور کمرے سے باہر چلے گئے۔
کنول حیران تھی ،کیا میں یونیورسٹی میں پڑھوں گی ۔وہ بھی احمر کے ساتھ ۔اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی یہ خبر کس کو سنائے وہ اداسی سے رونے لگی۔وہ نانی کے پاس گئی۔ جو سو رہی تھیں ۔ وہ دیر تک روتی رہی ،اپنی ماں کو یاد کرتی رہی۔ اچانک اسے ستارہ کا خیال آیا۔وہ اپنے کمرے میں آئی اور ستارہ کا نمبر ملانے لگی۔
ستارہ سے جب اس کی بات ہوئی تو اس نے فوراً اس کی امی کا پوچھا ۔ وہ دیر تک رو رو کر ہونے والے حادثہ کو بیان کرنے لگی ۔ ستارہ نے افسوس کرتے ہوئے کہا۔ انسان کی حقیقت بس اتنی سی ہی ہے۔ ہم کچھ بھی کر لیں تقدیر کے فیصلے رب ہی کرتا ہے۔
اس نے اپنی شادی کے طے ہونے کی خبر سنائی تو کنول حیران ہو گئی۔ اس نے حیرت سے کہا اور جو تم اپنے پاوں پر کھڑے ہونے کی بات کرتی تھی۔ تمہاری فیملی کے ماڈرن ہونے کا کہتی تھی ۔ وہ سب۔۔۔۔۔۔۔۔ ستارہ نے تھوڑا افسردہ ہوتے ہوئے کہا ،یار نصیب سمجھو ۔ تقدیر کے سامنے کس کی چلتی ہے۔کنول نے افسردگی سے کہا ۔
''میری ماں میری شادی کروانا چاہ رہی تھیں ۔ میرے ماموں مجھے یونیورسٹی میں ایڈمیشن دلا رہے ہیں ، تمہاری ماں تمہیں پڑھانا چاہ رہی تھیں اور تمہاری شادی ہونے کو ہے۔ نہ جانے یہ فیصلے کرتا کون ہے کہاں ہوتے ہیں ۔ ہاں شاہد تقدیر ہی ہے۔ ایک کسک کے ساتھ ہلکا سا ایک لفظ تقدیر اس کے ہونٹوں سے ادا ہوا ۔''
ستارہ نے افسردگی سے کہا۔ ''کیا تم میری شادی پر آو گی۔''
کنول نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔'' پتہ نہیں ،نانی جان سے پوچھو گی۔ ویسے آج کل وہ بھی اپنے حواس میں نہیں ہوتیں ۔ باتیں سنتی ہیں مگر سوچتی رہتی ہیں ۔ ٹھیک سے جواب نہیں دیتی ۔ ایک ماں کے لیے اس کی اولاد کی میت دیکھنا ، بہت مشکل ہے۔ کبھی کبھی زندگی کا چکر عجیب لگتا ہے کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ انسان نہ جانے کس چیز کی چاہ میں یہاں ہے ،کہاں چلا جاتا ہے ۔''
وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ ستارہ اسے تسلیاں دینے لگی۔ کنول سنبھالو خود کو ۔رب کی مرضی کے سامنے سب بے بس ہیں ۔ کنول دیر تک روتی رہی ، انسان کو انسا ن کی ضرورت کس قدر ہوتی ہے اس بات کا احساس پہلی بار کنول کو شدت سے ہو رہا تھا ۔ اسے لگ رہا تھا جیسے وہ ستارہ کے کندھے پر سر رکھے رو رو کر اپنا غم ہلکا کر رہی ہے۔ کنول نے روتے ہوئے کہا۔ نانی تو اپنے ہوش میں ہی نہیں رہیں ۔ آج اتنے دنوں بعد عجیب سا سکون محسوس ہو رہا ہے۔ ستارہ ۔ستارہ نے روتے ہوئے کہا۔ ''تمہارا جب جی چاہے فون کرنا ۔یہ فون میں اپنے ساتھ لے جاوں گی۔ چاہے سات سمندر پار بھی ہوں ہم ساتھ رہیں گئے سمجھی۔ ''کنول نے بہتی ناک اور چھلکی انکھوں کو دوپٹہ سے صاف کیا ہی تھا کہ اسےستارہ کی آواز آئی ۔ یونیورسٹی میں اچھے سے پڑھائی کرنا ۔ پیار ،محبت کے چکر میں نہ پڑنا ۔
روتے روتے کنول کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے ایک لمبی آہ بھری محبت !
اس کے دل میں ہلکی سی سرسراہٹ ہوئی ۔وہ تو ہو چکی ، اب کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ ستارہ نے ہیلو ،ہیلو کہا۔ کنول نے اسے تسلی دی کہ فون نہیں کٹا ۔ کچھ دیر کی باتوں کے بعد کنول اطمینان سے فون بند کر کے بیٹھی ہی تھی کہ اسے غیر دانستہ طور پر احمر کا خیال آیا ۔
کیا احمر بھی اس کے متعلق سوچتا ہو گا۔ وہ تو جانے کس دنیا میں رہتا ہے۔
اس نے ڈائری کھولی اورلکھنے لگی۔
دل کو میرے قرار تو ہوتا
ہوتا، کسی سےپیارجو ہوتا
محبت کی وادی میں سیر ہم کرتے
کسی کا انتظار ہم بھی چار پہر کرتے
کسی کے سپنے آنکھ کا کاجل سموتا
ہوتا کسی سے پیار جو ہوتا
ہم بھی کسی کو دلبر کہتے
خیالوں میں اسی کے دن بھر رہتے
ہر پل اسی کا خیال پھر ہوتا
ہوتا، کسی سے پیار جو ہوتا
وہ زمانہ تھا جب یہ سب کہتے تھے ہم
خوابوں کی دنیا میں تب رہتے تھے ہم
خواب کا حقیقت سنگ ملاپ ہے ہوتا
ہوتا، کسی سے کنولؔ پیار ہےجب ہوتا
وہ ابھی لکھی ہوئی غزل کو دیکھ ہی رہی تھی کہ دروازے پر دستک نے اسے چونکا دیا۔ احمر کی آواز تھی۔
وہ تیزی سے دروازے کی طرف آئی اور دروازہ کھول کر احمر کو اندر آنے کا کہا۔اسے اپنے دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اس نے اپنی ذات میں ایسے احساسات کبھی محسوس نہیں کیے تھے۔احمر بہت دنوں کو بعد اس کے کمرے میں کھڑا تھا۔
وہ یونیورسٹی سے متعلق باتیں کر رہا تھا، کنول اپنے ہی خیالوں میں گم تھی۔ اس نے جانے کے لیے دروازے کی طرف رُخ کرتے ہوئے کہا۔ بہت جلد ہم یونیورسٹی میں ہوں گئے۔ کنول اس کے دیئے ہوئے کاغذ دیکھ رہی تھی، اس کے منہ سے فقط ''اچھا ہی نکلا ۔ احمر کمرے سے نکل چکا تھا ۔ اس کے آنے کے ساتھ جو اس کے پرفیوم کی مہک آئی تھی وہ اب کمرے میں رچ بس گئی تھی۔
کیسے کوئی انسان ،خیالوں میں ساتھ ساتھ چلنے لگتا ہے ۔ کنول آئینہ دیکھ رہی تھی۔ احمر نے پھر دستک دی۔ اس نے سوچا شاہد کام کرنے والی ہے۔ اس نے بے تکلفی سے کہا۔ آ جاو نا ۔ خود آئنیہ کے سامنےکھڑی خود کو دیکھتی رہی۔ احمر اندر آ چکا تھا۔ اس نے جب کنول کو شاپنگ کے لیے ساتھ چلنے کو کہا تو وہ چونک گئی۔
احمر نے مسکرا کر کہا ، آپ کے ماموں نے کہا ہے کہ آپ کو شاپنگ کروا دی جائے ، یونیورسٹی جانے کے لیے جو بھی چاہیے ہو آپ لے سکتی ہیں ۔زندگی کی گاڑی کو بھی اگر دھیان سے نہ چلایا جائے تو ایکسیڈنٹ یقینی ہے۔ کنول نے شرمندہ ہوتے ہوئے کہا۔ مجھے کچھ نہیں چاہیے۔
احمر اپنے موبائل کو رکھتے ہوئے بولا، سوچ لیجئے۔ کیا پتہ کچھ چاہیے ہی ہو۔ وہ کمرے کو ایسے دیکھ رہا تھا ،جیسے کچھ ڈھونڈ رہا ہو،شام کو بتا دینا مجھے۔ یہ کہتے ہوئے وہ کمرے سے نکل گیا۔ اب کی بار وہ احمر کو جاتے ہوئے کچھ دیر دیکھتی رہی۔
اس نے اپنی ڈائری لی اور مسکراتے ہوئے لکھنے لگی۔
جسے سوچ کر رہتی نہیں اپنے آپ میں میں!
کیا ہو گا اگر کبھی وہ مجھے مل جائے تو
سوچ رہی ہوں بتا دوں اسے حقیقت سب
سچ کی دہلیز پر میرا پاوں سنبھل جائے تو۔
فون کی گھنٹی بج رہی تھی ، اس نے پن کو ایک طرف رکھا ۔اس نے فون اُٹھانے کے بعد جب آواز آئی تو اس نے غور سے دیکھا تھا۔ یہ احمر کا فون تھا۔ جو وہ بات جیت کے دوران کمرے میں چھوڑ گیا تھا۔ دوسری طرف سے ایان کی آواز آئی۔
بہت بے وفا ہے یار،مجھ سے ملنے کے لیے وقت ہی نہیں ۔ وقت ہو بھی کیسے ۔اپنی محبوبہ کی یاد میں شعر جو پڑھتا ،لکھتا رہتا ہے۔ بول بولتا کیوں نہیں؟
کنول نے ایک لمبی آہ بھری۔
کیا احمر کسی کو پسند کرتا ہے ؟کس کو ؟ کنول نے دل ہی دل میں افسردگی سے سوچا۔
ایان کی دوسری طرف سے برابر آواز آ رہی تھی مگر کنول نے فون بند کر دیا۔ اس کے دل و دماغ میں فقط ایک ہی سوال گردش کر رہا تھا۔ کیا احمر کسی کو پسند کرتا ہے۔ کس کو؟ وہ کون ہے؟
اس کی انکھوں سے آنسو چھلک گئے۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیسے اور کس طرح احمر سے سچ کا پتہ کرئے، وہ بے چینی سے کمرے میں ادھر سے اُدھر چکر لگا رہی تھی۔ اسے کوئی راستہ نہیں سوجھ رہا تھا۔
اس نے لپ اسٹک سے آئینہ پر سیدھی ، ترجھی لائنیں لگا نا شروع کیں ۔آئینہ پر ہی اس نے شعر لکھا۔
بہت غم دیکھے ،نہیں کوئی تیری ذات سے تجاوز کرتا
عشق تو عاشق کو کنولؔؔ درباروں کا ہے مجاوز کرتا
احمر نے دروازے پر پھر سے دستک دی تھی ، دستک دینے کے فوراًً بعد وہ اندر آ چکا تھا۔ آئینہ پر لکھا شعر اور کنول کی انکھوں میں نمی اس نے دیکھ لی تھی۔ اس نے سوری کہتے ہوئے اپنا فون مانگا۔جو بیڈ پر ہی پڑا تھا۔
کنول نے دھیرے سے کہا ، ''لے لیں ۔ ''احمر نے فون لیا اور آئینہ پر لکھا ہوا شعر پڑھ کر کمرے سے باہر چلا گیا۔اس کے دل وہ دماغ میں بھی خدشات نے جنم لیا۔کنول کسی کو پسند کرتی ہے کیا؟شاعری اور محبت کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ کنول کے دل میں کیا ہے ، کیسے پتہ کیا جائے۔ اسی سوچ میں وہ گم اپنے بستر پربیٹھا تھا کہ ایان کا فون آیا۔
ایان نے غصے سے کہا، تم آرہے ہو یا میں آوں ۔ احمر نے منہ بناتے ہوئے کہا۔ میں ہی آتا ہوں ۔یہ کہہ کر اس نے فون بند کیا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1340 Print Article Print
About the Author: kanwalnaveed

Read More Articles by kanwalnaveed: 124 Articles with 154826 views »
Most important thing in life is respect. According to human being we should chose good words even in unhappy situations of life. I like those people w.. View More

Reviews & Comments

i m waiting your novel mam plz upload
By: Mirha, KArachi on Nov, 14 2019
Reply Reply
0 Like
plz post next episode your novel story is very amazing
By: Mirha, KArachi on Oct, 31 2019
Reply Reply
0 Like
Language: