ٹرمپ کا پاکستان فوبیا ختم ہو گیا ہے؟

(Prof Shoukat Ullah, Banu)

 پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان امریکہ کے دورے سے بخیریت واپس وطن پہنچ چکے ہیں۔ کیوں کہ شیخ رشید نے کہا تھا کہ ٹرمپ عمران ملاقات ہونے جارہی ہے ، اﷲ خیر کرے ، دونوں کا مزاج ایک جیسا ہے۔ کسی نے واٹس ایپ پر ’’غلام حسین اور ہٹلر ‘‘ کے عنوان سے اس سلسلے میں ایک لطیفہ بھیجا ہے۔ کہتے ہیں کہ دوسری جنگ ِ عظیم کے دوران انگریز وں نے خطہ پوٹھوہار سے بڑی تعداد میں نوجوانوں کو فوج میں بھرتی کیا۔ ایک دن جہلم کے کسی گاؤں میں ایک ادھیڑ عمر ماں اُداس اور پریشان اپنے گھر کی دہلیز پر بیٹھی ہوئی تھی۔ پڑوسن نے اُداسی اور پریشانی کا سبب پوچھا۔ بوڑھی عورت نے جواب دیا کہ اس کے بیٹے غلام حسین کا خط آیا ہے کہ اس کی فوجی ٹریننگ مکمل ہوگئی ہے اور ملکہ نے اسے جرمنی کے محاذ پر جانے کا حکم نامہ جاری کر دیا ہے ۔ اُس بوڑھی عورت نے مزید کہا۔ ’’ بہن ! سُنا ہے کہ ہٹلر بڑا ظالم ہے اور میں پریشان اس لئے ہوں کہ غلام حسین بھی غصے کا تیز ہے، مجھے ڈر ہے کہ کہیں دونوں کا آمنا سامنا نہ ہو جائے۔ ‘‘ہم نے اسی وجہ سے بخیریت واپسی کے الفاظ لکھے ہیں۔ وطن واپسی پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ میں کسی باہر دورے سے واپس نہیں آرہا بلکہ ورلڈ کپ جیت کر آیا ہوں۔ ہم نے آج تک کسی حکومتی عہدیدار سے دورے کی ناکامی اور حزب اختلاف سے کامیابی کا نہیں سُنا ہے۔ تبصرہ کرنے سے پہلے ذرا ٹرمپ کے ماضی میں دیئے گئے بیانات دیکھتے ہیں جن میں وہ پاکستان فوبیا کا شکار نظر آتے ہیں۔ 2012 ء میں ایک چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا۔ ’’اسامہ بن لادن کو پناہ دینے کے لئے پاکستان کو تمام دنیا سے معافی مانگنی چاہیے ۔ ‘‘فوکس نیوز کو دیئے گئے انٹرویو میں اُن کا کہنا تھا۔ ’’امریکہ کے دس ہزار فوجی افغانستان میں رہنے چاہیئں کیوں کہ افغانستان پاکستان کا ہمسایہ ہے جو کہ ایک نیو کلیئر طاقت ہے۔ ‘‘ سی این این کو دیئے گئے بیان میں کہنا تھا۔ ’’پاکستان کا ایٹمی ہتھیاروں کا پروگرام ایک اہم مسئلہ ہے، انہیں چاہیے کہ صورت حال پر بہتر کنٹرول حاصل کریں۔ ‘‘ مارچ 2016 ء میں لاہور میں ایسٹر کے تہوار کے موقع پر مسیحی بھائیوں پر دہشت گردی کے حملے میں ستر سے زائد ہلاکتوں پر ڈونلڈ نے ٹویٹ کیا تھا ۔ ’’ اس مسئلے کا حل صرف میرے پاس ہے ۔‘‘ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے کہا تھا۔ ’’ پاکستان شاید دنیا کا خطرناک ترین ملک ہو۔ پاکستان کو کنٹرول کرنے کے لئے بھارت کو حرکت میں لانا ہوگا۔ میں اس سلسلہ میں فوراً بات چیت شروع کروں گا۔ ‘‘ ایک اور بیان میں موصوف کا کہنا تھا کہ پاکستان نیم غیر مستحکم ملک ہے اور دہشت گردوں کا ٹھکانہ ہے۔صدارتی انتخاب سے قبل ٹرمپ نے 15 اکتوبر کو ریاست نیو جرسی میں ری پبلکن ہندو اتحاد کے زیر اہتمام منعقد کی جانے والی ریلی سے خطاب میں کہا تھا۔ ’’ ہم بھارت کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے اور آپس میں خفیہ معلومات کا تبادلہ کرکے اپنے عوام کو محفوظ رکھیں گے۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا تھا۔ ’’میں اقتدار میں آنے کے بعد بھارت کے ساتھ سفارتی اور فوجی تعلقات کو مزید تقویت دوں گا۔‘‘ ٹرمپ کو بھارتی نژاد امریکیوں کے ووٹ حاصل کرنے میں اس قدر دل چسپی تھی کہ انہوں نے ایک اشتہار بھی جاری کیا جس میں انہیں ہندی زبان میں ’’اب کی بار، ٹرمپ سرکار‘‘ کہتے ہوئے دیکھا اور سنا جاسکتا ہے۔ یاد رہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اسی قسم کے نعرہ ’’اب کے بار ، مودی سرکار‘‘ کے منشور پر الیکشن لڑا تھا اور کامیابی حاصل کی تھی۔ محرمان اسرار جانتے ہیں کہ ٹرمپ نے جنوری 2017 ء میں حلف اٹھانے کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی تھی ۔ اس موقع پر امریکی صدر نے کہا تھا۔ ’’ بھارت امریکہ کا سچا دوست ہے ، امریکہ دنیا کو لاحق چیلنجوں سے مقابلہ کرنے میں بھارت کو ایک سچا دوست اور شراکت کار تصور کرتا ہے۔ ‘‘ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد ٹویٹ کے ذریعے انہوں نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی جاری رکھی۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ٹرمپ کو پاکستان فوبیا ہے۔ چودہ جولائی 2017 ء کو امریکی ایوان نمائندگان نے 696 ارب ڈالر کی خطیر رقم کا دفاعی بل کثرت رائے سے منظور کیا جس میں پاکستان کی امداد پر پابندیوں میں اضافے کی تجاویز پیش کی گئی تھیں اور پاکستان کی امداد کو افغانستان میں امریکی اور مقامی افواج سے برسرپیکار حقانی نیٹ ورک اور طالبان کے مختلف گروپوں کے خلاف کاروائی سے مشروط کیا گیا تھا۔ ان گروپوں کی فہرست میں بھارتی مقبوضہ کشمیر میں حق ِ خود ارادی کے لئے جدوجہد کرنے والی تنظیموں کے نام بھی شامل تھے۔ جس سے امریکہ کی کشمیر سے متعلق پالیسی واضح تھی اور وہ کشمیری جدوجہد کو دہشت گردی قرار دے رہے تھے۔ یہ بل یکم اکتوبر 2017 ء سے نافذ العمل ہے۔ دوسری جانب اس بل میں امریکی وزیر دفاع اور وزیر خارجہ کو چھ ماہ کے اندر بھارت و امریکہ کے درمیان فوجی تعاون میں اضافے کی حکمت عملی تشکیل دینے کی ہدایات جاری کی گئیں تھیں۔ یاد رہے کہ اس وقت پاکستان کی سیاسی صورت حال افراتفری کا شکار تھی ، حکمران اپنی کرسی بچانے کی فکر میں تھے اور جب کہ اپوزیشن ( موجودہ حکمران ) کی ساری توانائیاں وزیراعظم کو منصب سے ہٹانے کے لئے وقف تھیں۔ کشمیر کے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی عمران خان کے دورے سے ٹھیک دو سال قبل بنی تھی۔ اَب ٹرمپ کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کے بیان کو اچھالا جارہا ہے۔ جس کی تردید بھارت کی جانب سے آچکی ہے۔ بہر کیف موجودہ دورے کو ایک خوش گوار دورہ کہا جاسکتا ہے کیوں کہ ٹرمپ کا پاکستان فوبیا کہیں نظر نہیں آیا۔ یہ سوال قارئین کے لئے چھوڑ تا ہوں کہ کیا ٹرمپ کا پاکستان فوبیا ختم ہو گیا ہے ؟

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Shoukat Ullah

Read More Articles by Prof Shoukat Ullah: 202 Articles with 124220 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Jul, 2019 Views: 172

Comments

آپ کی رائے