پاک امریکہ دوستی ماضی،حال اور مستقبل کے آئینے میں۔۔۔۔

(Abdul Qayum, )

امریکہ نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کے دورہ امریکہ کے 4/5 دنوں بعد پاکستان کی فوجی امداد بحال کرنے سمیت کئی دیگر مراعات کا اعلان کیا ہے اس میں پاکستانی ایف 16 طیاروں کی تکنیکی معاونت کے لیے ساڑھے 12 کروڑ ڈالر کی امداد دی گئی ہے جس سے امریکہ پاکستانی ایف 16 طیاروں کے پرزے اور فنی خدمات فراہم کرے گا جب کہ صدر ٹرمپ کیطرف سے مسئلہ کشمیر پرپاک بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش پہلے ہی کی جا چکی ہے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں بحالی اور بہتری کی جانب بہت بڑی پیشرفت ہے جسے عمران خان کے دورہ امریکہ کی کامیابی قرار دیا جاسکتا ہے۔جو بھارت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے پاک امریکہ تعلقات میں بہتری کے نتیجے میں افغانستان سمیت خطہ میں امن قائم ہونے کی امید ہے جوعلاقہ میں ترقی اور خوشحالی کے لیے مددگار ثابت ہوگا ہمارا ملک پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشتگردی کا شکار ہے جس کے نتیجے میں عام شہریوں سمیت پاک فوج اور عسکری اداروں کے ہزاروں جوان شہید ہوچکے ہیں اور ملک کی معشیت کو اربوں ڈالرز کا نقصان ہوا یہ سب کچھ افغانستان میں طالبان اور امریکی افواج کے درمیان چپقلش کیوجہ سے ہوا اس صورتحال کو بھارت نے امریکہ کیساتھ اپنے تعلقات کو پاکستان دشمنی کے لیے استعمال کیا پاکستان ایک طرف تو دہشتگردی کی جنگ میں اگلے محاذوں پر لڑتے ہوئے قربانیاں پیش کرتا رہا ملک بھر میں روزانہ کی بنیاد پر دہشتگردوں کے خودکش اور دیگ حملے ہوتے جس میں ہمارے فوجی جوان اور معصوم شہری شہید ہوتے اور قیمتی املاک کا نقصان ہوتا جس میں ایک طرف بھارت بھرپور فائدہ اٹھاتا تو دوسری طرف بے بنیاد پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کو دہشگردی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے امریکہ اور دنیا کو گمراہ کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف رہتا یہ سلسلہ ایک عرصے سے جاری تھا بھارت پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کے لیے کوئی موقع ہاتھ سے نہیں دینے جاتا تھا اس کیساتھ ساتھ بھارت اپنے اوچھے ہتھکنڈوں اور فوجی طاقت کے بل بوتے پر مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ کر آزدی کشمیر کی جدوجہد کو ناکام بنانے میں مصروف ہے ایسے میں گزشتہ سال 22اگست کو پاکستان تحریک انصاف برسراقتدار آجاتی ہے اور عمران خان وزیراعظم منتخب ہوجاتے ہیں انھیں حکومت سنبھالتے بیشمار مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے تباہ حال قومی معشیت،مہنگائی،بیروزگاری کیساتھ قومی اداروں میں کرپشن جیسے کئی حل طلب مسائل تھے جنھیں فوری حل کرنے کی ضرورت تھی جب کہ سفارتی سطح پر حکومت کئی چیلنجز کا سامنا تھا حکومت کو ایک مضبوط اور بڑی اپوزیشن کا بھی سامنا ہے وزیراعظم عمران خان نے اپنے پختہ عزم اور بڑی حکمت عملی سے حالات پر قابو پانے کے لیے کوششیں شروع کیں انھیں کوششوں میں عمران خان نے اپنے اقتدار کے پہلے سال کے آخری مہینوں میں امریکہ کا دورہ کیا جس کیساتھ ہمارے تعلقات سرد مہری کا شکار تھے اور بھارت بہت آگے جارہا تھا اب اس دورے کے نتیجے میں پاک امریکہ تعلقات تیزی کیساتھ آگے بڑھنا شروع ہوگئے ہیں دوبارہ دوستی کے اس نئے سفر میں ماضی کے تجربات سامنے رکھتے ہوئے یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ امریکہ کیساتھ ہمارے تعلقات ساٹھ کی دہائی کے قریب شروع ہوئے تھے جب موجودہ حکومت میں وفاقی وزیر پانی و بجلی عمرایوب خان کے دادا جنرل ایوب خان 1958ء میں عہدہ صدارت پر براجمان تھے اور غالبا جانسن امریکہ کے صدر تھے اس دور میں دونوں ملکوں کے درمیان اچھے تعلقات پروان چڑھے صدر امریکہ نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران ایک اونٹ ریڑھی چلانے بشیر ساربان کو امریکہ کے دورے کی دعوت بھی دی تھی صدر ایوب خان نے پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے ؛ماسٹر ناٹ فرینڈ؛ کے عنوان سے ایک کتاب بھی لکھی تھی جسے اس دور میں بڑی شہرت حاصل ہوئی تھی۔امریکہ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ کسی کا دوست نہیں وہ اپنے مفادات کا دوست ہوتا ہے حالات و واقعات کیساتھ اس کی دوست اور دشمن بدلتے رہتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ پاک امریکہ تعلقات کبھی آئیدیل نہیں رہے شروع سے ہی ان تعلقات میں نشیب و فراز آتے رہے ہیں کئی سالوں سے امریکہ نے افغانستان میں دہشتگردی کے نام پر طالبان کیخلاف ایک جنگ شروع کررکھی ہے جس کے لیے افغانستان میں امریکہ کے ہزاروں فوجی تعینات ہیں اس جنگ میں امریکہ کے اربوں ڈالر خرچ ہونے کے علاوہ سینکڑوں فوجی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے لیکن امریکہ کو اپنی ہی شروع کردہ جنگ بے نتیجہ اور بے سود نظر آرہی ہے البتہ اس جنگ میں بھارت نے اپنے مذموم مقاصد کے علاوہ مالی مفادات بھی پورے کیے آخرکار امریکہ کو افغانستان میں اپنی شروع کردہ جنگ بے نتیجہ اور بے سود نظر آنے کیساتھ بھارت کے مفادات ، عیاریوں اورمکاریوں کا بھی علم ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ کی خطے میں بدلتے ہوئے حالات کے علاوہ تبدیل ہوتے ہوئے عالمی منظرنامے پر بھی گہری نظر ہے چین جو پاکستان کا بہترین ہمسایہ ملک ہے اسکے تعاون سے پاکستان میں سی پیک منصوبے کو اس خطے کے علاوہ دنیا میں بڑی اہمیت حاصل ہورہی ہے ان وجوہات اور دیگرزمینی حقائق کی بناء پر امریکہ افغانستان سے اپنی باعزت واپسی چاہتا ہے اس کے لیے موجودہ حالات میں پاکستان کیساتھ دوستی امریکی مفاد میں ہے یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورے میں امریکہ نے دوستی کے نئے سفر کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور غیرمعمولی طور پر وزیراعظم عمران خان کا نہایت گرمجوشی کیساتھ استقبال کیا امریکہ کی طرف سے دوستی کا موقع دینا ایک اچھی بات ہے جس سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہیے تاکہ افغانستان کیساتھ خطے میں امن وامان اور ترقی کی راہ ہموار ہو مگریہ صورتحال بھارت کے لیے کسی طور پر خوش کن اور قابل قبول نہیں کیونکہ وہ کبھی نہیں چاہتا کہ پاک امریکہ تعلقات بہتر اور مضبوط ہوں کیونکہ اس طرح ہوتا ہے توبھارت کو خطے میں اپنی اجارہ داری قائم کرنے کا موقع نہیں ملتا خاص طور پر جب پاکستان سے امریکہ کیساتھ تعلقات خوشگوار ہونگے تو اس کے نتیجے میں بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں بھی بزور طاقت آزادی کی تحریک دبانا مشکل ہوگا کیونکہ صدر ٹرمپ کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے پاک بھارت کے درمیان ثالثی کرنے کا برملا اظہار بھی کیا جاچکا ہے جس کی چین کی طرف سے بھی پرزور حمایت کی گئی ہے جبکہ اپوزیشن کی ایک بڑی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی بیرونی تعلقات میں بہتری کے لیے حکومت کی کوششوں کی حمایت کی ہے اگر پاک امریکہ دوستی اور حالات اسی طرح آگے بڑھتے ہیں تو اس سے افغانستان میں جاری جنگ و جدل کا خاتمہ ہوگا بلکہ اس ڈویلپمنٹ سے نہتے کشمیریوں میں بھارتی ظلم و ستم ختم ہونے کی امید بھی پیدا ہوگی۔ خوش گمانی سے کام لیا جائے تو پاک امریکہ تعلقات اس خطے کیساتھ دنیا بھر میں امن،ترقی اور خوشحالی کا پیغام بن سکتے ہیں لیکن ماضی کی تلخ یادوں کا کیا جائے جس میں امریکہ کی بار بار کی بے وفائیاں ہیں بحرحال ماضی کے تلخ تجربات کے باوجود پاکستان اور امریکہ دوبارہ دوستی کا ہاتھ بڑھا چکے ہیں امید رکھنی چاہیے کہ یہ دوستی یک طرفہ نہیں ہوگی بلکہ فریقین خلوص نیت سے ایکدوسرے کے مفادات کا خیال رکھتے ہوئے وفاداری سے دوستی نبھائیں گے-
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Qayum

Read More Articles by Abdul Qayum: 25 Articles with 9151 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Jul, 2019 Views: 224

Comments

آپ کی رائے