زیرِ زمین پانی لینے سے شہر قائد کی زمینیں کمزور ہورہی ہیں

(Syed Mehboob Ahmed Chishti, )

شہرقائد میں بورنگ کے ذریعے پانی کا کاروبار شہریوں کو مشکلات کا شکار کرنے کرسکتا ہے مسلسل بورنگ کا عمل جاری سمندر کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا کہ وہ شہر قائدزیر زمین پانی کی جگہ لے لے اس لحاظ سے کراچی میں ریورس اوسموسس پلانٹس کا گلی گلی میں موجود ہونا درست نہیں دکھائی دے رہا ہے منرل واٹر کے نام پر گلی گلی میں آر او پلانٹس لگا دئیے گئے ہیں جوکہ بورنگ کے پانی سے منسلک کر دئیے گئے ہیں جہاں روزانہ ان گنت پانی منرل واٹر کے نام پر گھر گھر سپلائی کرکے کاروبار کیا جارہا ہے اسوقت کراچی میں منرل واٹر کا کاروبار منافع بخش کاروبار ہے لیکن اس کاروبار کی وجہ سے زیر زمیں پانی میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے جس کیوجہ سے دریاں ،ندیوں سمیت آبی ذخائر خشک ہوتے جا رہے ہیں جو کراچی کیلئے لمحہ فکریہ کی حیثیت اختیار کرتے جا رہے ہیں کراچی میں 2000ء تک جب شہر میں پانی کا بحران بھی شدید نہیں تھا اور کراچی کے تیس فیصد علاقوں میں کنوں کے ذریعے پانی فراہم ہورہا تھا 80فٹ بورنگ پر پانی دستیاب تھااب یہ پانی 200 سے 300 فٹ بورنگ پر حاصل ہو رہا ہے آر او پلانٹس پر بے تحاشا پانی استعمال ہونے سے یہ سطح ہر سال بڑھ رہی ہے جبکہ کراچی میں کنوں کے ذریعے پانی کی فراہمی کا نظام تقریبا ختم ہو چکا ہے جس کی اہم وجہ کنوں کا خشک ہوجانا ہے یاد رہے کہ واٹر کمیشن نے زیر زمین پانی پر پابندی عائد کی تھی سپریم کورٹ نے اسے پانی چوری قرار دیکر قانونی کاروائی کرنے کا کہا تھا سپریم کورٹ نے یہ احکامات بھی صادر کئے تھے کہ زیر زمین پانی پر سرکار کا حق ہے زیر زمیں پانی سرکار کی مرضی کے بغیر استعمال نہیں ہونا چاہیئے مگر ان تمام احکامات کو ایک طرف رکھ کرکراچی کا زیر زمین پانی بے خوف وخطر بیچا جا رہا ہے آر او پلانٹ کی روک تھام یا سرکاری آر او پلانٹس کے علاوہ پانی کی فروخت روکنا ضروری ہو گئی ہے اسی طرح زیر زمیں پانی پر پلانٹس لگنے کا عمل جاری رہا توکراچی کے زمیں بوس ہونے کے خدشات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ایک طرف کراچی سے ریتی بجری کی چوری پر قابو پایا نہیں جاسکا ہے اور دوسری جانب زیر زمین پانی کو چوسنے کا خطرناک کھیل جاری ہے ریتی بجری اور زیر زمین پانی کا ختم ہونا سائنسی نقطہ نگاہ سے ساحلی علاقوں پر موجود آبادیوں کیلئے خودکشی کے مترادف ہے کیونکہ دونوں صورتوں کی خالی جگہیں پر کرنے کیلئے سمندر دستیاب ہوتا ہے یعنی اسوقت جو صورتحال ہے وہ اس جانب اشارہ کر رہی ہے کہ کراچی کے غیر مقامی اور مقامی باشندوں نے ایسے کام کر رکھے ہیں جو کراچی کو صفحہ ہستی سے مٹانے کیلئے کافی ہیں اعلیٰ عدلیہ اس بات سے مکمل طور پر واقف ہے کہ زیر زمیں پانی کی کیا اہمیت ہے اور پانی جتنا نیچے جاتا جائیگا خالی زمین ایک طرف بے جان سی ہوکر مضبوط انفراسٹرکچر کو کمزور کر دے گئی جس سے عمارتیں زمین بوس ہونا شروع ہو جائیں گی دوسری طرف سمندر خالی پانی کی جگہ لینے کو بے چین ہوسکتا ہے مذکورہ ساری صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت سندھ کو اس سلسلے میں ناقابل معافی طرز کے اقدامات بروئے کار لانا ہونگے بصورت دیگر معاملات ہر گزرتے دن کے ساتھ سنگینی کی جانب گامزن ہیں .
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Mehboob Ahmed Chishti

Read More Articles by Syed Mehboob Ahmed Chishti: 32 Articles with 11281 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Jul, 2019 Views: 306

Comments

آپ کی رائے