دورہ امریکہ سے اپوزیشن کے احتجاج تک

(Haq Nawaz Jillani, Islamabad)

وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے بارے میں دونوں ممالک یعنی پاکستان اور امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کا دورہ کا میاب رہا اور اس دورے کے بعد پاکستان کے ساتھ نئے تعلقات کا آغاز ہوا جو کہ دونوں ممالک کیلئے اہم ہے ۔ امریکہ نے پاکستان کے خلاف جو پابندیاں لگائی تھی اس میں نرمی کی جائے گی جبکہ ٹر مپ انتظامیہ کی پاکستان بارے میں بہت سے غلط فہمیاں بھی ختم ہوگئی ہے ۔ امریکا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کی قدر کرتا ہے ۔اس طرح پاکستان نے بھی دورے کو ایک کامیاب دورہ کہا ہے کہ اس دورے کے بعد پاکستان اور امر یکہ کے درمیا ن جو ڈیڈ لاک تھا وہ ختم ہوا جبکہ بھارت کی پیدا کردہ غلط فہیموں اور بداعتمادی کو کافی حد تک دور کیا گیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے امریکیوں کو باور کرایا کہ پاکستان باعزت ، یکساں اور دوطرفہ تعلقات کا خواہاں ہے۔

عمران خان کا بطور وزیراعظم یہ پہلا امریکا دورہ تھا جس میں بلاشبہ انہوں نے پاکستان کا مقدمہ بہت بہتر انداز میں پیش کیا جس میں انھوں نے امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات کرنے سے ایک روز پہلے پاکستانی کمیونٹی کی بہت بڑی تعداد میں جلسے سے خطاب کیا جس کو امریکی تاریخ میں بھی یاد رکھا جائے گا کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے جو کہ ایک بڑی کامیا ب اسلئے بھی ثابت ہوئی کہ صدر ٹر مپ اور امریکی انتظامیہ کو معلوم ہواکہ وزیراعظم عمران خان امریکہ میں بھی بہت مشہور و معروف ہے جس کا اظہار صدر ٹرمپ نے بھی مجبور ہوکر کیا کہ وز یراعظم عمران خان ایک بہت بڑے لیڈر اور عوام میں بھر پور پذیر رکھتے ہیں جو کہ امریکی انتظامیہ پر بھی اخلاقی برتر ثابت ہوئی جس کو میں عمران خان اور ان کی ٹیم کی سب سے بڑی کامیابی قرار دے رہاہوں کہ جلسے کو ایک سیاسی ٹیکٹس کے طور پر استعمال کیاگیا ۔ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی جس کے حل میں امریکی صدر نے ثالث بننے کی بات کی جس پر وزیراعظم نے کہا کہ دنیا تاریخ میں اور خاص کر مسلم ممالک کے لئے یہ بہت بڑا کارنامہ ہوگا جب مسئلہ کشمیر حل ہوگا۔ بھارت کو اس پیشکش پر سنجیدگی سے غور کر نا چاہیے ، یہ بھارت کے پاس بھی بہتر راستہ اور موقع ہے کہ مسئلہ کشمیر پر بات چیت شروع کریں اور امریکی ثالثی قبول کریں جس کی اب چین نے بھی تائید کی ،باقی تاریخ ثابت کریں گی کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان آنے والے وقت میں کیا تعلقات قائم ہوں گے ۔ اس وزٹ کا ایک بنیادی مقصد امریکہ کیلئے یہ بھی تھا کہ امریکا کو پاکستان، افغانستان جنگ سے بحفاظت نکالیں اور طالبان کو رام کرنے میں پاکستان بھر پور طریقہ سے رول ادا کریں جس کیلئے وزیراعظم کے ساتھ پا کستان فوج کے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باوجوہ کا کردار بھی سب سے اہم رہاہے کہ جہاں دو طرفہ تعلقات میں ان کا کردار رہا وہاں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھر پور کامیابی کے بعد اب امریکہ کو بھی اس جنگ سے نکالنے میں رول ادا کریں گا جو کہ امریکہ کیلئے سب سے اہم یا اس دورے کا بنیادی مقصد تھا ۔

25جولائی 2018کو پاکستان میں عام انتخابات ہوئے جس پر اسی دن میں نے سوشل میڈیا میں ٹویٹس کی کہ تین چار انتخابات کو کور کرنے کے بعد یہ سب سے بہتر انتخابات ہورہے ہیں جو کہ شاید پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پر امن ، دھاندلی سے پاک اور ووٹرز کو باعزت طریقے سے ووٹ ڈالنے کا حق ملا جس میں جہاں الیکشن کمیشن ، پولیس کو کر یڈٹ جاتا ہے وہاں پاک فوج کی جوانوں کی پولنگ کے اندر اور باہر سکیورٹی انتظام نے بہترین الیکشن منعقد کرائے لیکن انتخابات کے بعد جب اکثریت پی ٹی آئی کو ملی تو ہارنے والے جماعتوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ الیکشن میں دھاندلی ہو ئی ہے اور عمران خان کو جیتوایا کیا ہے جو کہ زبانی جمع خرچہ سے اسلئے بھی آگے بات نہیں بڑھی کہ اس دفعہ انتخابات ہر جگہ بہت بہتر ین ہوئے کوئی دھاندلی کی شکایت مانٹرنگ کرانے والے اداروں کو بھی نہیں ملی اور نہ ہی ہارنے والوں نے آج تک کو ئی ثبوت الیکشن کمیشن میں جمع کرائیں کہ جس طرح ماضی کے الیکشن میں داخواستیں جمع ہوتی تھی اس طرح درخواستیں بھی جمع نہ ہوئی ۔ بنیادی وجہ یہی ہے کہ خیبر پختونخوا کے علاوہ ہر جگہ ان کے نمائندے انتظامی لحاظ سے موجودہ تھے جو آج تک موجودہ ہے جن کو ان دو بڑی جماعتوں نے بھرتی کیا ہے وہ آج بھی مافیا کا حصہ ہے ۔پاک فوج کی وجہ سے مافیا کو اس دفعہ اس طرح موقع نہیں ملا جس طرح پہلے ہوا کرتا تھا ۔

اب الیکشن کو ایک سال پورا ہونے پر اپوزیشن جماعتوں نے ملک کے بڑے شہر وں میں احتجاج اور جلسے کیے جس میں اب تک مجھے سمجھ نہیں آئی ہے کہ یہ احتجاج کس بات کے خلاف تھا جس طرح پہلے بیان کیا کہ الیکشن کمیشن میں تو یہ لوگ گئے نہیں اور نہ ہی کوئی ثبوت پیش کیے کہ ان حلقوں میں دھاندلی ہوئی ہے جس کے ثبوت پیش کیے ہو دوسرا سچ یہ ہے کہ ففن رپورٹس کے مطابق بلوچستان میں اچکزائی کو ایم ایم اے نے شکست دی ، کے پی میں زیادہ تر نیشنل پارٹی نے مولانا کو اور مولانا نے ان کو شکست دی تو پھر دھاندلی کہاں پر ہوئی ۔ دھاندلی البتہ عمران خان صاحب کے ساتھ کہی نہ کہی پر ضرور ہوئی ہوگی کہ پنجاب میں ان کے اکثریت کو کم کیا گیا ، پچاس ساٹھ سیٹیں پی ٹی آئی پانچ سے لے کر چار ہزار ووٹو ں پر ہاری ہے لیکن اپوزیشن جماعتوں کے جلسوں جو تقریر ہوئی وہ ہر جماعت نے اپنے مفاد میں کی۔ پیپلز پارٹی ایک بات کرتی ہے تو ن لیگ دوسری کہ میاں صاحب کو رہا اور گرفتاریاں ختم کرو ، عوامی نیشنل پارٹی پی ڈی ایم جس کے پہلے مخالف تھے اب ان کی بات کرکے افغانستان میں طالبان مذاکرات اور آنے والے حالات کی تقریریں اسفند یارولی خان کرتے رہیں جبکہ مولانا صاحب کو جہاں اس حکومت کو ختم ہونے کی فکر ہے وہاں معلوم نہیں کہ کہاں سے خواب آیا کہ اپنے مدرسے کہ طلباء کو ناموس رسالت کے نام پر اکٹھا کیا کہ ختم نبوت قانون میں کوئی تبدیلی ہورہی ہے جہاں ان کی شریک اقتدار حکومت ن لیگ قانون میں ترامیم کررہی تھی تو اس وقت مولانا صاحب بالکل خاموش رہے تھے جبکہ اب ایک سوچے سمجھے پلاننگ کے ذریعے ختم نبوت کا مسئلہ پیدا کررہے ہیں جس پر سیاست کرنا مولانافضل الرحمن صاحب کیلئے سب سے آسان کام ہے جس کیلئے سوشل میڈیا کا استعمال آج کل کافی زور و شور سے ہورہا ہے لیکن اﷲ کا لاکھ الاکھ شکر ہے کہ اس ملک کے قانون وآئین میں قادیانی غیر مسلم ہے جس پر سیا ست تو کی جاسکتی ہے لیکن اس قانون میں ترامیم کوئی بھی جماعت نہیں کرسکتا وجہ صاف ظاہر ہے کہ پارلیمنٹ نے قانون پاس کرنا ہے جس میں تمام جماعتوں کے نمائندہ شامل ہے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ سب مسلمان ہے جو ن لیگ ارکان ترامیم کررہے تھے ان کا آج آتا پتہ بھی نہیں ۔مولانا صاحب سیاست ضرور کریں کرسی کی کریں ، اسلام آباد کی یا عمران خان کی حکومت کے خلاف لیکن سیاست اسلام پر نہ کریں جس میں آج کل ان کے فالورز ہر ایک کو قادیانی قرار دے رہے ہیں سچ تو یہ ہے کہ امریکہ میں پاکستانی مسلمانوں کی بڑے جلسے کو قادیانیوں کا جلسہ قرار دیا جو کہ قادیانیوں کے سازش کو آگے بڑھنے کا سلسلہ ہے جس کو ہمارے یہ ناسمجھ مولانا صاحب کے پیروکار بغض عمران خان میں آگے بڑھ رہے ہیں ۔ عمران خان انسان ہے ہزاروں حکومتی غلطیاں کی ہے اور آئندہ بھی کرے گا اس پر تنقید ہر جماعت کا حق ہے جبکہ عوامی فلاح وبہود کا مسئلہ ہو تو عام آدمی بھی ان کے احتجاج میں شریک ہوگا ۔ اب تو معلوم نہیں 25جولائی والا احتجاج کس بات کے خلاف تھا کسی کو نہیں معلوم وجہ صاف ظاہر ہے کہ مولا نا صاحب تو خود پارلیمنٹ سے باہر ہے لیکن باقی اندر ہے جو صرف مال بچاؤ ، آل بچاؤ اور با پوں کو بچاؤ پر لگے ہیں جن کا پارلیمنٹ میں تقریر یں موجود ہے کہ ہم حکومت کے خلاف نہیں اگر ہمارے ساتھ بات کی جائے، باقی عوام سمجھدار ہے کہ ان کے جلسوں میں عوامی ایشوز کتنے ڈسکس ہوئے ،عوام کو کتنا راغب کیا اور کیا فائدہ حاصل ہوا ۔اب عوام کو معلوم ہے کہ جب یہ سب ایک دوسرے کو چور اور ڈاکو کہتے تھے ، الیکشن میں ایک دوسرے کے خلاف تھے وہاں آج جب ان کے خلاف احتساب ہورہا ہے تو یہ لوگ سڑکوں پر آئے جو کہ صرف سیاسی طور پر رہنے کا جواز ہے ۔ سیاسی جماعتیں سیاست کرتی ہے جلسے جلوس کرنا ان کا حق ہے حکومت کو حق نہیں کہ کسی بھی احتجاج کو روکیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Haq Nawaz Jillani

Read More Articles by Haq Nawaz Jillani: 268 Articles with 129331 views »
I am a Journalist, writer, broadcaster,alsoWrite a book.
Kia Pakistan dot Jia ka . Great game k pase parda haqeaq. Available all major book shop.
.. View More
30 Jul, 2019 Views: 409

Comments

آپ کی رائے