دوستی اور دشمنی کا معیار

(Tariq Hussain Butt, UAE)

ُٓپاکستان کا کونسا حکمران ہے جس کا امریکی دورہ کامیاب قرار نہیں پایا تھا؟ہر حکمران امریکہ جانے کے بعد کامیاب دورے کے نعروں سے زمین و آسمان کے قلابے ملا دیتا ہے ۔ امریکہ بہادر ایسے ہی دنیا کا حکمران نہیں بنا ہوا ہے۔اسے دوسروں کو شیشے میں اتارنے کا فن خوب آتا ہے ۔ کس سے کیا بات کرنی ہے، کونسی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھنا ہے اور کس موضوع کو میڈیا پر اچھالنا ہے اس سے بہتر کوئی نہیں جانتا؟اسے نفسیات پر بھی مکمل عبور حاصل ہے۔اسے اقوامِ عالم کی ذہنی افتادگی اور میلانِ طبع کا بھی کماحقہ ادراک ہے۔اسے علم ہوتاہے کہ ہر قائد کا ذہنی لیول کیا ہے لہذا وہ اسی کوپیشِ نظر رکھ کر مذاکرات کی سمت طے کرتا ہے۔جنرل محمد ایوب خان اس وقت امریکہ سدھارے جب سوشلزم اپنے پورے شباب پر تھا اور سویت یونین اپنے وقت کی سپر پاور تھا ۔ بھارت جیسا بڑا ملک اس کی دوستی کا دم بھرتا تھا جس سے امریکہ کو جنوبی ایشیا میں نئے اتحا دیوں کی ضرورت تھی جو سویت یونین کی بڑھتی ہوئی طاقت کی راہ میں روک بن کر کھڑا ہو سکے ۔بہر حال سویت یونین کی سپر میسی کا علاج یہی تھا کہ پاکستان کی قیادت کو شیشے میں اتارا جائے اور اسے سویت یونین کے مدِ مقابل کھڑا کیا جائے تا کہ جنوبی ایشیا میں امریکہ اپنے قدم جما سکے۔ پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان نے روسی دورے کی دعوت مسترد کر کے امریکی دورے کی قبولیت سے امریکہ کی جانب پاکستان کے جھکاؤ کو واضح کر دیا تھا۔بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح ذاتی طور پر امریکی دوستی کے قائل تھے اور اس کیلئے انھوں نے بڑی کاوشیں بھی کی تھیں ۔ جنرل محمد ایوب خان کا امریکہ میں جس طرح استقبال ہوا وہ امریکی نفسیات کا شاہکار تھا۔پاکستان کو رام کرنے کیلئے امریکی امداد کے منہ کھولے گے اور پاکستان کو معاشی اور دفاعی لحاظ سے مضبوط کیا گیا۔۱۹۶۵؁ میں امریکی امداد کا کمال تھا کہ پاکستان نے بھارت جیسے دشمن کے دانت کھٹے کئے وگرنہ وہ ملک جس کے پاس آزادی کے وقت باقاعدہ فوج اور فوجی سازو سامان نہیں تھا اس نے اپنے سے چھ گنا بڑے دشمن کوشکست سے ہمکنار کر کے دنیا سے اپنی شجاعتوں کی داد سمیٹی ۔ جنرل ضیاالحق اس وقت امریکی یاترہ پر نکلے جب ۱۹۷۹؁ میں سویت یونین نے افغانستان پر چڑھائی کر دی تھی ۔ پورا مشرقِ وسطی سویت یونین کی گرفت میں چلے جانے کا خدشہ تھا لہذا ضرورت تھی کہ پاکستان کو ایک دفعہ پھر استعمال کیاجائے ۔جنرل ضیاالحق کو بھی امریکہ میں خوب پذیرائی ملی اور ان کیلئے بھی دولت کے منہ کھول دئے گے ۔ڈالروں کی بارش میں جنرل ضیا الحق وطن لوٹے تو افغانی سویت یونین کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوچکے تھے۔سویت یونین کے خلاف تاریخی جنگ پاکستان امریکہ اور افغانیوں کی باہمی شراکت سے فتح میں تبدیل ہوئی حالانکہ سویت یونین طاقت کے نشے میں کسی کو خاطر میں لانے کیلئے تیار نہیں تھا۔یہ وہی دور ہے جس میں ایٹمی توانائی کے حصول کا کام اپنی پوری رفتار سے جاری رہا اور امریکہ نے اس پر کوئی باز پرس نہ کی لیکن جیسے ہی ۱۹۸۹؁ میں روسی فوجوں کا انخلاء شروع ہوا ایٹمی توانائی کا ہوا ایک دفعہ پھر کھڑاکیا گیا اور پاکستان کو نیو کلیر انرجی کے نام پر بلیک میل کیا گیا ۔ پاکستان پر نئی پابندیاں عائد کی گئیں ۔ ۱۷ اگست ۱۹۸۸؁ میں جنرل ضیا الحق ایک ہوا ئی حادثہ میں اس دنیا سے رخصت ہوئے تو امریکی دوستی بھی ان کے کفن کے ساتھ ہی دفن ہو گئی ۔ جنرل پرویز مشرف کی امریکی دوستی ایک مثال کی حیثیت رکھتی تھی۔انھوں نے چھ بار امریکہ کا دورہ کیا جبکہ جارج ڈبلیو بش بھی ایک دفعہ پاکستان تشریف لائے ۔جنرل پرویز مشرف اورجارج ڈبلیو بش کے درمیان دوستی اور بے تکلفی دیدنی تھی۔جنرل پرویز مشرف امریکی حمائت کی وجہ سے کسی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے ۔وہ بڑے فخرو اور غرور کا پیکر بنے ہو ئے تھے ۔جس کے ساتھ امریکی صدر اتنا بے تکلف ہو اس کے ناز نخروں کی سمجھ آتی ہے۔اسی زمانے میں جنرل پرویز مشرف کی یادداشتوں پر مشتمل کتاب( ان دی لائن آف فائر) کو مارکیٹ کیا گیا اور اس کتاب کی اشاعت سے جنرل پرویز مشرف کو کروڑوں روپوں کی آمدنی بہم پہنچائی گئی جبکہ عالمی اداروں میں ان کے لیکچرز کا اہتمام ایک علیحدہ کہانی ہے۔ جارج ڈبلیو بش آخری امریکی صدر تھے جو پاکستان تشریف لائے اس کے بعد کوئی امریکی صدر پاکستان نہیں آیا کیونکہ اس کے بعد جنوبی ایشیا میں انھیں پاکستان کی ضرورت نہیں رہی تھی۔ نائن الیون کے بعد افغانستان پر لشکر کشی کیلئے پاکستان کی حمائت درکار تھی لہذا جنرل پرویز مشرف کے خوب نخرے اٹھائے گے ۔انھیں پہلے تو دھمکی دی گئی کہ اگر امریکی حمائت کا فیصلہ نہ ہوا تو پتھر کے دور میں پہنچا دیا جائے گا ۔اس دھمکی کے بعد جنرل پرویز مشرف نے پاکستانی حمائت امریکہ کو پلیٹ میں رکھ کر پیش کر دی تو امریکہ نے پاکستان پر نوازشوں کی بارش کر دی جس ے جنرل پرویز مشرف کا اقتدار مستحکم ہوا۔،۔
 
عمران خان کا حالیہ دورہ امریکہ بھی افغانستان کے پسِ منظر سے ہی سمجھا جا سکتا ہے جس سے افغانستان کی اہمیت اجاگر ہو جاتی ہے۔ اس وقت امریکہ افغانستان میں سترہ سالوں کی فوجی مہم جوئی کے بعد تھک چکا ہے۔اسے افغانستان سے با عزت واپسی کا راستہ چائیے اور اس کو یہ راستہ پاکستانی حمائت کے بغیر ملنا ممکن نہیں ہے ۔امریکی صدر ڈولنڈ ٹرمپ جو پاکستا ن کے خلاف زہر افشانی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے اچانک شہد سے میٹھی زبان استعمال کرنے لگ جائیں تو اسے لمحہِ قیامت سے ہی تعبیر کیا جائے گا ۔ہمارے حکمرانوں کی کمزوری ہمیشہ سے ہی امریکی اشیرواد رہی ہے اور امریکی صدر کے چند توصیفی کلمات ان کی ساری جمع پونجی قرار پاتے ہیں۔آج کل پی ٹی آئی صبح شام امریکی صدر کے توصیفی کلمات سے عمران خان کی عظمت کا بت تراشنے میں لگی ہوئی ہے۔وہ اس شخص کی ہر بات کو مقدس بنانے پر تلی ہوئی ہے جو چند ماہ قبل پاکستان کو دھوکہ باز کہنے میں عار محسوس نہیں کر رہا تھا۔زمینی حقائق تبدیل ہوجائیں تو نقطہ نظر بھی تبدیل ہوجاتا ہے اور کل کا حریف سچا دوست بن کر سامنے آ جاتا ہے ۔پاکستان کو جوٹا سک دیا گیا ہے وہ سر بستہ راز نہیں ۔ٹاسک یہ ہے کہ طالبان کو مذاکرات کے لئے آمادہ کرناہے تا کہ افغا نستان سے امریکی فوجوں کا پر امن انخلاء ممکن ہو سکے۔کشمیر پر ثالثی کی خواہش بھی امریکی ایجنڈے میں جذباتیت کا تڑکا لگانے کے لئے ہے۔ ثالثی ہو گی؟ کب ہو گی؟ کس نوعیت کی ہو گی؟کیا بھارت اسے قبول کرے گا؟ کیا امریکہ اس میں سنجیدہ ہے؟ کیاستر سالوں سے برف خانے میں پڑے ہوئے مقدمہ میں جان ڈالی جا سکتی ہے؟ ڈولنڈ ٹرمپ سیاسی بیانات دیتے ہیں اور پھرخو د ہی ان سے مکر جاتے ہیں ۔ عمران خان کے بقول یو ٹرن لینے والا عظیم لیڈر ہو تا ہے لہذا ڈونلڈ ٹرمپ اس معیار سے واقعی عظیم ہے کیونکہ اس کے لئے اپنی بات سے مکر جاناکوئی اہمیت نہیں رکھتا ۔کل کو ڈولنڈ ٹرمپ نے یو ٹرن لے لینا ہے کیونکہ اس کا مقصد امریکی فوجوں کا انخلاء ہے اور انخلاء کے بعد ان کا رویہ پھر بدلناطے ہے ۔امریکہ بھارتی دوستی کو کسی بھی قیمت پر داؤ پر نہیں لگا سکتا کیونکہ اس نے بھارت کو چین کے خلاف استعمال کرنا ہے۔بھارت نے امریکی صدر کی ثالثی کی تجویز کے بعد بھارتی آئین کے آرٹیکل ۳۷۰کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔اس نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو تبدیل کر کے اسے بھارت میں ضم کرنے کا بل ایوان میں پیش کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی صدر کی ثالثی اپنی جگہ لیکن نریندر مودی کی آئین میں تبدیلی کی ضد اپنی جگہ۔اگر ڈولنڈ ٹرمپ اپنی ثالثی کی تجویز میں سنجیدہ ہیں تو انھیں اپنے دوست نریندر مودی کو کشمیر کی دیرینہ حیثیت کو تبدیل کرنے سے روکنا چائیے لیکن وہ ایسا ہر گز نہیں کریں گے کیونکہ مقصد ثالثی نہیں بلکہ دوسروں کو استعمال کرنا ہے۔ہم ڈولنڈ ٹرمپ کے الفاظ پر خوابوں کے محل تعمیر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ ان کے الفاظ بالکل کھوکھلے اور عارضی ہیں۔ہمیں اس بات کوپیشِ نظر رکھنا چائیے کہ امریکہ نے ماضی میں اپنے دوستوں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا ۔امریکہ کے لئے اس کا مفاد سب سے مقدم ہوتاہے۔لہذا کسی کو امریکی حمائت پربغلیں بجانے کی بجائے اپنے سابقیں کا انجام نظرمیں رکھنا چائیے ۔،۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tariq Hussain Butt

Read More Articles by Tariq Hussain Butt: 531 Articles with 227377 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Aug, 2019 Views: 277

Comments

آپ کی رائے