جوہر یونیورسٹی: پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

(Dr. Salim Khan, India)

اعظم خان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ مسلمان ہونے کے باوجود بی جے پی کے لب و لہجے میں بات کرتے ہیں اس لیے پھنس جاتے ہیں ۔ سنگھ پریوار کے لوگوں کی خراب زبان پر کسی کو تعجب نہیں ہوتا اس لیے کہ ان سنسکار ہی ایسے ہیں ۔ ایک ببول کے پیڑ سے گلاب کے پھول کی توقع کوئی احمق ہی کرسکتا ہے۔ بی جے پی کا حال یہ ہے کہ ان کا ایک رکن اسمبلی ببانگ دہل اعلان کردیتا ہے خود شری رام بھی آجائیں تو عصمت دری نہیں روک سکتے ، دوسرا رام رحیم جیسے پاکھنڈی بابا کی حمایت کردیتا ہے۔ آسا رام باپو کے بھکتوں میں نہ صرف وزیراعظم بلکہ سابق وزیر اعظم بھی شامل ہیں ۔ ان پر کوئی توجہ نہیں دیتا اس لیے جو لوگ خود آبروریزی کے مقدمات میں پھنسے ہوئے ہیں اور اپنے ظلم کا شکار ہونے والوں کا کانٹا نکالنے کی خاطران کی کار پر ٹرک چڑھوا سکتے ہیں ان سے کیا توقع کی جائے؟ اعظم خان کے تن پر چونکہ بھگوا وستر نہیں ہے اور اس لیے ان سے بجا طور پر اعلیٰ تہذیب و تمدن کی توقع کی جاتی ہے اور ان کے ہر جملے کو خوردبین لگا کر دیکھا جاتا ہے۔

ایسی صورتحال میں اعظم خان کو عام جلسوں اور ایوان پارلیمان میں فرق ملحوظ رکھنا چاہیے نیز ہردو مقام پر اپنی زبان کو قابو میں رکھنا چاہیےورنہ وہ شاطر دشمنوں کے ذریعہ بات کابتنگڑ بنانے کے حربہ کا شکار ہوتے رہیں گے اور رکن پارلیمان کی حیثیت سے اپنی گوں ناگوں ذمہ داری نہیں ادا کرپائیں گے ۔ ان کا سارا وقت اور توانائی اپنی صفائی پیش کرنے میں صرف ہوجایا کرے گا نیز پارٹی بھی غیر ضروری مسائل میں الجھتی رہے گی ۔ اعظم خان کے بیان پر برپا ہونے والاہنگامہ پانی کے بلبلہ کی مانند ایک ہفتہ کے اندر غیر مشروط معافی سے ٹھنڈا پڑ گیا ہے۔ ان سے ایک بھونڈے شعر بجائے طلاق ثلاثہ پر مثبت بحث کی توقع تھی جس کو انہوں نے گنوادیا ۔وہ تو یوں ہوا کہ کھایا پیا کچھ نہیں گلاس پھوڑا بارہ آنہ۔

لوک سبھا کی قائم مقام اسپیکررما دیوی کو اگر خواتین کی عزت و آبرو کا اتنا ہی خیال ہے تو اپنی ہی پارٹی کے رکن پارلیمان ساکشی مہاراج سے بھی پوچھیں کہ انہوں نے جیل میں جاکر بی جے پی رکن اسمبلی کلدیپ سینگر سے ملاقات کیوں کی؟ اور جو متاثرہ خاتون کی کار سے ٹرک کو ٹکرا نے کا مشورہ کس نے دیا ؟ یہاں معاملہ شعر مارنے کا نہیں بلکہ جان سے مارنے کا ہے ۔ اس حملے میں متاثرہ لڑکی نازک حالت میں موت سے لڑ رہی ہے اس کی خالہ اور چچی ہلاک ہوچکی ہیں۔ متاثرہ کے والد کو جیل میں قتل کردیا گیا اور چچا کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ٹھونس دیا گیا ۔ اعظم خان کے خلاف احتجاج کرنے والی خواتین ارکان پارلیمان اس ظلم عظیم کے خلاف پارٹی لائن سے اوپر اٹھ کر متحد ہ صدائے احتجاج بلند کرنے سے کیوں گریز کرتی ہیں؟

ملک کی فسطائی طاقتوں کی نظر میں اعظم خان کا دوسرا قصور یہ ہے کہ انہوں نے آزادی کے بعد پہلی بار کسی بڑی یونیورسٹی کا خاکہ اسمبلی میں پیش کرکے رامپور شہر میں مولانا محمدعلی جوہر یونیورسی قائم کردی ۔ ۲۰۱۶؁ میں یوگی ادیتیہ ناتھ کی سرکار نے اس کو بدنام کرنے کا سلسلہ شروع کیا مگر ۲۰۱۹؁ میں اعظم خان کے ہاتھوں پارلیمانی انتخاب میں کراری شکست کے بعد انتقام کے شعلے آسمان کو چھونے لگے ۔ 12 جولائی ان کے خلاف زمین پر ناجائز قبضے کا پہلا مقدمہ درج ہوا لیکن کیایہ محض اتفاق ہے کہ جس دن سون بھدر میں زمین پر قبضہ کرنے کی خاطر ۱۰ لوگوں کا گولیوں سے بھون دیا گیا اسی دن اعظم خان کے خلاف آٹھ مقدمے درج ہوگئے ۔کیا وہ قتل عام کی طرف سے توجہ ہٹانے کی سازش نہیں تھی؟ یوگی انتظامیہ کو سون بھدر میں کانگریسی اور رامپور میں سماجوادی دکھائی دیتے ہیں بی جے پی والے نظر نہیں آتے۔ ایک ہفتے میں مقدمات کی تعداد بڑھ کر 26 ہوگئی تو ضلع انتظامیہ اور میڈیا کو اعظم خان کو "زمین مافیا" کے خطاب سے نوازدیا گیا اب تک جملہ 62 مقدمات میں انہیں ملوث کیا جاچکا ہے ۔ سوال یہ ہے یوگی کو اقتدار سنبھالےدو سال سے زیادہ ہوگیا ہے اس عرصے میں وہ کسان کیوں خاموش تھے جنہوں برضا و رغبت اپنی زمین اچھی قیمتوں پر فروخت کی تھی ؟

یہ معاملہ صرف مقدمہ بازی تک محدود نہیں ہے بلکہ 25 جولائی کو رامپور ایس ڈی ایم کورٹ نے یونیورسٹی گیٹ توڑنے کا حکم دے کر اوپر سے 3 کروڑ 60 لاکھ کا جرمانہ بھی عائد کردیا ۔ اس سے پہلے اردو گیٹ کو بھی ضلع انتظامیہ نے ڈھا چکا ہے اور اب یونیورسٹی کی ممتاز لائبریری پر کتابوں کی چوری کا الزام لگا کر چھاپہ ماردیا گیا۔ بی جے پی حکومت اگر اس خوش فہمی کا شکار ہے کہ اس طرح کی کارروائی سے اعظم خان ڈر جائیں گے تو ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ وہ اگر سوچتی ہے کہ اس سے ان کی مقبولیت میں کمی آئے گی تو وہ بھی نہیں ہوگا بلکہ ان کے حق میں ہمدردی کی لہر سے پہلے سے زیادہ ووٹ سے کامیابی ملے گی ۔ اس سے قبل مولانا محمد علی جوہریونیورسٹی رامپور کا ایک مقامی پروجیکٹ تھا لیکن اب سرکار نے اپنی مخالفت سے اسے پورے ہندوستان میں مشہور کردیا ہے۔ ملت اپنے اداروں کا تحفظ و ترقی جانتی ہے۔ اس لیے اب ملک بھر کے مسلمانوں کا تعاون اعظم خان کو حاصل ہوجائے گا اور یہ ادارہ پہلے سے زیادہ تیزی سے ترقی کی منازل طے کرے گا ۔ مودی اور یوگی مولانا محمد علی جوہر کا یہ شعر دیکھ لینا چاہیے؎
نورِ خدا کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1267 Articles with 471829 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Aug, 2019 Views: 258

Comments

آپ کی رائے