مانگ رہے ہیں آزادی سنگ باز

(Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi)

 قدرت کا کرشمہ ہے یہ میرا کشمیر
آہ دوذخ میں ڈوبی ہوئی جنت دیکھو
قارئین!کشمیر کے علاقے سری نگر میں صورہ کے مقام میں نماز جمعہ کے اجتماع کے بعد مظاہرے میں مقامی مظاہرین اور بھارتی افواج کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئی ہیں۔ اس میں بھارتی افواج کی جانب سے آنسو گیس اور پیلٹ گن کا بھی بھرپور استعمال کیا گیا ہے، جبکہ درگارہ حضرت بل کے علاقے میں محض مقامی افراد کو نماز کی ادائیگی کی اجازت دی گئی تھی۔یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ مسلسل تیسرے جمعہ کو بھی دیگر علاقوں میں بھی بڑے جمعے کے اجتماع کی اجازت نہیں دی گئی ہے جو کہ یہ ظاہر کر رہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات مخدوش ہیں یہ وہ اطلاعات ہیں جو کہ بی بی سی کی جانب سے سامنے آرہی ہیں۔دوسری طرف سترہ دنوں سے کشمیریوں کے پاس نہ تو انٹرنیٹ ہے اور نہ ہی باہر نکلنے کی آزادی ہے ، کرفیو کا سماں پورے کشمیر میں ہے اور یہاں دنیا کو ابھی تک کشمیر کا مسئلہ مذاکرات سے حل کرنے کی خواہش ہے تاکہ عالمی سازش کی تکمیل ممکن ہو سکے کہ سوشل میڈیا تو انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ سے کشمیری استعمال تو کر نہیں سکتے ہیں جس سے دنیا کو معلوم ہو کہ وہاں کیا کچھ برپا ہو رہا ہے ، جہاں اُن کی ماؤں ،بہنوں کی عزت داؤ پر لگی ہو ،وہاں وہ بھارتی افواج کا سنگ ہاتھوں میں لے کر بھر پور مقابلہ کر رہے ہیں اور بہتر سالوں میں پہلی بار اُنہوں نے اس قدر مزاحمت کا مظاہرہ کر دیا ہے کہ اب حالات بھارت کے ہاتھوں سے نکلنے کی پوری اُمید ہو چکی ہے کہ جب عوام بپھری ہوئی ہوئی ہو تو پھر انقلاب آتا ہے ،اور یہاں آزادی کی تحریک کی خون سے آبیاری کے بعد اپنے آخری مراحلے میں داخل ہو چلی ہے۔
کشمیر پر قبضے کیلئے بھارت نے تمام تر حقوق جو کشمیریوں کو کچھ عرصہ قبل تک حاصل تھے وہ سب سلب کرلئے ہیں اور مزید افواج بھیج کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ بھارت ابھی دنیا کا بڑا دہشت گرد ہے مگر عالمی طاقتیں فی الحال اُسے سہولیات دے کر مزید خرابی کشمیر میں پیدا کرنے کے مواقع فراہم کر رہی ہیں ۔
اے دنیا کے منصفو !سلامتی کے ضامنو
کشمیر کی جلتی وادی میں بہتے ہوئے لہو کا شور سنو

کشمیر کی آزادی کے لئے لڑنے والے نوجوانوں کیلئے اب جہدوجہد کو مزید تیز اور حتمی فیصلے کے لئے اُکسادیا گیاہے ۔ اس وجہ سے اُنہوں نے ہاتھوں میں سنگ اٹھا لیے ہیں تاکہ وہ بھارتی افواج کے ظلم وستم کے جواب میں اس سے اپنی لڑائی کسی حد تک لڑ سکیں اور یہ بھی اطلاعات سننے میں آئی ہیں کہ خاردارتاروں، خندقوں اور سنگ باری سے وہ کچھ علاقو ں میں ابھی تک بھارتی افواج کو داخل نہیں ہونے دے رہے ہیں جو کہ یہ ثابت کر رہا ہے کہ اب پورا کشمیر الاؤ میں جل رہا ہے اور کہیں یہ بھار ت کو راکھ نہ بنا ڈالے ۔بھارت نے مزید نوجوانوں کو شہید کر کے اور کرفیو میں نا قابل تحریر کارنامے سرانجام دے کر اپنے اقدام سے جلتی پر مزید تیل ڈال دیا ہے کیونکہ اب دنیا بھر کے مسلمانوں کو کشمیر کے مظالم پر وہاں کے جہاد میں شمولیت کا موقع فراہم کر دے گا اور اگر ایسا ہو جاتا ہے تو پھر مٹھی بھر مجاہدین جو پہلے ہی بھارتی افواج کے ناک میں دم کر رہے ہیں وہ اُن کا جینا حرام کر دیں گے، کہ جب بڑے پیمانے پر یہ مجاہدین اپنی کاروائیاں کریں گے تو پھر پورے بھارت میں شور شرابا بھی ہوگا اور پاکستان بھارت کے تعلقات بھی مزید کشیدہ ہو جائیں گے۔

بھارت نے پہلے ہی کشمیریوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے ہوئے ہیں ،کون سا ایسا عمل ہے جو وہاں نہیں کیا جا رہا ہے ۔بڑی جمہوریت کے دعویٰ دار ملک نے وہاں بنیادی ضروری سہولیات کی فراہمی تک کو بند کر کے یہ ثابت کر دیاہے کہ وہ اس خطے میں سب سے زیادہ شرپسندی کر رہا ہے۔پاکستان نے شروع سے ہی مسئلہ کشمیر کا پرُامن حل چاہا ہے مگر بھارت نے کبھی اس حوالے سے مثبت مذاکرات کا عمل شروع نہیں کیا ہے اور اگر کیا بھی ہے ماضی میں تو اس کی سفارشات پر عمل درآمد کروانے سے دور ہی رہا ہے۔اقوام متحدہ کی قرار داد پر عمل نہ کروانا بھی اس کی ایک بڑی مثال ہے۔

قارئین!بھارت اور پاکستان دونوں ہی اٹیمی ہتھیاروں کے مالک ہیں اگر یہ مسئلہ زیادہ سنگین صورت حال کی طرف گیا تو اس خطے کے امن کے لئے نقصان دہ ہوگا۔کیونکہ یہ جنگ بڑی تعدا د میں نہ صرف جانوں کا نقصان کرے گی بلکہ دیگر معاشی بدحالی الگ ہوگی۔اس لئے ضروری ہے کہ بھارت کشمیر کی عوام کو اب اپنی غلامی میں رکھنے سے باز رہے اور اُن کو اُن کی مرضی کے مطابق پاکستان سے الحاق کا موقع دے کیونکہ یہ سب کشمیری جانتے ہیں کہ اُن کی بقا اور سلامتی پاکستان کے ساتھ ہی منسلک ہے ۔کسی بھی دیگر مسئلے کے حل سے فوائد نہیں ملنے ہیں ۔اس لئے ضروری ہوگیا ہے کہ اب بھارت بے گناہ اور معصوم کشمیریوں پر ظلم کرنے سے باز رہے اور اپنی افواج کو کشمیر سے باہر نکال کر کشمیر کو کشمیریوں کے حوالے کر دے اور اُن کو پرامن اور خوشحالی کی زندگی گذارنے دے۔سترسالوں سے زائد عرصہ سے کشمیریوں نے بہت کچھ سہہ لیا ہے ۔

اب یہ جو بھی مظالم ابھی کچھ دنوں سے ہو رہے ہیں وہ سب مسلمانوں کے تکلیف دہ ہیں اور خاص طور پر پاکستان کے لئے یہ بہت مشکل وقت آن پڑا ہے کہ پاکستان کشمیر کے خطے کو اپنی شہ رگ سمجھتا ہے اور اس کے بنا اُدھورا ہے اور اس بات کا احساس افواج پاکستان کو بھی بخوبی ہے اور اسی وجہ سے سپہ سالار نے کشمیر کیلئے ہر حد تک جا کر کشمیریوں کے لئے ساتھ دینے کا فیصلہ سوچ لیا ہے جوکہ ایک بہترین سوچ قرار دی جا سکتی ہے۔اس حوالے سے اب بھارت کے حکام بالا کو سوچ سمجھ لینا چاہیے کہ اگر وہ اس بار کشمیر کے مسئلے کے حل میں غفلت کریں گے تو پھر وہ اس کے بدترین نتائج بھگت سکتے ہیں۔کشمیریوں کے حالات کو پوری دنیا میں دکھانے سے روکنے کیلئے ہر حربہ استعمال کیا جا چکا ہے جو کہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت اپنے منطقی انجام تک جانے کے لئے خود ہی راہیں ہموار کر رہا ہے۔ پاکستان کے سرحدی علاقوں پر بھی بمباری اور فائرنگ سے ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔دوسری طرف کشمیریوں کے ساتھ بھی زیادتیاں ہو رہی ہیں جو کہ ایک بدترین عمل کہا جا سکتا ہے کہ بھارتی فوج اخلاقیات سے گری حرکتوں سے بھی باز نہیں آتی ہے اور یہ سب افواج پاکستان کے علم میں ہے اس لئے بھارت کو سوچنا چاہیے کہ کہیں سرحدی خلاف ورزی بھارت کے لئے مزید دشواری نہ لے آئے کہ اگر کشمیر کی آزادی کا علم کشمیریوں کی جہدوجہد سے اگر پاکستانی افواج نے تھام لیا تو پھر یہ آزادی کی تحریک جلد کامیاب ہو جائے گی۔مگر جانوں کے ضیاع سے بہتر ہوگا کہ بھارت پر امن طریقے سے کشمیریوں کو ان کا حق دے دے ۔ اس حوالے سے اقوام عالم کو بھی اپنا کردار سرانجام دینا چاہیے اور بھار ت کو غیر اخلاقی ہتھکنڈوں سے باز رہنے کی تلقین کی جائے۔
ان جنگ پرستوں سے ہے سارا جہان برہم
کشمیر کی وادی میں لہرا کے رہو پرچم
لگاؤ سب مل کر ایک ہی نعرہ اب
لے کر رہیں گے آزادی
بن کے رہے گا کشمیر ،پاکستان

خوش آئند یہ ہے کہ آزادکشمیر کے صدر سردار مسعود خان کشمیریوں کے حقیقی ترجمان کے روپ میں سامنے آئے ہیں انکا ساتھ آرمی چیف اور وزیر اعظم کو دینا چاہیے تاکہ مسئلہ کشمیر حل ہو سکے اور کشمیر پاکستان کا حصہ بنے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zulfiqar Ali Bukhari

Read More Articles by Zulfiqar Ali Bukhari: 328 Articles with 274939 views »
I'm an original, creative Thinker, Teacher, Writer, Motivator and Human Rights Activist.

I’m only a student of knowledge, NOT a scholar. And I do N
.. View More
25 Aug, 2019 Views: 405

Comments

آپ کی رائے