ورنہ مٹ جائے گا نام و نشان ہمارا!

(Inayat Kabalgrami, )

 ولڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بعد امریکا نے جارحانہ پالیسی اختیار کر کے افغانستان پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا اور پاکستان پر واضح کیا کہ یا تو افغان طالبان اور القاعدہ کے ساتھ کھڑے ہوجاؤ یا ہمارے ساتھ ، پاکستان نے اس وقت حالات کو دیکھتے ہوئے امریکا کے ہاتھ پر بیعت کرکے افغانستان پر حملے میں امریکا کا اہم اتحادی بن گیا ۔ افغان وار نائن الیوان کے دو ماہ کے اندر اندر شروع کیا گیا ، جس کے بعد امریکا اور اس کے اتحادی ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگئے مگر مسلمان تاحال دہشت گردی کا شکار ہیں، چاہیئے وہ دہشت گردی انفرادی ہو یا تنظیمی یا پھر ریاستی ہو، ہر جگہ مسلمان ہی نشانے پر ہیں۔

نائن الیوان کے بعد مسلمانوں کے خلاف شروع ہونے والے عالمی دہشت گردی سے گزشتہ اٹھارہ سالوں میں دس ا لاکھ سے زائد مسلمان مرد وخواتین اور بچے شہید ہوئیں اور بیس لاکھ کے قریب زخمی جبکہ کروڑوں مسلمان مرد وخواتین بشمول بچوں کے بے گھر ہوئے ہیں۔ عالمی سازش کے تحت مغربی طاقتوں نے نائن الیوان کہ بعد القاعدہ کے نام پر پہلے افغانستان کو نشانہ بنایا، اس کہ کچھ وقت کے بعد نیوکلیئر مزائلوں کا بہانا بناکر عراق پر حملہ زن ہوئے ، دونوں ممالک میں مسلمانوں کا خون بہانے کے بعد خطے میں دہشت گردی کو بڑاوا دیا ، عراق سے نکلنے کہ بعد مختلف عسکری تنظیمیں بنا کر پہلے عراقیوں کو آپس میں لڑایا گیا ، اس کے بعد وہی آگ پڑوسی ممالک میں پھیلنے لگی تو اس کو خوب اندھن فراہم کیا گیا ۔ عراق کے بعد شام میں ایک نہ رکنے والی خونریزی جو تاحال جاری ہے، وہ ان ہی مغربی طاقتوں کا تحفہ ہے ۔

افغانستان اور عراق پر امریکا اور دیگر مغربی طاقتوں نے چند مسلمان ممالک کی مدد سے حملے کئے اور ان ملکوں میں مسلمانوں کا زبردست قتل عام کیا ۔جن اسلامی ممالک پریہ مغربی طاقتیں حملہ نہیں کرسکتی تھی وہاں انہوں نے مختلف اقسام کے تحریکوں کو پروان چھڑایا ، کہیں پران تحریکوں نے عسکری روپ اختیار کیا تو کہیں پر امن ہونے کے نام احتجاج کرکے کئی سالوں سے قابض اپنے حکمرانوں کو گھر یا جیل بھیجوا دیا ۔ عرب بہار کے نام پر عرب دنیا میں شروع ہونے والی ایک انقلابی لہر جو تونس میں 18 دسمبر 2010ء کو شروع ہوئی، جس نے کئی عرب ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ کئی بادشاہتوں کا تختے الٹ گیے۔ چھوٹے اور بڑے (پر امن اور کچھ پر تشدد) کئی احتجاجی مظاہر ہوئے۔ یمن، لیبیا، عراق اور شام زبردست قسم کی خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ لیبیا کے حکمران معمر القذافی کو عوام نے مار ڈالا۔ 2010ء کے آخر میں جب مشرق وسطیٰ کے ملکوں (تیونس، مصر، یمن، لیبیا) میں حکمرانوں کے خلاف احتجاجی تحریکیں شروع ہوئیں اور یکے بعد دیگرے کامیاب بھی ہو گئیں، تو اسے عرب بہار قرار دیا گیا،جو کہ عالمی سازش کا ہی ایک حصہ تھا۔

عرب بہار کے نام پر بھی خوب ہولی کھیلی گئی مسلمانوں کے خون سے، مغربی طاقتوں نے وہ مکاری کی جھال بیچائی کہ مسلمان ہی مسلمان کا قاتل بن گیا ، اسی جھال کو ایک مرتبہ پھر سے بھون کرعرب و عجم کے مسلمانوں کہ خلاف استعمال شروع کردیا گیا ہے ۔ حال میں ہی کچھ اسلامی ممالک (متحدہ عرب عمارات اور بحرین) نے ہندستان میں مسلمانوں کے قتل عام کے سب سے بڑے زمہ دار اور کشمیری مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھانے والے ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کو’’ امن‘‘ کا ایوارڈ دینا اسی سلسلے کی کھڑی جو گزشتہ اٹھارہ سالوں سے مسلسل چلی آرہی ہیں، جس میں نہ چاہتے ہوئے بھی مسلمانوں کا ہی کندھا استعمال ہوا ہے اور ہورہا ہے ۔

ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کو یہ ’’ امن ‘‘ایوارڈ اس وقت دینا جب ہندستان نے کشمیر کی الگ حیثیت کو ختم کیا اور کشمیر میں وہ مظالم شروع کردئے جو اس سے قبل کسی بھی ہندوستانی وزیراعظم کے کہنے پر نہیں ہوئے، ایک سوچی سمجھی عالمی سازش ہی ہے ۔ جب سے پاکستان اور چین نے راہداری روڈ کی تعمیر شروع کی تب سے کچھ اسلامی ممالک کو بھی پیٹ میں مروڑ ہونے لگی ہے ، ان میں ایران ، متحدہ عرب عمارات اور سعودی عرب سرفہرست ہے ،ہندوستان تو روز اول سے ہی پاکستان کا دوشمن رہاہے ، مگر اسلامی ممالک جن کے پشت پر ہمیشہ پاکستان کا ہاتھ رہاہے ، چاہیئے وہ عرب اسرائیل جنگ ہو یا مسجدالحرم پر قبضے کو کوشش ، سب سے پہلے پاکستان ہی کھڑا رہاہے ان کے تحفظ کے لیے ۔

آج بھی پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا کیونکہ پاکستان نے اس پر اپنا واضح موقف اختیار کیا ہوا ہے کہ اسرائیل عرب کی زمین پر ایک سازش کے تحت بنا ہوا ملک ہے اور پاکستان کبھی بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا ۔ گر دیکھا جائے تو اسرائیل کا براہراست پاکستان کے ساتھ جھڑپ ممکن ہی نہیں مگر اسرائیل نے اسلامی ملک فلسطین کے زمین پر ناجائز قبضہ جمایا ہوا ہے ، اس لیے پاکستان اسرائیل کے وجود سے انکاری ہے ، دوسری جانب فلسطین تو عرب ملک ہے اور عرب ممالک نے پاکستان کے شہ رگ پر قابض ہندوستان کے سب سے متعصب شخص جو کشمیر و گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کو تو زمہ دار ہے ہی مگر پاکستان کے صوبے بلوچستان میں بھی دہشت گردی کے پروان کا اہم زمہ دار بھی ہے اس کو اپنے اپنے ملک کا سب سے بڑا سول’’ امن ‘‘ایوارڈ دینا ،اس کے بعد بھی پاکستان فلسطین پر اپنا ’’واضح موقف ‘‘جاری رکھے گا؟

پاکستان اور اس کے ادارے اس عالمی سازش کو ایک عرصے سے سمجھ چکے ہیں کہ کس طرح طاعوتی طاقتیں مسلمانوں میں اختلافات پیدا کرنے کے لیے ایک ٹیبل پر اکٹے ہوئے ہیں،مگر باجود سمجھ بوج کے بعد بھی پاکستان اپنا واضح پیغام نہیں دے پا رہا ہے ۔ مغربی طاقتیں ہندوستان کو خوش رکھنے کے لیے پاکستان کو مٹانے کے در پر ہے اور پاکستان اسی دنیا کے آگے رونا رو رہاہے ۔ امریکا اس وقت افغانستان سے جانا چاہتا ہے ، پر پاکستان کوئی ٹھوس و واضح پالیسی نہیں اپنا رہاہے کہ وہ امریکا کو سیف راستے کے بدلے اپنا کوئی موقف منواسکیں۔ سی پیک جس سے پاکستان معاشی طور پر خوشحال ملک بن سکتا ہے ، مگر اس پر بھی واضح فیصلہ لینے میں پاکستانی ادارے کمزوری کا مظاہرہ کر رہے ہیں، کہیں پر و چین کو خوش کرنے میں لگے ہے تو کہیں امریکا کو۔ہندوستان نے افغانستان بڑی سرمایا کاری کر رکھی ہے ،مگر اس کی تمام سرمایا کار پاکستان کے محتاج ہونے کے باوجود پا کستان کے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کام کررہے ہیں۔

پاکستان اس وقت اسلامی دنیا کا واحد سپر پاؤر ملک ہے ۔ ’’پاکستان کو واضح موقف اپنانا ہوگا‘‘ تب ہی دیگر اسلامی ممالک جو کسی نہ کسی طرح غیرو ں کی چنگل سے نکلنا چاہتے ہیں مگرانہیں اپنوں کا کندھا نہیں مل رہاہے وہ پاکستان کا ساتھ دینگے۔ ’’ پاکستان کو واضح موقف اپنانا ہوگا‘‘ کہ وہ کشمیر ہو یا فلسطین چاہیئے دنیا کہ کسی بھی ملک مسلمانوں کو ساتھ ظلم ہوتو وہ ان کی داردرسی کرے اور عرب و عجم کے تمام اسلامی ممالک اس عالمی سازش کو سمجھے جو گزشتہ کئی دھائیوں سے مسلمانوں کے خلاف چلی آرہی ہے اوران کو چاہیئے کہ وہ اپنے اختلافات بھلا کر ایک پلیٹ فارم پر اکٹے ہوکر پاکستان اور دیگر ان اسلامی ممالک کو مضبوط کریں جو دنیا کفر کے سامنے سیسیہ پھیلائی دیوار بنے ہوئے ہیں’’ ورنہ مٹ جائے گا نام و نشان ہمارا‘‘۔۔۔ اﷲ تعالیٰ مسلمانوں کی حال پر رحم فرمائے(آمین)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Inayat Kabalgrami

Read More Articles by Inayat Kabalgrami: 9 Articles with 3289 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Aug, 2019 Views: 202

Comments

آپ کی رائے