کشمیر کی فروخت یا بندر بانٹ2......

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

جب بھی کشمیر پر کسی سودا بازی کا چرچا ہو تو 1846 کی سودا بازی کی داستان سامنے آ جاتی ہے۔ جب انگریزوں نے ڈوگرہ مہاراجہ کو کشمیر اور کشمیری 75لاکھ نانک شاہی (سکھ دور حکومت کی کرنسی)کے بدلے فروخت کر دیئے۔ فی کس کشمیری کی قیمت دو نانک شاہی لگائی گئی۔علاوہ ازیں مہاراجہ گلاب سنگھ کو پابند بنا دیا گیا کہ وہ انگریزوں کو سالانہ ایک گھوڑا، 6بکرے،6بکریاں، 6کشمیری شالیں تحفے میں دیا کریں گے۔ جمہوریت اور انسانی حقوق کے برطانیہ جیسے چیمپئن نے کشمیریوں کی مرضی کے بغیر ان کا سودا کیا۔ یہی بیعہ نامہ امرتسر ہے۔ آج کی سودا بازی یا بندر بانٹ کی ابتدا ء تب ہوئی جب سیز فائر لائن کو کنٹرول لائن کا نام دے کر دنیا کو کنفیوژ کیا گیا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جس قرارداد میں سیز فائر لائن کا تذکرہ کیا ہے اسے شملہ معاہدے کے بعد سے کنٹرول لائن میں بدل دی اگیا۔ اس طرح ایک عالمی تنازعہ کو پاک بھارت کا دو طرفہ مسلہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ پاکستان اس سلسلے میں بھی بھارت کے فریب کا شکار ہوا۔ سود ابازی یہی ہوتی ہے کہ مذاکرات کی میز پر زور بیان یا منصوبہ بندی کو کوئی فریق اپنے حق میں استعمال کرے اور دوسرا فریق یہ سمجھے کہ یہ سب اس کے موقف کی جیت ہے۔ یہ معاملہ بھی بحث طلب ہے کہ مسلہ کشمیر کو ایک سلگتے عالمی مسلے سے دو طرفہ بنانے والے والے کردار کون تھے۔ کیا انھوں نے سمجھتہ کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ یا وہ اتنے نا اہل تھے کہ اپنے قومی مفاد کو زاتی مفادات پر قربان کر دیا۔ آج یہ تاثر یا خدشہ موجود ہے کہ امریکہ نے جنگ بندی لائن کو ہی انٹرنیشنل بارڈر تسلیم کرانے کے لئے ثالثی کا راگ الاپنا شروع کیا ہے۔ یہی چناب فارمولے یا ڈکسن پلان کا ایک ورژن ہے۔ کشمیر کے ٹکرے ٹکڑے کرنے اور ان کی بندر بانٹ کی یہی ایک کڑی ہے۔

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے4ستمبر کی پریس کانفرنس میں کشمیر پر کسی سودا بازی کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ان کی پریس کانفرنس میں صٖاف طور پر کہا گیا کہ کشمیر پر نہ تو کوئی سودا بازی کی گئی ہے اور نہ ایسا کبھی ہو گا۔ ان کا یہ کہنا بھی اہم تھا کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ دورہ امریکہ کے دوران کشمیر پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ یعنی آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کے ساتھ امریکیوں نے کشمیر پر سرے سے کوئی بات ہی نہیں کی تو سودے یا سمجھوتے کا سوال کیسے پیدا ہوتا ہے۔ ’’کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور اس کے لئے ہمیں جس حد تک جانا پڑا جائیں گے۔ کشمیر پر آخری گولی، آخری سپاہی اور آخری سانس تک لڑیں گے‘‘۔ پاک فوج کے ترجمان شاید آزاد کشمیر کو ہی کشمیر سمجھتے ہیں۔ ورنہ کشمیر میں آزاد کشمیر سمیت مقبوضہ جموں و کشمیر، لداخ، گلگت بلتستان بھی شامل ہیں۔ کوئی مانے یا نہ مانے یہی حقیقت ہے۔ مستقبل میں جب بھی ریاست جموں و کشمیر کے عوام کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق رائے پوچھی گئی تو ریاست کے ان تمام خطوں کے عوام، کشمیری مہاجرین مقیم پاکستان، بھارت میں موجود کشمیری پنڈت شرنارتھی بھی اپنی رائے دیں گے۔ دنیا بھر میں موجود کشمیر ی بھی اس رائے شماری میں حصہ لینے کے اہل ہوں گے۔ کون زندہ ہو گا ، مگر کشمیر ی آزادی ضرور چھین کے لیں گے۔ یہ کوئی جذباتی دعوے نہیں بلکہ کشمیریوں کی لازوال قربانیاں ہیں۔ کشمیری تقسیم یا بندر بانٹ کے لئے قربانیاں نہیں دے رہے۔ ہو سکتا ہے کچھ اقتدار کی ہوس رکھنے والے عناصر متحدہ کشمیر میں اپنی جگہ بنانے سے متعلق فکر مند ہوں، مگر یہ حقیقت ہے کہ سیزفائر لائن کا دیوار برلن کی طرح مٹنا ہی کشمیریوں اور پاک بھارت کے مفاد میں ہے۔ اس طرح دونوں ممالک کشمیر کے وسائل کو بروئے کار لا سکتے ہیں۔ بھارت کا دعویٰ ہے کہ کشمیر کے مہاراجہ نے اس کے ساتھ الحاق کیا ہے۔ اس الحاق کی کوئی تسلیم شدہ دستاویز موجود نہیں۔ پھر بھی اگر اسے درست مان لیا جائے تو بھی عوام کی منشاء اور مرضی کے خلاف کوئی معاہدہ اور سودا قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ کشمیر کی اسمبلی نے ایسے کسی الحاق کی توثیق نہیں کی ہے۔

کشمیر پر سودا بازی کی خدشات اس لئے بھی درست نہیں ہو سکتے کہ کشمیر کی تقسیم یا سودا یا بندر بانٹ پاکستان اور بھارت دونوں کے لئے تباہ کن ہو گی۔ ہندو اور مسلم اکثریتی علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگ ہجرت کرنے یا زبردستی بے دخلی پر مجبور ہوں گے۔ تقسیم برصغیر کی طرح ہجرت ہو گی۔ معصوموں کا قتل عام ہو گا۔ وسائل پر قبضے کی جنگ ہو گی۔ پاک و بھارت پر ہمیشہ جنگ و جدل کے بادل منڈلاتے رہیں گے۔ عوام کی فلاح و بہبود اور تعمیر و ترقی پر خرچ ہونے والے پیسہ گولہ بارود اور جنگی ساز و سامان کی خرید پر ضائع ہو گا۔ بیرونی طاقتوں کو یہاں آنے اوراپنے اڈے قائم کرنے کا موقع ملے گا۔ کئی ایسٹ انڈیا کمپنیاں یہاں کا مال و دولت لوٹ کر لے جائیں گی۔ اگر بھارتی پالیسی ساز ضد اور ہٹ دھرمی کو ترک کرنے پر غور نہیں کرتے اور اکھنڈ بھارت کے لئے قتل و غارتگری جاری رکھتے ہیں تو پھر آئیندہ عالمی طاقتیں اپنے فوجی اڈے افغانستان سے کشمیر منتقل کرنے اور یہاں کے عوام کو اپنے چارے کے طور پر استعمال کرنے میں آزاد ہوں گی۔ اسرائیل اپنے مفادات کے لئے بھارت کو اشتعال دلا رہا ہے۔ وہ بھارت کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ صیہونیت کی ہندوتوا برگیڈ کے ساتھ یہی سٹریٹجک پارٹنرشپ ہے۔آج بھارتی حکمرانوں نے اسرائیل کو فائدہ پہنچانے کے لئے اپنے عوام کا سودا کر لیا ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بی ے پی نے اقتدار کے لئے اپنے عوام کو بیچ دیا ہے۔ کشمیر کو فلسطین بنانے کا مقصد بھی صیہونی لابی کی خوشنودی حاصل کرنا ہو سکتا ہے۔ تا کہ جنگی جنون میں اسرائیل اور دیگر ممالک سے زنگ آلود جنگی اسلحہ بھاری کمیشن لے کر خریدا جائے۔ جو بھارتی فوجی جرنیل اور حکمران کرگل جنگ کے دوران اپنے ہلاک ہونے والے فوجیوں کے لئے تابوتوں کی خریداری میں کرپشن اور غبن کر سکتے ہیں اور بو فورس توپوں کے سکینڈلز میں ملوث ہو سکتے ہیں ، ان سے بھارتی عوام آئیندہ بھی مزید کک بیکس، گھوٹالوں اور کرپشن کی توقع رکھیں۔ وہ یہ سب پاکستان کے ساتھ جنگ کے ماحول میں ہی اپنے عوام کو بے وقوف بنا سکتے ہیں۔ پاکستان میں قومی یک جہتی اور اتحاد و اتفاق سے ، سب اداروں کے تعاون سے، پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیئے کہ پوری ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو سلامتی کونسل کی قراراددوں کے تحت رائے شماری کرائی جائے۔اس وقت بھارت کشمیر پر حملہ آور ہے۔ وہ جارحیت اور نسل کشی میں مصروف ہے۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد سقوط کشمیر ہو رہا ہے۔ کشمیر صرف آزاد کشمیر کا نام نہیں۔ بھارت حملہ آور ہے۔ کشمیر ی عوام کے خلاف جنگ جاری ہے۔ بھارت سنگین جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔اس نے 33روز سے کشمیریوں کا دانہ پانی بند کر رکھا ہے۔ دنیا کو اب کس کا انتظار ہے۔ ایسے میں بھارت دنیا کو دو طرفہ بات چیت میں الجھا رہا ہے۔ پاکستان کو اس دو طرفہ کے گمراہ کن تاثر کو فوری طور زائل کر نا ہے۔ دنیا کو یہ کھل کر پیغام دینا ہے کہ دو طرفہ بات چیت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ پاکستان سے بائلیٹرلزم سے باہر نکلے اور اس سے کنارہ کشی کا اعلان کرے۔ کشمیر کو سلامتی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں کے مطابق حل کرانے پر زور دے۔ ان حالات میں کوئی نالائق اور بے وقوف ہی بھارت کے ساتھ کسی سمجھوتے، کسی سودا بازی یا بندر بانٹ پر غور کر سکتا ہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 270 Print Article Print
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 443 Articles with 134119 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More

Reviews & Comments

Language: