معاشی بحران: راجہ بیوپاری تو پرجا بھکاری

(Dr Salim Khan, India)

وزیراعظم اپنے کام میں کوئی حقیقی ندرت پیدا کرنے کے بجائے پرانی شراب نئی بوتل میں ڈال کر حاضر کردیتے ہیں کیونکہ وہ کچھ نیا کرنے کے پرانے مریض ہیں ۔ اس کی معروف مثال نیتی آیوگ کا قیام ہے۔ آزادی کے بعد سے ہندوستان میں ایک پلاننگ کمیشن ہوا کرتا تھا مودی جی نے اسے پنڈت نہرو کی اختراع قرار دے کر ختم کردیا۔ آگے چل کر ان کی سمجھ میں آیا کہ منصوبہ بندی کے بغیر پکوڑے کی دوکان تو چل سکتی ہے مگر حکومت کا کام نہیں چل سکتا اس لیےپلاننگ کمیشن کا نیا نام نیتی آیوگ رکھ دیا گیا۔ اس نیتی آیوگ کی سربراہی بھی پہلے کی طرح وزیر اعظم کے حصے میں آئی لیکن اس کا ڈپٹی چیرمین بنانے کے لیے پورا سنگھ پریوار کوئی موزوں فرد مہیا نہیں کرسکا اس لیے امریکہ میں زیر ملازمت پروفیسر اروند پنگھڑیہ کو درآمد کیا گیا ۔ پروفیسر صاحب کو توقع تھی کہ رگھورام راجن کے بعد انہیں ریزرو بنک کا گورنر بنایا جائے گا لیکن وہ سپنا ساکار نہیں ہوسکا تو انہوں نے اپنی تعطیلات کے خاتمہ سے قبل دیش سیوا کے بجائےامریکہ جاکر سویم کی یعنی اپنی خود کی سیوا کو ترجیح دی ۔

اروند پنگھڑیا جب نیتی آیوگ کی بھینس پانی میں چھوڑ کر چلے گئے تومودی سرکار نے راجیو کمار اس عہدے پر فائز کردیا ۔ اس طرح گویا حالیہ ڈپٹی چیرمین مودی سرکار کا حسنِ انتخاب ہیں ۔ اقتصادی مندی سے ہر عام و خاص کی طرح نیتی آیوگ کے نائب سربراہ راجیو کمار بھی پریشان ہیں ۔ انہوں نے موجودہ اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لئے حکومت کو پرائیویٹ سیکٹر کی کمپنیاں میں سرمایہ کاری کی تلقین کی ۔ انہوں نے قومی معیشت کو بہتر بنانے کے لئے نجی سرمایہ کاری کو تیزی سے بڑھانے خاطر حکومت کے ذریعہ غیر معمولی اقدامات کرنے پر زور دیا۔ راجیو کمار کے مطابق اقتصادی شعبے میں جاری بحران کا اثر اب اقتصادی ترقی کی شرح یعنی جی ڈی پی پر نظر آنے لگا ہے۔ ان کے خیال میں پرائیویٹ سیکٹر کے اندرسرمایہ کاری سے متوسط طبقات کی آمدنی میں اضافہ ہوگا جس کےقومی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں ۔اقتصادی شعبے میں مودی جی کے دایاں ہاتھ کہلانے والےمرکزی اقتصادی مشیر کرشن مورتی راجیو کمار سے اتفاق نہیں کرتے۔ قومی مشیر سبرمنین کے خیال میں کمپنیوں کو حکومت کے سامنے مالیاتی پیکج کے لئے گڑگڑا نے کے بجائے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہئے۔سبرمنین کے مطابق ہندوستان میں نجی شعبہ کی ابتداء 1991 میں ہوئی اور جلد ہی وہ 30 سال کا ہوجائےگا ، اس لیے اس کو ‘پاپا بچاو’ کہہ کرگریہ وزاری کرنے کے بجائے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی سعی کرنی چاہیے۔

جس حکومت کے دو بازووں میں اس قدر اختلاف ہو اس سے بھلا یکسوئی اور ہم آہنگی کی توقع کیسے کی جائے؟ راجیو کمار نے اس معاشی بحران کے لیے جابرانہ نوٹ بندی اور احمقانہ جی ایس ٹی کوموردِالزام ٹھہرایا ہے ۔ راجیو کمار کے مطابق بازار میں نقدی کی کمی اس وقت دیوالیہ پن میں تبدیل ہو رہی ہے اور اگر اس کو روکا نہ گیا تو اقتصادی حالات بد سے بدتر ہوجائیں گےکیونکہ پہلے جو 35 فیصد نقدی بازار میں گردش کر رہی تھی وہ اب بہت کم ہو گئی ہے۔ اس کے سبب حالات سنگین ہو گئے ہیں۔ بیروزگاری بڑھ رہی ہے اور جی ڈی پی گھٹ رہی ہے۔ اس سہ ماہی میں جی ڈی پی کا اضافہ کم ہوکر ۵ پر پہنچ گیا ہے۔ یاد رہے ۵ ٹریلین ڈالر اکانومی (معیشت ) بننے کے لیے جی ڈی پی کا کم از کم ۸ فیصد ہونا ضروری ہے۔یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ نقدی اچانک بازار سے کہاں چلی گئی یا کیوں غائب گئی؟ اس کا جواب راجیو کمار یہ دیتے ہیں کہ ‘‘پرائیویٹ سیکٹر کا اعتماد متزلزل ہوگیا ہے اس لیے اب کوئی کسی پر بھروسہ کرنے کے لیے تیارنہیں ہے اور نہ کوئی کسی کو قرض دینے پر آمادہ ہے’’۔ اس صورتحال کی بنیادی وجہ حکومت کی غیر مستحکم پالیسی ہے جس نے سرمایہ کاروں میں عدم اعتماد پیداکیا۔

اس بجٹ میں حکومت نے غیر یقینی صورتحال میں کمی کرنے کے بجائے مزید اضافہ کردیا۔ بیرونی سرمایہ کاروں پر نئے ٹیکس کے سبب اپنا ہزاروں کروڈ ڈالر ہندوستانی بازار سے نکال لیا ۔ حکومت نے بعد میں اپنا فیصلہ تبدیل لے لیا لیکن اس وقت تک چڑیا سارا کھیت چگ چکی تھی۔ پردیسی سرمایہ کاروں کے ساتھ ساتھ مقامی سرمایہ دار بھی بے اطمینانی کا شکار ہیں ۔اس کا جیتا جاگتا ثبوت ۴۰ ہزار سے زیادہ سونے کا بھاو ہے ۔ قومی سرمایہ اگر کاروبار میں گردش کے بجائے سونے میں منجمد ہوجائے تو معاشی نظام کا چرمرا نا توقع کے عین مطابق ہے ۔ایک طرف جہاں معیشت کے میدان سے سرمایہ غائب ہو گیا ہے وہیں سیاست کے بازار میں اس کی خوب ریل پیل ہے ۔ کرناٹک ہویا گوا اور سکم سے لے کر دہلی تک ہر جگہ حزب اختلاف کے ارکان پارلیمان اور اسمبلی کو زور و شور سے خریدا جارہا ہے۔ اس کام کے لیے دولت کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ سوال یہ ہے کہ یہ کالا دھن کہاں سے آتا ہے؟ اور پھر جن لوگوں کے پاس جاتا ہے کیا وہ اس کوکسی معاشی سرگرمی میں استعمال کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں ؟ کیا اس کالے بازار سے سماج میں خوشحالی آسکتی ہے؟

مثل مشہور ہے‘ حاکم قوم کا خادم ہوتا ہے’۔ یعنی حکومت کا تعلق خدمت ہے ۔ رعایہ کی خدمت کرنےوالے حکمراں کا اقتدار مستحکم رہتا ہے لیکن اگر وہ اس ذمہ داری کو پسِ پشت ڈال کر عیش و عشرت میں لگ جائے تو اسے اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کے لیے دولت کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ اس طرح دولت معیشت سے نکل کر سیاست کے گلیارے میں چلی آتی ہے اور وہاں سڑاند پیدا کرنے لگتی ہے۔کسی قوم کا راجہ جب بیوپاری بن جاتا ہے اور پرجا بھکاری ہوجاتی ہے۔ فی الحال ہمارے ملک میں یہی ہورہا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ فی الحال ملت اسلامیہ ہند مختلف محاذ پر آزمائش میں مبتلاء ہے ۔ ایک طرف ہماری شریعت نشانے پر ہے دوسری جانب بابری مسجد کا قضیہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ وادیٔ کشمیر میں پوری قوم کو یرغمال بنالیا گیا اور آسام میں شہریت پر سوالیہ نشان کھڑا کردیا گیا۔ کبھی دہشت گردی کے قوانین کو سخت کرکے ہمیں ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی جاتی ہے تو کبھی این آر سی کے بہانے خوفزدہ کرنے کی سعی کی جاتی ہے لیکن یہ بھی ایک سچائی ہے کہ فی الحال ملک سنگین مسائل سے دوچار ہے۔

نیتی آیوگ کے ڈپٹی سربراہ نے یہ اعتراف کیا ہے کہ ملک ۷۰ سالوں کے سنگین ترین معاشی بحران سے جوجھ رہا ہے ۔ ایک ایک شعبہ ہائے حیات سے لاکھوں لوگ بیروزگار ہورہے ہیں ۔ بیرونی واداخلی دونوں سرمایہ کاروں کا اعتماد یہ حکومت گنوا چکی ہے ۔ ان کے دنشوروں کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ اس مصیبت سے کیسے نکلا جائے۔ تہوار کا موسم سر پر کھڑا ہے مگر ملک کا ایک بڑا حصہ آفات سماوی کا شکار ہے ہر طرف جل تھل ہے ۔ قرآن حکیم اس سنگین صورتحال میں ان سے خطاب کرکے فرماتا ہے ‘‘تم سے پہلے بہت سی قوموں کی طرف ہم نے رسول بھیجے اور اُن قوموں کو مصائب و آلام میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی کے ساتھ ہمارے سامنے جھک جائیں’’ (انعام ۴۲)۔

اس پیغام حق کو حکمراں طبقے تک پہنچانا امت کی ذمہ داری اور وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے۔ ان آلام و مصائب سے نجات حاصل کرنے کے لیےلازم ہے سارے لوگ اور خاص طور پر حکمراں طبقہ عاجزی کے ساتھ مالک الملک کے آگے جھک جائے یعنی خالق کائنات کے آگے سرِ اطاعت خم کردے ۔ یہ مشکلات انسانوں کو خبردار کرنے کے لیے وارد ہوتی ہیں ، ساتھ ہی پہلے والوں کے اس رویہ سے آگاہ ہونا بھی ضروری ہے کہ ‘‘پس جب ہماری طرف سے ان پر سختی آئی تو کیوں نہ انہوں نے عاجزی اختیار کی؟ مگر ان کے دل تو اور سخت ہوگئے’’۔ کتاب اللہ میں اس منفی طرزِ عمل کی ہ وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ ‘‘ شیطان نے ان کو اطمینان دلایا کہ جو کچھ تم کر رہے ہو خوب کر رہے ہو’’ (انعام ۴۳)۔ حکومت ہند پر باریک بینی سےنظر رکھنےوالوں کے سامنے آیت کا یہ حصہ آجائے گا تو وہ بے ساختہ پکار اٹھیں گے کہ یہ تو بعینہٖ ان پر صادق آتا ہے۔ سرکار تمام تر ناکامیوں اور کوتاہیوں کے باوجود اپنے حال میں نہ صرف مست بلکہ نازاں و شاداں ہیں ۔

ہندوستان میں معاشی مندی کا آغاز نوٹ بندی سے ہوا ۔ اس کے بعد پڑنے والی جی ایس ٹی کی مار نے معیشت کی کمر توڑ دی لیکن یہ مائل بہ اصلاح نہیں ہوئے ۔ ان کی روش تبدیلی نہیں آئی اس کے باوجود سیاسی کامیابی نے ان کے قدم چوم لیے اوروہ انتخاب جیت گئے اور ۔ حالات کی اس عارضی بہتری کا ذکر سورہ انعام کی آیت ۴۴ میں یوں کیا گیا ہےکہ ‘‘ پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو، جو انہیں کی گئی تھی، بھلا دیا تو ہم نے ہر طرح کی خوشحالیوں کے دروازے ان کے لیے کھول دیے،’’۔ مئی ۲۰۱۹؁ کے انتخابی نتائج کے بعد کا منظر اس آیت کی عملی تفسیر ہے لیکن یہ انجامِ کار آگے بیان ہوا ہے ۔ ارشادِ ربانی ہے‘‘یہاں تک کہ جب وہ اُن بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں خوب مگن ہوگئے تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ وہ ہر خیر سے مایوس تھے’’۔ اس حقیقت کا اعتراف تو بظاہر کوئی نہیں کررہا ہے مگر ان کے چہرےکے رنگت اور چال ڈھال سے مایوسی صاف جھلکتی ہے۔
کشمیر سے لے کر آسام تک ان کی ساری ریشہ دوانیاں یکے بعد دیگرے اوندھے منہ گررہی ہیں اور یہ لوگ بڑی تیزی کے ساتھ لمحہ بہ لمحہ اپنی تباہی کی جانب گامزن ہیں ۔ ایسے لوگوں کے حقیقی انجام کا بھیانک منظر سورہ ٔ انعام کی آیت ۴۵ میں ملاحظہ فرمائیں ‘‘اس طرح ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا اور تعریف ہے اللہ رب العالمین کے لیے (کہ اس نے ان کی جڑ کاٹ دی)’’۔ ان آیات کو پڑھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ رب کائنات تفصیل کے ساتھ ملک کے موجودہ حالات پر تبصرہ فرما رہاہے ۔ یہ آیات اپنے قاری کو علم و معرفت کے ایک نئے جہان کی سیر کراتی ہیں لیکن ملت اسلامیہ اپنی مردہ ضمیری کے سبب اس نعمتِ عظمیٰ سے محروم رہ جاتی ہے کیونکہ بقول حکیم الامت علامہ اقبال ؎
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزولِ کتاب
گرہ کشاہے نہ رازی نہ صاحبِ کشاف
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1204 Articles with 436648 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Sep, 2019 Views: 233

Comments

آپ کی رائے