یومِ دفاع

(Sami Ullah Malik, )

مزاحمتی قوت گرتے ہوؤں کوپیروں پرکھڑاکرتی ہے،ڈوبتے ہوؤں کوتیرنے کاحوصلہ دیتی ہے اورساحل پرلاپٹختی ہے۔بیمار کو بیماری سے جنگ میں فتح یاب کر تی ہے(اللہ کے حکم سے )بجھتے د یئے کی لوبجھنے سے پہلے تیزہوجاتی ہے،کیوں؟ شاید دیا دیرتک جلناچاہتاہے۔یہ اس کی مزاحمت ہے۔اندھیروں کے خلاف کبھی کوئی مسا فرکسی جنگل میں درندوں کے درمیان گھر جائے تو تنہاہی مقابلہ کرتاہے کہ اس کے بغیرکوئی چارہ نہیں ہوتا۔ایک ناتواں مریض جوبسترسے اٹھ کرپانی نہیں پی سکتا ناگہانی آفت کی صورت میں چھلانگ لگاکربسترسے نیچے کودسکتاہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ مریض میں وہ مزاحمتی قوت موجودتھی جس کااس کو خودبھی اندازہ نہیں تھا۔خطرے کے احساس نے اس قوت کوبیدارکردیا۔یہی وہ قوت ہے جوکمزوروں کوطا قتورسے ٹکرادیتی ہے،کبوترکے تن نازک میں شاہین کا جگرہ پیداہوجاتاہے،چیونٹی ہاتھی کے مقابلے میں اترآتی ہے، مظلوم کی آنکھیں قہربرساتی اورسلگتے انگارے شعلہ جوالہ بن جا تے ہیں۔

لیکن تا ریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ دنیاوی کامیابی کے حصول کیلئے مزاحمت کمزورپڑکرسردہوجاتی ہے لیکن اگرمزاحمت کے ساتھ”ایمان باللہ”شامل ہوجائے تو مزاحمت کبھی سردنہیں پڑتی، راکھ میں کوئی نہ کوئی چنگاری سلگتی رہتی ہے جہاں مزاحمتی قوت بیدارہوتویہ چنگاری بھڑک اٹھتی ہے لیکن کیایہ ضروری ہے کہ یہ مزاحمتی قوت اس وقت بیدارہوجب خطرہ حقیقت بن کر سامنے آجا ئے،جب سرپرلٹکتی تلوارکی نوک شہہ رگ کوچھونے لگے،جب سرحدوں پرکھڑے مہیب اوردیو ہیکل ٹینکوں اورطیاروں کی گڑگڑاہٹ سڑکوں اورچھتوں پرسنائی دینے لگے۔جب ڈیزی کٹر،کروزاورٹام ہاک بم بارش کے قطروں کی طرح برسنے لگیں ۔ جب بہت کچھ”گنواکر”کچھ بچانے کیلئے ہم مزاحمت پراترآئیں گے؟

پا کستانی ذمہ داروں نے پہلی مرتبہ خطرہ کودرحقیقت”دوچارلب بام”سمجھنے کی بجائے انتہائی مناسب جواب دیکرساری قوم کے دل جیت لئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی قوم لڑے بغیر ہی شکست تسلیم کرلیتی ہے تویہ جسمانی نہیں ذہنی پسپا ئی ہوتی ہے۔ایسی قوم کوجسمانی طورپرزیرکرنے کیلئے دشمن کوزیا دہ مشکل نہیں اٹھانی پڑتی۔ہلاکو خان کی فوجیں کھوپڑیوں کے مینار یوں ہی نہیں تعمیرکرلیاکرتی تھیں۔صلاح الدین ایوبی نے جب”ملت اسلا میہ”کانام لیاتوایک غدارفوجی افسرطنزیہ مسکرااٹھا،کون سی ملت اسلامیہ؟یہ ذہنی پسپائی کی سب سے گری ہوئی شکل تھی کہ ایک دیوہیکل انسان اپنے ہی وجودسے انکاری تھا۔لیکن صلا ح الدین ایوبی نے مز احمت کی قوت کے ساتھ ایمان کوجمع کرکے خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کے بعدبیت المقدس نا پاک ہا تھوں سے چھین لیا۔

آج ہمیں ثابت قدمی سے میدان میں کھڑادیکھ کرہما را دشمن پہلے سے بڑھ کرمصیبت مول لے چکاہے۔ایک یقینی شکست کے امکان کے باوجودمحض دنیاپرظا ہری غلبے کی خواہش نے اسے ایک ایسی دلدل میں اتاردیاہے جہاں اگلا قدم اس کی ظاہری شان وشوکت اورمصنوعی ہیبت کاجنازہ نکال کررکھ دے گا۔کیاہم نے کبھی سوچاہے کہ ہمیں گھروں میں بیٹھے ہیبت زدہ کرنے کی ناکام کوشش کے بعدوہ سارے لاؤلشکرکے باوجود زیادہ خوفزدہ ہے۔اس کی چڑھائی میں شیرجیسی بے جگری نہیں بلکہ لومڑی جیسی عیاری ہے۔اب وہ ہمیں دیوارسے لگانے کیلئے پس پردہ دوسرے اقدامات کرنے سے بازنہیں آئے گایعنی ہمیں سیاسی اورمعاشی فتنوں میں مبتلاکرے گاپس آج ہمیں اپنی مزاحمتی قوت کوسمجھنے کی ضرورت ہے جس کی بنیاد”ایمان”ہے اوراس قوت کومضبوط کرنے والی قوت”اللہ کی نصرت”ہے اوراللہ کی نصرت کیلئے اس کی مکمل حاکمیت کاعملی اعلان کرناہوگا۔جب مومن اپناسب کچھ لگادیتاہے تومزاحمت میں اللہ کی نصرت نازل ہوکراس کوکامیابی سے ہمکنارکرتی ہے۔تاریخ اسلام کے صفحات پرایسی روشن مثالیں ان گنت تعدادمیں جگمگارہی ہیں جب نہتے مسلما نوں کی مزاحمت نے وقت کے فرعونوں کو زخم چاٹنے پرمجبورکردیا۔آج بھی دنیابھرمیں مزاحمتی تحریکیں پوری شان سے جا ری ہیں۔پتھرنے ٹینک سے شکست نہیں کھائی،دنیادیکھ رہی ہے کہ معمولی ہتھیاروں سے جدیدٹیکنالوجی کامقابلہ جاری ہے۔جتناظلم بڑھتاجارہاہے اتنی ہی شدت سے مزاحمت بڑھتی جارہی ہے۔

لیکن کیامزاحمت کی صرف ایک ہی صورت ہے؟جب کوئی جابروقت اپنے لشکروں کے زعم میں کسی قوم پرچڑھ دوڑتاہے تو ہرمظلوم ہاتھ ہتھیاراٹھالیتاہے۔یہ یقینی امرہے کہ ایسے وقت میں بغیرمزاحمت کےکشمیریوں کونسل کشی سے نہیں بچایا جاسکتاجوہما ری مزاحمتی قوت کے شدت سے منتظرہیں۔یہ ڈوب رہے ہیں ان کوساحل پرکھینچ لانےکیلئے بھرپورتوانائیوں کی ضرورت ہے۔آج وہ خطرناک مرحلہ آچکاہے جب نحیف ونزارمریض زندگی کی ڈورسلامت رکھنے کیلئے اس پوشیدہ قوت پر انحصارکرتاہے جواس کے جسم میں بجلی کی سی طاقت بھردیتی ہے۔گونگے، بہرے اوراندھے بھی اس نا زک دور کی شدت سے کچھ کرگزرنے کو تیارہوجا ئیں توجن کواللہ نے تما م ترتوانائیوں سے نوازرکھاہے ان کواپنی صلاحیتوں سے بھرپورفائدہ اٹھانے سے کس نے روک رکھاہے؟

مسلمانان پا کستان نے آج اپنی اس طاقت کے اس رازکوپالیااوراس کوپختہ کرلیاتویہ وہ مورچہ ہے جس میں پناہ لینے والوں کیلئے دائمی فتح کی خوشخبریاں ہیں۔ مزاحمت ایما نی قوت سے مشروط ہے ،اس کوکھودیاتوسب کچھ چھن جائے گا!! “یادرکھیں اللہ کوپاکرکبھی کسی نے کچھ نہیں کھویااوراللہ کوکھوکرکبھی کسی نے کچھ نہیں پایا”یہی ہمارے یوم دفاع کا بہترین پیغام ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 460 Articles with 142340 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Sep, 2019 Views: 174

Comments

آپ کی رائے