حوثی باغیوں کا حملے روکنے،امریکی صدر کا سعودی عرب میں اضافی فوج بھیجنے کا اعلان؟

(Hanif Lodhi, Islamabad)

امریکہ ایران کا خوف دلاکر سعودی عرب سے اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا ، مقدس سرزمین پرصلیبی اور صیہونی فوجی تعینات ہونگے جس کا عربوں سے بھاری معاوضہ وصول کیا جائیگا جبکہ امریکہ سعودی عرب اور یواے ای کواربوں کے ہتھیار بھی بیچے گا۔سعودی آئل تنصیبات پر حملے کے بعد امریکہ نے اپنے فوجی دستے سعودی عرب بھیجنے کا اعلان کردیاہے۔امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مدد کی درخواست کی تھی، افواج فضائی اور میزائل ڈیفنس میں بہتری لائیں گی اور امریکہ دونوں اقوام کیلئے فوجی سازو سامان کی ترسیل تیز کریگا۔

امر واقع یہ ہے کہ گزشتہ دنوں سعودی عرب کی آئل تنصیبات پر ڈرون حملے کئے گئے تھے اوریمن کے حوثی باغیوں نے آئل تنصیبات پر میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی مگر سعودی عرب اور امریکہ کی جانب سے اس کا الزام ایران پر لگایا گیا ہے تاہم ایران نے الزام کو مسترد کیاجبکہ سعودی عرب نے تیل کی تنصیبات پر حملوں کے حوالے سے تازہ بیان میں کہا ہے کہ اگر ایران کا کوئی کردار سامنے آیا تو جواب دیں گے۔

اگرچہ قبل ازیں امریکی صدر کی درخواست کو سعودی ولی عہد نے شکریہ کے ساتھ رد کردیا تھا اور کہا تھا کہ سعودی عرب یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ ان حملوں کو ناکام بناسکے لیکن اس بیان کے تین چار روز بعد امریکی صدر کی طرف سے فوج بھجوانے کا اعلان سمجھ سے بالا تر ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ حوثی باغیوں نے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے روکنے کا اعلان کرتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ سعودی عرب ان کی اس خیر سگالی کا مثبت جواب دے گا۔ یمن کے حوثی باغیوں کی طرف سے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے روکنے کا اعلان سربراہ حوثی سیاسی کونسل مہدی المشاط نے کیا، انہوں نے کہا کہ وہ سعودی عرب پر اب ڈرون، بیلسٹک میزائل و دیگر ہتھیار نہیں چلائیں گے۔

قبل ازیں ایران کے پاسداران انقلاب کے چیف کمانڈر میجر جنرل حسین سلامی کاعوامی اجتماع سے خطاب میں کہنا تھا کہ ایران اپنی سرزمین پر کسی کو بھی جنگ کی اجازت نہیں دے گا اور یہاں تک کہ چھوٹے پیمانے پر حملہ کرنے والے کسی بھی جارح کو تباہ کردیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ سرحد کی خلاف ورزی کرنیوالے ہر کسی کو ہم نشانہ بنائیں گے اور اس کی ذمہ داری بھی لیں گے اور ایران کے پاس فوج کی عملی صلاحیت بھی موجود ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ سعودی قیادت کو اس مقدس سرزمین پر یہود ونصاریٰ کے قدم پڑنے سے قبل امریکہ کی طرف سے فوج بھجوانے کی مدد کو قبول کرنے سے انکار کردینا چاہئے کیونکہ امریکہ کے عزائم درست نہیں ہیں اور یہ اونٹ زبردستی خئمے میں داخل ہوگیا تو اس کو باہر نکالنا مشکل ہوجائے گا ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس نازک موقع پر پاکستان کو مقامات مقدسہ کی حفاظت کے لیے ہر ممکن تعاون کی فوری طور پر پیش کش کردینی چاہئے ۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ پاک فوج کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف عرب اتحادی افواج کی سربراہی کررہے ہیں وہ ہر قسم کے جنگی خطرات کو بھی ٹال سکتے ہیں اور کسی بھی جارحیت کو مکمل ناکام بنانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں ۔

امریکہ کی طرف سے عرب ممالک کی اصل قوت پر قبضے کی جنگ ابھی شروع ہوئی ہے اور امریکہ کا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا نظر آرہا ہے ۔تیل کی قوت کو اپنے کنٹرول میں کرنے کے لئے ساری بساط بچھائی جارہی ہے اور وہاںجن خطرات کا اظہار کیا جارہا ہے وہ تیزی سے ختم ہوتے جارہے ہیں اور اگر امریکہ چاہتا تو وہ حوثی باغیوں کے مبینہ ڈرون اور میزائل حملوںکو اپنے جدید میزائل نظام سے ناکام بناسکتا تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا ۔ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان اس حوالے سے اپنا فعال کردار ادا کرسکتا ہے اور اسے اپنے پڑوسی ملک کے موقف کی حمایت کرنی چاہئے کیونکہ اگر امریکہ کوئی اسٹرٹیجک غلطی کرتا ہے تو اس کا پاکستان پر بھی اثر پڑے گا ۔امریکہ کوافغانستان میں مداخلت کا تجربہ اسے مہنگا پڑا ہے اب ایران کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے خطے اور ساری دنیا پر منفی اثرات پڑیں گے تنازعات اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر فریقین کو لانا سب امن پسند قوتوں کی ذمہ داری ہے کیونکہ ایسے کسی بھی حملے کا نتیجہ حملہ آور کی تباہی کی صورت میں ہی نکلے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ ذکر اب وزیر اعظم کے دورہ امریکہ اور مسئلہ کشمیر کا ،وزیراعظم جمعہ 27 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے،عمران خان کشمیر کا مقدمہ لڑنے امریکہ پہنچ گئے، وہ امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات کرینگے جبکہ آج وزیراعظم عمران خان اور ترک صدر طیب اردوان کی بھی ملاقات ہوگی،ان کی نیویارک میں کشمیری رہنمائوں سے بھی ملاقات طے ہے، وزیراعظم ورلڈ بینک کے صدر اور بل گیٹس سے بھی ملیں گے اورملائیشیا اور بلجیم کے ہم منصبوں سے بھی ان کی ملاقاتیں طے ہیں وہ چینی حکام سے بھی ملاقات کریں گے جبکہ عالمی میڈیا کے نمائندگان کو مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا موقف بیان کریں گے۔دورے کے دوران سائیڈ لائن پر پاکستان، ترکی اور ملائیشیا کا سہ فریقی اجلاس بھی ہوگا۔دوسری طرف مودی کی آمد پر بیرون ملک مقیم کشمیری اور خالصتان کے حامی سکھ آج ہوسٹن میں مظاہرے کریں گے۔
وزیراعظم امریکی صدر سے ملاقات میں مقبوضہ کشمیر میں پچاس روز سے جاری کرفیو سے مقبوضہ وادی میں پیدا شدہ صورتحال پر مودی کو پاکستان کے اصولی اور دوٹوک موقف سے آگاہ کریں گے اور ان سے مسئلہ کشمیر کے حل میں کلیدی کرداد ادا کرنے ،کرفیو ہٹانے اور مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کے خاتمے کے لیے انہیں کہیںگے اور انہیں خوفناک صورتحال کے نتائج و عواقب سے آگاہ کریں گے۔

اگرچہ امریکی صدر بھارتی وزیر اعظم کو ثالثی کی پیش کش کرچکے ہیں لیکن وہ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کررہے ہیں اور مذاکرات سے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میںمظالم کو مزید تیز کررہے ہیں۔ ان حالات میں جنوبی ایشیا کے امن کو دائو پر لگانے والے ہٹلر ثانی اور مسولینی کے پیروکار نریندر مودی کو جب تک شٹ اپ کال نہیں دی جاتی اور بھارت پر عالمی برادی اقتصادی پابندیوں کا اطلاق کرتے ہوئے اسے ایک دہشت گرد ملک قرار نہیں دیتی اس وقت تک بہتری نہیں آسکتی ۔ اب بھارتی قابض فوج نہتے کشمیریوں کے گھر میں گھس کر انہیں تشدد کا نشانہ بنارہی ہے روزانہ درجنوں مریض دم تو ڑ رہے ہیں۔ مقبوضہ وادی میں ادویات اور خوراک کی شدید قلت پیدا ہوچکی ہے اور عالمی ریڈ کراس بھی اس صورتحال میں خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہا ہے انسانیت تڑپ رہی ہے لیکن دنیا بے حسی کا مظاہرہ کررہی ہے ۔وزیر اعظم ترکی کے صدر ملائیشیا اور بلجیم کے وزراء اعظم کو بھی مسئلہ کشمیر سے آگاہ کریں گے ۔ان کا ستائیس ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والا خطاب کلیدی نوعیت کا ہوگا جس میں وہ ساری دنیا کے رہنمائوں کے سامنے بھارت کو بے نقاب کریں گے اور ستر سال سے اس قضیئے کے حل کی ضرورت پر زور دیں گے ۔ اس وقت دونوں ممالک کی افواج مقابل ہیں،بھارت کئی بار آزادکشمیر پر حملے کی دھمکی دے چکا ہے اور مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرکے ظلم کررہا ہے۔ ظاہر ہے کہ عالمی برادری اس صورتحال میں زیادہ دیر تک خاموش نہیں رہ سکتی اور اسے لازماً فعال کرداد ادا کرنا پڑے گا ۔بھارتی وزیر اعظم کو آج ہوسٹن میں جہاں مظاہروں کا سامنا ہوگا ،وہاں ایک روز قبل بھارتی وزیر خارجہ سبرا منیم جے شنکرکے دورہ فن لینڈ کے موقع پر تارکین وطن کشمیریوں اور انکے ہمدردوں کی ایک بڑی تعداد نے زبردست احتجاجی مظاہرہ کرکے بھارتی وزیر اعظم سے اظہار نفرت کرکے ان کے اقدمات کو مسترد کردیا ہے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hanif Lodhi

Read More Articles by Hanif Lodhi: 50 Articles with 27353 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Sep, 2019 Views: 152

Comments

آپ کی رائے