پاکستان اورسعودی عرب کے تاریخی تعلقات

(Umer Farooq, )

 جب سے نریندرمودی کی حکومت نے مقبوضہ کشمیرکی متنازعہ حیثیت ختم کی ہے اس دن سے سوشل میڈیاپرسعودی عرب کوتنقیدکانشانہ بنایاجارہاہے یہ ایک طے شدہ پلان اورپراکسی وار کاحصہ ہے ہمارے کچھ دانشوربلامعاوضہ کچھ قوتوں کی پراکسی وارمیں اپناحصہ ڈال کر خوش ہورہے ہیں، سوشل میڈیا پہ ھماری ایک ذاتی رائے ہمارے وطن کیلئے کس حد تک خطرناک ثابت ہوسکتی ہے ،ہمیں اس طر ف توجہ کرناچاہیے ،سعودی تیل تنصیبات پرحملے ہوئے توشرپسندعناصرنے منفی مہم مزیدتیزکردی اورکہاکہ یہ سعود ی عرب کااندرونی معاملہ ہے یہ منفی مہم صرف سعودی عرب کے خلاف نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف بھی ہے جو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خراب کرنے کی مذموم سازش ہے ہماری ریاستی پالیسی ہے کہ سعودی عرب اورپاکستان یک جان دوقالب ہیں تویہ عناصرکون ہوتے ہیں کہ جوجھوٹ کابازارسجائیں اورملک کی خارجہ پالیسی بنائیں ؟حالانکہ پاک سعودی تعلقات کے حوالے سے یہ تاریخی جملہ زبان زدعام ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات تاریخ، مذہب اور ثقافت کے انتہائی گہرے رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں ۔

یہ نام نہاد دانشورچاہتے ہیں کہ یمن والی صورتحال پیداکی جائے جب سعودی عرب نے یمن کے معاملے پرحکومت پاکستان سے تعاون کی اپیل کی توہماری اس وقت کی حکومت نے تعاون کرنے کی بجائے اس کو میڈیااورسوشل میڈیاکی زینت بنادیاجہاں یارلوگوں نے دونوں ممالک کے خلاف غلیظ پروپیگنڈہ کرکے تعلقات خراب کرنے کی کوشش کی ، شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن السعود نے 23 ستمبر1932 میں عرب دنیا کے سب سے بڑے ملک سعودی عرب کی بنیاد رکھی تواس بنیادمیں اسلامی اخوت اورمسلم ممالک کو مضبوط کرنے کاجذبہ شامل تھا ،سعودی عرب ان چند اولین ممالک میں سے تھا جنھوں نے پاکستان کے وجود میں آتے ہی اسے تسلیم کیاپاک سعودی تعلقات ابتدا سے ہی خوشگوار رہے ہیں ،اس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے کہ سعودی عرب ہی پاکستان کا وہ عظیم دوست ملک ہے جس نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا نہ صرف کھل کر ساتھ دیا ہے بلکہ وہ ہر مشکل ترین لمحات میں بھی ڈٹ کر پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے ۔

1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران سعودی عرب نے پاکستان کی بھرپورمدد کی اس جنگ میں شاہ فیصل نے کہاکہ ہم صحرائی لوگ ہیں ۔ کھجوریں کھا کر زندگی بسر کر لیں گے پاکستان کو جس چیز کی ضرورت ہو وہ ہم سے لے لے ۔ وہ دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لئے پاکستان بھی تشریف لائے ۔ ،شاہ خالد نے F-16کی خریداری میں بھرپورتعاون کیا ۔1967 میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان فوجی تعاون کا معاہدہ ہوا جس کے تحت سعودی عرب کی بری، بحری اور فضائی افواج کی تربیت کا کام پاکستان کو سونپ دیا گیا۔ اپریل 1968 میں سعودی عرب سے تمام برطانوی ہوا بازوں اور فنی ماہرین کو رخصت کردیا گیا اور ان کی جگہ پاکستانی ماہرین کی خدمات حاصل کی گئیں۔ شاہ فیصل کے دور حکومت میں سعودی عرب نے 1973 کے سیلاب زدگان کی مددکی اور 1975 میں سوات کے زلزلہ زدگان کے لیے ایک کروڑ ڈالر کا عطیہ دیا۔ 1971 میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر شاہ فیصل کو بہت رنج ہوا اور انہوں نے پاکستان کی جانب سے تسلیم کرنے کے بعد بھی بنگلہ دیش کو تسلیم نہ کیا۔

دونوں ممالک میں یہ تعاون یکطرفہ نہیں دوطرفہ ہے ،1979 میں جب خانہ کعبہ پر قبضے کی کوشش کی گئی تو پاکستانی فوج کے کمانڈوز نے وہ کوشش ناکام بنائی۔خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداﷲ پاکستان آئے تو پاکستانی عوام کی محبت دیکھ کر کہاکہ ہم پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔2005 میں آزاد کشمیر و کے پی کے کے خوفناک زلزلہ اور 2010 کے سیلاب کے دوران بھی پاکستانی بھائیوں کی مدد میں سعودی عرب سب سے آگے رہا ۔ امریکہ ویورپ سمیت پوری دنیا کا دبا ؤتھا کہ پاکستانی حکومت ایٹمی دھماکوں سے باز رہے۔اس مشکل صورتحال میں بھی سعودی عرب نے اس وقت کے وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کا حوصلہ بڑھایا اور اپنے بھرپور تعاون کیا، ایٹمی دھماکوں کی خوشی میں سعودی عرب ہمیں روزانہ کی بنیاد پر 50 ہزار بیرل تیل مفت دیتا رہا۔

اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم بھی کافی بڑا ہے۔گزشتہ برسوں میں تو یہ5ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہو گیا تھا۔اس کے علاوہ سعودی عرب میں قریب 15لاکھ ماہر، سکلڈ اور ان سکلڈ ورکر کام کرتے ہیں، جو تین ارب ڈالرز کے قریب پاکستان بھیجتے ہیں،گزشتہ سال پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کو سعودی عرب نے تقریبا چھ ارب ڈالرز کی مالی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے پاکستان کے دورے کے دوران تقریبا 20 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کے معاہدوں پر بھی دستخط کیے۔غرضیکہ ہماری معیشت پرجب بھی براوقت آیا یہاں بھی سعودی عرب آگے آیا اور ہماری گرتی ہوئی اکانومی کو سنبھالا دیا۔

جہاں تک مسئلہ کشمیرکی بات ہے توسعودی عرب ان چند ممالک میں سے ایک ہے، جس نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کی تائید و حمایت کی ہے ، پلوامہ حملے کے فورابعدولی عہد محمدبن سلمان نے انڈیاکادورہ کیابھارت کی کوشش تھی کہ سعودی ولی عہدبھی ان کی ہاں میں ہاں ملائیں اور پلوامہ حملے کاالزام پاکستان پرعائدکرکے مذمت کریں مگرمحمدبن سلمان نے بھارتی چال میں آنے اوربھارت کاتجارتی پارٹنرہونے کے باوجود پلوامہ حملے کی مذمت تک نہیں کی ،بھارتی طیارے گرانے کے بعد جب پاک بھارت جنگ کے شعلے بھڑکنے والے تھے توایسے حالات میں سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر شاہی ہدایت پر پاکستان اور ہندوستان کے دورے پر آئے ۔اورماحول کوٹھنڈاکیا۔مقبوضہ کشمیرکی متنازعہ حیثیت ختم کرنے کے بعدہماری حکومت اورسعودی حکمرانوں کے درمیان پہلے دن سے رابطہ ہے اوراس سلسلے میں وہ ایک حکمت عملی سے آگے بڑھ رہے ہیں،مقبوضہ کشمیرکی حالیہ صورتحال پر سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیرنے پاکستان کادورہ کیا اورپاکستان کے ساتھ بھرپورتعاون کااعادہ کیا اسلامی تعاون تنظیم نے امسال جون میں ہونے والے خصوصی اجلاس میں کشمیرپرخصوصی نمائندہ مقررکیا ،وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورے میں بھی خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے مسئلہ کشمیر پر دیرینہ حمایت اور یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔پاکستان اور سعودی عرب نے مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کیلیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا ہے،سعودی قیادت نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کشمیر کاز کے ساتھ یکجہتی اور حمایت جاری رکھنے کا عزم کیا۔

آج سعودی عرب اپنا89واں قومی دن بنارہاہے سعودی عرب کے سفیرنواف سعیدالمالکی نہایت تدبراورحکمت عملی سے دونوں ممالک کے تعلقات کومضبوط کرنے میں اپناکرداراداکررہے ہیں ،اس کے ساتھ ساتھ سعودی سفارت خانہ کے میڈیا سیل کے انچارج علی خالد الدوسری بھی ذمے داریاں سنبھالنے کے بعد متحرک ہوچکے ہیں وہ سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی زیر قیادت جس طرح متحرک انداز میں ملاقاتیں اور رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں اس کے یقینی طور پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

ہم امید کرتے ہوئے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی اور علی خالد الدوسری جیسے ذمہ داران کی کاوشوں سے پاک سعودی تعلقات میں مزید مضبوطی و استحکام آئے گا۔اوروہ مذموم عناصرناکام ہوں گے جودونوں ممالک میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں کیوں کہ دونوں ملک مشرق وسطی اورجنوبی ایشیا میں بہت بڑی تبدیلی کاپیش خیمہ بن سکتے ہیں عالمی سطح پرجوتبدیلیاں رونماہورہی ہیں ان میں بھی دونوں ممالک کاکردارنہایت اہمیت کاحامل ہے اس لیے یہ کہاجاسکتاہے کہ آئندہ عالمی سطح پرجوبھی تبدیلی ہوگی اس میں پاکستان اورسعودی عرب کابنیادی کردارہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umer Farooq

Read More Articles by Umer Farooq: 104 Articles with 26122 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Sep, 2019 Views: 312

Comments

آپ کی رائے