AGAVE Americana اگاوے امریکانا (کتّے کے کاٹے کا علاج)

(Syed Haseen Abbas Madani, )

یہ ایک جَانا پہَچانا پودا ہے ہمارے ہاں اسکو گھیکوار (Aloevera ( بھی کہتے ہیں۔پچھلے دنوں کتّے کے کاٹنے کی وجَہ سےاندرونِ سندھ ایک دس سالہ بچّےکی ہلاکت ہوئی۔ جسپر بڑا صَدمَہ ہوا۔

خیَال آیا کہ ہمارے گرد و نواح مِیں یقینن اللہ رب العزّت نے کچھ نہ کچھ ضرور انتظَام کیَا ہو گا۔ مَیں نے امِریکہ مِیں ایک خبَر پڑھی تھی کہ ایک سولہ سال کا لڑکا جس کو کتّے نے کاٹ لیا تھا۔ وہ ہسپتال میں داخل تھا اور انجکشن سے نتائج خاطر خواہ نہ تھے۔ ایک روز ایک نرس اس پودے کا گملہ لے کر سامنے سے گذری تو اس مریض نے دوڑ کر وہ گملہ چھین لَیا اور پودے کو ککڑی کی طَرح چبَا کر کھَا گیَا۔ نرس بہت پریشان ہوئی مَگر شام تک کے مشَاہدے سے معَلوم ہوا کے مَریض کی صحْت کچھ بہَتر ہوتی نظر آئی۔ تو اسی پودے کا مَزید استْعمال کیَا گیَا۔ اور مَریض صحْت یابْ ہو کر گھَر چلَا گیَا۔

کوئی بْیس سَال پہَلے مَیں نے یِہ خبَرپڑھی تھی۔ اس دس سالہ حَسن کی افسوس ناک خَبر کو سن کر مجھے یِہ بات یاد آ گئی۔ مِیں نے اس کے محفوظ پہْلوؤں کو انٹر نٹ پر مطالَعہ کیَا اور کئی جَگہ دیکَھا کہ یہ ہائڈرو فوبیا (کتّے کے کاٹے کی بیَماری ) مِیں فَائدہ کرتا ہے۔میں یہ تاثر نہیں دینا چَاہتَا کہ یِہ مکّمل علِاج ہے مگر کچھ نَہ ہونے پر اس کو آزمایا جَا سکتا ہے۔ ہومیو پیَتھی مِیں اس کا مدر ٹنَکچر بھی ملتَا ہے۔ اسے بھی بِیس بَیس قطْرے آدھے کَپ پانی مِیں دیاجَا سَکتاہے۔ جیسے ہی انجکشن میسّر آجَائے ، اسے بھی استْعمال کر لیَا جَائے۔

اس پودے کے بہت سے نام ہیں امْریکہ مِیں اسے اگاوے کہتے ہیں اور انگریزی مِیں اسْکا معَروف نام سنچری پلانٹ ہے۔ ہمارے ہاں یِہ اِلُو وِیرہ کے نام سے مشہور ہے۔ ذیل مِیں اس کا جوس بنانے کا linkhttps://youtu.be/oYFKe0DQfgI لنک ہے کوئ چَاہے تو اسْکا جوس خود بنَا لے۔اسِکے بےشمَار فَائدے ہیں ۔ عُمومی طور پر سب ہی جَانتے ہیں،اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ میری اس معلومات سے عوام الّناس کو فائدہ پہنچے آمِین
 

Disclaimer: All information is provided here only for general health education. Please consult your health physician regarding any treatment of health issues.
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 163 Print Article Print
About the Author: Syed Haseen Abbas Madani

Read More Articles by Syed Haseen Abbas Madani: 37 Articles with 12311 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: