’’سفیرِ کشمیر‘‘ تو نے حق ادا کردیا

(Murad Ali Shahid, Doha)

اقوام متحدہ کے 74ویں اجلاس میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کے خطاب پر پوری دنیا نظریں جمائیں بیٹھی تھی کہ خطاب میں ایسا کیا نیا کہا جائے گا کہ جس سے پاکستان اور کشمیر کے موقف کو اس سے بہتر اور مدلل انداز میں پیش کیا جائے گا جو اس سے قبل نہیں ہوا۔74ویں اجلاس کی تاریخ جب لکھی جائے گی تو میرا ایمان ہے کہ مورخ لکھے گا کہ ایک ایسا حکمران اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر لب کشائی کرنے آیا ،جس نے اپنا مافی الضمیر دنیا کے سامنے ایسا رکھا کہ اقوام کے عالمی ضمیر کو ہی جنجھوڑ کے رکھ دیا۔دنیا کے 191ممالک کے 1300ٹی وی چینلز کے سامنے متکبر مودی کے عزائم کو خاک میں ملا کر ،اس کے سفاک چہرے کو بے نقاب کردیا،اسلامی ممالک کے خاموش حکمرانوں میں انسانیت کی بیداری کے لئے ان چہروں پر خاموش تھپڑ رسید کیا،اسلام کا وہ فلسفہ زندگی اور ان پہلوؤں کو اجاگر کیا جن کی شروعات ریاست مدینہ میں ہوئی تھی،ہندوستان کی منافقانہ،متنفرانہ اور سفاکانہ پالیسیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے کشمیری عوام کے ساتھ مودی کے ظلم کی داستان کو دنیا کے سامنے ایسا پیش کیا کہ ایک سچا اور ایماندار داستان گو ہونے کا حق ادا کردیا۔تاریخ یہ بھی لکھے گی کہ اس نے مسئلہ کشمیرکو صرف نعروں اور الفاظ کے گورھ دھندوں مین الجھا کے نہیں رکھ دیا کہ کل کو سابق اجلاسوں کی طرح یہ بھی ماضی کے مزار بن جائیں اور کشمیری ان پر نوحہ کناں ہوں ،بلکہ سفیر کشمیر ہونے کا ایسا حق ادا کیا کہ کیا اپنے کیا مخالف سب وزیر اعظم عمران کو سرخ سلیوٹ پیش کر رہے ہیں۔

اگر دیکھا جائے تو انہوں نے صرف چار نکات اقوام عالم کے سامنے رکھے ہیں،کوئی باون منٹ انہوں نے تقریر کی اور ان میں پچیس منٹ صرف مسئلہ کشمیر ،کشمیری عوام پر ہونے والے ظلم کی داستان،مودی اور آر ایس ایس کے عزائم ،کرفیومیں ہونے والے انسانیت سوز سلوک اور کشمیری حق خود ارادیت کو بیان کیا ہے۔یہ وہ پچیس منٹ ہیں جس نے پوری دنیا خاص کر مسلمانوں اور کشمیریوں کے دل جیت لئے۔وزیر اعظم نے اپنے پہلے موقف میں دنیا میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کا ذکر تے ہوئے کہا کہ بہت سے راہنماؤں نے اس سلسلہ میں اپنے اپنے خطاب میں اپنا اپنا موقف بیان کیا تاہم ان میں سنجیدگی کی کمی ہے،ہمارے پاس آئیڈیاز ہیں مگر فنڈنگ کی کمی ہے۔اور فنڈ کے بغیر نظریات، نظر کا دھوکہ ہوتے ہیں۔میرا ملک ایک زرعی ملک ہے جس میں دریا بہتے ہیں اور یہ دریا گلیشئر سے بنتے ہیں۔موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے 80 فیصد پانی پگھل رہا ہے۔اور یہ بہت تیزی سے ہو رہا ہے اگر انہیں بچایا نہ گیا تو گلیشئرز کا پگھلنا انسانیت کے لئے خطرہ کا باعث ہو سکتا ہے۔دوسری اہم بات جو وزیر اعظم نے کی وہ منی لانڈرنگ کے بارے میں تھی کہ غریب ممالک کے امیر حکمران اپنا پیسہ آف شور کمپنیوں مین لگا دیتے ہیں،اپنا ملک سے بیرون ملک پیسہ منتقل کرنے سے غربت وافلاس میں اضافہ ہوتا ہے،اربوں ڈالر غریب ملکوں سے امیر ممالک میں جانے سے بہت سے معاشی مسائل جنم لیتے ہیں،میں سمجھتا ہوں کہ اقوام متحدہ کو اس سلسلہ میں اہم اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔اسلامو فوبیا کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت 1.3بلین مسلمان آباد ہیں۔نائن الیون کے بعد کچھ حکمرانوں نے اسلام کو بطور بنیاد پرست مذہب کے اس طرح پیش کیا کہ دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کردیا،مغربی راہنماؤں نے اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑاجس سے پوری دنیا مین مسلمانوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا۔حجاب پہننا کوئی ہتھیار نہیں،اسے بھی ایک مسئلہ بنا دیا گیا،اسلامو فوبیا سے تقسیم بڑھ رہی ہے یہ دنیا کے لئے الارمنگ ہے اور جس رفتار سے اس مین اضافہ ہو رہا ہے یہ ایک تشوشناک بات ہے۔مغرب اپنے مذہب پر ایسے عمل نہیں کرتا جیسے کہ ہم کرتے ہیں۔اسلام عدم برداشت کا نہیں بلکہ امن کا مذہب ہے،دنیا میں کوئی بھی مذہب بنیاد پرستی یا دہشت گردی نہیں سکھاتا۔اس کے علاوہ وزیر اعظم نے ریاست مدینہ کی جو خصوصیات پیش کیں شائد ہی اس پلیٹ فارم پر کبھی کسی نے پیش کی ہوں۔

سب سے زیادہ جس مسئلہ کو وزیراعظم نے اقوام عالم کے سامنے پیش کیا وہ انڈیا کے ساتھ تعلقات اور مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے بارے میں تھا کہ ہم انڈیا کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا چاہتے تھے مگر مودی کی سمجھ میں یہ بات نہ آسکی کہ ہم ایسا کیوں چاہتے تھے۔انہوں نے کہا کہ مودی دراصل،آر ایس ایس کا تاحیات ممبر ہے،اسی لئے اسے بھی خاکی کلر کے کپڑے پہننا پسند ہیں جو ہٹلر پہنا کرتا تھا۔ہندو اصل میں نسلی تعصب کو ہوا دے رہے ہیں اس لئے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں اور عیسائیوں نے چونکہ ان پر حکومت کی ہے،یہ سب نفرت کے پھیلاؤ کا باعث بن رہا ہے،اسی hate ideology نے 1948 میں گاندھی کی بھی جان لی تھی۔اسی پالیسی کے تحت گجرات میں مودی نے مسلمانوں کا قتل عام کیا۔اس سارے پس منظر کا مقصد یہ تھا کہ اقوام عالم کو بتایا جا سکے کہ کشمیرمیں انڈیا کیوں اسی لاکھ مسلمانوں پر نو لاکھ فوج تعینات کر کے،کرفیو نافذ کر کے کشمیریوں کو گھروں میں مقید کیا ہوا ہے۔بچے،بوڑھے،خواتین اور کشمیری نوجوان جانوروں کی طرح قید کئے ہوئے ہے،میں کہتا ہوں کہ اگر 80 لاکھ جانور یورپ میں حراست میں رکھے جاتے تو عوام سڑکوں پر شور مچا رہی ہوتی۔کشمیریوں کو ان کے حق خود ارادیت سے کوئی نہیں روک سکتا۔آپ غور کریں کہ جب کرفیوں ختم ہوگا اور کشمیری اپنے گھروں سے باہر نکلیں گے تو کیا کشمیر میں خون کی ہولی نہیں کھیلی جائے گی،اٹھارہ لاکھ انڈین مسلمان کیا سوچیں گے،دنیا کے 1.3بلین مسلمانوں کے جذبات کیا ہوں گے،دیٹھ وش مووی کی طرح کچھ اسلحہ بھی اٹھا لیں گے۔لہذا میں اقوام متحدہ سے التجا کرتا ہوں کہ وہ اپنے مبصر وہاں بھیجیں اورحالات کا جائزہ لیں۔

ہم دونوں ایٹمی اسلحہ کے حامل ملک ہیں،اگر باقاعدہ جنگ ہوتی ہے تو اقوام متحدہ اس کا ذمہ دار ہے کیونکہ 1945 میں اقوام متحدہ اسی لئے بنائی گئی تھی،میرا ملک اگرچہ چھوٹا ہے تاہم اگر جنگ ہوتی ہے تو میرے پاس کیا چوائس ہوگی،ہتھیار ڈال دونگا یا خون کے آخری قطرہ تک جنگ لڑوں گا،لا الہ الااﷲ میں لڑوں گا،اور جب دو ایٹمی ممالک کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو پھر دوں ملک ہی متاثر نہیں ہوتیبلکہ پوراخطہ اس کی لپیٹ میں آجائے گا۔اگر ایسا ہوتا ہے تو اقوام متحدہ اس کا ذمہ دار ہوگا،ان کا یہ بھی فرض ہے کہ کشمیریوں کو ان کا حق،حق خودارادیت دیتے ہوئے انڈیا کی طرف سے نافذ کردہ کرفیوکو ختم بھی کرائے۔اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے کہ وزیر عمران خان نے جو کشمیری بھائیوں سے وعدہ کیا تھا کہ میں کشمیر کی آواز بن کر مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سامنے پیش کروں گا۔یقینا انہوں نے ایسا کردکھایا۔خدا انہیں اپنے مقاصد میں کامیاب وکامران کرے اور مسئلہ کشمیر عمران خان کے ہاتھوں حل ہونے کا باعث بھی بنے۔آمین
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 89 Print Article Print
About the Author: Murad Ali Shahid

Read More Articles by Murad Ali Shahid: 43 Articles with 8504 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: