وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے تاریخی خطاب

(Muhammad Usama Nadeem, )

گزشتہ گزشتہ57 دنوں سے جاری کشمیر کے لوگوں پر ظلم کا سلسلہ روکنے نہیں پا رہا گزشتہ57 دنوں سے کشمیر میں لوک ٹاؤن جاری ہے 90 لاکھ فوجی اور آر ایس ایس کے غنڈے کشمیر میں ظلم و بربریت کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں.

کشمیر میں جاری ظلم و ستم کی کسی طرح روک تھام کیلئے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے عملی اقدام اٹھایا اور کہا میں کشمیر کا نمائندہ بنوں گا کشمیر کا سفیر بنوں گا کشمیری حالات دنیا کے سامنے لے کر آؤں گا-

جس کے لئے لائحہ عمل یہ تیار کیا گیا کہ وہ چودہ اگست کو آزادی . پاکستان کے موقع پر کشمیر سے اظہار یکجہتی کیا جائے گا اسی طرح 6ستمبر تک ہر جمعے کے روز ملک کے مختلف شہروں میں یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں ریلی نکالی جائے گی اس کے بعد 6ستمبرکو یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں پروگرام منعقد کیا گیا اس کے بعد عمران خان صاحب سعودی عرب کا دورہ کریں گے بھارت کا چہرہ سعودی عرب کو دکھایا جائے گا اس کے بعد امریکہ کا دورہ کریں گے اور سب سے اہم امریکہ میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے. .

اس پر بہت ہی کامیابی سے عمل کیا گیا اور امریکہ پہنچ کر عمران خان صاحب نے تقریبا 70 ملاقاتیں کی . شاہ محمود قریشی کے ہمراہ اپریس کانفرنس کی اس کے بعد عمران خان صاحب نے طیب اردوان اور ڈاکٹر مہاتیر محمد کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کی.

اس کے بعد عمران خان صاحب نے 27 ستمبر کو پاکستانی وقت کے مطابق 8:00 بجے نیویارک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے تاریخی خطاب کیا جس نے عالمی دنیا کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا دے .

عمران خان کا خطاب چار موضوعات پر مشتمل تھا جس میں سب سے اہم کشمیر کا موضوع تھا انہوں نے 40 منٹ کی گفتگو کی سب سے پہلے انہوں نے موسمیاتی تبدیلی پر تقریبا چار منٹ بات کی اس کے بعد بعد انہوں نے اسلام فوبیا پر بات کری .

اسلام فوبیا پر ان کا کہنا تھا کہ عالمی دنیا نے دہشتگردی کو اسلام کے ساتھ جوڑ دیا اور یہ سلسلہ نائن الیون کے بعد شروع ہوا

انہوں نے کہا جب نے امریکہ کے کہنے پر پاکستان کی طرف سے مسلمان سوویت یونین کے خلاف لڑے تو اسے جہاد کا نام دیا گیا لیکن جب یہی مسلمان خود امریکہ کے خلاف لڑے تو اسے دہشت گردی قرار دے دیا گیا

انہوں نے کہا کہ مغرب میں عورت کے مختصر کپڑے پہننے پر تو پابندی نہیں لیکن حجاب لینے پر پابندی ہے اور وہاں کی عورت حجاب کرنے پر توہین کی جاتی ہے .

اس کے بعد انہوں نے عقیدہ ختم نبوت پر بات کی انہوں نے کہا کہ مسلمان دین اسلام کے پیروکار ہیں وہ دین اسلام جو پیارے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم لیکر آئے انہوں نے کہا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پہلی فلاحی ریاست کا قیام عمل میں لائے انہوں نے ٹیکس کا نظام قائم کیا جس پر آج پوری دنیا عمل کرتی ہے

انہوں نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات دہرائی کے سب انسان برابر ہے کسی ک گورے کو کالے پر, کسی کالے کو گورے پر, کسی عجمی کو عربی پر, کسی عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت نہیں اسلام میں سب انسان برابر ہیں

ان کا مزید کہنا تھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے دلوں میں رہتے ہیں جب کوئی بدبخت ان کی گستاخی کرتا ہے تو ہمارے دل کو تکلیف پہنچتی ہے دل آزاری ہوتی ہے دل جسم کا سب سے اہم عضو ہے اور جب یہ تکلیف میں ہوتا ہے تو پورا جسم تکلیف میں مبتلا ہوجاتا ہے

انہوں نے کہا کہ مغرب کو سمجھنا چاہیے کہ محمد مصطفیصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسلمانوں کے لئے کیا اہمیت ہے

اس کے بعد انہوں نے پورے خطاب میں سب سے لمبی گفتگو کشمیر کے موضوع پر کریں جس میں انہوں نے سب سے پہلے پاک بھارت تعلقات اور مودی کے کردار پر روشنی ڈالیں سب سے پہلے انہوں نے کہا کہ مودی آر ایس ایس کا تاحیات رکن ہے اور آر ایس ایس مسلمانوں اور تمام اقلیتوں کے لئے نفرت رکھتی ہے ہٹلر سےبے تحاشا متاثر ہے

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے حکومت میں آنے کے بعد بھارت سے دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی جس کے جواب میں پلوامہ کا واقعہ ہوا 27 فروری کو بھارت نے پاکستان پر حملہ کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں اسے اپنے2 لڑاکا طیارہ کو گنوانا پڑا پاکستان نے بھارت کا ناتجربہ کار پائلٹ زخمی حالت میں گرفتار کیا لیکن تندرست توانا کرکے واپسی بھارت کو لوٹا دیا صرف امن کی خاطر.

اس کے بعد انہوں نے کلبھوشن یادیو کا ذکر کیا جو بھارت کا جاسوس تھا جس نے بلوچستان میں تباہی پھیلائی اوراور اس نے ان تمام مجرمانہ کاروائیوں کا اعتراف بھی کیا عمران خان نے بھارت کا سفاکانہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا .

اس کے علاوہ انہوں نے دنیا کو خبردار کیا کہ جنگ بھی ہوسکتی ہے جس کی ذمہ دار خود بھارت حکومت ہوگی انہوں نے کہا کہ جب لوگوں پر ظلم وستم کی انتہا ہو جاتی ہے اور انصاف کی فراہمی سے نا امید ہو جائیں تو خود اسلحہ اٹھا لیا کرتے ہیں .

ان کا کہنا تھا کہ اگر 80 لاکھ کشمیریوں کی جگہ 8 یہودیوں پر ظلم ڈھایا جاتا تو عالمی تنظیم چیخ پڑتی انہوں نے سوال کیا, کیا کشمیریوں کو مسلمان ہونے کی سزا مل رہی ہے .

ہے آخر میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بھارت سے 7 گنا چھوٹا ملک ہے لیکن اگر کوئی مشکل وقت آتا ہے تو پاکستان کی تمام عوام کلمہ طیبہ جہاد کے جذبے کے تحت اپنے خون کی آخری بوند تک اپنی بقا کی جنگ لڑے گا-

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 336 Print Article Print
About the Author: Muhammad Usama Nadeem

Read More Articles by Muhammad Usama Nadeem: 10 Articles with 6127 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: