آزادی مارچ کا خرچ اور فضل الرحمان کے اثاثے

(Ali Jan, Lahore)

 دیکھنے کوملتاہے کہ وہ لوگ بھی آزادی مارچ کے خلاف پوسٹیں کررہے ہیں جوخودخان کے دھرنے کاحصہ رہے ہیں میراان سے سوال ہے کیاخان کادھرنا ملک کے مفاد میں تھا ؟میں اس دھرنے کی مثال دیتاہوں توخان کے دھرنے کاحساب خود کرلینا۔ مولانا کے مطابق اگر10لاکھ لوگ آتے ہیں تواس کیلئے بسوں کاکرایہ،کھانا،ساؤنڈ،لائٹیں ،ٹوائلٹس،گیس سلنڈر،طہارت کیلئے پانی کی ضرورت پڑے گی اگرٹرانسپورٹ کی بات کریں توایک بس میں 50لوگوں کے حساب سے دیکھیں تو20,000بسیں کام آئیں گی ایک سستی بس کاایک دن کاکرایہ 10,ہزاربھی ہوتوایک دن کا2لاکھ روپے بنے گااورایک ماہ کا200000x3060لاکھ روپے بنے گااگرکھانے کی بات کریں توایک دیگ 40لوگ کھاتے ہیں یعنی کہ 25000دیگیں ایک وقت میں اور3وقت کے کھانے کے حساب سے 75000دیگیں کم سے کم ایک دیگ کاخرچ3000ہے اورایک دن کاٹوٹل خرچ 75000x3000ٹوٹل 225000000(22کروڑ 50لاکھ) ہوگا مثال کے طوپریہ لوگ 30دن بھی اسلام آباد دھرنادیتے ہیں تو6ارب75کروڑ روپیہ لازمی خرچ ہوگااب جب میں نے یہ حساب لگایاتومیں خودحیران ہوایہ توصرف کھانے کے پیسے ہیں باقی کئی اخراجات ہوتے ہوں گے اتنے پیسے کہاں سے آتے ہیں اگرکوئی باہرکاملک سپورٹ کرتاہے توسب سیاستدان وطن کے غدارہیں اوراگرکوئی سپورٹ نہیں کرتاتویقیناً میرے ملک کاخزانہ خالی ہورہاہے۔اگرفضل الرحمان کے اثاثوں کی بات کی جائے توبنک بیلنس 20لاکھ،950لاکھ کی جیولری،15لاکھ مالیت کاپلاٹ،شورکوٹ میں 7لاکھ مالیت کاپلاٹ اس حساب سے ٹوٹل رقم91لاکھ روپے بنتی ہے مگر آزادی مارچ کا ایک دن کاخرچ کروڑوں میں آتاہے اب سوالیہ پیداہوتاہے کہ 91لاکھ میں 10لاکھ لوگوں کی ٹرانسپورٹ کہاں سے آئی گی ،کھانے کے اخراجات لائٹیں،ساؤنڈ،ے ایک مہینے کااربوں روپے خرچ ہوگاتوسوال یہ پیداہوتاہے کہ اتنافنڈسرمایہ کاری کون کررہاہے اب یہ بات سمجھنے میں دیرنہیں لگتی کہ دھرناکوئی بھی دے تووہ ملک دشمن ہی ہوگاپہلے بھی ہمارے ملک کے مخالف کم ہیں کہ اب اپنے ہی لوگ ملک کونقصان پہنچانے پے تلے ہیں میں صرف اس دھرنے کے مخالف نہیں میرے ملک میں ڈاکٹرز،وکلاء تاجرکوئی بھی دھرنادے جومیرے ملک کے نقصان میں ہومیں اس کے خلاف ہوں چاہے وہ ن لیگ ہوپی ٹی آئی ہویاکوئی بھی جماعت ہو۔پاکستان پہ پہلے ہی دہشت گردملک کی چھاپ کم تھی کہ اب فضل الرحمان نے پشاورمیں باوردی ڈنڈافورس تیارکی اورانہوں نے فضل الرحمان کوسلامی بھی پیش کی جوسوچنے کی بات کہ نہ تواس کے پاس کوئی وزارت ہے نہ وہ ملکی بقاء کیلئے دھرنادینے جارہاہے پھربھی سلامیاں دی جارہیں اورمجھے یادپڑتاہے جمعت کے مطابق صرف 12000سیکورٹی اہلکارہوں گے مگرڈنڈے لاکھ سے اوپربنوائے گئے ہیں اس کامطلب تویہی ہے کہ فضل الرحمان سوچ رہاہے کہ ہم جیسے آئیں گے 5منٹ میں حکومت کوبہاکے لے جائیں گے کوئی بھی لیڈرہو وہ خود توکنٹنرمیں چھپے ہوتے ہیں اگرشیلنگ یالاٹھی چارج ہوتاہے اس بے وقوف عوام ہی مرتی ہے آخرمیں اتناکہناچاہوں گاکہ آزادی مارچ کامیاب ہویانہ ہو عوام عمران حکومت سے مہنگائی کی وجہ سے فضل الرحمان کے دھرنے کوسراہاضروررہی ہے اگرمہنگائی ،بے روزگاری ،ڈاکٹرز گردی،آئے روز بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ،پیٹرولیم مصنوعات کی ناجائز قیمتیں بڑھانا،گیس کی قیمت کوپرلگناکم نہ ہوئے توعوام ہی حکومت گرادے گی اورکامیابی کاسہرافضل الرحمان کوجائے گا۔پی ٹی آئی کے دورمیں ناچ گاناہوتاتھااس دھرنے میں یقیناً ایساکچھ نہیں ہوگامگرصرف مولویوں کادھرناہوتاتولیکن اب توشہباز شریف نے بھی دھرنے میں شرکت کااعلان کردیا ہے اورتقریباً ساری اپوزیشن ساتھ ہوگی تو یقیناًاب بی وہی آلودہ ماحول ہوگاکیونکہ آج بھی مخالف پارٹیاں پی ٹی آئی دھرنے کی تصاویرسینڈکررہے ہیں جس میں لڑکے لڑکیوں کی بے غیرتی دیکھنے کوملتی ہے اب ہزاروں لوگ شریک ہوں گے تو کون کس پرپہرہ دے گالوگوں کے تبصرے کے مطابق عمران خان کے دھرنے میں عورتوں کی وجہ سے دھرنا126دن چل سکاتھااب دیکھنایہ ہے کہ فضلو کادھرناکتنی دن چلے گا۔ الیکشن ہوتے ہی لوگ تبصرے جھاڑنا شروع کردیتے ہیں کہ یہ حکومت 6ماہ سے سال کے اندر ختم ہوجائے گی 2014کے الیکشن میں بھی ایسی باتیں ہوتی رہیں کہ ابھی حکومت سماپت ہوئی اور اسمبلیاں ٹوٹ جائیں گی یہ ہوگا وہ ہوگا،لوگوں کودوبارہ الیکشن کیلئے اکساء کراپنامفادپوراکرنے والے عوام کویہ تونہیں بتاتے کہ باربار الیکشن سے ملک کا اربوں کا نقصان ہوتا ہے پہلے بھی ہمارا ملک قرضے کی دلدل میں پھنسا ہو۔عمران خان نے 126دن کادھرنادیاتھاجو17دسمبر2014کوبناکسی رزلٹ کے ڈی چوک سے ختم کیاگیاتھامگراس کارزلٹ الیکشن 2018میں واضع نظرآیاپی ٹی آئی کے دھرنے میں فضل الرحمان نے نوازشریف کومشورہ دیاتھا کہ پی ٹی آئی دھرنے میں آنسوگیس کی شیلنگ اورلاٹھی چارج کرو۔ا ۔الیکشن 2013میں ہارنے والوں میں فضل الرحمان،سراج الحق ،دوسابق وزراٗ اعظم یوسف رضا گیلانی ،شاہد خاقان عباسی سمیت کئی سابق وفاقی وزرا شامل تھے سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کو دوحلقوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑ ۔ فضل الرحمان کبھی اس کے ساتھ تو کبھی اس کے ساتھ اسی مفاد پرستی کی وجہ سے بری طرح ناکام ہوئے اوردونوں سیٹوں سے ہاتھ دھوبیٹھے تھے ااس کے علاوہ،پیرصدرالدین،محموداچکزائی،مصطفٰی کمال،اسفندیارولی ،فاروق ستار،کائرہ،امیرمقام،بلیغ الرحمان،چوہدری نثارعبدالقیوم خان جتوئی،مصطفیٰ کھر،سلطان ہنجرا،طارق گرمانی،معظم جتوئی ،ر جمشیداحمددستی6جگہ سے الیکشن میں حصہ لیااورعوام نے ڈرامے باز کوبھی پسندنہ کیاشاید اسی لیے دھرنے میں شرکت کی دعوت قبول کی تاکہ عوام سے بدلہ لے سکے اس کے علاوہ اوربھی کئی سابق وزراٗ کو ہارکامزہ چکھناپڑاتھا۔عوام کواس بات کوسمجھناچاہیے کہ پہلے کے دھرنوں کانقصان،شب وروز حملے،گالم گلوچ،نافرمانی پراکسانے والی باتیں آج بھی لوگ نہیں بھولے فضل الرحمان پرلوگ ملک دشمن کی باتیں کررہے ہیں کیونکہ انڈیاپاکستان کوگرے لسٹ سے نکالنے کے سارے ہتھکنڈے اپنائے گا فروری2020تک اگرپاکستان نے دہشت گردی پرقابوپالیاٹھیک ورنہ پاکستان کوبلیک لسٹ کردیاجائے گااس حوالے سے دیکھاجائے توفضل الرحمان پاکستان کے دشمنوں کے ہاتھ میں کھیل رہاہے ۔پاکستان کاگرے لسٹ میں رہناکسی کامیابی سے کم نہیں بھارت کی گھناؤنی چالیں پاکستان کے خلاف چل رہاہے اس لیے پاکستانی بقاء کیلئے ہرپاکستانی کوچاہیے اپنے ملک کی حفاظت کرے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 384 Print Article Print
About the Author: Ali Jan

Read More Articles by Ali Jan: 145 Articles with 29964 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: