آزادی مارچ اور نظریاتی کشمکش

(Umer Farooq, )

آزادی مارچ شروع ہواتوایک نجی چینل پرسابق آرمی چیف جنرل (ر) مرزااسلم بیگ کاانٹرویونشرشائع ہواجس میں انہوں نے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ آزادی کارواں کے دوررس نتائج ہوں گئے ،ہمارے قوم میں ایسے عناصرپیداہوگئے ہیں جودین سے دورہوگئے ہیں ان کی سوچ لبرل ہوگئی اوروہ سیکولرہوگئے ہیں یہ خطرناک صورتحال پیداہوگئی ہے یہی وہ آج نظریاتی ٹکراؤ ہے جو مولانافضل الرحمن اوراس حکومت کے درمیان ہے، یہ اس کے خلاف نکلے ہیں یہ اس خرابی کودورکرنے کے لیے کھڑے ہوئے ہیں تمھاراآئین تویہ کہتاہے کہ تمھارے نظریات تویہ ہیں تم یہ چاہتے ہوکہ دین کوسیاست سے الگ کردیاجائے۔یہ نہیں ہوسکتا۔اگرہے توپھرآئین کوبدلواپنانظریہ بدلواپنامقصدحیات بدلو۔یہ صورتحال اس نہج کوپہنچ گئی ہے کہ ملک کے اندرایک واضح تفریق نظرآتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں کاوہ طبقہ اس مارچ میں شامل ہورہاہے جوابھی گمراہ نہیں ہواہے انہیں اﷲ اوررسول کاخوف ہے اگران کوروکاگیا یاان کے خلاف طاقت استعمال کی گئی توبڑاخطرناک ٹکراؤہوگا ۔1950میں انڈونیشیاء میں اس طرح کی صورتحال پیداہوئی تھی سوشلزم اورکمیونزم کاپرچارتھا بھٹوصاحب بھی اسلامی سوشلزم کی بات کرتے تھے، وہاں یہ ٹکراؤ ہواخانہ جنگی ہوئی اورپندرہ سولہ لاکھ لوگ مارے گئے ہماراملک ایسے ٹکراؤکامتحمل نہیں ہے ۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اس کامطلب مطلب ہواکہ یہ مارچ اوراحتجاج حکومت اورجمہوریت کے لیے نہیں ہے بلکہ اب نظریہ پاکستان پرعمل درآمدکاوقت آگیاہے تو اس کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ہمارے حکمران آئین پرحلف اٹھاتے ہیں آئین میں بنیادی چیزقرآن وسنت ہے مگرو ہ قرآن وسنت کوبھول کرسیاست میں الجھ جاتے ہیں ۔مرزااسلم بیگ نے یہ باتیں ااس بناء پرنہیں کہیں کہ وہ مولاناکے حامی ہیں بلکہ وہ اپنے پیشہ وارانہ زندگی کے تجربے اورنچوڑکی بناء پراپناتجزیہ پیش کررہے ہیں ظاہرہے کہ وہ اس ملک سے مخلص ہیں اوروہ جانتے ہیں کہ ملک کس طرف گامزن ہے اوراس ملک کوکیسے بچایاجاسکتاہے ۔
ملک میں اس وقت نظریاتی کشمکش کے ساتھ ساتھ عالمی یلغارکابھی سامناہے موجودہ حکومت دونوں محاذوں پرسرگرم ہے ،اس وقت آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کوئی بھی شخص جوآزادی مارچ کی مخالفت اورحکومت کی حمایت کررہاہے تووہ حکومت کے کارناموں کی بناء پران کے ساتھ نہیں کھڑاہے بلکہ اس کی پی ٹی آئی کے ساتھ نظریاتی وابستگی ہے اورپی ٹی آئی کانظریہ کیاہے؟اس کااظہار2014کے دھرنے میں وہ کرچکے ہیں یااس جماعت کاجوکلچرہے اسے دیکھاجاسکتاہے ۔جہاں تک ریاست مدینہ کی بات ہے تومولاناطارق جمیل یاچندعلماء کی حمایت سے یہ نظریاتی خلیج دورنہیں ہوسکتی اورنہ ہی کسی کی حمایت سے ریاست مدینہ بن سکتی ہے ، سب کو معلوم ہے کہ حکمران ریاست مدینہ کے نعرے میں مخلص نہیں ہیں ریاست مدینہ کے نعرے پروہ سیاست کررہے ہیں ،جبکہ حکومت نے بھی تیرہ ماہ میں ریاست مدینہ اورعوامی ایجنڈے کی بجائے عالمی ایجنڈے کی تکمیل میں تیزی دکھائی ہے ۔ریاست مدینہ کی طرف توایک قدم بھی نہیں بڑھایا۔

ریاست مدینہ کے قیام کے لیے سب سے بڑی ذمے داری وفاقی وزیرمذہبی امورپرعائدہوتی تھی مگرانہوں نے کمال مہارت سے یہ ذمے داری اپنے کندھے سے اتارکراسلامی نظریاتی کونسل کی ٹوکری میں ڈال دی موجودہ اسلامی نظریاتی کونسل میں بھی لبرل اوراین جی اوزکاغلبہ ہے ظاہرہے کہ وہ کیسے آگے بڑھ سکتی ہے ،اگراسلامی نظریاتی کونسل اس حوالے سے تجاویزدے بھی دے تو ان تجاویزپرکتناعمل درآمدہوگا یہ وقت ہی بتائے گا البتہ حکومت اگرریاست مدینہ بنانے میں واقعی مخلص ہے تویہاں سود اورشراب کی پابندی پرکسی کااختلاف نہیں اس کے لیے کسی بجٹ کسی تجویز کی ضرورت نہیں وزیراعظم اس طرف قدم کیوں نہیں بڑھارہے ؟ظاہرہے کہ یہ عالمی ایجنڈے اورہماری حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے ۔
یہاں یہ سوال پیداہوتاہے کہ آخرکیاوجہ ہے کہ موجودہ حکومت کے برسراقتدارآنے کے بعد عالمی قوتوں کی حرکت تیزترہوگئی ہے افغانستان کوہی دیکھ لیں کہ جس امریکہ کوایک آدھ سال میں ذلت آمیزشکست ہوناتھی اس کوآبرومندانہ طریقے سے نکالنے کے لیے مذاکرات کروائے جارہے ہیں ہم نے اپنااثرورسوخ ناجائزطورپراستعمال کرتے ہوئے افغان طالبان کومذاکرات کے لیے مجبورکیا ۔مگرقوم کوہم نے یہ بتایاکہ یہ ہماری کامیابی ہے قوم پوچھتی ہے کہ کون سی اورکس قسم کی کامیابی ہے ؟

اس کے ساتھ ساتھ موجودہ حکومت کے برسراقتدارآنے کے بعد بھارت نے جارحانہ اقدامات شروع کیے ہوئے ہیں ظاہرہے کہ اسے عالمی برداری کی حمایت حاصل ہے ہم نے ایف اے ٹی ایف کی ایماء پرکاروائی کرتے ہوئے کشمیرکے جہادکاگلادبایاتوبھارت مزیدشیرہوگیا پہلے اس نے ہم پربم برسائے پھراس نے پانچ اگست کوکشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کرکے تقسیم کشمیرکے فارمولے پرعمل کردیا ہمارے وزیراعظم نے مظفرآبادمیں کھڑے ہوکرکہاکہ آپ صبرکریں میں اقوام متحدہ سے واپس آکربتاؤں گا کہ کنٹرول لائن کب عبورکرنی ہے ؟اقوام متحدہ میں تقریرہوگئی وہ تقریرکشمیریوں کے زخموں پراب تک مرہم کے طورپراستعمال کی جارہی ہے بھارت نے ہمارایہ معذرت خواہانہ رویہ دیکھتے ہوئے 31اکتوبرلداخ وجموں کی انتظامی حیثیت ختم کرکے ان علاقوں کو انڈیاکاحصہ بنادیااوراب کی بارہم ایک تقریربھی نہ کرسکے ۔
پی ٹی آئی کی حکومت گزشتہ تین سالوں میں بی آرٹی منصوبہ تومکمل نہ کرسکی مگرسکھوں کے لیے کرتارپورہ راہداری کھولنے میں ایک سال بھی نہیں لگایا اوراپنی تمام ترتوانائیاں اس پرصرف کردیں حتی کہ وزارت مذہبی امورنے بھی اس نیک کام میں اپناحصہ ڈالناضروری سمجھاحالانکہ وزارت مذہبی امورسے وابستہ مسلمانوں کے بے شمارمسائل ہیں مگران کی طرف کوئی توجہ نہیں حتی کہ رویت ہلال جیسا مسئلہ ان کے دورمیں ایک مذاق بن کررہے گیا البتہ کرتاپورہ میں وزارت مذہبی امورنے اپناحصہ ڈالااورپہلی مرتبہ وزارت مذہبی امورکے لیے ترقیاتی بجٹ مختص کیاگیا اورہ بجٹ کرتارپورہ کے لیے تھا سوال یہ ہے کہ کرتارپورہ راہداری کھلنے سے ایسافوری کیافائدہ تھا جوپاکستان کوحاصل ہواہے یاہوگا ؟

دوسری طرف نریندرمودی نے کرتارپورہ راہداری کھولنے کے ہدیہ پرہمارے وزیراعظم کاشکریہ اداکرتے ہوئے ایک جوابی تحفہ بھی دیا اورسپریم کورٹ کے ذریعے بابری مسجدکی جگہ رام مندرتعمیرکافیصلہ کروادیا اورہم کچھ بھی نہیں کرسکے ،ظاہرہے کہ عالمی قوتیں دونوں طرف سرگرم ہیں وہ تیزی سے اپنے ایجنڈے کی تکمیل میں مصروف ہیں ہم روبوٹ کی طرح یہ کام کرتے جارہے ہیں خطے میں تیزی سے تبدیلیاں رونماہورہی ہیں مگران تبدیلیوں میں ہم صرف استعمال ہورہے ہیں فائدہ کوئی اوراٹھارہاہے ۔
ملک کے اندرحالت یہ ہے کہ ڈنڈے کے زورپرمدارس میں اصلاحات پرزوردیاجارہاہے جوکہ بیرونی ایجنڈہ ہے ،اس کے لیے مختلف این جی اوز پہلے ہی کام کرکے زمین ہموارکرچکی ہیں ،مدارس کے مسائل دیگرہیں مگرانہیں کسی اورکام میں الجھایاجارہاہے، توہین رسالت کے قانون کوآہستہ آہستہ غیرمؤثرکیاجارہاہے گزشتہ ایک سال میں توہین رسالت کے مرتکب تین ملزمان کوعدالتوں سے بری کرواکرملک سے باہربھیج دیاگیا ہے اورآسیہ مسیح کی رہائی پرتوباقاعدہ فخربھی کیاگیا ،میاں عاطف کی تقرری اوراس کی برطرفی کے بعد سے قادیانیوں کی عبادت گاؤں کی تعمیرکے اجازت نامے دیے جارہے ہیں ۔حکومت کے وزاراء بیرون ملک قادیانیوں کے پروگراموں میں شرکت کررہے ہیں چندماہ قبل برطانیہ میں ہونے والے ایک کنسرٹ میں حکومتی وزیراورمشیرنے شرکت کی جس کااہتمام قادیانی نے کیاتھا ۔
ان حالات میں مولانافضل الرحمن کاآزادی مارچ ہونالازمی تھا تمام تردباؤکے باوجود انہیں تمام علماء اورمدارس کی حمایت حاصل ہے اس کی واضح مثال گزشتہ روزآزادی مارچ میں ہونے والی عظیم الشان سیرت النبی کانفرنس تھی جس میں بلامبالغہ لاکھوں کی تعدادمیں عوام نے شرکت کی کانفرنس میں ملک کے جیدعلماء کرام ،مشائخ عظام نے شرکت کرکے حکومت کی پالیسیوں کومستردکیا آزادی مارچ سے سیاسی مقاصدحاصل ہوں یانہ ہوں مگریہ بیرونی ایجنڈے میں ضروری رکاوٹ بنے گااس کے ساتھ اس نظریاتی وفکری یلغارکی ضرورروک تھام ہوگی جس کوحکومت لے کرآئی ہے ،اوردنیامیں یہ تاثرختم ہوگاکہ حکومت نے مذہبی قوتوں کودیوارسے لگادیاہے ۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umer Farooq

Read More Articles by Umer Farooq: 104 Articles with 26082 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Nov, 2019 Views: 122

Comments

آپ کی رائے