حدود

(Imtiaz Ali Shakir, Lahore)

 ’’حدود‘‘کئی قسم کی ہوتی ہیں جیساکہ حدوداﷲ،سمندری حدود،فضائی حدود،سرحدی حدود،اخلاقی حدود،سیاسی اورقانونی حدود وغیرہ وغیرہ،حدودمیں سب سے خوبصورت اورلائق عمل حدوداﷲ ہیں،اﷲ تعالیٰ نے انسانی زندگی اورمعاشرے کی فلاح و بہبود کیلئے حد بندیوں کی تربیت اورپابندیاں نافذکی ہیں تاکہ طاقتوراورکمزورطبقات کے حقوق کاتحفظ ممکن ہوجائے اورمعاشرے کاتوازن قائم رہے،انسانی تاریخ کاحقیقی پہلوہے کہ طاقتورحدودکی پابندی نہیں کرتااورکمزورکی کوئی اوقات نہیں رہتی،معاشرے کاتوازن بگڑجائے توطاقتورکوئی واعظ ونصیحت قبول نہیں کرتاجبکہ تمام ترپابندیوں اورناانصافیوں کاسامناکمزورکوکرناپڑتاہے،افرادکی بجائے نظام کوطاقتوربنایاجائے یاطاقتورنظام کواپنایاجائے توطاقتورکوحدودکاپابندکیاجاسکتاہے

رائج الوقت نظام بھی بڑاعجیب ہے ،فوجی،کھلاڑی اوردیگرملازمین ریٹارڈہوجاتے ہیں جبکہ سیاستدان مرنے کے بعدبھی آن ڈیوٹی رہتے ہیں،آئین سازاسمبلی میں بیٹھ کراَن فٹ سیاستدان آئین سازی کی بجائے الزام تراشی کرتے ہیں،آئین سازی کرناکس کاکام ہے؟لگاتارممبراسمبلی بننے والے بھی کہتے ہیں ادارے اپنی حدودمیں رہیں،ٹھیک ہے ادارے اپنی حدود میں ضروررہیں پرقوم کویہ بتایاجائے کہ حدودکون طے کرتاہے؟قانون سازی کرنا فوج کا نہیں سیاستدانوں کاکام ہے،کتنے افسوس کی بات ہے 72 برس میں سیاستدان اپنی ہی جمہوریت کی نوک پلک نہیں سنوار پائے،ملک میں کوئی کام بغیرفوج کی مدد کے ممکن نہیں،بارش ہوجائے توپانی فوج نکالے،کوئی حادثہ پیش آجائے تولوگوں کوریسکیوفوج کرے،زلزلہ،سیلاب یاکوئی اورقدرتی آفت آجائے توفوج کے علاوہ کوئی امدادکونہیں پہنچ پاتاہے،سیاستدانوں کی خرابیوں کے باعث الیکشن کمیشن کوسکیورٹی کے لیے فوج تعینات کرنی پڑتی ہے اورپھرسیاستدان کہتے ہیں کہ الیکشن میں فوج کاکردارنہیں ہوناچاہیے،ٹھیک کہتے ہیں الیکشن میں ووٹرزکے علاوہ کسی کابھی کردارنہیں ہوناچاہیے پرپہلے یہ بتایاجائے کہ الیکشن کے موقع پرفوج کوکس آئین کے تحت تعینات کیاجاتاہے اوروہ آئین کس نے بنایاہے؟الزام تراشی کی بجائے سیاستدان انتخابات میں فوج کا عمل دخل روکنے کیلئے قانون سازی کریں،سیاستدان چوردروازوں سے اقتدارمیں آنے کی بجائے اہلیت کے بل بوتے پرسیاست کریں توآئندہ دھاندلی کارونارونے کی ضرورت پیش آئے گی نہ اداروں پرالزام تراشی کی اورنہ ہی اداروں کاالیکشن میں کوئی کرداررہے گا،ن لیگ اورپیپلزپارٹی ایک طرف کہتی ہے کہ دھرنے کی سیاست اورمذہب کارڈکااستعمال قابل قبول نہیں،بقول بلاول بھٹوزرداری اوربقول میاں شہبازشریف دھرناکسی صورت جائزنہیں توپھرپیپلزپارٹی اورن لیگ کی قیادت اس رہبرکمیٹی کاحصہ کیوں ہے جومولاناکے دھرنے کی بنیادپرحکومت سے مطالبات منوانے کیلئے مذاکرات کرتی ہے؟اکرم درانی کے ساتھ فرحت اﷲ بابراوراحسن اقبال کی موجودگی میں آزادی مارچ کے دھرنے کے ذریعے حکومت پردباوبڑھانے کااعلان اس بات کی دلیل ہے کہ پیپلزپارٹی اورن لیگ ڈبل گیم کھیل رہی ہے،مولانافضل الرحمان نے نہ صرف دھرنادے رکھاہے بلکہ مذہب کارڈکااستعمال بھی کھلے عام کررہے ہیں ایسی صورت میں پیپلزپارٹی اورن لیگ کی جانب سے مولاناکے دھرنے اوررہبرکمیٹی سے علیحدگی کاواضع اعلان نہ کرنااوربدستورمولاناکی حمایت اورمذکراتی کمیٹی میں بیٹھناثابت کرتاہے کہ دھرناصرف مولانافضل الرحمان نے نہیں بلکہ پیپلزپارٹی اورن لیگ نے بھی دے رکھاہے،اپوزیشن جماعتیں دھرناسیاست ترک کرکے آئین سازی پرتوجہ دیں ،اسمبلیوں میں بیٹھ کراپناموثرکرداراداکریں،آج نہیں توکل،کل نہیں توپرسوں الیکشن کے طریقہ کارکوشفاف اورغیرجانبداربناکرخالص عوام کے ووٹ کی بنیادپرخالص جمہوری نظام رائج کرنے کیلئے قانون سازی سیاستدانوں ہی کوکرنی ہے لہٰذاسیاستدان اپنی ذمہ داری کوسمجھیں اورمزیدوقت ضائع کیے بغیرقانون سازی کریں،اپنی پارٹیوں کے اندربھی اینٹی وائرس آپریشن کرکے غیرجمہوری نظریات اورپس منظررکھنے والوں کوفارغ کریں،حقیقی احتساب کانظام بنایاجائے،سخت قانون سازی کے ذریعے سیاسی یاغیرسیاسی ہرقسم کے جھوٹے مقدمات کے اندراج کاسلسلہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بندکیاجائے،میڈیاکوسچ بولنے،لکھنے اوردیکھانے کی اورعدلیہ کوسچ اورحق کی بنیادپربلاامتیازہرخاص وعام کوانصاف فراہم کی مکمل آزادی دی جائے،قانون نافذکرنے والے اداروں کی حدودطے کرکے تمام ضروری وسائل فراہم کیے جائیں،قوموں کواپنی بقاء کیلئے لڑناپڑتاہے،آج نہیں توکل ہمیں دشمن ملک بھارت کیخلاف لڑناپڑے گالہٰذاپوری قوم کی جنگی تربیت کااہتمام کیاجائے،نظام تعلیم میں ایسی مثبت تبدیلیاں لائی جائیں کہ ملازمین کی جگہ بزنس مین،سائنس دان پیداہوں،جھوٹ اورالزام تراشی کی ہرسطح پرحوصلہ شکنی کی جائے اورسچ کیلئے حوصلہ افزائیوں کااہتمام کیاجائے،کرپشن کوسختی کے ساتھ کچلنے والے قوانین بنائے جائیں،قارئین محترم سوچیں،ضرورسوچیں،آپ ووٹرزہیں،آپ کاووٹ ہی نہیں آپ کی جیب ہی نہیں بلکہ آپ کے پیٹ سے بھی چیزیں چوری ہورہی ہیں،غورکریں اورفیصلہ کریں کہ آئین سازی ضروری ہے یاالزام تراشی؟کیاہمارے سیاستدان اس قابل ہیں کہ ملک وقوم کے بہترمستقبل کیلئے موثرترین آئین سازی کریں؟ہم کب تک فوت شدگان کے نام پرووٹ کاسٹ کرتے رہیں گے؟سیاستدانوں کوبھی ریٹائرڈہوناپڑے گا،سیاست کیلئے بھی تعلیم،عمراوردورانیہ طے شدہ ہوناچاہئے تاکہ کوئی بھی سیاستدان اپنے لیے ہمیشہ ہمیشہ کی حکمرانی کے خواب نہ دیکھے اورایسانظام رائج کیاجائے جس میں سب ادارے اپنی حدودمیں رہ کراپنے فرائض سرانجام دیں،حدوداﷲ طویل موضوع ہے،اسلامی تعلیمات کے مطابق حدود اﷲ کے بنیادی ارکان میں نمبرایک اﷲ تعالیٰ کی وحدانیت اوررسول اﷲ ﷺ کی رسالت پر ایمان لانا،احکام الٰہی کے مطابق نیک اعمال کرنا،دین اسلام نے ہرموقع پرمخلوق کی بھلائی کاحکم دیاہے تاکہ لوگ اپنے فرائض کویادرکھیں اوردوسروں کے حقوق اداکرتے ہیں،اﷲ رب العزت نے طاقتور،کمزور اورحاکم ومحکوم کیلئے حدودمقررکرکے انتہائی خوبصورت معاشرے کی بنیادڈالی،دین اسلام کی تعلیمات میں معاشرے کاتوازن قائم کرنے کابہترین نظام موجود ہے جسے اپنانے کی اشد ضرورت ہے،انسان کوانسان کی مقررکردہ حدودمیں قیدکرناممکن نہیں لہٰذااﷲ تعالیٰ کی مقررکردہ حدوداورنظام رائج کیاجائے توانسانی معاشرے کاتوازن قائم ہوسکتاہے
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 157 Print Article Print
About the Author: Imtiaz Ali Shakir

Read More Articles by Imtiaz Ali Shakir: 584 Articles with 231118 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: