ہائے اُس زُود پشیماں کا پشیماں ہونا

(Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed, Karachi)

 جناب محمد نوازشریف ن لیگ کے سربرہ کوجواس ملک کے تین مرتبہ وزیراعظم بھی رہ چکے ہیں کوقید وبند میں نیب سے رکھوکرجوظا لمانہ سلوک موجودہ متعصب حکمرانوں نے کیا ۔وہ ساری قوم اورساری دنیا نے بھی دیکھ لیا ہے۔اب جب عدالت کی جانب سےان کی صحت کی نہایت ابترحالت کے پیشِ نظرعلاج کرانےکے لئے بیرون ملک جانے کی اجازت دیدی تھی۔تو موصوف ۔وزیراعظم عمران احمدنیازی نےاپنی خفت مٹانے کے لئےایک بودا،بیانیہ جاری کردیا کہ موصوف کونوازشریف کی خرابیِ صحت پرتشویش ہے۔وزیرِ اعظم نے اس مردِ آہن کا راستہ روکنے اور اس کی مزید صحت کو تباہ کرنے کے لئے خود نہیں اپنے حواریوں سےغیرآئنی اورغیراخلاقی طور پرسات ا رب ڈالرکے اینڈ یمنیٹی بونڈ جمع کرانے کی شرط لگا کران کےعلاج کے راستے میں روڑے اٹکائے۔تاکہ خدا نا خواستہ اپنے سیاسی راستے کے بھاری پتھر کو ہٹانے کا عمل تیزہوجائے۔

اب جبکہ لاہورہائی کورٹ نے نوازشریف کا نام ای سی ایل سےنام نکا لنےکاحکم دے دیا تو حکمرانوں کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ دوسری جانب اپنے چغادریوں اورنمک خوا روں کو کہہ دیا کہ خبرداراس بندے کوملک سےباہرکسی قیمت پرجانے نہیں دینا ہے! میں ان کی صحت پر ہمدردی تو دکھائوں گا مگر تم نہیں دکھائو گے ہائےاس زود پشیماں کا پشیماں ہونا! پوراپاکستان اور یہاں کا دانشورطبقہ عمران نیازی کوتعصبات سے باہرنکل کر گُڈ گورنس کی طرف لانےکی کوشش کر رہا ہے اورنواز شریف کی صحت سے کھلواڑ نہ کرنےاوربہترطورپرملک چلانےاورعوام کی تکلیفات کو کم کرنے کا مشورہ دے رہا ہے۔مگریہ ضدی شخص سلیکٹر کے زعوم میں انا کے خول سےباہرنکلنے کوتیارہی نہیں ہے۔چاہے ملک کا جو بھی حال بنے!

ملک میں غربت وافلاس کے ہوئے بڑھتے طوفان اورمعیشت کی زبوں حالی نے ملک کو تباہی کےگڑھے پرلا کھڑا کیا۔ملک پرقرضوں کا بوجھ ماضی کے مقابلے میں سینکڑوں گنابڑھا دیا گیا ہے۔ جبکہ مسلم لیگ ن کی حکومت سے متعلق ان کےاپنے وزیرمشیرکہہ رہے ہیں کہ سابقہ حکومت کے اچھےاقدمات کوسرہانا چاہئے کاروباری اصلاحات میں بہتری پچھلی حکومت کی پالیسیاں جاری رکھنے سے ہوئی ہے۔مگر نیازی صاحب کا سیاسی تعصب ختم ہونے میں ہی نہیں آرہا ہے۔

عمران نیازی کے اتحادی بھی پی ٹی آئی حکومت کے مستقبل کو مشکوک دیکھ رہے ہیں۔ایم کیو ایم کے اطہارالحسن کہتے ہیں کہ حکومت وعدے پورے نہیں کررہی ہے۔ اسکا اگلے بجٹ تک چلنا مشکل ہے۔ہرجانب سے یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ ایم کیو ایم کو حکومت کی حمایت کرکے کیا ملا؟ ترقیاتی پیکیج کے وعدے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔دوسری جانب مسلم لیگ ق کی جانب سے پی ٹی آئی پر کھل کر تنقید کی جا رہی ہے۔وہ عمران نیازی کی حکومت اور اس کی کار کردگی سے مطمعین نہیں ہیں۔چھوٹے چوہدری نے بھی کہا ہے کہ پی ٹی آئی اقتصادی اعتماد سازی کے ماحول کو بہتر کرنے پر توجہ دے۔ حکومت سیاسی مقدمے بازیوں سےاجتناب کرے۔چوہد ری لیگ کی ایک اہم شخصیت نے کہاہے کہ اسوقت پورےملک کی صورتِ حال نہایت تشویشناک ہے۔ حکومت کی چولوں کوان دونوں جماعتوں کےخدشات نےہلا کررکھ دیا ہے۔جو پانچ ووٹوں کی مارہے۔

وزیراعظم کے ایک مدح صحافی ارشاد بھٹی کا بھی کہنا ہے کہ جھگڑا اپنی ساکھ بچانےکا ہےتحریکِ انصاف اور ن لیگ فیس سیونگ کی کوشش کر رہی ہیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ کچھ وزیراعظم کی جانب سے نوازشریف کے لئے انسانی ہمدردی کے بیانات سامنے آئے۔ کیونکہ وزیر اعظم نے کچھ افراد کو ذمہ داری دی ہے کہ اپوزیشن کو خوب آڑے ہاتھوں لیں۔دوسری طرف ہم انسانی ہم دردی کی بات کرتے رہیں گے۔حکومتی ارمانوں پر اوس اُس وقت پڑیجب عدالت نے نواز شریف کو بغیر کسی شرط کے ملک سے باہر جانے کی اجازت دیدی۔۔۔۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed

Read More Articles by Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed: 285 Articles with 116781 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Nov, 2019 Views: 284

Comments

آپ کی رائے