گلوبل ڈیموگرافک اینڈ آئیڈیالوجکل چینج: دجال کی عالمی حکومت کی تیاریاں

(Rafique Chaudhary, Lahore)
نائن الیون کے بعد شروع جنگ کا اصل ہدف ایسا گلوبل آئیڈیالوجکل اینڈ ڈیموگرافک چینج ہے جو دجال کی عالمی حکومت کے استقبال کے تقاضے پورے کر سکے ۔

9نومبر کووزیر اعظم پاکستان نے کرتارپور راہداری کا افتتاح کیا ۔ اس موقع پر دونوں ملکوں کے حکام اور ذمہ داران کے درمیان بڑے خوشگوار تعلقات اور پرجوش بیانات کا تبادلہ بھی دیکھنے میں آیا ۔خاص طور پر سکھ راہنماؤں کی طرف سے اس اقدام کو ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ ایک ابتداء ہے ۔انہوں نے مزید خواہش کا اظہار کیا کہ اسی طرح بارڈرز کھول دیے جائیں اور وسط ایشیا تک آمدورفت بحال ہو جائے تو یہ سب ممالک ترقی کریں گے ۔ وزیر اعظم پاکستان نے بھی اسی خواہش کا اظہار کیا کہ اگر سرحدیں کھول دی جائیں تو برصغیر میں خوشحالی آئے گی ۔بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اس قدم کو دیوار برلن کے گرنے سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے سے دونوں ممالک کے مابین پائی جانے والی کشیدگی کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس موقع پر سب سے اہم خطاب پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا تھا ۔ جنہوں نے اپنے خطاب میں برملا اظہا رکیا کہ : مجھے آج کا دن ایک تاریخی دن دکھائی دے رہا ہے کیونکہ آج ایک محبت کی راہداری کا افتتاح ہوا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں400مندروں کی نشاندہی کر دی گئی ہے جن کی تزئین نو کی جائے گی۔

یہ تصویر کا ایک رخُ تھا ۔ جبکہ تصویر کا دوسرا رُخ یہ ہے کہ اسی دن بھارت کی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے حوالے سے انتہائی متعصبانہ فیصلہ سناتے ہوئے انتہا پسند ہندوؤں کو باقاعدہ اجازت دے دی کہ وہ بابری مسجد کومکمل منعدم کرکے اس کی جگہ مندر تعمیر کر سکتے ہیں ۔یہی اصل میں ہندو توا کی دیرنہ خواہش تھی جس کو بھارتی سپریم کورٹ نے پورا کر دیا ۔ دوسری طرف کشمیر میں کرفیو لگے ساڑھے تین ماہ ہوچکے ہیں ۔ مسلسل کرفیو کی وجہ سے کشمیری مسلمانوں تک اشیائے خوردونوش کی رسائی بھی ناممکن ہو چکی ہے، بچے بھوک افلاس سے مررہے ہیں ، مریضوں کو ہسپتالوں تک رسائی ممکن نہیں ۔ لوگ مرنے والوں کو اپنے گھروں میں دفنا رہے ہیں ۔حریت راہنما علی گیلانی نے وزیر اعظم پاکستان کو خط لکھ کر ان سب باتوں سے آگاہ کیا اور درخواست کی کہ اگر آپ کچھ کر سکتے تو ابھی کیجئے کیونکہ اب ہندو تواکے لوگ کشمیریوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنے کی شروعات بھی کر چکے ہیں۔ اس سے قبل وزیر اعظم آزاد کشمیر نے بھی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی موجودگی میں ایک کانفرنس میں نم آنکھوں اور گلوگیر لہجے میں التجا کرتے ہوئے کہا تھا کہ سری نگر کی مائیں روز صبح اُٹھ کر دیکھتی ہیں کہ پاکستانی فوج سری نگر میں داخل ہوئی کہ نہیں۔ جواب میں پاکستان نے ابھی تک جو کچھ عملی طور پر کیا ہے تو وہ کرتار پور بارڈر کا کھولنا ہے ۔ ممکن ہے پاکستان کا یہ اقدام انتہا پسند بھارتی حکومت کے جارحانہ اور متعصبانہ اقدامات کے جواب میں ایک کامیاب اسٹریٹجی ہو کیونکہ جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں اور اس کے متبادل کے طور پر پاکستان نے ڈیپ اسٹریٹجی کا راستہ اختیار کیا ہو۔ جس سے ایک طرف پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا کے سامنے آئے اور دوسری طرف 14کروڑ سکھوں کے دل جیت کر بھارت کو 71ء کا صلہ دیا جاسکے ۔

اگر معاملہ یہاں تک ہی محدود ہے تو پھر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اسلام بھی اقلیتوںکے حقوق اور ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت کی تاکید کرتاہے ۔اس لحاظ سے اگر سکھوں کو ان کے مذہبی مقامات تک رسائی دی جارہی ہے یا ہندوؤں کے مندروں کی تزئین نو کی جارہی ہے تو کوئی حرج نہیں ہے ۔لیکن اگر یہ سب کچھ اس نیوورلڈ آرڈر کے تحت ہو رہاہے جو نائن الیون کے بعدسے پوری دنیا پر نافذ العمل ہے تو پھر یہ اہل ایمان کے لیے تشویش کا باعث ہونا چاہیے ۔ کیونکہ نائن الیون کے بعد ہم ہی نہیں بلکہ ساری دنیا دیکھ چکی ہے کہ دنیا بھر میں مذہبی رواداری ، اعتدال پسندی اور اقلیتوں کے حقوق کے بھاشن صرف مسلمانوں کے لیے ہی رہ گئے ہیں ۔ جبکہ خود غیر مسلم دنیا میں کہیں بھی اس کا لحاظ نہیں رکھا گیا بلکہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دنیا بھر میں جس مذہبی تعصب، انتہا پسندی اورکھلے عام اسلام دشمنی کا مظاہرہ کیا گیا اس کی نائن الیون سے پہلے کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ۔انہی لمحات میں جبکہ یہ سطور لکھی جارہی تھیں ناروے میں سرعام قرآن جلانے کا واقعہ پیش آیا ۔ اس نیوورلڈ آرڈر کے تحت پوری دنیا میں صرف حقیقی اسلامی روح کے گرد گھیرا تنگ کیا گیا ، اس کو بدنام کرنے کے لیے دہشت گردی سمیت ہر مکروہ سازش رچائی گئی۔ علماء کو قتل کیا گیا ، اسلامی انقلابی جماعتوں پر پابندیاں لگائی گئیں ، ان کے لٹریچرکو تلف کیا گیا۔ جو اسلامی انقلابی جماعتیں نفاذ اسلام کی طرف بڑھ رہی تھیں ان کا راستہ روکا گیا اور انہیں کچلنے کے لیے انسانی تاریخ کے بدترین مظالم ڈھائے گئے۔ الاخوان اور افغان طالبان پر ڈھائے گئے غیر انسانی سلوک کی داستانیں ہمارے سامنے ہیں ۔ ڈرون حملوں ، فضائی بمباری ، دہشت گردی کی آڑ میں اور مختلف حیلوں بہانوں سے لاکھوں مسلمان بچوں ، عورتوں اور بے گناہ مسلمانوں کو شہید کیا گیا، اٹھایا گیا اور دنیا بھر کی جیلوں میں ایسی اذیتوں سے گزارا گیا کہ جن کا تصور کرکے ابلیس بھی شرما جائے ۔ نائن الیون کے بعد جاری اس جنگ میں صرف اسلام اورحقیقی مسلمانوں کو ٹارگٹ بنانا اس بات کی علامت تھا کہ دنیا میں ایک بڑا آئیڈیالوجکل اور ڈیموگرافک چینج لانا مقصود ہے ۔اسی جنگ کے نتیجے میں آج شام اور عراق کاڈیموگرافک اور آئیڈیالوجکل اسٹریکچر مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے ۔ اگرچہ گریٹر اسرائیل کا راستہ ہموار کرنا بھی اسی جنگ کا ایک مقصد تھا لیکن اس کا اصل ہدف دجال کی عالمی حکومت کا قیام ہے اور اس کے راستے میں اصل رکاوٹ وہ ہیں جو ایک اللہ کو ماننے والے یعنی بنیاد پرست مسلمان ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ جنگ صرف شام اور عراق تک محدود نہیں رہی بلکہ دنیا بھرمیں جہاں کہیں بھی ایک اللہ کو ماننے والے مسلمان تھے وہ اس جنگ کی لپیٹ میں آئے ۔ حتیٰ کہ سری لنکا ، میانمار ، چیچنیا ،آسام اور سنکیانگ کے مسلمانوں سے اسرائیل کو کیا خطرہ ہو سکتا تھا لیکن وہاں بھی اسلام اور مسلمانوں کے خاتمے کا سلسلہ جاری ہے ۔ گویا نائن الیون کے بعد شروع جنگ کا اصل ہدف ایسا گلوبل آئیڈیالوجکل اینڈ ڈیموگرافک چینج ہے جو دجال کے استقبال کے تقاضے پورے کر سکے۔

یہی جنگ افغانستان اور پاکستان پر بھی مسلط کی گئی ۔ افغان تو اٹھارہ سال بعد یہ جنگ جیت چکے ہیں جبکہ ہم اٹھارہ سال قبل ہی یہ جنگ اس وقت ہار چکے تھے جب ہم نے نیوورلڈ آڈر کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے ۔ کیونکہ اس کے بعد یہاں جنگ کے بغیر ہی وہ سب کچھ ہوا جو عالمی قوتیں جنگ جیتنے کے بعد کرنا چاہتی تھیں ۔یعنی دہشت گردی کی آڑ میں صرف مسلمان مارے گئے ، ڈرون حملوں میں پردہ دار عورتوں اورمعصوم بچوں کے پرخچے اڑائے گئے ۔ مدرسوں اور مذہبی جماعتوں کے خلاف بلاجواز گھیرا تنگ کیاگیا ۔ پکڑ پکڑ کرشہری دجالی قوتوں کے حوالے کیے گئے ۔ یہاں تک کہ مشرف نے خود اپنی کتاب میں اس بات کا فخریہ اعتراف کیا کہ اس نے پانچ پانچ ہزار ڈالر میں مسلمان مرد ، عورتیں اوربچے بیچے۔ حتیٰ کہ عافیہ صدیقی کو اس کے معصوم بچوں کے ہمراہ کراچی سے اُٹھایا گیا ۔ بہت سے مدارس بند کیے گئے ، مساجد کو شہید کیا گیا ، یہاں تک کہ لال مسجد اور جامع حفصہ جیسے سانحات وجود میں آئے جو شاید افغانستان اور فلسطین میں بھی یہود و نصاریٰ کے ہاتھوں وقوع پذیر ہوئے ہوتے تو ہم اسے ظلم عظیم قرار دیتے۔ لیکن چونکہ یہ نیوورلڈ آڈر کا تقاضا تھا لہٰذا ایک مسلم ملک میں بھی جائز قرار پایا ۔

جبکہ دوسری طرف سیکولر ازم ، لبرل ازم ، ہر گمراہ ٹولے اور فکری گمراہی کو پروموٹ کیا گیا ۔ قادیانیت پروان چڑھی ۔ اسلامی لٹریچر اور تحریر و تقریر پر تو ہر طرح سے پابندی رہی لیکن ہر طرح کی فکری گمراہی کو خوب پھلنے پھولنے دیا گیا ۔یہاں تک کہ ہر اخبار ، ٹی وی چینل ، ایف ایم ریڈیواور سوشل میڈیاان رینڈ کارپوریشنی ادیان کا مبلغ جبکہ اسلام کا دشمن بن گیا اور اسی مقصد کے لیے نئے ٹی وی چینلز ، ایف ایم ریڈیوز اور نئے اخبارات و رسائل بھی وجود میں آگئے ۔گمراہ طبقوں کی افرادی قوت میں ہنگامی بنیادوں پر اضافہ کیا گیا ۔سادہ لوح ، جاہل اور پیٹ کی سوچ رکھنے والوں کو گھیر گھار کر دین کی بنیادی اساس سے محروم کیا گیا ۔یہاں تک کہ جن علاقوں میں پہلے فکری اور نظریاتی گمراہی کے آثار تک بھی نہ تھے وہاں سے بھی گمراہوں کے جم غفیر برآمد ہونے لگے۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ناچ گانے ، مخلوط ڈانس کو فروغ دیا جانے لگا ۔تعلیم گاہیں حیا باختہ سانحات کی آماجگاہیں بن گئیں ۔معاشرے میں مغربی تہذیب ، فحاشی اور عریانی کا دور دورہ ہو گیا، نائن الیون سے پہلے عورتوں کا لباس پھر بھی مناسب تھا لیکن نائن الیون کے بعد بتدریج گھٹتا ہوا تنگ پاجامے اور پھرحیا ء کی تمام حدود کو پھلانگتا چلا گیا ۔دراصل یہی ڈیموگرافک اور آئیڈیالوجکل چینج اس جنگ کااصل مطلوب تھا جو نائن الیون کے بعد شروع کی گئی ۔

گویا عراق اور شام میں باقاعدہ جنگ کے ذریعے جو آئیڈیالوجکل چینج لایا گیا وہ یہاں بغیر جنگ کے آگیااور اس کے بعد ہم نیوورلڈ آرڈر کی رو میں ایسے بہت چلے گئے کہ ہر وہ کام کرتے چلے گئے جوخود ہماری نظریاتی اساس اور سلامتی کے بھی خلاف تھا ۔ 2011ء میں سیفما کے پہلے اجلاس میں نواز شریف نے کہا کہ بھارت کی اور ہماری ثقافت ایک ہے۔ وہ بھی اسی خدا کی پوجا کرتے ہیں جس کی ہم کرتے ہیں ، صرف ایک سرحد کی لکیر درمیان میں آگئی ہے ۔ اس اجلاس میں بھارتی شہر امرتسر کا ایک وفد بھی شامل تھا ۔اسی اجلاس میں سیفما کے سیکرٹری جنرل امتیاز عالم نے تجویز پیش کی تھی کہ واہگہ بارڈر پر ایک عوامی پارک بنایا جائے جہاں دونوں ملکوں کے لوگ آپس میں مل بیٹھ سکیں ۔ مارچ 2012ء میں اس وقت کے وزیر داخلہ عبدالرحمان ملک کے تعاون سے بنی گالا ( اسلام آباد) میں The Art of Livingنام کی ایک ہندو این جی او کے ’’ آشرم‘‘ کا افتتاح کیا گیا جس کا سربراہ نریندر مودی کادوست اور مذہبی پیشوا شری شری روی شنکر تھا ۔ لاہور اور کراچی میں بھی اس ہندو تنظیم کے مراکز قائم ہوئے جہاں لوگوں کو یوگا کی تربیت دی جاتی اور گیتا پڑھائی جاتی رہی ۔ بالآخر 2014ء میں وفاقی حکومت نے خفیہ اداروں کی رپورٹس پراس این جی او کے سربراہ روی شنکر کی پاکستان آمد اور پاکستان میں اسکے براہ راست لیکچرز پر پابندی لگانے کا فیصلہ اس لیے کیا کہ اس تنظیم کے ذریعے ’’را‘‘ مشکوک سرگرمیوں میں ملوث تھی ۔تنظیم کے ریکارڈ سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ تنظیم ہزاروں پاکستانیوں کو ہندوازم کی تعلیم دیتی رہی تھی ۔پھر2013ء میں سندھ حکومت نے سرکاری طور پر دیوالی منانے کا اعلان کیا ۔اسی سال بلاول بھٹو دیوالی کے تہوار میں شریک ہوئے۔ 2016ء میں بلاول بھٹو نے باقاعدہ ایک مندر میں پوجا پاٹ میں حصہ لیا ۔کوئی بھی سیاسی لیڈرصرف اقلیتوں کا لیڈر نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے کارکنوں اور عوام کے لیے ایک ماڈل بھی ہوتاہے ۔ذرا سوچیئے ! اس پوجاپاٹ سے ملک کے سادہ لوح عوام کو کیا پیغام دیا گیا ۔پھر 2017ء میں نواز شریف نے ہندووں کے ہولی کے تہوار میں شرکت کی اور دیوالی میں شرکت کی خواہش ظاہر کی ۔

اسی پس منظر میں کرتارپور راہداری کی تاریخ پر بھی ایک نظر ضروری ڈالنا چاہیے۔ 2000ء میں پاکستان نے کرتار پور میں واقع گردوارے کی زیارت کے لیے بھارتی سکھ زائرین کے لیے پاسپورٹ یا ویزہ کی پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا تھا اور سرحد کی بھارتی طرف ایک پل کی تعمیر کا عندیہ بھی دیا تھا۔اگست 2018ء میںبھارتی پنجاب کے وزیر اور سابق ایم پی سدھو نے اعلان کیا کہ پاکستانی جنرل قمر جاوید باجوہ نے انہیں بتایا ہے کہ پاکستان کرتارپور کی راہداری کھول دے گا۔26 نومبر 2018ء کو بھارتی نائب صدر وینکائیا نائیڈو نے بھارتی پنجاب کے ضلع گورداسپور کے گاؤں منن میں ڈیرہ بابا نانک کرتارپور صاحب راہداری کی بنیاد رکھی۔28 نومبر 2018ء کو پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے کرتارپور میں نوجوت سنگھ سدھواور بھارتی وزراء کی موجودگی میں اس راہداری کی سنگ بنیاد رکھی۔اور بالآخر گرونانک کی 550ویں سالگرہ کے موقع پر 9نومبر 2019ء کو اس راہداری کا افتتاح کر دیا گیا ۔

اس سارے پس منظر کو بیان کرنے کے بعد ہماری رائے یہ ہوگی کہ اگر اقلیتوں کو حقوق دینے ہیں تو پہلے اکثریت کا وہ اصل حق تو دیجئے جس کی بنیاد پر یہ ملک قائم کیا گیا تھا اور وہ حق تھا اسلام کا عادلانہ نظام۔ اگر اکثریت کو وہ حق دے دیا جائے تو ریاست مدینہ کا خواب خود بخود پورا ہو جائے گا جس میں اقلیتوں کے بھی تمام حقوق محفوظ ہو جائیں گے ۔ لیکن اگر اکثریت کو اس کا یہ حق دیے بغیر یہ سب کچھ کیا جائے گاجو ہو رہا ہے تو اس کا مطلب اکثریت یہی لے گی کہ دراصل یہ سب اس نیو ورلڈ آڈر کے تحت ہی ہورہا ہے جو نائن الیون کے بعد مطلوب و مقصود ہے اور اللہ نہ کرے اگر ایسا ہو تو یہ بحیثیت قوم ہماری ایسی تاریخی غلطی ہوگی جس سے نہ صرف نظریہ پاکستان کی جڑیں کٹ جائیں گی بلکہ اس پورے خطے کے مسلمانوں کے ایمان اور جان کی سلامتی بھی خطرے میں پڑ جائے گی ۔ کیونکہ نیورلڈ آرڈر کا تقاضا اس خطے میں بھی وہی ہے جو مشرق وسطیٰ اور پوری دنیا میں ہے اور وہ ہے ایساگلوبل آئیڈیالوجکل اینڈ ڈیموگرافک چینج جو دجال کی عالمی حکومت کے استقبال کے تقاضے پورے کر سکے ۔اللہ کرے ہمارے خدشات غلط ثابت ہوں اور اس سے قبل اس خطہ کے مسلمان بیدار ہو جائیں ۔ آمین !

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 489 Print Article Print
About the Author: Rafique Chaudhary

Read More Articles by Rafique Chaudhary: 33 Articles with 16835 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

ماشاء اللہ ۔ آنکھیں کھول دینے والی تحریر ہے ۔ اللہ آپ کو جزادے ۔
By: Murtaza Ahmad, لاہور on Nov, 25 2019
Reply Reply
0 Like
واہ ۔ کمال کی تحریر ہے ۔ اللہ کرے نور بصیرت اور زیادہ ۔ آپ نے مسلمانوں کو جگانے کی کوشش کا حق ادا کر دیا ہے ۔ جزاک اللہ
By: مشتاق کمبوہ, لاہور on Nov, 25 2019
Reply Reply
0 Like
Language: