گاجر ! حسن کی علامت اور صحت مند زندگی کے لئے

گاجر کا تعلق اس نباتاتی خاندان سے ہے جسے Umbelliferae کہتے ہیں اور اس میں اجمود اور کرفس (Celery/parsnip) جیسی سبزیاں بھی شامل ہیں ۔ گاجر کے حوالے سے ایک انکشاف یہ ہے کہ اسے سبزی کے طورپر کھانا تو بہت بعد میں شروع کیا گیا، پہلے اسے مختلف امراض کے علاج میں بطور جڑی بوٹی استعمال کیا جاتا رہا ہے ۔جس کا مطلب یہ ہے کہ اس سبزی میں جہاں شفائی خصوصیات ہیں ، وہیں غذائی ضرورتیں پوری کرنے کی خوبیاں بھی قدرت نے اس میں رکھی ہیں ۔ انسان غذاء میں وٹامن A کی ایک صورت بیٹا کیروٹین کے حصول کا یہ بہترین ذریعہ ہے ۔ یہ اینٹی آکسیڈنٹ جسم کو کینسر سے محفوظ رکھتا ہے ۔ گاجر میں وٹامنز A,B,Cاور ان کے علاوہ معدنیات ، فاسفورس ، پوٹاشیم اور کیلشیم بھی پائی جاتی ہیں ۔ چینی معالجین اپنے ان مریضوں کو جن کا جگر اچھی طرح کام نہ کررہا ہو ، گاجر کھانے کا مشورہ دیتے ہیں ۔

خصوصیات :
گاجر توانائی بخش ہے ، جسمانی آلائشوں کو باہر نکالتا ہے ۔ اس میں شامل کیلشیم جلد، بال اور ہڈیوں کو صحت مند رکھتا ہے ، بصارت اس کے استعمال سے بہتر رہتی ہے ، سانس کی تکالیف کے علاج میں مفید ہے ، جلدی امراض میں بھی فائدہ پہنچاتا ہے ، غدود کی خرابیوں سے جو بیماریاں ہوتی ہیں ، ان کی صحت یابی میں مددگار ہوتا ہے ۔ اگر کچی گاجر روز کھائی جائے یا اس کا جوس پیا جائے تو ایام کی بے قاعدگی ٹھیک ہوسکتی ہے ۔ گاجر میں دافع سوزش اورجراثیم کش خصوصیات بھی ہوتی ہے ۔

استعمالات :
ذہنی دباؤ اور تھکاوٹ اُتر جاتی ہے ۔
بیماری کے بعد گاجر کے جوس سے جسم میں نئی توانائی بھرتی ہے ۔
جلد نکھارنے کے لئے چہرے پر گاجر کا ماسک بھی لگایا جاسکتا ہے ۔
بیماری کے بعد گاجر کے جوس سے جسم میں نئی توانائی آجاتی ہے ۔
شیر خوراؤں کو اگر دست لگیں تو گاجر کا سوپ پلانا روایتی گھریلو علاج ہے ۔
انفیکشن کا امکان گھٹ جاتا ہے اور زخم کے جلد ٹھیک ہونے کی اُمید ہوتی ہے ۔
اس سے آنتیں پر سکون ہوتی ہیں اور جراثیم کی افزائش کی رفتا سست ہوجاتی ہے ۔
کچی گاجر کا تازہ جوس روزانہ پینے سے جسم تواناہوتا ہے اور جسم سے فاسد مادوں کا اخراج آسان ہوجاتا ہے ۔
گاجر کا موسم ختم ہونے سے پہلے اسے خشک کر کے اس کا سفوف بنالیں ، بعد میں اس پاؤڈر کو پانی میں گھول کر توانائی کی بحالی ، انفیکشن کے علاج، غدود کے مسائل ، سردرد اور جوڑوں کی تکالیف دور کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے ۔

احتیاط :
بہت زیادہ گاجر کھانے سے ممکن ہے کہ جلد کی رنگت عارضی طور پر پیلی ہوجائے ۔
گاجر کے بیج اعصاب کے لئے ٹانک کا درجہ رکھتے ہیں لیکن حاملہ خواتین اس سے گریز کریں کیونکہ اسقاط کا خطرہ ہوسکتا ہے ۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 351 Print Article Print
About the Author: a

Read More Articles by a: 14 Articles with 385385 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: