پاک چین دوستی میں رخنہ ڈالنے کی مذموم سازشیں

(Mehr Iqbal Anjum, )

پاک چین اقتصادی راہداری ایک بہت بڑا تجارتی منصوبہ ہے، جس کا مقصد جنوب مغربی پاکستان سے چین کے شمال مغربی خود مختار علاقے سنکیانگ تک گوادر بندرگاہ، ریلوے اور موٹروے کے ذریعے تیل اور گیس کی کم وقت میں ترسیل کرنا ہے۔اقتصادی راہداری پاک چین تعلقات میں مرکزی اہمیت کی حامل تصور کی جاتی ہے، گوادر سے کاشغر تک تقریباً 2442 کلومیٹر طویل ہے۔یہ منصوبہ مکمل ہونے میں کئی سال لگیں گے اس پر کل 46 بلین ڈالر لاگت کا اندازہ کیا گیا ہے، راہداری چین کی اکیسویں صدی میں شاہراہ ریشم میں توسیع ہے،20 اپریل 2015ء کو پاکستان میں چینی صدر کے دورے کے دوران، مختلف شعبوں میں مفاہمت کی 51 یادداشتوں پر چین اور پاکستان کے درمیان منصوبوں پر دستخط ہوئے تھے۔سی پیک کے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے، سی پیک پاکستان کی ترقی کا راستہ ہے لیکن کچھ عناصر پاکستان کی ترقی نہیں دیکھنا چاہتے، وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان مشکل میں پھنسا رہے اور کبھی اپنے پاؤں پر کھڑا نہ ہو، پاکستان کی معیشت بہتر نہ ہو لیکن پاکستان نے سی پیک کو ترجیح دی اور چین کے ساتھ ہمیشہ اپنی دوستی نبھائی،سی پیک منصوبے کے دوسرے مرحلے میں پاکستان اور چین نے سماجی ومعاشی ترقی کے شعبے میں 27ترجیح منصوبوں پر اتفاق کیا ہے۔ ان 27منصوبوں کے لئے چین ایک ارب ڈالر کی گرانٹ فراہم کرے گا۔ پاکستان کو اس منصوبے سے جو فوائد مل رہے ہیں ان میں توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں بہتری سر فہرست ہے۔ اس کے علاوہ مصنوعات اور لیبرکی بلا واسطہ طلب کے نتیجے میں بھی کئی مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ سی پیک کے تحت سڑکوں کی تعمیر اور توانائی کی قلت ختم ہونے سے اقتصادی سرگرمیوں میں جمود کے خاتمے کی امید ہے۔ چین نے آنے والے سال میں 17نئے منصوبے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے جن میں بلوچستان میں شمسی توانائی کے آلات کی فراہمی‘ خیبر پختونخواہ میں شمسی توانائی کے پمپس‘ آزاد جموں وکشمیر میں واٹر فلٹریشن پلانٹس کے ذریعے صاف پانی کی فراہمی ، طبی آلات ، ووکیشنل سکولز کے لئے آلات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اپ گریڈیشن کے منصوبے‘ زرعی تعاون کے شعبے میں استعداد کار میں اضافہ‘ زرعی مصنوعات کی پروسیسنگ اور ٹیکنالوجی میں توسیع شامل ہے۔ یہ ایسے منصوبے ہیں جن کی تکمیل کے بعد پاکستان میں معاشی طور پر کافی تبدیلی دیکھنے کو ملے گی کیونکہ چین نے اسی ٹیکنالوجی کی بدولت 80کروڑ افراد کو غربت سے نجات دلوائی ہے۔اب چین بڑے ہی کھلے پن کے ساتھ اصلاحات کی پالیسی کو آگے بڑھا رہا ہے، اسی ٹیکنالوجی کی بدولت چین کی جی ڈی پی 14کھرب ڈالر تک پہنچی ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ چین نے مغربی دنیا کی تقلید کی بجائے اپنی سوچ کو وسعت دی۔ مہنگائی اور غربت کے خاتمے کے دریا عبور کرنے کے لئے غیروں کے سامنے کشکول تھامنے کی بجائے اپنی عقل کو استعمال کیا جس کی بدولت وہ مستحکم اوردرست راستے پرگامزن ہے، یہی چینی عوام کے معیار زندگی کی بلندی اور ملکی مضبوطی کا موجب ہے۔ ون بیلٹ ون روڈ کا چینی منصوبہ جس تیزی سے آگے بڑھے گا، اس تیزی سے خطے میں تبدیلیاں آ ئیں گی۔ بلوچستان ،خیبر پی کے اور آزاد جموں وکشمیر میں جو منصوبے شروع ہو نگے ان کی تکمیل سے وہاں کے لوگوں کی کافی حد تک پریشانیاں دور ہو جائیں گی۔ اس وقت 25ہزار سے زائد پاکستانی چین میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جن میں سے 7ہزار سے زائد طلبا مختلف نوعیت کی سکالر شپ بھی حاصل کر چکے ہیں جبکہ اس کے علاوہ پاکستان میں لوگ بڑی تعداد میں چینی زبان سیکھ چکے ہیں۔ پاکستان اگر ان افراد کو سی پیک پر کام کرنے والے چینیوں کے ساتھ انٹرن شپس یااسٹڈی اسائنمٹس کے ذریعے تعینات کرے تو اس سے بھی بے پناہ فائدہ ہو گا۔ بڑی سڑکوں کی بروقت تکمیل سے ماہی گیری‘ کان کنی ‘ لائیو سٹاک اور زراعت سمیت دیگر سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا۔ کیونکہ سڑکوں کی تکمیل کے بعد فصل بر وقت منڈی میں پہنچنے سے خراب ہونے سے بچ جائے گی۔ اس سے مارکیٹوں تک ترسیل کے اخراجات بھی کم ہو نگے۔

سی پیک کے خلاف امریکا کی جانب سے بیان آیا جس کا نہ صرف پاکستان بلکہ چین نے بھی جواب دیا،امریکی نائب معاون وزیرخارجہ ایلس ویلز کا کہنا ہے کہ چین مختلف ممالک کو ایسے معاہدے کرنے پر مجبور کررہا ہے جو ان کے مفاد میں نہیں۔ پاکستان کو چین سے چائنا پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کی شفافیت سمیت سخت سوالات کرنے ہوں گے۔ اگر چین اس بڑے منصوبے کو جاری رکھتا ہے تو اس سے پاکستان کی معیشت کو طویل مدتی نقصانات ہوں گے کیوں کہ اس منصوبے سے پاکستان کو کم چین کو زیادہ فائدہ ہے۔ سی پیک سے صرف بیجنگ کو فائدہ ہوگا، امریکا نے پاکستان کو اس سے بہتر ماڈل کی پیشکش کی تھی۔پاکستان میں چین کے سفیر یاؤ جنگ نے امریکی نایب معاون وزیر خارجہ کے بیان پر کہا کہ سی پیک پاکستان اور چین کی اولین ترجیح ہے، حقیقت پر مبنی معلومات سے منفی پراپیگنڈے کا ازالہ کرنا ہے،سی پیک کا اگلا مرحلہ صنعتی تعاون کو فروغ دے گا۔سی پیک کے دوسرے مرحلے میں صنعتی زونز کے قیام، تعلیم اور زراعت سمیت دیگر شعبوں پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ پہلے مرحلے میں میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی اورتوانائی سمیت شاہراہوں کی تعمیر پر توجہ دی گئی۔ دونوں ممالک کے تعاون سے یہ منصوبہ کامیابی کے راستے پر گامزن ہے۔ سی پیک کے تحت چینی اور پاکستانی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ دونوں ممالک خصوصی طور پر اقتصادی تعاون کو فروغ دیں گے، سی پیک پر پیشرفت کے بارے میں دونوں ملکوں میں مکمل اتفاق رائے ہے۔ سی پیک کا مقصد پاکستان کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔ سی پیک کا اگلا مرحلہ صنعتی تعاون کو فروغ دے گا۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کا اس حوالہ سے کہنا تھا کہ ایلس ویلز نے سی پیک پر کچھ خدشات کا اظہار کیا ہے، سی پیک ایڈ نہیں ٹریڈ ہے،پاکستان سی پیک پر اپنے موقف کااعادہ کرتاہے، ہم کسی اورکی کش مکش کا حصہ نہیں بنناچاہتے ،ہم نیتوسی پیک میں تھرڈپارٹی انویسٹمنٹ کی بات کی جس پرچین متفق ہوا،پاک چین دوستی کسی کیخلاف نہیں ہم تمام ممالک کیساتھ بہترتعلقات چاہتے ہیں،سی پیک کے اصل ثمرات تب ملیں گیجب پورے خطے میں امن ہوگا، سی پیک کی وجہ سیدیگرمنصوبوں کوزیادہ تیزی سے مکمل کرسکیں گے،ہمیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہے تو ٹریڈ کرناہوگی،خصوصی اکنامک زون سے لاکھوں نوکریاں پیداہوں گی۔

یہ بات توطے ہے کہ امریکہ کا سی پیک سے متعلق بیان اشتعال انگیز ہے۔ امریکہ کا بیان ایک خود مختار ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے۔ امریکہ احساس کرے کہ پاکستان اس کی ریاست نہیں ہے، نہ ہی پاکستان سامراج کی موکل ریاست ہے۔ پاکستان ایک خودمختار ملک ہے جس کی اپنی معیشت اور قومی سیکیورٹی ترجیحات ہیں۔ پاکستان کے عوام کو امریکہ کے نام نہاد تعلقات کا تجربہ ہے۔ ہمیں کیری لوگر سے وابستہ امداد اور بھارت کے ساتھ جنگ میں چھٹے بیڑے کا تجربہ ہے۔ پاکستان کو افغان جنگ میں استعمال ہونے کا بھی تجربہ ہے۔ ہمیں امریکہ کے چھوڑ کر چلے جانے اور پاکستان کو دہشت گردی سے بھگتے کا بھی تجربہ ہے۔ ہمیں افغان آپریشن میں سہولیات کی عدم ادائیگی اور آئی ایم ایف کی شرائط کا بھی تجربہ ہے۔ چین پاکستان کا دیرینہ اور قابل اعتماد سٹرییجک ساتھی ہے۔ چین نے بدترین بحرانوں میں پاکستان کی مدد کی ہے۔ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے مغرب سیامداد کی بجائے ایشاء میں تجارت کا راستہ اختیار کیا۔ مغرب نے ہمیشہ ایشاء کے لوگوں کو دھوکہ دیا ہے۔ امریکہ کی مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی، عصمت دری، تشدد، انسانی حقوق کی پامالی پر خاموشی اس کا بھارت کی طرف جھکاؤ ظاہر کرتی ہے۔ پاکستان کو سامراجی ماڈل اپنا نے کا کہہ کر امریکہ پاکستانی معیشت کو محکوم بنانا چاہتا ہے، تاکہ امریکہ چین کے خلاف بھارت کو خطے کا پولیس مین بنا دے۔ امریکہ کو چاہئے کہ وہ پاکستان کی معاشی، سیاسی اور علاقائی خود مختاری کا احترام کرے۔ سی پیک سے متعلق امریکی خدشات سے ا تفاق نہیں کرتے، چین نے آزمائش کی ہر گھڑی میں پاکستان کا ڈٹ کر ساتھ دیا۔ یہ عظیم راہداری پاکستان اور چین ہی نہیں بلکہ پورے خطے کی اقتصادی ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں کھولے گی۔یہ منصوبہ اقتصادی ترقی کا ضامن ہے۔ عظیم راہداری پورے خطے کی خوشحالی کی راہیں کھولے گی۔ پاک چین دوستی دنیا میں مثال بن چکی۔ شہد سے میٹھی ہمالیہ سے بلند اور سمندروں سے گہری ہے۔سی پیک منصوبے کو دنیا میں جاری اس وقت سب سے بڑا ترقیاتی منصوبہ کہا جاتا ہے، 46 ارب ڈالر مالیت کا پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ پاکستان کو تیز رفتار اقتصادی ترقی کی شاہراہ پر لے جانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔طویل، کشادہ اور محفوظ سڑکیں، توانائی کے منصوبے، انڈسٹریل پارکس اور گوادر بندرگاہ کا منصوبہ، جس کی تکمیل دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متاثرہ پاکستان کیلئے روشن مستقبل کی نوید ہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 124 Print Article Print
About the Author: Mehr Iqbal Anjum

Read More Articles by Mehr Iqbal Anjum: 69 Articles with 16623 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: