سانحہ سقوط ڈھاکہ اور اے پی ایس کبھی بھلا نہ سکیں گے

(Mehr Iqbal Anjum, )

ماہ دسمبر میں پاکستا ن کی تاریخ کے تلخ ترین واقعات ہوئے، مشرقی پاکستان دسمبر میں الگ ہوا،سانحہ سے اے پی ایس دسمبر میں ہوا، پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو بھی دسمبر میں ہی لیاقت باغ جلسے کے بعد دہشت گردی کے حملے میں شہید کر دیا گیا،سولہ دسمبر ، پاکستان کی تاریخ کا بدترین اور قیامت خیز دن ثابت ہوا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب پاکستان کا ایک بازو یعنی مشرقی پاکستان دشمنوں کی سازشوں کے بعد علیحدہ کر دیا گیا جسے ’’سقوط ڈھاکہ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ دن پاکستان کے چمکتے ہوئے ماتھے پر ایک بدنما دھبہ ہے۔ جو شاید ہم اپنا لہو بہا کر بھی نہیں دھو سکتے۔ بنگلہ دیش کی جنگ آزادی، جسے بنگال میں مکتی جدھو اور پاکستان میں سقوط مشرقی پاکستان یا سقوط ڈھاکہ کہا جاتا ہے، پاکستان کے دو بازوؤں یعنی مشرقی و مغربی پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگ تھی جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان علیحدہ ہو کر بنگلہ دیش کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ا بھرا۔ مغربی اور مشرقی پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت نے ملک کو دولخت کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ شیخ مجیب الرحمن کی مدد سے مکتی باہنی کے نام پر بھارت نے اپنی فوجیں مشرقی پاکستان میں داخل کی اور پھر حکومتِ وقت کیخلاف بغاوت کی فضا پیدا کرکے مغربی پاکستان پر بھی جنگ مسلط کر دی گئی۔جنگ کا آغاز 26 مارچ 1971ء کو حریت پسندوں، گوریلا گروہ اور تربیت یافتہ فوجیوں جنہیں مجموعی طور پر مکتی باہنی کہا جاتا ہے نے عسکری کاروائیاں شروع کیں اور پاکستان کی افواج اور وفاق پاکستان کے حکام اور وفادار اہلکاروں کا قتل عام شروع کیا۔مارچ سے لے کے سقوط ڈھاکہ تک تمام عرصے میں بھارت بھرپور انداز میں مکتی باہنی اور دیگر گروہوں کو عسکری، مالی اور سفارتی مدد فراہم کرتا رہا یہاں تک کے بالآخر دسمبر میں مشرقی پاکستان کی حدود میں گھس کر اس نے 16 دسمبر 1971ء کو ڈھاکہ میں افواج پاکستان کو محصور کردیا اور افواجِ پاکستان کو بھارت کے آگے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کردیا گیا۔بنگلہ دیش کے وجود میں آنے کے نتیجے میں پاکستان رقبے اور آبادی دونوں کے لحاظ سے بلاد اسلامیہ کی سب سے بڑی ریاست کے اعزاز سے محروم ہو گیا۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے اسباب جاننے کے لیے پاکستان میں اس کی حکومت نے ایک کمیشن تشکیل دیا جسے حمود الرحمٰن کمیشن کے نام سے جانا جاتا ہے، کمیشن کی رپورٹ میں ان تمام وجوہات اور واقعات کو رپورٹ کا حصہ بنایا گیا جس کے باعث سقوط ڈھاکہ ہو ا تھا۔چار دہائیاں گزر جانے کے باوجود اہل وطن کے دلوں میں اس دن کی تکلیف اور اذیت زندہ ہے۔

سانحہ اے پی ایس پشاور پاکستان کی تاریخ کے اندوہناک ترین دن16دسمبر جب سفاک دہشت گردوں نے معصوم بچوں کو بے دردی سے اپنی گولیوں کا نشانہ بنایا، سانحہ اے پی ایس کو ہوئے چار سال گزر گئے لیکن زخم آج بھی تازہ ہیں۔ سولہ دسمبر2014 کا تلخ ترین دن جب بزدل دہشت گرد بچوں سے لڑنے آرمی پبلک اسکول پشاور میں داخل ہوئے گولہ بارود اور خودکش جیکٹوں سے لیس امن دشمنوں کی بھڑکائی آگ نے ڈیڑھ سو سے زائد بچوں اور اساتذہ کو زندگی کا چراغ گل کر دیا۔درجنوں طلباء و اساتذہ زخمی ہوگئے، علم کی شمع بجھانے کا ناپاک ارادہ لے کر دشمن ننھی کلیوں کو مسلنے اسکول کے عقبی راستے سے داخل ہوئے، سفاک درندوں نے اسمبلی ہال اور کلاس رومز میں بے رحمی سے قتل وغارت کا بازار گرم کیا، تھوڑی ہی دیر میں پاک فوج کے جوان اسکول پہنچ گئے اور ساتوں دہشت گردوں کو مار گرایا۔بے قرار والدین جب اسکول پہنچے تو ہر طرف ماتم ہی ماتم تھا، اسکول کی دیواریں لہو رنگ تھیں۔ پرنسپل، اساتذہ اور بچوں نے اپنی جانیں قربان کیں، پھولوں کے شہر کی ہر گلی سے جنازہ اٹھا، سانحہ قیامت سے کم نہ تھا، آج بھی شہداء کی یادیں اشک بن کر آنکھوں سے رواں ہیں، قریہ قریہ شہر شہر ننھے مجاہدوں کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے،لہو سے جلے علم کے چراغ آج بھی روشن ہیں۔ اپنے پیاروں اور لخت جگر کو کھونے والوں کے حوصلے بلند ہیں، سانحے کو قوم نے طاقت ور بنادیا جنہوں نے دہشت گردوں کے خلاف مل کر لڑنے کا پختہ عہد کیا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ عوام اور پاک فوج سیسہ پلائی دیوار بن کر دہشت گروں سے لڑی اور اسی کی بدولت ملک میں امن ہوا اور یہ مثالی جدوجہد ملک سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی۔

سانحہ اے پی ایس کے بعد حکومت پاکستان نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیاتھا۔ اس دوران پاکستانی پرچم سرنگوں رہے۔ جس وقت حملہ ہوا اس وقت تحریک انصاف کی جانب سے انتخابی دھاندلی کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا جاری تھا جسے فوری طور پر ختم کردیا گیا۔ حملے کے بعد آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں اہم فیصلے کیے گئے۔ سانحہ اے پی ایس کے بعد وزیر اعظم نے پھانسی کی سزا پر عملدرآمد کی پابندی ختم کرنے کا اعلان کردیا جبکہ 21 ویں ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتیں قائم کی گئیں جن کے ذریعے دہشتگردوں کو پھانسیاں دی گئیں۔سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کو پانچ برس مکمل ہو گئے، سانحہ اے پی ایس ایک قومی المیہ ہونے کے ساتھ تجدید عہد کا بھی دن ہے۔پاکستانی قوم پاک فوج سمیت تمام سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کی معترف ہے۔ قوم اے پی ایس کے شہدا اور ان کے لواحقین کی قربانی ہمیشہ یاد رکھے گی۔ سکول کے معصوم طلبہ اور اساتذہ کی قربانی نے قوم کو بیدار اور متحد کیا۔۔ 16 دسمبر کا دن ہمیں تاریخ کے سیاہ دن کی یاد دلاتا ہے جب دہشت گردوں نے انسانیت کو بالائے طاق رکھتے بچوں کو نشانہ بنایا اور پوری قوم کوغم میں مبتلا کر دیا تاہم اس واقعہ نے قوم میں دہشتگردی کے خلاف وحدت کو جنم دیا اور افواج پاکستان نے قوم کی حمایت سے دہشتگردوں کو شکست دے کر انجام تک پہنچا دیا۔ سانحہ اے پی ایس پشاور میں بچھڑ جانیوالوں کی یاد ہمیشہ موجود رہے گی۔ معصوم جانوں نے لہو کا نذرانہ دیکر قوم کو سفاک دشمن کے خلاف متحد کیا۔ دنیا کی اس جنگ میں ہماری افواج اور نہتے شہریوں نے بھاری قیمت ادا کی۔

پاکستانی قوم نے ہمیشہ بہادری سے چیلنجوں کا مقابلہ کیا ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں افواج پاکستان، اس ملک کی عوام نے بھاری قیمت ادا کی ہے۔ پاکستان کو آگے لے جانے کے لئے ہمیں متحد اور پر عزم رہنا ہوگا۔ پاکستان کی اصل منزل امن خوشحالی ہے۔ ہم ایک پر عزم قوم ہیں، ہمارے دشمن کبھی کامیاب نہیں ہوں گے، قومیں جدوجہد اور یقین محکم سے کامیاب ہوتی ہیں، امن خوشحالی کے اہداف حاصل کرکے رہیں گے۔، پکستان کے اصل ہیروز شہدااور ان کے اہلخانہ، ان کی مائیں، بیویاں اور بچے ہیں،جنہوں نے اس ملک کے لئے قربانیاں دیں،آج دہشت گردی، پاکستان کی سالمیت، دفاع اور عوام کے جان ومال کے تحفظ کے لئے تجدید عہد کا دن ہے، دہشتگردی کے خلاف پاکستان نے جس عزم، ہمت اور جرات سے جنگ لڑی ہے، دنیا میں اس کی مثال نہیں، ہماری عظیم قربانیوں کی وجہ سے ہی آج امن کی روشنی چارسو پھیلی،شہدانے دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لئے ناقابل فراموش قربانیاں دیں، مسلح افواج، رینجرز، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے میں دہشت گردی کے خلاف بننے والی حکمت عملی پر بھرپور عمل درآمد کرایا۔ 2014 میں ہونے والے سانحہ کا غم آج بھی قوم کے دل اور یاد میں زندہ ہے۔ معصوم بچوں کا لہو بہاکر ظلم وبربریت کا سفاک باب لکھاگیا۔ سانحہ اے پی ایس وہ واقعہ تھا جس نے دہشت گردی کے خلاف پوری قوم کو یکسو اور متحد کردیا،یہی وہ واقعہ تھا جو پاکستانی قوم کے لئے ایک فیصلہ کن گھڑی بن گیا۔پوری قوم آج بھی پورے عزم، جرات اور استقلال سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کو فرقہ واریت، لسانیت اور رنگ و نسل سے پاک معاشرہ بنایا جائے۔ پاکستان نے ہزاروں جانوں کی قربانی دی اور بے انتہا معاشی نقصانات اٹھائے۔ اگر کوئی مورد الزام ٹھہراتا ہے تو ان پر واضح کرنا چاہئے کہ نقصانات کے باوجود ہم ملکی، علاقائی اور عالمی امن کیلئے پرعزم ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشن ردالفساد اور ضرب عضب جیسی مثال نہیں ملتی۔ پاکستان نے دہشت گردوں کو شکست دی، فتح ہمارے عزم، ارادے اور عوام کی ہو گئی۔ہم قربانیوں کی اپنی تابندہ روایت سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ حقائق کو بھلا کر انسداد دہشت گردی کی کاوشوں کی نفی شہداء کے لہو کی توہین ہے۔ ایسی بات کرنے والاملک شہداء کے لہو کی توہین کو ارتکاب کر رہا ہوتا ہے۔ شہداء کے لہو کی توہین کی اجازت کوئی مذہب نہیں دیتا۔سانحہ اے پی ایس پاکستان میں دہشتگردی کی تاریخ کا سب سے بڑا دلدوز واقعہ ہے۔ انسانیت سے عاری دہشتگردوں نے قوم کے نو نہالوں اور پھول جیسے چہروں کو خون میں نہلا دیا۔ آرمی پبلک سکول پشاور جس پر پانچ سال پہلے یہ قیامت ٹوٹی اس سکول کے بہادر بچوں نے ثابت کیا کہ وہ بہادر قوم کے بچے ہیں۔ ہم اس قیامت خیز واقعے کو نسل در نسل یاد رکھیں گے اور ان معصوم شہیدوں کی یاد ہر سال تازہ ہوتی رہیگی۔ وہ معصوم بچے ہمارے ملک کے اصل ہیرو ہیں بلکہ حکومت کو تمام شہید بچوں کو ’’نشان حیدر‘‘ عطا کرنا چاہئے۔ ان کی یاد میں ٹی وی چینلز پر، ریڈیو پر اور اخبارات میں خصوصی ایڈیشن اور پروگرام نشر ہونے چاہئیں۔ 16 دسمبر سانحہ پشاور کی وجہ سے ہماری سر بلندی کا باعث بن گیا ہے کہ پاکستان نے اپنے بچے قربان کر دیئے لیکن دہشتگردوں کے آگے جھکنے سے انکار کر دیا۔ سانحہ پشاور ہمیں واقعہ کربلا کی یاد دلاتا ہے۔
 
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 72 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mehr Iqbal Anjum

Read More Articles by Mehr Iqbal Anjum: 94 Articles with 23243 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: