میرا فیصلہ قرآن کرے گا (قسط:٥)

(Azra Faiz, Wah)

دلوں کو ہلا دینے والی کاروکاری کی سچی داستان جسکا فیصلہ قرآن پاک نے کیا
تحریر:بی بی (عذرا فیض)

پینو کی ساس نے نسرین کے آگے ہاتھ جوڑے اور کہا اللہ کا واسطہ نسرین یہ بات گھر کے مردوں کے سامنے مت کرنا اور کسی اور سے بھی ذکر مت کرنا ۔واہ ۔۔۔واہ چاچی خالی میں نے تو نہیں دیکھا وہ ماسی برکت کا چھوٹا بیٹا بھی تو کھڑا تھا اس نے پوری بستی میں بتایا ہوگا ۔نسرین نے ایک ہاتھ کمر پر اور دوسرے ہاتھ کو نچا کر کہا ۔۔تو بھر جائی اگر اس نے دیکھا ہے تو میں نے کونسا گناہ کیا ہے۔میں کیوں ڈروں؟ ارے پاک بی بی وہ شخص غیر تھا اور غیر بندہ گاؤں میں نہیں آتا اور اس کو کوئی اور نہیں ملا تھا راستہ پوچھنے کے لیئے۔نسرین نے تنک کر کہا ۔۔پینو کی ساس سر پکڑ کر نیچے زمین پر بیٹھ گئی ابھی تو امیراں کا دکھ ختم نہیں ہوا تھا ، ہر روز ایک آدھ آنسو اس کے حصے کا آنکھوں کے کناروں کو بھگوتا اور اب ایک نیا طوفان ۔۔۔۔نہ جانے کیا ہوگا ۔۔۔اس نے پینو کی طرف ترس بھری نگاہ سے دیکھا جو اس کے ساتھ زمین پر بیٹھی رو رہی تھی۔۔

شام تک یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل چکی تھی ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ اس گاؤں کے لوگ سب کے سب ایک دوسرے کے رشتہ دار ہیں ۔عورتیں گھر کے کاموں کے علاوہ مویشیوں کے لئے گھاس کاٹنے کے لیئے اور کھیتوں میں دیگر کاموں کے لیئے اپنے گھر کےمردوں کے ساتھ کام کرتیں ہیں ۔یہ گاؤں نہر کے قریب ہونے کی بنا پر کافی سر سبز ہےاور آم کے باغ اور گنے کے کھیتوں کی بھی بہتات ہے ۔گاؤں کے کچھ گھر نہر کے کنارے موجود ہیں جبکہ نہر سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر گاؤں کا مرکز ہے جسے بستی کہا جاتا ہے ۔بستی کے گھر ایک دوسرے کے قریب ہیں اور گھروں کے بیچ میں یا تو کوئی دیوار نہیں ہوتی اور اگر ہو بھی تو دو فٹ سے زیادہ نہیں ہوتی ۔یہ بستی ایک گھر سے شروع ہوتی ہے اور جوں جوں بچوں کی شادیاں ہوتی جاتیں ساتھ ساتھ گھر تعمیر ہوتے جاتےہیں ۔اور رشتے بھی قبیلے کے رواج کے مطابق سب سے پہلے گاؤں میں ہی طے ہوتے ہیں ۔ ایک بستی میں تقریبا ۳۰ سے ۳۵ گھر یا خاندان ہوتے ہیں ۔اگر کسی کا گھر چھوٹا پڑ جائے تو وہ اپنا گھر بھائی کو دے کر تقریبا ایک ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر نیا گھر بنا تا ہے ۔اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کے قریب گھروں میں بھی اس کے بچوں کی شادیوں کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا جاتا ہے لیکن گھروں کے بیچ کی دیوار نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے البتہ تمام گھروں کے باہر ایک بہت بڑی چار دیواری ہوتی ہے جس نے پوری بستی کو لپیٹا ہوتا ہے اور اس بستی میں داخل ہونے کے لیئے اس کے چاروں طرف یا تو دروازے ہوتے ہیں یا پھر صرف داخلے کی جگہ۔سب کے جانوروں کی جگہ عموما ایک ہی ہوتی ہے لہذا خواتین کا ایک دوسرے سے ملنے اور خبروں میں تبادلے میں وقفہ کم ہی آتاہے ۔ان گھروں کے بیچ کی دیواریں چھوٹی ہونے کی بنا پر پوری بستی ایک ہی گھر کا منظر دیتی ہےکچن بھی صحن میں ہی ہوتے ہیں اور یوں مشترکہ تندور بھی ہوتے ہیں جن پر خواتین روٹیاں لگانے کے ساتھ ساتھ حالاتِ حاضرہ پر گفت و شنید بھی کرتی رہتی ہیں ۔خاندانوں کا یوں اکٹھے رہنا جہاں ان کی خوشیوں کو دوبالا کرتا ہےوہاں غیبت اور حسد کا بھی باعث بنتا ہے۔ آج پینو کا ذکرہر ایک کی ذبان پر تھا اور کسی غیر شخص کا خلافِ توقع گاؤں میں آنا بھی اچنبھے کی بات تھی ۔پینو کا سسرال بستی سے تقریبا ایک کلومیٹر کے فاصلے پر تھا جہاں چند ایک گھر ہی تھے جس میں ایک اس کے چاچا کا اور دوسرا رمضان ماما کا ۔رمضان ماما پینو کی ماں کا خالہ ذاد جبکہ پینو کے سسر اور باپ کا چچا ذاد تھا اور سردار کا دایاں بازو تھا ۔اس قبیلے کے رواج کے مطابق چند گاؤں مل کر اپنے خاندان میں سے جس کی زمین ذیادہ ہوتی اور وہ غیرت مند اور بہادر(غیرت مندی اور بہادری کا معیار بھی عورتوں پر ظلم پر بڑھتا) ہوتا اور دشمن سے لڑنے کا حوصلہ رکھتا اسے سردار بنا دیا جاتا لہذا سردار کا حکم حتمی سمجھا جاتا ہے۔ شادی بیاہ سے لے کر کارو کاری کے تمام معاملات سردار ہی دیکھتا ہےاس کے علاوہ خاندانی اور بیرونی جھگڑوں اور پیچیدگیوں کو بھی وہی دیکھتا ہے ۔ان تمام امور کے لیئے پنچیت کی مدد لی جاتی اور پنچیت میں خانداں کے چند معتبر بزرگ اور غیرت مندی کے شملے (پگ) والے شامل ہوتے ہیں۔رمضان ماما کا شمار پنچیت کے سب سے معتبر رکن میں ہوتا تھا اس کی وجہ ان کا تیز دماغ کے ساتھ ساتھ خاندان کی عزت کا رکھوالا ہونا تھا ۔رمضان ماما نوجوانوں کو بہادر بنانے ،دشمن سے لڑنے اور عورتوں پر ظلم کی خاص تربیت دیتا اور قتل کرنا مرد کی شان سمجھتا۔ بھلا یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ کوئی بات بستی میں ہو اور اس کی خبر رمضان کو نہ ہو۔اس واقعہ کی خبر بھی اس تک پہنچ گئی ۔اس وقت وہ ڈیرے پر ایک پنچیت میں بیٹھا تھا کہ رب نواز یعنی اس کے بھتیجے نے اس کے کان میں یہ خبر سنائی۔رمضان کا چہرہ غصے سے لال ہوگیا۔اس نے رب نواز سے کہا تم جاؤ میں آتا ہوں۔

پینو کا سسر،اس کا جیٹھ اللہ وسایا اور بالی کے سامنے پینو بیٹھی رورہی تھی جبکہ نسرین صبح کے واقعہ کو مرچ مصالحہ لگا کر ان کو بتا رہی تھی ۔پینو نے آنسوؤں سے گندھی آواز میں کہا بھر جائی اللہ سے ڈرو مجھ پر بہتان مت باندھو ۔اور اپنے سسرکے قدموں میں بیٹھ گئی چاچا تم کو تو پتا ہے میں ایسا نہیں کرسکتی ۔مجھے قرآن کی قسم ہے میں نے کچھ نہیں کیا۔چاچا نے مونہہ دوسری طرف کرلیا ،اللہ وسایا مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے چارپائی سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا اور چیخ کے بولا کچھ ہوتا ہے تو ہی بات بنتی ہے بستی کا بچہ بچہ کہہ رہا ہے اور جو آدمی آیا تھا وہ رحیم چاچا کے گھر نہیں گیا پھر وہ کون تھا ؟اور اس نے تم سے کیوں بات کی؟ جو بھی ہے رمضان چاچا تمہیں نہیں چھوڑے گا ۔یہ کہہ کر وہ باہر نکل گیا ۔باہر رمضان ماما،رب نواز اور خاندان کے ایک دو اور لوگوں کی آوازیں آئیں۔پینو کا سسر کمرے سے باہر صحن میں آنے والی آوازوں کی جانب چلا گیا تو پینو نے بالی کا ہاتھ پکڑا اور روتے ہوئے بولی تم بتاؤ بالی کیا میں ایسی ہوں۔بالی خدا کی قسم میں اس شخص کو نہیں جانتی ۔میں پاک ہوں مجھے اس اللہ سائیں کی قسم جس نے مجھے پیدا کیا ہے میرے تو خواب میں بھی تیرے سوا کوئی نہیں آتا۔بالی جو پہلے سکتے میں تھا ایک دم سے پینو کو گلے سے لگایا اور اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے کر بولا مجھے پتا ہے میری پینو پاک ہے ۔مجھے پتا ہے یہ سب جھوٹ ہے ۔تم فکر نہ کرو میں سمجھاؤنگا ابا سائیں کو ۔تم اندر ہی رہنا باہر مت آنا میں دیکھتا ہوں باہر کیا ہو رہا ہے۔

صحن میں پینو کا باپ ،اس کی ماں ،گھر کے باقی افراد اور رمضان ماما تھے۔ شور بڑھ رہا تھا ۔پینو کی ماں دہائیاں دے رہی تھی کہ امیراں کے خون سے تم لوگوں کو ٹھنڈ نہیں پڑی کہ اب میری معصوم دھی کے پیچھے پڑ گئے ہو ۔پینو کا باپ بھی دبی سی ذبان میں کہہ رہا تھا میری دھی ایسا نہیں کرسکتی۔اس نے پینو کے سسر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کیوں ادا کیا تمہیں یقین ہے کہ پینو گنہگار ہے اس کی جگہ پینو کی ساس بولی ارے میرا مٹھڑا بھرا ( سوئیٹ بھائی) پینو دھی ایسی نہیں ہے میں تو صبح سے قسمیں کھا رہی ہوں۔ارے ظلم نہ کماؤ۔بس کرو یہ دھرتی بھی پناہ مانگتی ہے ۔بالی نے اونچی آواز میں کہا بس بہت ہوگیا خبردار میری ذال (بیوی) کے بارے میں اب کسی نے بات کی تو ۔وہ کالی نہیں ہے اور اس کے قتل کی میں ہرگز اجازت نہیں دونگا۔اس کو قتل کرنے کے لئے تم لوگوں کو میری لاش سے گزرنا ہوگا۔ اللہ وسایا نے رمضان چاچا کی طرف دیکھا جو پہلے ہی حیرانگی سے بالی کو دیکھ رہا تھا ایک دم سے سانپ کی طرح پھنکار کر بولا اوئیے میں تو تجھے بڑا غیرت مند سمجھتا تھا تو تو نرا بے غیرت نکلا، ایک عورت کی چال میں آگیا۔ تجھے پتا بھی ہے تو کیا بکواس کر رہا ہے ۔ہاں مجھے پتا ہے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔ نہیں چاہیئے مجھے غیرت مندی کا تمغہ ۔پینو میری بیوی ہے میں ہی اس کا فیصلہ کرونگا اور یہ میرا فیصلہ ہے کہ پینو بے گناہ ہے ۔بالی دکھ اور غصے سے کانپ رہا تھا کیونکہ وہ پینو سے نہ صرف بے تہاشا محبت کرتا تھا بلکہ اس پر بھروسہ کرتا تھا ۔اللہ وسایا غصے سے چلایا ۔اوئے بالی تجھے شرم نہیں آتی چاچے کے سامنے کیا بکواس کر رہا ہے ۔

پینو کمرے میں ڈر کے مارے کانپ رہی تھی ۔باہر شور تھا اور مختلف آوازیں آرہی تھیں ۔۔پینو پاک ہے۔۔۔نہیں وہ کالی ہے۔۔۔اسے ماریں گے۔۔۔میں ایسا نہیں ہونے دونگا۔۔۔۔خاندان کی عزت کا سوال ہے۔۔۔۔میں کچھ نہیں جانتا ۔۔۔۔۔میری دھی بے گناہ ہے۔۔۔۔وہ شخص اس کا آشنا تھا۔۔۔۔آہ اللہ سائیں تو کہاں ہے۔۔۔کالی۔۔۔گنہگار۔۔۔نہیں معصوم۔۔۔پاک۔۔۔دودھ کی طرح پاک ۔۔۔۔کالی نہیں ۔۔۔نا پاک نہیں ۔۔۔۔سنگسار کریں گے۔۔۔سردار کے حوالے کریں گے۔۔۔۔ماریں گے ۔۔۔نہیں مارنے دونگا۔۔۔کالی ہے۔۔۔وہ میری ہے۔۔۔مجبور ہیں پتر ان کی بات مان لو۔۔۔اور اب اقبال کے چیخنے کی آوازیں ۔۔۔پینو نے کانوں میں انگلیاں ڈال دیں۔اسے امیراں یاد آرہی تھی ۔ہائے اس کی بھی تو کسی نے نہیں سنی تو پھر میری اور بالی کی کون سنے گا ۔۔میرا انصاف یہ لوگ کیسے کریں گے ۔یہ منصف تو خود کتنے بے گناہوں کے خون سے نہائے ہوئے ہیں۔میں کیا کروں اللہ سائیں ۔سنا ہے تو منصف ہے ۔تو صحیح فیصلہ کرتا ہے ۔تو میرا فیصلہ کر ۔۔آ جا نا ان لوگوں کو بتا کہ میں بے گناہ ہوں ۔۔میں کالی نہیں ہوں ۔۔میں بدکردار نہیں ہوں۔۔اللہ سائیں تو کہاں ہے ۔۔اللہ سائیں میں تجھے پکار رہی ہوں۔۔مجھے جواب دے ۔۔اچانک اس کی نظر سامنے بنی سفیل (شیلف)پر پڑی جہاں قرآنِ پاک لال اور سنہرے غلاف میں تھا ۔پینو نے جھٹ سے قرآن کو اٹھا یا اور گلے سے لگایا اور چوم کر آنکھوں سے لگایا اور قرانِ پاک کو اپنے ہاتھوں میں لے کر کہا ہاں میرا فیصلہ قرآن کرے گا۔قرآن فیصلہ کرے گا ۔۔میرے پاس اپنی بے گناہی کا کوئی ثبوت نہیں لیکن میری گواہی قرآن دے گا ۔۔
(کیا بالی دھو پائے گا پینو پر لگائے گئے الزام کو اگلی قسط میں پڑھیں)
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1949 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Azra Faiz

Read More Articles by Azra Faiz: 37 Articles with 28519 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
میں روز ایک بار دن ضرور یہ پیج اوپن کرتا ہوں کہ شائد آج قسط اپلوڈ ہوئی ہو.....
By: Dil nawaz, Peshawar on Jan, 08 2020
Reply Reply
2 Like
sorry, Insha Allah very soon you will read the next episodes.
By: azra faiz, wah on Jan, 16 2020
0 Like
Still waiting for episode 6
By: Dil nawaz, Peshawar on Jan, 06 2020
Reply Reply
3 Like
6 قسط کب ہے اللہ کا بندہ بتا ہی دے اب
By: Dil nawaz, Peshawar on Dec, 27 2019
Reply Reply
1 Like
Next Episode kab ha please koye bta dy
By: Dil nawaz, Peshawar on Dec, 27 2019
Reply Reply
9 Like
Next plzzz
By: Dil nawaz, Peshawar on Dec, 27 2019
Reply Reply
0 Like
Language: