اب امریکی امداد کب آئے گی ۔؟

(Umer Farooq, )

نائن الیون کے واقعہ کے بعد جہاں امریکہ نے افغانستان پرحملہ کیاتواس کے ساتھ پاکستان پربھی یلغارکی ، پاکستان کی مذہبی قوتوں اوردینی مدارس کونشانے پررکھ لیا امریکہ کوپرویزمشرف جیساکٹھ پتلی حکمران مل گیا جس نے بھرپورطریقے سے امریکی ایجنڈے کی تکمیل میں تعاون کیا مذہبی قوتوں کے خلاف اس مہم میں امریکہ اوریورپی ممالک نے بھرپورمالی اورعسکری مددفراہم کی ،استعماری طاقتوں نے اپنی تجوریوں کے منہ کھول دیئے اورپوری دنیاکویہ بیانیہ دیاکہ مذہبی جماعتیں ،دینی مدارس ،داڑھی اورپگڑھی والے دہشت گرد،شدت پسند،انتہاپسند ہیں یہ پوری دنیاکے لیے خطرہ ہیں اوران کی نرسریاں پاکستان میں ہیں ان کاخاتمہ ضروری ہے طرفہ تماشایہ تھاکہ نائن الیون کے واقعہ سے ذراپہلے یہ سب پرامن اورمجاہدتھے ۔

اس یلغارکے نتیجے میں ڈرون حملوں کے ساتھ بڑی تعدادمیں غیرملکی این جی اوزنے بھی پاکستان کارخ کیا جنھیں یہ مشن سونپاگیا کہ وہ ملک کی نظریاتی وفکری سرحدوں کوتبدیل کریں، اس کے لیے انہیں کتنے فنڈزدیئے گئے ؟اس حوالے سے گزشتہ سال ایک رپورٹ میری نظرسے گزری تھی جس میں بتایاگیاتھا کہ پاکستان نے 2001 سے لیکر اب تک مختلف معاہدوں کی رو سے عوامی امداد کی مد میں 5 ارب 32 کروڑ ڈالر کی رقم حاصل کی۔ اس کے علاوہ امریکہ نے پاکستان کے ساتھ 10۔2009 میں کیری لوگربل کامعاہدہ کیاتھا کیری لوگر بل کے تحت امریکا نے پاکستان کے سرکاری اداروں اور غیر سرکاری اداروں (این جی اوز)کے لیے عوامی امداد کی مد میں مجموعی طور پر 7 ارب 50 کروڑ ڈالر اور سالانہ ایک ارب 50 کروڑ ڈالر دینے کا وعدہ کیاتھا

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے 2001 سے 2007 کے عرصے میں عوامی امداد کی مد میں ایک ارب 64 کروڑ ڈالر امداد وصول کی،اسی حوالے سے پاکستان نے 2006 میں 37 کروڑ 70 لاکھ ڈالر،2005 میں 32 کروڑ 90 لاکھ، 2004 میں 7 کروڑ 40 لاکھ ڈالر، 2003 میں 5 کروڑ ڈالر اور 2002 میں ایک کروڑ 60 لاکھ ڈالر، 2001 میں 36 کروڑ ڈالرز وصول کیے۔مذکورہ تمام ادوار میں ملنے والی رقم میں کہیں بھی عسکری امداد یا کولیشن فنڈز کی مد والی رقوم شامل نہیں تھیں۔ امریکی سویلین فنڈز کا 65 فیصد حصہ غیر سرکاری اداروں کو ملا۔امریکا کی جانب سے عوامی امداد کی مد میں این جی اوز کو ملنے والے فنڈز کی رقم 3 ارب 30 کروڑ ڈالر جبکہ سرکاری اداروں کو 2 ارب 2 کروڑ ڈالر ملے۔امریکا نے معاہدہ کیا تھا کہ کل امداد کا 42 فیصد حصہ سرکاری اداروں جبکہ 58 فیصد حصہ غیر سرکاری اداروں پر خرچ کرے گا لیکن امریکا نے غیر سرکاری اداروں (این جی اوز) پر معاہدہ سے زیادہ خرچ کیا۔

یہ عوامی امدادکہاں خرچ ہوئی کس طرح خرچ ہوئی اس کاشایدکوئی حساب نہ دے البتہ امریکہ اوراس کے اتحادیوں نے این جی اوزکے لشکرکے لشکرپاکستان میں داخل کیے جنھیں تجوریاں بھربھرکرڈالرزدیئے گئے ،یہ توچنداعدادوشمارحاصل ہیں ورنہ ہمارے ملک میں پھیلی ہوئی ان غیرسرکاری تنظیموں نے کتنے فنڈزلیے کہاں خرچ کیے ان کے مقاصدکیاتھے یہ ایک طویل کہانی ہے ، اس سارے عرصے میں این جی اوزکاکاروبارخوب پھلاپھولا،رواداری ،اعتدال پسندی،بین المذاہب ہم آہنگی ،بین المسالک ہم آہنگی ،نئے بیانیے کی تشکیل ،مدارس کے نصاب سے شدت پسندی وانتہاپسندی کے خاتمے کے عنوانات کوزبان زدعام کیاگیا ایک مہم کے طورپریہ ساراکام کیاگیا جن،، اہل نظر،،کویہ بات سمجھ آگئی وہ کامیاب ٹھرے اورجوکوتاہ نظرڈالرزکے لین دین کوحرام سمجھتے رہے وہ نامرادٹھرے ،جنھوں نے مرادپائی وہ سائیکل سے قیمتی گاڑی پرآگئے اورجومحروم رہے وہ اخلاص پرگزارہ کرتے رہے۔جبہ وقبہ والوں کو واشنگٹن ڈی سی کے دورے کروائے گئے ، ان دورں کاسلسلہ اب بھی جاری ہے ،انہیں یہ باورکروانے کی کوشش کی گئی آپ کس دقیانونسی دنیامیں جی رہے ہیں ،باہرنکلیں اوردیکھیں دنیاکتنی ترقی کرگئی ہے ۔

اس کے مقابلے میں عوامی چندوں پرچلنے والے یہ داڑھی وپگڑی والے اوران کے مدارس تھے ،ایک طرف ڈرون حملوں اورڈیڑی کٹربموں سے ان کے چیتھڑے اڑائے جارہے تھے تودوسری طرف مدارس میں کرکٹ مقابلے کروائے جارہے تھے ایک طرف جعلی مقابلوں میں داڑھی والوں کوپارکیاجارہاتھا تودوسری طرف فائیوسٹارہوٹلوں میں مخلوط اجتماعات منعقدکرکے ان کے زخموں پرمرہم رکھا جارہاتھا ایک طرف لال مسجدمیں معصوم طلباء وطالبات کوامریکہ کی خوشنودی کے لیے گولیوں سے بھوناجارہاتھا تودوسری طرف نئے مذہبی بیانیے تشکیل دیئے جارہے تھے ، ،ایک طرف مذہبی جماعتوں پرپابندیاں عائدکی جارہی تھیں تودوسری طرف مذہبی وفود کے تبادلے کیے جارہے تھے،ایک طرف اہل مدارس کوتضحیک کانشانہ بنایاجارہاتھا تودوسری طرف پرفضامقامات پر بندکمروں میں ان کیمرہ اجلاس منعقدکیے جارہے تھے ،ایک طرف پروپیگنڈہ تھا کہ مذہبی انتہاپسندی پھیل رہی ہے اس کاخاتمہ ضروری ہے تودوسری طرف چندنام نہادمولویوں کوجمع کرکے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کریکجہتی کی تصاویربنواکراہتمام سے شائع کی جارہی تھیں ،ایک طرف موم بتی مافیاکوسامنے لایاجارہاتھا تودوسری طرف چندمولویوں کومدارس کے خلاف مظاہرے کے لیے ڈالرزدیے جارہے تھے ۔

ایک طرف مدرسہ تھا تودوسری طرف کلیساتھا ایک طرف مسجدتھی تودوسری طرف مندرتھا گزشتہ تقریبا بیس سالوں میں امریکہ نے پاکستان سے شدت پسندی کے خاتمے کے لیے بھرپورانویسٹمنٹ کی ، کاروباری مولویوں نے بھی حکمرانوں کی طرح امریکی ڈالروں سے خوب فائدہ اٹھایا ، جعلی پروگرامات ،جعلی بیانیئے ،جعلی اتحادکے مظاہرے کیے گئے دینی مدارس کوان ڈالرزسے نہ پہلے کوئی سروکارتھا نہ آئندہ ہے وہ نہ پہلے شدت پسندی میں مصروف تھے نہ آئندہ ہوں گے ان کانہ پہلے انتہاپسندی سے تعلق تھا اورنہ آئندہ ہوگاالبتہ چندلوگوں کی دوکان خوب چلی جواب بھی چل رہی ہے۔

ہم مدارس سے انتہاپسندی ،شدت پسندی ختم کرتے رہے جبکہ یہ وباپورے معاشرے میں سرایت کر گئی پورامعاشرہ شدت پسندبن گیاہے ساری سوسائٹی انتہاپسندی کی شکل اختیارکرچکی ہے ،سیاستدانوں سے لے کروکلاء تک ،ڈاکٹروں سے لے کرججوں تک ،پولیس والوں سے لے کربیوروکریٹوں تک ،کاروالے سے لے کرریڑھی والے تک ،طالب علم سے لے کراستادتک شدت پسندی پھیل گئی ہے ، ملک کے ہرطبقے کی آنکھوں میں خون اتراہواہے ،آپ دوکاندارسے بات کرکے دیکھ لیں ،ٹیکسی والے سے بحث کرکے دیکھ لیں ،ریڑھی والے سے بھاؤتاؤکرکے دیکھ لیں ،پولیس والے کے سامنے ،،کیوں ،،کرکے دیکھ لیں ،بیوروکریٹ سے سوال پوچھ کردیکھ لیں ،

لاہورمیں وکلاء کاہسپتال پرحملہ ہویااسلامی یونیورسٹی میں ایک طلباء جماعت کادوسری طلباء جماعت کے اجتماع پرحملہ ہو،سانحہ ساہیوال ہویانقیب اﷲ محسودکاقتل ہو،ڈاکٹروں کے ہاتھوں مریضوں کی پٹائی ہویاپولیس کے ہاتھوں بے گناہ شہریوں پرتشدکامعاملہ ہو،وزیراعظم عمران خان ،وزیرریلوے شیخ رشیدکی جلاؤگھیراؤوالی تقاریرہوں یاراناثناء اﷲ جیسے سیاستدانوں پرسیاسی حکومتوں کے جھوٹے مقدمے کی بات ہو،عدالتوں سے قاتل کے بری ہونے پرسیالکوٹ کی بوڑھی ماں کااقدام ہویازیادتی کے بعد معصوم بچیوں کابے دردی سے قتل ہوسیاستدانوں کی ایک دوسرے کے خلاف نفرت انگیززبان ہویاسرکاری اداروں کاسیاسی مقاصدکے لیے استعمال ہو،یہ سب کچھ کیاہے یہ شدت پسندی نہیں تواورکیاہے ؟

امریکہ اگرہمارااتناہی خیرخواہ ہے تومعاشرے میں پھیلی ہوئی اس شدت پسندی کے خاتمے کے لیے آگے بڑھے ،کسی مالی امدادیاسپورٹ فنڈزکااعلان کرے ،سوسائٹی میں پھیلے ہوئے انتہاپسندی اورشدت پسندی کے اس ناسورکے خاتمے کے لیے کوئی اجتماع ،کوئی پروگرام ،کوئی تقریب منعقدکرے ،وکیلوں ،ڈاکٹرز،سیاستدانوں ،سرکاری اہلکاروں ،سکولوں ویونیورسٹیوں کے طلباء واساتذہ کے لیے بھی کسی ٹریننگ کسی کورس کااہتمام کرے،ان کانصاب بھی تبدیل کرنے کی کوئی مہم شروع کرے ،ہم دامن پھیلائے بیٹھے ہیں کہ کب امریکی امدادآتی ہے ؟اس کے ساتھ ساتھ اپنے حکمرانوں سے بھی گزارش ہے کہ ایک آپریشن راہ راست ،ایک آپریشن ضرب عضب،ایک نیشنل ایکشن پلان ادھربھی ہوجائے ،

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 312 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umer Farooq

Read More Articles by Umer Farooq: 49 Articles with 9804 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: