" />

ھمارا الیکٹرانک میڈیا اور معاشرتی ھیجان

(Rao Anil Ur Rehman, Lahore)
میرا یہ مضمون ایک انگریزی اخبار میں گذشتہ دنوں چھپا۔ میں نے مناسب سمجھا کہ یہ ایک بحث طلب موضوع ھے اسے اردو میں ترجمہ کرکے "ھم سب" برقیاتی مجلے میں بھیجا جاۓ تاکہ اس موضوع پہ مناسب بحث ہو سکے۔ لیکن الیکٹرانک میڈیا کے خوف سے وجاہت مسعود ( جو اچھل اچھل کر معاشرتی بیگاڑ پہ کالم لکھتے ھیں) دبک گۓ۔

ھمارا الیکٹرانک میڈیا اور معاشرتی ھیجان

میرا یہ مضمون ایک انگریزی اخبار میں گذشتہ دنوں چھپا۔ میں نے مناسب سمجھا کہ یہ ایک بحث طلب موضوع ھے اسے اردو میں ترجمہ کرکے "ھم سب" برقیاتی مجلے میں بھیجا جاۓ تاکہ اس موضوع پہ مناسب بحث ہو سکے۔ لیکن الیکٹرانک میڈیا کے خوف سے وجاہت مسعود ( جو اچھل اچھل کر معاشرتی بیگاڑ پہ کالم لکھتے ھیں) دبک گئے۔

گزری دھائی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں واقعات سے بھر پور دھائی کے طور پہ یاد رکھی جاۓ گی۔ دو منتخب حکومتوں نے اپنی حکومتی مدت پوری کی۔ یہ بھی حقیقت رھی کہ دونوں حکومتی جماعتیں کو دوران حکومت دشوار راستوں پہ اپنا سفر طے کرنا پڑا۔ ان پہ ماضی میں کی گئی غلطیوں کا بوجھ بھی تھا۔ نوے کی دھائی دو بڑی سیاسی جماعتوں کا ایک دوسرے پہ عدم اعتماد ، ایک دوسرے کو نیچا دیکھانا اور ملک کی مستقل قائم طاقت کے گن گانا جیسے سیاسی اعمال کے رو پذیر ھونے کی وجہ سے یاد رکھی جاۓ گی۔
جب گذشتہ دنوں میں پاکستان کے سیاسی افق پہ ھونے والے واقعات پہ نظر رکھنے والے دوستوں سے پاکستان میں نئے سوشل کنٹریکٹ کی ضرورت پہ بات کر رھا تھا تو سب نے یک زباں ھوے کہا کہ وہ تو ھو چکا اور اٹھارویں آئینی ترمیم اس کا واضع ثبوت ھے۔ اٹھارویں آئینی ترمیم بظاہر سیاست کے ٹھہرے پانی میں ارتعاش تھا۔

لیکن سیاسی میدان میں ان کامیابیوں کے با وجود الیکٹرانک میڈیا کے توسط سے لوگوں میں ملک میں جاری سیاسی عمل سے بیزاری پیدا کی گئی اور یوں ھمارا الیکٹرانک میڈیا جھوٹ کو ھوا دینے لگا۔ اس طرح لوگوں کی حقیقی سیاسی مرضی کو جھوٹی خبروں سے گدلا کر لوگوں کو نئے قبائلی نظام کے طابع کر دیا۔ جس کا اصول ھے ' یا تو تم ھمارے ساتھ ھو اور ھم سے متفق ھو یا پھر تمہاری سیاسی راۓ کی کوئی وقعت نہیں۔'

ھمارے ملک میں الیکٹرانک میڈیا کے اس کردار کو سمجھنے کیلئے پاکستان کی موجودہ سیاسی تاریخ کے دو واقعات تحقیق کرنے والوں کیلئے اھم ھیں۔ اور تحقیق کا نتیجہ امکان غالب ھے کہ یہ ھو کہ الیکٹرانک میڈیا نے لوگوں کے ذہنوں میں صرف الجھنیں ھی پیدا کی ھیں۔

لال مسجد کے ھنگاموں کو ھم نے براہ راست دیکھا کہ جب مدرسے کے طالب علم ھاتوں میں ڈنڈے لئے ھمارے دارالخلافہ کی سڑکوں پہ دندناتے پھر رھے تھے۔ اور یہ سب مناظر پاکستان کے دور دراز علاقوں میں بھی براہ راست دیکھے جا رھے تھے۔

فساد کے شروع میں ٹی وی اینکروں کی بڑی تعداد واویلا کر رھی تھی کہ بھر پور قانونی حکمت عملی اختیار کرتے ھوۓ ھنگامے سے نبٹا جاۓ۔ اور جب ایکشن لیا گیا تو سب ٹی وی پہ لیۓ گیۓ ایکشن کو طاقت کا ناجائز استعمال کہہ کر آہ و فغاں کرنے لگے۔ کچھ اینکروں کے تو آنسو تھمنے کا نام نہ لیتے تھے۔

نام نہاد وکلا تحریک کے دوران جسٹس افتخار چودھری کو آزادی اور قانون کی حکمرانی کے نمائندے کے طور پہ پیش کیا گیا۔ اپنی ٹوپیوں میں فتح کے پر سجاۓ کچھ اینکروں اور وکلا نے بعد میں کافی مالی فوائد بھی حاصل کیۓ۔

جب جسٹس چودھری بحال ھوۓ تو اس نے متوازی حکومت کی بنیاد ڈال دی اور چھپے لفظوں وہ ملک کا چیف ایگزیکٹو بن بیھٹا۔ کسی مہذب معاشرے میں ایسے فعل کو غیر قانونی قرار دیا جاتا۔ لیکن ھمارے الیکٹرانک میڈیا نے تو اسے قوم کا نجات دہندہ بنا دیا تھا۔

یہ دو واقعات ھمیں اس نتیجے پہ پہچنے میں مدد دیتے ھیں کہ الیکٹرانک میڈ یا معاشرے میں دبے طبقات کی معاشرتی حالت سدھارنے کے بلند باگ دعووں کے باوجود معاشرے میں نظام کہنہ کو مظبوط و مربوط کرنے میں ممد و معاون ھے۔

الیکٹرانک میڈیا معاشی 'ھٹ مین' کا بھی کردار ادا کرنے لگا۔ کچھ ٹی وی صحافیوں کو کچھ نادیدہ ھاتھ سرکاری اہلکاروں کے نام نہاد سکینڈل کی دفتری فائیلیں تھما دیتے ھیں۔ وہ فائیلیں نا مکمل پروجیکٹ کی ھوتی ھیں جن پہ افسر شاھی پروجیکٹ کی افادیت پہ غور و خوص کر رھی ھوتی ھے۔ میڈیا اس طرح لوگوں کے ذہنوں میں الجھن پیدا کرتا ھے کہ صرف اور صرف ھماراحکومتی نظام ،ایک ادارے کے علاوہ، معاشرے کے بیگاڑ سبب ھے۔ حال ھی میں آپ نے الیکٹرانک میڈیا کی ایک بڑی شخصیت ، (جس نے اسلام آباد کے سیکٹر آئی 20 کے نا مکمل ھاو ±سنگ پروجیکٹ پر شور و غل ڈالا تھا) کی ھاو ±سنگ کے وفاقی وزیر طارق بشیر کے ھاتھوں درگت بنتے دیکھی ھوگی کہ جس کے بعد مایہ ناز اینکر ذاتیات پہ اتر آۓ۔

اس طرح کا غیر ذمہ دارانہ رویہ گورننس کو تہہ و بالا کر دیتا ھے ، اس طرح لوگ ، جو حکومت کرنے کے آسمانی حق کو یکسر مسترد کرتے ھوۓ اپنے حکومت کرنے کے حق سے رضاکارانہ دستبردار ھوتے ھیں ( اگر آپ حکومتوں کے بننے سے متعلق سوشل کنٹریکٹ کے نظریات کو مانتے ھیں) معاشرتی لا قانونیت کو ایک سیاسی حربہ سمجھتے ھیں۔

اب آئیے جھوٹی خبروں کی جانب۔ ' جھوٹی خبریں جان بوجھ کے لوگوں کو گمراہ کرنے اور دھوکہ دینے کیلئے گھڑی جاتی ھیں۔' کچھ مہینوں پہلے جب نواز شریف شدید بیمار تھے اور ھسپتال میں داخل تھے ایک مشہور نیٹ ورک کے اینکر نے ڈھٹائی سے یہ خبر دی کہ شہباز شریف اپنے بیمار بھائی کیلئے سری پاۓ لے جاتے ھوۓ پاۓ گئے جب کہ وہ شدید بیمار تھے۔ کتنی لغو بات ھے۔ لیکن کسی اور کو اسے برا بھلا کہنے کی سکت نہیں ھوئی۔ اینکرز ایک دوسرے کو تحفظ دیتے ھیں۔ اور یہ بات ھمارے معاشرے میں نئے قبائلی نظام کی عکاسی کرتی ھے۔

لوگوں کا یہ بنیادی حق ھے کہ انہیں صیعیح معلومات دی جائیں لیکن اس حق کی ھمارے الیکٹرانک میڈیا پہ نفی کی جاتی ھے۔ لوگ آپ پہ اعتماد کرتے ھیں اور ان کے اعتماد کی دھجیاں ا ±ڑائی جاتی ھیں۔
ھمارا غیر ذمہ دار میڈیا لوگوں میں ریاست پہ بے یقینی پیدا کر رھا ھے۔ اور یہ ھمارے ھاں نہ سنبھلنے والے معاشرتی ھیجان کا سبب ھوگا۔

کیا الیکٹرانک میڈیا کے ذمہ دار اس بات پہ غور کرنے کیلئے مل بیھٹیں گے کہ انہوں نے معاشرے کا کیا حشر کر دیا؟

محمد سعید آختر
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 202 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rao Anil Ur Rehman

Read More Articles by Rao Anil Ur Rehman: 86 Articles with 113679 views »
Learn-Earn-Return.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: