واٹر گیٹ اسکینڈل

(Shahrukh hussain siddiqui, Karachi)

واٹر گیٹ اسکینڈل امریکہ کی تاریخ کا بدترین سیاسی اسکینڈل تھا۔ اس اسکینڈل کا آغاز واشنگٹن میں 17 جون 1972 میں ہوا جب پانچ آدمی جمہوری پارٹی کے دفتر کو توڑنے میں گرفتار ہوئے تھے اوراس کا اختتام 9 اگست 1974 میں ہوا جب صدر رچرڈ نکسن نے استعفیٰ دیا۔

واٹر گیٹ کا نام کہاں سے آیا؟ جب کوئی واٹر گیت کہتا ہے تو وه در اصل واٹر گیٹ اسکینڈل کا حوالہ دے رہا ہوتا ہے۔ واٹر گیٹ کا نام واشنگٹن میں موجود ایک عمارت سے نکالا ہے جسے واٹر گیٹ کمپلکس کہتے ہیں۔ اس جمہوری پارٹی کے ہیڈکوارٹر، دفتر اس عمارت میں تھے۔ کچھ لوگ جو یہ چاہتے تھے کہ صدر رچرڈ نکسن دوباره صدر کی حیثیت سے منتخب ہوں ۔ وه جمہوری پارٹی کی جاسوسی چاہتے تھے 11 مئ 1972 میں یہ پارٹی دفتروں میں نوٹ گئی خوفیہ دستاویزات کی تصویریں لیں گئی اور فون کی تاریں نکال لیں گئیں۔ پہلی دفع تو وه اس میں کامیاب ہو گئے۔ لیکن دوبارہ 17 جون 1972 میں اس وقت یہ پانچ افراد پکڑے گئے اور ان کو گرفتار کر لیا گیا صدر رچرڈ نکسن اور اسکا عملہ شدت سے کوشش کر رہے تھے کہ اس ناجائز طور پر داخلے کی پرده پوشی کر لی جائے اور نکسن نے کسی بھی قسم کی سرگرمیوں کی معلومات سے انکار کر دیا تھا۔ وه انتخابات کے ذریعے اپنا نام اسی اسکینڈل سے باہر رکھنا چاہتے تھے۔ اور نومبر 1972 میں دوباره صدر منتخب ہونا چاہتے تھے۔

واشنگٹن پوٹ اخبار کے دو رپورٹرز باب اور کال دونوں چوری کی تفتیش کر رہے تھے ان کے پاس زرائع موجود تھے جس نے انہیں بتایا کہ صدر رچرڈ نکسن شامل تھے۔ اس نے چوروں کو چپ رہنے کے لیے خفیہ رقم دی اور اس نے ایف بی ائی کو تفیشی سے روکنے کے لیے سی ائی اے کا استعمال کیا۔ بڑھتے ہوئے شک کے باوجود صدر رچرڈ شامل رہا اس کا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا۔ اور کانگریس کو اسے الزام دینے کے لیے اچھی گواہی کی ضرورت تھی۔ تفتیش کرنے والوں نے نکسن سے ٹیپ کا پوچھا تو اسی نے انکار کر دیا پھر سپریم کورٹ کے حکم پر وه ٹیپ سامنے رکھ دیے اور یہ ٹیپ سگریٹ نوشی بندوق سموکنگ گن تھے اس سے کم از کم یہ ثابت ہو گیا تھا کہ صدر نکسن ناجائز داخل میں شامل تھا۔ سموکنگ گن کے سامنے آتے ہی صدر نکسن کا کیریئر تباه ہو گیا۔ کانگریس نے اس پر الزام لگایا۔ بجائے اس کے وه انکار کرتا اس نے استعفی دے دیا 9 اگست 1974 میں۔ رچرڈ نکسن امریکہ کی تاریخ کے پہلے صدر تھے جنہوں نے دفتر سے استعفیٰ دیا تھا۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 379 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahrukh hussain siddiqui

Read More Articles by Shahrukh hussain siddiqui: 3 Articles with 799 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: