ذرائع ابلاغ کا دیمک زدہ ستون

(Dr Salim Khan, India)

۱۹۸۴؁ کے اندر ممبئی میں فساد ہوا ۔ اس وقت بال ٹھاکرے کا طوطی بولتا تھا اور ایسے میں ٹائمز آف انڈیا نے ایک حیرت انگیز سرخی لگائی ’’دنگا کرنے والے ہمارے آدمی ہیں‘‘۔ بال ٹھاکرے کے حوالے سے یہ خبر راجدیپ سردیسائی نام کے نوجوان صحافی سےنکلی تھی ۔ ۲۰۰۲؁ میں گجرات کے اندر فسادات ہوئے تو این ڈی ٹی وی کےلیے جرأتمندانہ رپورٹنگ کا کام بھی اسی راجدیپ سردیسائی نے کیا تھا ۔ این ڈی ٹی وی سے الگ ہوکر انہوں نے اپنا آئی بی این ، سی این این نام کا چینل شروع کیا ۔ ۲۰۱۴؁ کے قومی انتخاب سے قبل اس چینل کو مکیش امبانی نے خرید لیا ۔ راجدیپ سردیسائی نےاس پر احتجاج کیا اور آزاد میڈیا کی آواز دبانے کا الزام لگایا۔ اپنے تعمیر کردہ میڈیا ہاوس سے نکال باہر کیے جانے کے بعد راجدیپ سردیسائی نے انڈیا ٹوڈے کے معروف نیوز’’ آج تک‘‘ میں ملازمت اختیار کرلی اور ہنوز اس سے منسلک ہیں ۔

للن ٹاپ کے نیتا نگری پروگرام میں سوربھ دویدی نے اس بارناظرین کے سوالات کو شامل کر نے کا خوشگواراضافہ کیا ۔ اس سلسلے کا پہلا سوال راجدیپ سر دیسائی سے پوچھا گیا ۔ کسی صاحب کا استفسار تھا لوگ این آر سی اور سی اے اے( کیوں ) نہیں چاہتے اور مسلم سماج تو پچھلے بیس سالوں سے مودی کی مخالفت( کیوں ) کررہا ہے ۔ راجدیپ کا جواب تھا ’ عدم اعتماد کا ماحول ہے اس لیے حکومت کے ہر اقدام کو لوگ شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں‘ ۔ راجدیپ چونکہ سوال کا دوسرا حصہ گول کر گئے تھے اس لیے سوربھ نے سوال کو دوہراکر جواب دینے پر مجبور کیا تو راجدیپ نے اس مسئلہ کی وجہ ترسیل (communication) کی کمی بتایا اور حکومت کو تلقین کی کہ وہ عوام سے رابطہ کرکے ان کا اعتماد حاصل کرنے میں پہل ے۔ یہ جواب معقول تو ہے مگر تشفی بخش نہیں ہے کیونکہ سائل نے بہت صاف الفاظ میں پوچھا تھا کہ مسلمان اتنے طویل عرصے سے مودی کی مخالفت کیوں کررہے ہیں؟

راجدیپ سردیسائی نے چونکہ گجرات فساد کوبہت قریب دیکھا تھا اس لیے وہ مثالوں کے ذریعہ مودی کے اس رویہ کو واضح کرسکتے تھے جس نے مسلمانوں کو ان سے بدظن کردیا ہے ۔ وہ مودی کا معروف جملہ ’’راحت کیمپ‘‘ بچے پیدا کرنے کی فیکٹری بن گئے ہیں یاد دلا سکتے تھے۔ مودی راج میں کس طرح بڑودہ بیکری اور دیگر معاملات میں انصاف کی لڑائی لڑنے والوں کا جینا دوبھر کردیا گیا یہ بتا سکتے تھے۔ اٹل جی کو کیوں انہیں راج دھرم پالن کرنے کی تلقین کرنی پڑی اس کی وجہ بھی بیان کر سکتے تھے۔ عشرت جہاں معاملے میں قاتلوں کی جس طرح پذیرائی کی گئی اس کو پیش کیا جا سکتا تھا ۔ وزیر اعظم بننے کے بعد ٹائم میگزین کو دیئے جانے والے انٹرویو میں’ کتے کے بچے کا گاڑی کے نیچے آجانے والی مثال کا تذکر ہ ہوسکتا تھا اور سائل سے سوال کیا جاسکتا تھا کہ کیااس معاندانہ سلوک کے بعد حمایت کی توقع کرنا درست ہے ؟ نیز اگر خود مودی کومسلمانوں کی پرواہ نہیں ہے سائل کیوں پریشان ہے اور مسلمانوں کو فکر کیوں ہو؟ ایسا لگتا ہے کہ فی الحال راجدیپ جیسے صحافیوں کو حق گوئی کے مقابلے اپنی ملازمت اور ترقی زیادہ عزیز ہے۔

وطن عزیز میں بہت سارے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو مودی سے ازلی دشمنی کیوں ہے؟ اس سوال کے جواب میں ہم بھی اکثر مشتعل ہوکراوٹ پٹانگالزامات لگانے لگتے ہیں ۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ اسفسار کو موقع غنیمت جان کراپنا موقف اس طرح پیش کیا جائے کہ مخالطب کی مخالفت حمایت میں بدل جائے یا کم ازکم درست تناظر میں اس کے سامنےحقیقت آ جائے۔ مثلاً اس کو بتایا جائے ہر باشعور اور صحتمند سماج میں نظریاتی و عملی اختلافات ہوتے ہیں۔ ان میں سے اکثر ردعمل ہوتا ہے مثلاً مہاراشٹر کا مسلمان ایک طویل عرصے تک ادھو ٹھاکرے کا مخالف تھا اب نہیں ہے اس لیے کہ ادھو نے اپنا رویہ تبدیل کردیا۔ اس لیے جس رویہ کی مخالفت تھی وہ بدلا تو ردعمل بھی تبدیل ہوگیا۔

اسی طرح یہ سوال بھی کیا جاسکتا ہے کہ گاندھی سے بڑے رہنما تھے یامودی ہیں؟ خود مودی بھی گاندھی کا احترام کرتے ہیں اس کے باوجود پچھلے سو سالوں سے ہندو مہا سبھا اور آر ایس ایس گاندھی جی کی مخالفت کررہا ہے۔ مسلمانوں کی مانند ان سے یہ توقع کیوں نہیں کی جاتی کہ وہ اپنے نقطۂ نظر کو تبدیل کرکے گاندھی بھکت بن جائے ۔ کبھی کبھار تقاریر میں گاندھی جی سے عقیدت کا زبانی اظہار تو ہوجاتا ہے لیکن پھر ناتھو رام گوڈسے کو مہان دیش بھکت سمجھنے والی سادھوی پرگیا کو رکن پارلیمان بنادیا جاتا ہے۔ وہ سڑک سے ایوان تک گوڈسے کی تعریف میں رطب اللسان رہتی ہیں اس کے باوجود ان پر کوئی خاطر خواہ کارروائی نہیں ہوتی ۔ ہندو مہاسبھا ہر سال گاندھی جی کے قتل پر علی الاعلان خوشی مناتے ہوئے گوڈسے کو خراج عقیدت پیش کرکے گاندھی کے پتلے پر گولی چلا کر ا س کی ویڈیو بنا کر مشتہر کرتاہے ۔ ان سے اپنے رویہ میں تبدیلی کامطالبہ کیوں نہیں کیا جاتے؟ اس طرح کے سوالات سے دشمن سوچنے پر مجبور ہوسکتا ہے اور دوست بھی بن سکتا ہے ورنہ امکان یہ ہے کہ ہم اپنے دوستوں کو دشمنوں کی صف میں ڈھکیل دیں۔

یہ تو ایک جملۂ معترضہ تھا جو اتفاق سے درمیان میں آگیا اب للن ٹاپ کی نیتا نگری میں چلیں تو وہاں سوربھ سے بھی سوال کیا گیا کہ کیا وہ پڑوس کے تین ممالک سے آنے والے غیر قانونی گھس پیٹھیوں (دراندازوں) کے حامی ہیں ؟ تو اس کا دوٹوک جواب سوربھ نے یہ دیا کہ وہ نہ صرف ان تین بلکہ دیگر ممالک جیسے نیپال ، بھوٹان اور برما تک سے ملک کے اندر آنے والوں کے مخالف ہیں۔ وہ مذہب کی بنیا د پر تفریق و امتیاز کے قائل نہیں ہیں۔ سوربھ نے پلٹ کر سوال کیا کہ اگر پاکستان سے کوئی ہندو مجرم ہندوستان میں آئے تو کیا آپ اسے پناہ دیں گے ؟ کسے شہریت دی جائے اور کسے نہیں یہ اس فرد کے کردار پر نہ کہ مذہب پرمنحصر ہے ۔ اس حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ملک کے تحفظ کو یقینی بنائے ۔ خاص طور پر جس پارٹی کا رہنما چلا چلا کر یہ اعلان کرتا ہے فوجی سرحد پر برے حال میں اس لیے مجھے ووٹ دو اسے تو یہ کرنا ہی چاہیے۔ راجدیپ سردیسائی کو چاہیے کہ وہ کم ازکم سوربھ سے کچھ جرأتمندی ادھار لے کر اپنی صحافیانہ ذمہ داری کو ادا کرے۔

’ آج تک‘ چینل چونکہ حکومت کا ترجمان بنا ہوا ہے اس لیے اب یہ ’دیپ‘ راج سنگھاسن کی چوکھٹ پر بجھا ہوا رکھا ہے ۔ وہ اجالے کے بجائے اندھیرا پھیلا رہا ہے ۔ راجدیپ جب ہمارے مخالفین کی مخالفت کرتا تھا تو ہمیں اچھا لگتا تھا اب چونکہ ان کی حمایت کررہا ہے اس لیے برا لگنے لگا ہے۔یہ لوگ ہمیشہ اقتدار کے باجگذار رہے ہیں ۔ بال ٹھاکرے کے خلاف جس وقت خبر بنائی گئی اس وقت مرکز اور صوبے میں کانگریس کی حکومت تھی ۔ وزیراعلیٰ نریندر مودی کو جب بے نقاب کیا گیا تو مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی یعنی سرکاری تحفظ حاصل تھا۔ مرکز میں بی جے پی کی حکومت سے خوفزدہ راجدیپ جیسے صحافی دوسروں کے لیے تو دور خود اپنی توہین کے خلاف بھی بولنے کی جرأت نہیں کر پارہے ہیں ۔ اقتدار سے حاصل ہونے والے مفادات نےان کے لبوں قفل لگا دیا ہے۔ اپنی ملازمت بچانے کے لیے وہ سرکار کی چاپلوسی کرنے لگے ہیں ۔ صحافت کی دنیا میں راجدیپ اکیلا نہیں ہے بلکہ بزدل ابن الوقتوں کی ایک فوج ہے جو حالات کے بدلتے ہی اپنا رنگ ڈھنگ بدل دیتی ہے۔ ان میں ونود دوا، رویش کمار،حسن کمال اور سوربھ دیویدی جیسی استثنائی ہستیوں نے میڈیا کا وقار بچا رکھا ہے ورنہ سیاسی نظام کے اس چوتھے ستون کو خوف اور حرص و ہوس نے پوری طرح کھوکھلا کردیا ہے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 232 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 917 Articles with 300960 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: