تقسیم کشمیر کے اقدامات !

(Athar Masood Wani, Rawalpindi)

امریکہ کی جنوبی اور وسطی ایشیائی امورکی پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ آف سٹیٹ ایلس ویلز نے انڈیا کے دورے کے بعد پاکستان کا دورہ کیا ہے۔اسلام آباد میں اپنے اعزاز میں سینیٹر انور بیگ کی طرف سے دی گئی ایک دعوت میں شرکت کے موقع پر انہوں نے امریکہ کے دلچسپی کے امور پر بات چیت کی۔امریکی وزارت خارجہ کی عہدیدار کی گفتگو سے یہ بات سامنے آئی کہ انڈیا کی یہ کوشش ہے کہ کشمیر سے متعلق اس کے حالیہ اقدامات کو ایک حقیقت تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کی طرف سے 'بیک ڈور ڈپلومیسی' کے طور پر خفیہ مزاکرات' ٹریک ٹو ڈائیلاگ' پر رضامندی ظاہر کی جائے۔پاکستانی حلقوں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اگر ایسی ' بیک ڈور ڈپلومیسی' ہوتی بھی ہے تو ایسا کسی ملک کی ثالثی میں ہونا چاہئے۔ایسا ثالث ملک امریکہ ،سعودی عرب ،یو اے ای ہو سکتے ہیں۔محض دونوں ملکوں کے بیک ڈور ڈائیلاگ کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔

ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ امریکہ کا افغانستان سے فوج نکاaلنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔دوسری طرف انڈیا کی کوشش بھی یہی ہے کہ امریکہ طالبان کے ساتھ مزاکرات نہ کرے کہ جس سے امریکہ اپنی فوج افغانستان سے نکال لے۔ان کی گفتگو سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ امریکہ کا اس وقت پاکستان سے متعلق سب سے بڑا مسئلہ چین کا معاملہ ہے۔امریکہ کی کوشش ہے کہ پاکستان میں 'بی آر آئی '(بیلٹ روڈ انشیٹیو) 'سی پیک' منصوبے پر کام آگے نہ بڑہے۔چین کے ساتھ پاکستان کی سٹریٹیجک پارٹنر شپ امریکہ کو بالکل بھی پسند نہیں۔امریکہ ' ایف اے ٹی ایف' میں پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھتے ہوئے اقتصادی،معاشی طور پر دبائو کے طورپر قائم رکھنا چاہتا ہے۔

اگر پاکستان انتظامیہ امریکی ہدایات کے مطابق ہی عمل کرتی ہے تو اس سے کشمیر کا مسئلہ تقسیم کے ذریعے حل کرنے کی انڈیا کی کوششوں کو بڑی مدد ملے گی اور پاکستان پر انڈیا کی بالادستی حتمی ہو جائے گی۔دوسری جانب جب وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کی طریقہ کار اور اس کے نتائج کو دیکھا جائے تو اس بات کے امکانات پائے جاتے ہیں کہ پاکستان کو کمزور سے کمزور پوزیشن کی طرف دھکیلتے ہوئے چین کے خلاف انڈیا کے کردار کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

آزاد کشمیر کے سابق صدر،دو بار وزیر اعظم رہنے والے اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سنیئر نائب صدر سردار سکندر حیات نے پیر کو پاکستان تحریک انصاف آزادکشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود کے ساتھ وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے ان کے دفتر میں ملاقات کی ۔ میڈیا میں شائع ٰخبروں کے مطابق سردار سکندر حیات خان نے وزیر اعظم عمران خان کو دنیا بھر میں مسئلہ کشمیر بھر پور اور موثر انداز میں اجاگر کرنے پر خراج تحسین پیش کیااور وزیر اعظم عمران خان کی قیادت پر بھر پور اعتماد کا اظہار کیا۔خبر میں یہ بھی بتایا گیا کہ وزیر اعظم عمران خان نے سردار سکندر حیات خان کو تحریک انصا ف میں شمولیت کی دعوت دی اور کہا کہ آئندہ الیکشن میں آپ کی مشاورت سے ٹکٹ دیں گے۔سردار سکندر حیات نے مشاورت کے لئے وقت مانگ لیا۔

سکندر حیات خان کی طرف سے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات بہت سے افراد کے لئے غیر متوقع اور ناخوشگوار ہے۔آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کے قیام میں سردار سکندر حیات خان کا کلیدی کردار تھا اور اس سلسلے میں کارکنوں کا پہلا اجلاس انہی کی اسلام آباد رہائش گاہ میں منعقد ہوا تھا۔'پی ٹی آئی' آزاد کشمیر کے حلقوں کی طر ف سے کہا جا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی،مسلم کانفرنس اور سردار سکندر حیات صاحب کی سربراہی میں مسلم لیگ (ن) کے فاروڈ گروپ کی ذریعے اسمبلی میں تبدیلی لائی جائے گی۔اسی حوالے سے ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ مسلم کانفرنس کے حلقے اس ملاقات سے خوش نہیں ہیں۔

گزشتہ کچھ عرصہ سے سکندر حیات خان نے وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان کے خلاف کئی بیانات دیئے تھے۔تاہم یہ توقع نہیں کہ جا رہی تھی کہ سردار سکندر حیات خان عمران خان کی حکومت کی حمایت کرتے ہوئے اتنا بڑا سیاسی 'ٹرن' لیں گے۔سردار سکندر حیات خان سے نسبت رکھنے والے سیاسی حلقوں میں ان کا یہ اقدام قابل تحسین نہیں سمجھا جا رہا۔بلاشبہ سردار سکندر حیات خان کی طر ف سے تحریک انصاف اور وزیر اعظم عمران خان کی حمایت کا اقدام ایک سیاسی حربے کے طور پر ہے۔ َ معمول کی صورتحال میں پاکستان کی کسی حکمران پارٹی کی حمایت ایک سیاسی حکمت عملی ہو سکتی ہے لیکن جس طرح عمران خان کو الیکشن جتواتے ہوئے ان کی حکومت قائم کرائی گئی، اس عمل میں ملک کو ہر شعبے میں بدترین صورتحال میں دھکیلتے ہوئے ملک کے مستقبل کو غیریقینی کا شکار کر دیا گیا،اس تناظر میں ،آزاد کشمیر میں وزیراعظم عمران خان اور ان کے طریقہ کار کی حمایت کو اچھا اقدام قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اور نہ ہی اس فیصلے کو عوم کی طرف سے پذیرائی مل سکتی ہے۔

تقسیم کشمیر کے حوالے سے خطرات کی اس حوالے سے بھی نشاندہی ہوتی ہے کہ جب آزاد کشمیر میں پاکستانی حکومت کی طر ف سے سیاسی تبدیلی کی خواہش اور کوشش نظر آتی ہے۔یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت تقسیم کشمیر کو مضبوط بنانے کے لئے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق متنازعہ حیثیت میں تبدیلی کے اقدامات سے پہلے آزاد کشمیر میں اپنی تابعدار حکومت کے قیام کی کوششیں شروع کر چکی ہے۔اگر ایسا ہوتا تو یہ صرف پاکستان کی طرف اپنے قومی مفادات سے دستبرداری اور انڈیا کی بالادستی کو تسلیم کرنا ہی نہیں ہو گا بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہو جائے گا کہ پاکستان انتظامیہ امریکی ہدایات کے مطابق چلنے کا ذہن بنا چکی ہے۔ پاکستان کو اس 'ٹریپ ' میں آنے سے بچنے کے اقدامات کی ضرورت ہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 443 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Athar Massood Wani

Read More Articles by Athar Massood Wani: 586 Articles with 262688 views »
ATHAR MASSOOD WANI ,S/o KH. ABDUL SAMAD WANI
• 2006 to 2009
Press & Publication Officer
Prime minister Secretariat, Govt. of Azad Jammu & Kashm
.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: