کاغذ کے کمل کی فریاد: بچھڑے سبھی باری باری

(Dr. Salim Khan, India)

مہاراشٹر میں شیوسینا کے بعد جب پنجاب کے اکالی دل نے دہلی میں بی جے پی کو تین طلاق دی تو بے ساختہ کاغذ کے پھول کا نغمہ ’بچھڑے سبھی باری باری‘ یاد آگیا ۔ پرکاش سنگھ بادل کی اکالی دل اور نتیش کمار کی جنتادل میں بہت بڑا فرق ہے۔ اکالی دل سیاسی موسم کا حال دیکھ کر اپنا چولہ بدلنے والوں میں سے نہیں ہے۔ بی جے پی اور اکالی دل کے اتحاد کی وجہ ہندوتوا نہیں دہلی کے اندوہناک سکھ مخالف فساد کا کانگریس مخالف ردعمل ہے۔ ہندوستان کا مسلمان جس طرح گجرات کے فسادات کو نہیں بھول سکتا اسی طرح سکھ اندراگاندھی کے قتل کے بعد ملک بھر میں اور خاص طور راجدھانی دہلی میں ہونے والے قتل عام کو فراموش نہیں کرسکتے ۔

کانگریس کی سرپرستی میں ہونے والے دہلی کے فسادات نے بی جے پی اور اکالی دل کو ایک جان دو قالب بنادیا تھا لیکن اب وہ دل بھی ٹوٹ چکا ہے۔ اس کا ثبوت اس وقت سامنے آیا جب پنجاب اسمبلی میں کانگریس نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف قرارداد پیش کی تو اس کی حمایت بی جے پی کی سب سے پرانی اتحادی پارٹی شرومنی اکالی دل نے کردی حالانکہ ایوانِ پارلیمان میں وہ اس قانون کی حمایت کرچکی ہے۔ دیر آید درست آید کی مصداق اکالی دل کے اس فیصلے کا استقبال کیا جانا چاہیے کیونکہ کچھ باتیں دیر سے سمجھ میں آتی ہیں ۔ بی جے پی کی مانند ہر کوئی موٹی عقل والا نہیں ہوتا کہ اس کی سمجھ میں کبھی کوئی سمجھداری کی بات ہی نہ آتی ہو۔ ایسے لوگ اپنی حامی جماعتوں کو ناراض کرکے دور بھگا دیتے ہیں اور ان پر کیفی اعظمی کے مذکورہ نغمہ کا پورا بند ثبت ہوجاتا ہے؎
ارے دیکھی زمانے کی یاری ، بچھڑے سبھی باری باری
کیا لے ملیں اب دنیا سے ، آنسو کے سوا کچھ پاس نہیں
یا پھول ہی پھول تھے دامن میں ، یا کانٹوں کی بھی آس نہیں
مطلب کی دنیا ہے ساری ، بچھڑے سبھی باری باری

بی جے پی کو این آر سی کے مسئلہ پر پہلی طلاق پارٹی کے صدر اور سابق نائب وزیر اعلیٰ سکھ بیر سنگھ بادل نے دی ۔اس کے بعد ایوان میں اکالی دل کے رہنما بکرم مجیٹھیا نے طلاق بائنہ دے دی اور اب طلاق مغلظہ دینے کا کام دہلی کے اندر منندر جیت سنگھ سِرسا کے سپرد کیا گیا ۔ اس طرح مل جل کر سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق یہ فریضہ انجام دے دیا گیا۔ دہلی اسمبلی کے رکن منندرجیت سنگھ کی بی جے پی سے قربت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ؁۲۰۱۵ میں راجوری گارڈن سے ہارنے کے بعد ؁۲۰۱۷ میں انہوں نے بی جے پی کے نشان پر انتخاب لڑ نے میں کوئی عار محسوس نہیں کی اور کامیاب بھی ہوئے لیکن اب وقت بدل گیا ہے۔ دہلی کے صوبائی انتخاب کا انعقاد دو ہفتہ بعد ہونے والاہے۔ اس سے پہلے سرسا نے بی جے پی پر یہ الزام لگا دیا کہ اس نے سی اے اے پر اپنا موقف بدلنے کے لیے دباو بنایا لیکن اس کے آگے جھکنے کے بجائے غیرتمند اکالی دل نے انتخاب سے کنارہ کشی کا فیصلہ کرلیا ۔ بی جے پی کی صدارت سے سبکدوش ہونے والے امیت شاہ کے منہ پر آخری سیاسی طمانچہ تھا۔

اکالی دل کے رہنما منندرجیت نے اپنے فیصلے کی وجہ یہ بتائی کہ ’’ ہم اس قانون (این آر سی) کے خلاف ہیں کیونکہ عوام کو اپنی پیدائش کے بارے میں بتانے کے لئے قطار میں کھڑا ہونا پڑے گا ۔‘‘ سی اے اے کے بارے میں اپنی جماعت کا موقف واضح کرتے ہوے وہ بولے ہم سی اے اے کا استقبال کرتے ہیں لیکن ہم نے کبھی یہ مطالبہ نہیں کیا تھا کہ اس سے کسی مذہب کے ماننے والوں کو باہر رکھا جائے ۔ اکالی دل سے اپنے قطع تعلق کو بی جے پی نے بھی تسلیم کرلیا ہے کیونکہ دہلی میں بی جے پی کے صدر منوج تیواری اور نگراں پرکاش جاوڈیکر نے این ڈی اے کی حامی جماعتوں میں اکالی دل کا ذکر نہیں کیا ۔ ویسے جنتادل (یو) اور ایل جے پی کے لیے دہلی میں بالترتیب ۲ اور ایک سیٹ چھوڑی تو گئی ہے لیکن اتفاق سے وہ دونوں بھی این سی آر اور سی اے اے کے خلاف ہیں ۔

موجودہ دور کی سیاسی جماعتیں کسی اصول و نظریہ کی بنیاد پر اپنا موقف تبدیل نہیں کرتیں بلکہ سیاسی مفاد کے پیش نظر فیصلے کرتی ہیں ۔ اس زاویہ سے دیکھا جائے تو اکالی دل کے اعلان کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ دہلی میں بی جے پی انتخاب ہار چکی ہے۔ اس کے ساتھ رہنے کا اب کوئی مطلب نہیں ہے اس لیے جس طرح ڈوبتے جہاز کے اندر سے چوہے کود کر بھاگ جاتے ہیں اسی طرح اس کی حلیف جماعتیں اپنا پیچھا چھڑا رہی ہیں۔ پنجاب اور دہلی کے اندر سی اے اے اور این آر سی کے خلاف ایک زبردست تحریک برپا ہے۔ایسے میں اکالی دل کا ب جے پی کو خیر باد کہہ دینا اس عوامی تحریک کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ اکالی دل کے موقف میں یہ تبدیلی کو اس زاویہ سے دیکھا جانا چاہیے۔

پنجاب کی خوبی یہ ہے کہ وہاں کشمیر کی دفع ۳۷۰ کی منسوخی کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے تھے اور عوام وخواص نے اپنا غم و غصہ درج کرایا تھا ۔ شاہین باغ میں انفرادی طور پر بہت سارے صوبوں سے آنے والی خواتین نے مظاہرے میں شرکت کی لیکن دخترانِ پنجاب کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ انہوں نے اپنی اجتماعی شمولیت درج کرائی ۔ اس عوامی احتجاج نے اکالی دل کا من پریورتن کردیا ہے اس لیے کہ جمہوریت کے علمبردار عوام کو اپنا معبود مانتے ہیں اور اس کی خوشنودی کے ذریعہ اقتدار میں آنے یا اسے بچانے کے لیے بہ آسانی اپنا موقف بدل دیتے ہیں ۔ اکالی دل کے ساتھ یہی ہوا ہے اور اسی لیے اس نے بی جے پی سے ناطہ توڑ لیا۔ سی اے اے کے خلاف تحریک نے بی جے پی کے کاغذی کمل کا جو حال کر رکھا ہے اس کے پیش نظر ایسا لگتا ہے کہ بہت جلد اس پر مذکورہ نغمہ کا آخری بند صادق آجائے گا ؎
اڑ جا اڑ جا پیاسے بھنورے ، رس نہ ملے گا خاروں میں
کاغذ کے پھول جہاں کھلتے ہیں بیٹھ نہ ان گلزاروں میں
نادان تمنا ریتی میں ، امید کی کشتی کھیتی میں
اک ہاتھ سے دیتی ہے دنیا سوہاتھوں سے لے لیتی ہے
یہ کھیل ہے کب سے جاری، بچھڑے سبھی باری باری

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 299 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 921 Articles with 302399 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: