نئی تقسیم

(Dilpazir Ahmad, Rawalpindi)
یہ پروپیگنڈہ ہی ہے جو فلسطینیوں کو دہشت گرد اور ظالم جبکہ اسرائیلیوں کو مظلوم اور امن کی فاختہ بنا کر پیش کرتا ہے

ارجنٹائن نے اپنی آزادی کی سالگرہ کی تقریب کے موقع پر اسرائیلی وزیر اعظم کو دعوت دی کہ وہ اس تقریب مین شرکت کے لیے اپنا سفارتی نمائندہ ارجنٹائن بھیجے جو اسپین سے ارجنٹائن کی آزادی کی 150 ویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت کرے۔اسرائیلی سفارتی وفد نے ایک خصوصی طیارے کے ذریعے بیونس آئرس کے ہوائی اڈے پر اترا۔ سفارتی وفد اپنی مصروفیات میں مشغول ہو گیا جبکہ طیارے کا عملہ شہر کی طرف روانہ ہو گیا۔ اور اس وقت لوٹا جب طیارے نے واپسی کا سفر شروع کرنا تھا۔ ہوائی اڈے کے عملے نے خوشدلی سے سفارتی وفد کو الوداع کہا۔

دو دنوں کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنی پارلیمنٹ کو بتایا اڈولف ایکمان، جو نازی جرمن رہنماوں کے ساتھ اس امر کے عمل درامد میں مصروف رہا تھا، جسے یہودیوں کا حتمی حل کہتے تھے وزیر اعظم کا اشارہ یورپ میں مار دیے جانے والے ساٹھ لاکھ یہودیوں کی طرف تھا جنھیں نازی دور میں مار دیا گیا تھا ۔ اس کو اسرائیل کی سیکورٹی سروس نے ڈھونڈ نکالا ہے، وہ اسرائیل میں زیر حراست ہے اور جلد ہی اسے عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاٗئے گا -

ہوا یہ تھا کہ سفارتی وفد کے طیارے میں واپسی کے سفر میں اجنٹائن سے ایک فرد کو اغوا کر کے اسرائیل لایا گیا تھا۔ ارجنٹائین کی حکومت نے اسرائیل کے اس عمل پر احتجاج کیا اور اغوا کنندہ کی واپسی کا مطالبہ کیا جسے اسرائیل نے رد کر دیا۔ ارجنٹائین یہ معاملہ اقوام متحدہ میں لے گیا۔ اقوام متحدہ نے اسرائیلی اقدام کی مذمت کی اور دونوں ملکوں کو یہ قضیہ بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ہدائت کی۔ ایکمان پر اسرائیل مین مقدمہ چلا اور اسے سزائے مو ت دے دی گئی۔

اسرائیل کے اس وقت کے وزیر اعظم ڈیوڈ بن گورین نے ایکمان کے اغوا پر اعتراض کے جواب میں کہا تھا جو رستہ اختیار کیا گیا وہ اخلاقی طور پر غلط تھا مگر پکڑے جانے والے کا جرم بہت بڑا تھا -

دنیا نے اسرائیل کا ہاتھ پکڑا نہ اقوام متحدہ مذمتی بیان سے آگے بڑہی نہ ہی کسی انسانی حقوق کے ادارے نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ ایکمان کو اسرائیلی ججوں سے انصاف نہیں مل پائے گا۔دنیا کی اس خاموشی کا سبب یہ تھاکہ اسرائیلی دنیا کو باور کرا چکے تھے کہ نازی جرمنی میں مارے جانے والے یہودی دنیا کے پر امن اور مظلوم ترین لوگ تھے اور نازی جرمن بنی نوع انسان کے بد ترین مجرم تھے۔

یہودیوں نے نظر آتے کالے کوے کو سفید ثابت کرنے کا فن اپنے دشمن نازیوں ہی سے سیکھا تھا۔1895 میں ایک جرمن دانشور گشتاولی بون نے اپنی کتاب دی لراڈڈ مین اس امر پر بحث کی تھی کہ کسی معاشرے میں اگر رائے عامہ کو کنٹرول کرنا ہے تو منظم پروپیگنڈہ کے ہتھیار کو استعمال کرنا ہو گا۔ اڈولف ہٹلر کی پرپیگنڈہ ٹیم کے روح رواں جوزف گوئبلز نے لی بون کے اس قول کو سچا کر دکھایا۔ اس نے ریڈیو، اخبارات اور مختلف حربوں سے جرمنی میں ہٹلر کے ذاتی تشخص کو اس حد تک ابھار ا اور مبالغہ آرائی کی کہ ہٹلر کو عبادت کے لائق ہستی کی سطح تک پہنچا دیا۔

یہ پروپیگنڈہ ہی ہے جو فلسطینیوں کو دہشت گرد اور ظالم مگر یہودیوں کو امن کی فاختہ بنا کر پیش کرتا ہے۔ کشمیر کے نہتے نوجوانوں کے تازہ خون، معصوم بچوں کی چیخوں اور خواتین کے سر کی چادروں کے سرکائے جانے پر انسانیت کو خاموش رکھتا ہے۔یہ پروپیگنڈہ ہی تھا جس نے صدام حسین کو پھانسی کا پھندہ اپنے گلے میں ڈالنے پر مجبور کیا تھا۔ اس ظالم پروپیگنڈے کی مثالیں لیبیاء سے گوانتوناموبے تک پھیلی ہوئی ہیں۔ آپ احساس کے گھوڑے پر بیٹھ کر عقل کی آنکھوں سے دیکھیں تو آپ کو اللہ تعالی کی یہ زمین ایسا گلوبل ویلیج نظر آئے گی۔ جہاں بھکاری سے لے کر شکاری۔ سب نے ہی اپنا اپنا پروپیگنڈے کا بھونپو اٹھایا ہوا ہے۔ اس گلوبل ویلج کے سارے ہی باسی مگر دو پارٹیوں میں منقسم ہیں۔ ایک پرپیگنڈہ کرنے والی جبکہ دوسری اس پروپیگنڈے کا شکار ہونے والی پارٹی ہے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 68 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dilpazir Ahmad

Read More Articles by Dilpazir Ahmad: 94 Articles with 39743 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: