شدت پسند بی جے پی بھارت کو لے ڈوبے گی

(Inshal Rao, )

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی سوچ و فکر، مقاصد و عزائم، اس کے لٹریچر اور کارگزاریوں سے واضح ہے، اس گروہ کی سرگرمیاں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، آر ایس ایس اپنی پرتشدد کاروائیوں کی بنا پر بھارتی سرکار کی جانب سے متعدد بار زیر پابندی رہ چکی ہے، گاندھی جی کے قاتل ناتھو رام گاڈسے جسے بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکردہ رہنما پرگیہ سنگھ ٹھاکر نے نہ صرف دیش بھکت بلکہ ہیرو بھی قرار دیا اور اس کے باوجود پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو دفاعی کمیٹی کا ممبر بنادینے کا مطلب صاف ہے کہ وہ دن گئے جب بھارت پر گاندھی جی، اس کا فکر و فلسفہ اور اس کی پارٹی کا اثر تھا لیکن آج کے بھارت میں گاندھی جی کے فلسفہ عدم تشدد کے برعکس نفرتوں، تقسیم در تقسیم، تشدد برائے تشدد پر مبنی سوچ و فکر پھیلانے والوں کا طوطی بولتا ہے، بھارتیہ جنتا پارٹی نے بالخصوص آر ایس ایس و دیگر سنگھ پریوار گروہوں کے بطن سے 1980 میں جنم لیا تو آر ایس ایس کے نظریہ ہندوتوا کے مطابق ہندو یونٹی کا نعرہ لگایا لیکن اس جماعت کا یہ نعرہ و نظریہ اس قدر پست خیالی پہ مبنی تھا کہ ان کے نزدیک ہندو اتحاد کے لیے مسلمان، سکھ و عیسائیوں سے نفرت کرنا ضروری تھا اس کے علاوہ آج سائنس و ٹیکنالوجی کے دور میں دو ہزار سال پرانے قدیم اصولوں کی بنیاد پہ ریاست کے نظام کو چلانے کے لیے پہلے سے پسے ہوے دلتوں کو مزید ظلم و جبر کی چکی میں پیسنا اور مسلمانوں و عیسائیوں کو بھارت سے باہر نکالنے جیسے خیالات کا فروغ کیا، اپنے وجود کے ساتھ ہی بی جے پی نے نفرتوں کو فروغ دینا شروع کردیا اور اس ضمن میں تین اسکیموں کا عملی پرچار کیا جو بھارتیوں کو تقسیم در تقسیم کرنے کے لیے کافی ثابت ہوئیں، سب سے پہلے بی جے پی نے ''اک ماتا یجنا'' کی اسکیم کا آغاز کیا جسکے تحت بھارت کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک یاترا کی گئی جس میں ہزاروں کی تعداد میں وشوا ہندو پریشد و آر ایس ایس کے شدت پسندوں نے شرکت یقینی بنائی اور بھارت ماتا کی پوجا کی اس اسکیم کے مطابق اس نظریہ کا پرچار کیا گیا کہ جو بھارت ماتا کی پوجا کا منکر ہے وہ ہندووں اور ہندو مذہب کا دشمن ہے، مسلمان و عیسائی ایک خدا پہ یقین رکھتے ہیں وہ بھارت ماتا کو بطور خدائی روپ کسی طور بھی قبول نہیں کرسکتے تھے یوں بی جے پی کا پہلا تیر نشانے پہ لگا اور مذہبی تفاوت ابھارنے میں کامیاب ہوگئی، اسی کے ساتھ دوسری طرف بی جے پی نے ایک اور اسکیم ''رتھ یاترا'' کا پروگرام بنایا جس میں ارجن و دیگر ہندو بادشاہوں کا چیریاٹ بناکر اس بات کو فروغ دیا کہ یہ بادشاہ خدا کا روپ تھے اور ہندووں کی مقدس و مذہبی جنگ کے قافلے کے نمونے کی صورت سومناتھ سے یاترا کا آغاز کرکے ایودھیا پہ اختتام کیا، یاترا کے آغاز سے ہی ایل کے ایڈوانی جو کہ ارجن کا کردار ادا کررہے تھے و دیگر بی جے پی رہنماوں نے مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی کی اور شدت پسندی کو فروغ دیا تو ساتھ ہی یاترا میں شامل آر ایس ایس و ویشوا ہندو پریشد کے کارکنوں نے مسلمانوں پر حملے شروع کردئیے جس کے نتیجے میں متعدد ہندو مسلم تصادم ہوے، نامور بھارتی مورخ کے این پنیکر KN Panikkar کے مطابق اس یاترا کے اختتام تک کل 116 فسادات ہوے جن میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 564 افراد مارے گئے جبکہ غیرسرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے، رہی سہی کسر بی جے پی کی تیسری اسکیم رام جنم بھومی کی آڑ میں تاریخی بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے اور بابری مسجد کو تباہ کرنے کی اسکیم نے پوری کردی جس کے نتیجے میں پورا ہندوستان فسادات کی لپیٹ میں آگیا اور ہزاروں افراد جان سے گئے، غیرمعمولی معاشی نقصان ہوا اور بھارت میں نفرتوں کی پختہ دیوار قائم ہوگئی لیکن صورتحال کے پیش نظر بی جے پی کے متشدد عزائم کو بھانپ کر نرسمہا راو نے دانشمندانہ طور پر 1991 میں پارلیمنٹ سے تحفظ مذہبی مقامات کا قانون منظور کروالیا جس سے بی جے پی کو اپنے عزائم میں مزید کامیابی سمیٹنے میں رکاوٹ درپیش آگئی، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی سوچ و فکر، مقاصد و عزائم، اس کے لٹریچر اور کارگزاریوں سے واضح ہے، اس گروہ کی سرگرمیاں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، آر ایس ایس اپنی پرتشدد کاروائیوں کی بنا پر بھارتی سرکار کی جانب سے متعدد بار زیر پابندی رہ چکی ہے، گاندھی جی کے قاتل ناتھو رام گاڈسے جسے بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکردہ رہنما پرگیہ سنگھ ٹھاکر نے نہ صرف دیش بھکت بلکہ ہیرو بھی قرار دیا اور اس کے باوجود پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو دفاعی کمیٹی کا ممبر بنادینے کا مطلب صاف ہے کہ وہ دن گئے جب بھارت پر گاندھی جی، اس کا فکر و فلسفہ اور اس کی پارٹی کا اثر تھا لیکن آج کے بھارت میں گاندھی جی کے فلسفہ عدم تشدد کے برعکس نفرتوں، تقسیم در تقسیم، تشدد برائے تشدد پر مبنی سوچ و فکر پھیلانے والوں کا طوطی بولتا ہے، بھارتیہ جنتا پارٹی نے بالخصوص آر ایس ایس و دیگر سنگھ پریوار گروہوں کے بطن سے 1980 میں جنم لیا تو آر ایس ایس کے نظریہ ہندوتوا کے مطابق ہندو یونٹی کا نعرہ لگایا لیکن اس جماعت کا یہ نعرہ و نظریہ اس قدر پست خیالی پہ مبنی تھا کہ ان کے نزدیک ہندو اتحاد کے لیے مسلمان، سکھ و عیسائیوں سے نفرت کرنا ضروری تھا اس کے علاوہ آج سائنس و ٹیکنالوجی کے دور میں دو ہزار سال پرانے قدیم اصولوں کی بنیاد پہ ریاست کے نظام کو چلانے کے لیے پہلے سے پسے ہوے دلتوں کو مزید ظلم و جبر کی چکی میں پیسنا اور مسلمانوں و عیسائیوں کو بھارت سے باہر نکالنے جیسے خیالات کا فروغ کیا، اپنے وجود کے ساتھ ہی بی جے پی نے نفرتوں کو فروغ دینا شروع کردیا اور اس ضمن میں تین اسکیموں کا عملی پرچار کیا جو بھارتیوں کو تقسیم در تقسیم کرنے کے لیے کافی ثابت ہوئیں، سب سے پہلے بی جے پی نے ''اک ماتا یجنا'' کی اسکیم کا آغاز کیا جسکے تحت بھارت کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک یاترا کی گئی جس میں ہزاروں کی تعداد میں وشوا ہندو پریشد و آر ایس ایس کے شدت پسندوں نے شرکت یقینی بنائی اور بھارت ماتا کی پوجا کی اس اسکیم کے مطابق اس نظریہ کا پرچار کیا گیا کہ جو بھارت ماتا کی پوجا کا منکر ہے وہ ہندووں اور ہندو مذہب کا دشمن ہے، مسلمان و عیسائی ایک خدا پہ یقین رکھتے ہیں وہ بھارت ماتا کو بطور خدائی روپ کسی طور بھی قبول نہیں کرسکتے تھے یوں بی جے پی کا پہلا تیر نشانے پہ لگا اور مذہبی تفاوت ابھارنے میں کامیاب ہوگئی، اسی کے ساتھ دوسری طرف بی جے پی نے ایک اور اسکیم ''رتھ یاترا'' کا پروگرام بنایا جس میں ارجن و دیگر ہندو بادشاہوں کا چیریاٹ بناکر اس بات کو فروغ دیا کہ یہ بادشاہ خدا کا روپ تھے اور ہندووں کی مقدس و مذہبی جنگ کے قافلے کے نمونے کی صورت سومناتھ سے یاترا کا آغاز کرکے ایودھیا پہ اختتام کیا، یاترا کے آغاز سے ہی ایل کے ایڈوانی جو کہ ارجن کا کردار ادا کررہے تھے و دیگر بی جے پی رہنماوں نے مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی کی اور شدت پسندی کو فروغ دیا تو ساتھ ہی یاترا میں شامل آر ایس ایس و ویشوا ہندو پریشد کے کارکنوں نے مسلمانوں پر حملے شروع کردئیے جس کے نتیجے میں متعدد ہندو مسلم تصادم ہوے، نامور بھارتی مورخ کے این پنیکر KN Panikkar کے مطابق اس یاترا کے اختتام تک کل 116 فسادات ہوے جن میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 564 افراد مارے گئے جبکہ غیرسرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے، رہی سہی کسر بی جے پی کی تیسری اسکیم رام جنم بھومی کی آڑ میں تاریخی بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے اور بابری مسجد کو تباہ کرنے کی اسکیم نے پوری کردی جس کے نتیجے میں پورا ہندوستان فسادات کی لپیٹ میں آگیا اور ہزاروں افراد جان سے گئے، غیرمعمولی معاشی نقصان ہوا اور بھارت میں نفرتوں کی پختہ دیوار قائم ہوگئی لیکن صورتحال کے پیش نظر بی جے پی کے متشدد عزائم کو بھانپ کر نرسمہا راو نے دانشمندانہ طور پر 1991 میں پارلیمنٹ سے تحفظ مذہبی مقامات کا قانون منظور کروالیا جس سے بی جے پی کو اپنے عزائم میں مزید کامیابی سمیٹنے میں رکاوٹ درپیش آگئی، لیکن 1999 میں اقتدار میں آکر ایک بار پھر بی جے پی نے بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کے عمل کو تیز کردیا، مرلی منوہر نے تعلیم کی وزارت کا قلمدان سنبھالتے ہی ٹیکسٹ بک بورڈ، تحقیقی و دیگر اہم پوزیشنوں پر شدت پسند ہندو بٹھا دئیے جس نے بھارت کے تعلیمی ڈھانچہ کو ہندوتوا نظریہ کے مطابق قائم کردیا جس سے اس نسل کو تو کوئی فرق نہ پڑا جنہوں نے یا تو براہ راست آزادی کے لیے قربانیاں دیں یا دیکھیں یا وہ جنہوں نے اپنے بزرگوں سے یہ باتیں سنیں لیکن نسل نو اس زہر کا شکار ہوگئی اور آج بھارت جل رہا ہے، 2002 میں مودی کی حکومت میں گجرات میں ہزارہا مسلمان شہید کردئیے گئے اور لاکھوں کو گھر بار چھوڑنے پہ مجبور کردیا گیا، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ بی جے پی مودی سے سنگین بدانتظامی، نااہلی و کوتاہی پہ سوال کرتی لیکن الٹا نریندر مودی کو ہیرو کے طور پر جانا جانے لگا جسے انعام کے طور پر 2014 میں بھارت کا وزیراعظم بنادیا گیا، جس نے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت کو ہندو راشٹر بنانے پہ تیزی سے عمل شروع کردیا۔ مودی، امیت شاہ اور اجیت دوول کی تکون نے بھارت کے جلنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، پہلے گائے ماتا اور جے شری رام نعرے کی آڑ میں مسلمانوں و عیسائیوں پہ خوب ظلم کے پہاڑ توڑے اور اب CAA اور NRC جیسے کالے قوانین کے زریعے سیکیولر بھارت کو دنیا میں شدت پسند ہندو دیش کے طور پر مشہور کردیا ہے، کانگریس دور میں دنیا کا سب سے تیز معاشی ترقی کرتے بھارت کی معیشت کے پہیے کو مودی سرکار کے طلوع ہوتے ہی بریک لگنا شروع ہوئی کیونکہ کوئی بھی ملک نفرت کے اصولوں پہ رہ کر ترقی تو دور زیادہ عرصے تک اپنا وجود بھی قائم نہیں رکھ سکتا یہی وجہ ہے کہ آج کے بھارت میں بیروزگاری تاریخ کی بلند ترین سطح پہ پہنچ چکی ہے، کاروبار ٹھپ ہیں، لوگ غریب سے غریب تر ہونے کا سفر تیزی سے طے کررہے ہیں اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے کل آبادی کا تقریباً 40 فیصد دو وقت کی روٹی کو ترستے ہیں، NCRB کے مطابق جرائم کی شرح سات دہائیوں میں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور کیوں نہ ہو جب BJP کی پارٹی پالیسی مجرمان کو تحفظ دینے کی ہو تو جرائم تو بڑھیں گے، حکمران جماعت کرمنلز کو جینے کا موقع دینے کے نام پر کرمنلز کو جماعت کا حصہ بناکر اپنے منفی مقاصد کے لیے استعمال کررہی ہے، CAA اور NRC کے بعد پورا بھارت جل رہا ہے جسے جمہوری تقاضوں کے برخلاف بزور طاقت دبانے کی ہرممکن کوشش کی جارہی ہے لیکن اب یہ قافلہ رکنے والا نہیں اور جیسا کہ بھارتی رہنما سوماشکرا ریڈی، دلیپ گھوش، رگھو راج، سی ٹی راوی اور امیت شاہ وغیرہ اشتعال انگیزی پھیلا رہے ہیں اور اگر یہ چنگاری بھڑک اٹھی تو یہ نقصان بھارت سمیت تمام بھارتیوں کا ہی ہوگا، مودی اپنے جارحانہ عزائم پر بدستور قائم ہیں جہاں لوگ غربت سے مر رہے ہوں وہاں ملکی خزانے کا بڑا حصہ ہتھیاروں میں جھونکا جارہا ہے 2013 تک بھارت کی امریکہ سے ہتھیاروں کی خریداری پر 2 ارب ڈالر خرچ کرچکی تھی جو مودی سرکار میں چھ ماہ کے اندر اندر 19 ارب ڈالر تک پہنچ گیا اور اپنے پہلے دور میں مودی نے 41 ہتھیاروں کی خریداری کی اسکیمیں منظور کیں، رافیل طیاروں کی اربوں ڈالر کی ڈیل کے علاوہ غیرمعمولی رقم کی روس کے ساتھ ڈیل نے بھارت کے عوام پر بوجھ کو کئی سو گنا بڑھادیا ہے آج بھارت ہتھیار خریدنے والا دنیا کا ٹاپ ملک ہے جبکہ روایتی حریف پاکستان نے اپنے دفاعی بجٹ میں کمی کر کے عوامی فلاح و بہبود پہ توجہ دے رکھی ہے، مودی سرکار کی شدت پسندانہ اور جارحانہ پالیسیوں کی بدولت ایک طرف تو بھارت اندرون خانہ آتش فشاں کے دہانے پہ پہنچ گیا تو دوسری طرف خطے کے کسی بھی ملک سے اس کے تعلقات اچھے نہیں خواہ چین ہو یا پاکستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، سری لنکا و نیپال تک بھارتی سلوک سے خوش نہیں، اس کے علاوہ مودی سرکار کی منافقانہ پالیسیوں کی بدولت بھارت عالمی سطح پر نہ صرف بدنام ہوا بلکہ اسے ایک شدت پسند ریاست کے طور پر دیکھا جارہا ہے اور یورپ امریکہ و عرب ممالک بھارت سے دور ہوتے جارہے ہیں یہی صورتحال رہی تو وہ وقت دور نہیں بھارت اپنے اندر کے آتش فشاں کے لاوے کا شکار ہوجائیگا اور بی جے پی کی شدت پسندی بھارت کو لے ڈوبے گی۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 165 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Inshal Rao

Read More Articles by Inshal Rao: 114 Articles with 23114 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: