ایک اور قدم ترقی کی جانب

(Hafiz Zahid, )

آج کے تیز ترین دور میں ہر شخص ترقی کی راہ کی تلاش میں ہے اور ترقی کرتا جا رہا ہے لیکن بد قسمتی سے اس ترقی کے باوجود ترقی سے کوسوں دور ہے کیونکہ یہ ترقی صرف مادی دنیا میں ہو رہی ہے جس کی وجہ سے بے چارہ انسان ترقی کے باوجود تنزلی کا شکار ہے آخر وجہ کیا ہے ہم اتنی ترقی کرنے کے بعد بھی دشمن سے مغلوب ہیں، کیوں.... ؟

آئیں ہم چلتے ہیں اس محسن انسانیت (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے دروازے پہ کہ جس نے ایسی ترقی کی کہ دنیا اسکی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے جس کے پاس کوئی ٹیکنالوجی نہیں تھی کوئی جدید مشینری نہیں تھی اور نہ ہی کوئی انجینئر لوگ تھے کہ جن کے ذریعے ترقی کی ہو اور اب وہ نہیں تو ترقی نہیں ہو رہی ایسا کچھ نہیں تھا بلکہ اس محسن انسانیت (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ترقی کا راز کچھ اور تھا انکی محنت کا رخ کسی اور طرف تھا جس کی وجہ سے وہ ایسی دائمی ترقی کر گئے کہ جس سے دشمن پہ غالب رہے ۔
کیا ہم آج کے دور میں اس طرح کی ترقی کر سکتے ہیں یا نہیں یقینا یہ سوال ہر انسان کے دل و دماغ میں کھلبلی مچا رہا ہو گا تو آئیے اسکی تلاش کریں تا کہ ہر انسان اپنی محنت کا رخ سیدھا کر کے ایک ایسی ترقی کر جائے کہ دنیا منہ تکتی رہ جائے تو یاد رکھیں آپ نے ترقی کی مادی دنیا میں تو آپ چاند پہ پہنچ گئے لیکن افسوس اس ترقی کا کیا کریں کہ جو انسان زمین پہ کسی کے دکھ درد کا نہیں وہ چاند پہ پہنچ کر کیا گل کھلائے گا لیکن اگر آپ اس محسن انسانیت کو دیکھیں تو اس نے بھی یہ ترقی کی لیکن روحانی دنیا میں محنت کر کے اور ایسی ترقی کہ اشارے سے چاند کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا اور عصر کی نماز کیلئے سورج کو لوٹا لیا روک لیا یہ ترقی روحانی دنیا میں کی اور دائمی ترقی کی جو دشمن پہ غلبے کا سبب بھی ہے دشمن آج تک مغلوب ہے ۔

آپ نے مادی دنیا میں ترقی کی آپ نے جہاز بنایا آو آپ کو ایسی ترقی کی دنیا میں لے جاوں کہ جو روحانی دنیا میں ہوئی اور اس جہاز سے بھی آگے بڑھ کر ہوئی آپ حضرت سلیمان علیہ السلام کو دیکھیں ہوا میں دس ہزار سیٹوں والا تخت گھما رہے ہیں جو دائمی ترقی کے ساتھ ساتھ دشمن پہ غلبے کا سبب بھی بنا ہے ۔
آپ نے مادی دنیا میں ترقی کر کے موبائل ایجاد کیا آو دیکھتے ہیں کہ آج سے چودہ سو سال پہلے روحانی دنیا میں محنت کرنے والے حضرت عمر فاروق ر۔ض نے یہی ترقی کی اور ہوا میں اپنی آواز اپنے لشکر کو پہنچائی جو ہزاروں میل کا سفر کر گئی اور دشمن پہ غلبے کا سبب بھی بنی ہے ۔

آپ نے مادی دنیا میں ترقی کر کے سمندری جہاز بنائے ہیں آپ دیکھیں روحانی دنیا میں ترقی کرنے والے حضرت سعد بن ابی وقاص ر۔ض نے یہی ترقی صدیوں پہلے کی کہ اپنے لشکر کو جو گھوڑوں پہ سوار تھے دریا میں ڈال دئیے آپ اپنی ترقی کو دیکھیں کہ کچھ عرصہ پہلے مالیشیا کا ایک جہاز سمندر میں ڈوب گیا تو آپ نے مادی ترقی کو استعمال کیا اور پوری دنیا کی مشینری کو استعمال کرتے ہوئے سمندر سے اتنے بڑے جہاز کو تلاش کرنے میں ناکام رہے لیکن آپ دوسری طرف روحانی دنیا میں ترقی کرنے والوں کو دیکھیں کہ یہی سعدبن ابی وقاص ر۔ض جب دریا سے گھوڑوں پہ سوار ہو کر گزرے تو ساتھیوں سے پوچھا کہ کسی کی کوئی چیز دریا میں گری تو نہیں تو ایک صحابی نے عرض کی کہ امیرالمومنین میرا ایک لکڑی کا پیالہ دریا میں گر گیا ہے تو امیرالمومنین پانی کو پیالہ واپس کرنے کا حکم کرتے ہیں تو دریا فورا پیالہ واپس کر دیتا ہے یہ ہے روحانی دنیا میں محنت کرنے والوں کی ترقی جو دائمی بھی ہے اور دشمن پہ غلبے کا سبب بھی ہے ۔

یہ چند ایک مثالیں پیش کی ہیں مادی دنیا میں محنت کر کے ترقی کرنے والوں کی اور چند مثالیں پیش کی ہیں روحانی دنیا میں محنت کر کے ترقی کرنے والوں کی اب فیصلہ آپ خود کریں کہ کس کی محنت کتنا رنگ دکھائی ہے آج مادی دنیا میں محنت کرنے والوں نے ترقی کی ہے لیکن اس ترقی کے باوجود دشمن غالب اور خود مغلوب ہیں اور اس سے پہلے روحانی دنیا میں محنت کرنے والوں نے ترقی کی تھی جس سے آج بھی دشمن پریشان ہے ۔

اور ایسی ترقی کیلئے افراد کو تیار کرنے کی ضرورت ہے آج آپ کے پاس ترقی تو ہے لیکن افراد نہیں ہیں آج آپ کی عدالتوں میں تمام تر سہولیات موجود ہیں اچھے سے اچھے وکلاء ججز وغیرہ موجود ہیں لیکن فیصلے پھر بھی ویسے کے ویسے پڑے ہیں لوگ پریشان ہیں مظلوم انصاف کو ترستا ہے لیکن انصاف ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا کیونکہ جس جج نے انصاف سے فیصلہ کرنا تھا اس جج پہ روحانی محنت نہیں ہوئی جس کی وجہ سے یہ سب کچھ ہے ۔

آج آپ نے ترقی کی آپ نے بہترین ہسپتال بنائے ہیں صاف ستھرا ماحول مریضوں کو دیا بیڈ وغیرہ کی سہولیات دی اچھے سے اچھا ڈاکٹر دیا نرسز دی لیکن پھر بھی مریض دوائی کو ترستا ہے ڈاکٹر مریض کے خون کے آخری قطرے تک مریض کی جان نہیں چھوڑتا آخر کار مریض چیختا چلاتا مر جاتا ہے لیکن ڈاکٹر کی توجہ نہیں ملتی وجہ سہولیات تو سب موجود ہیں لیکن جس ڈاکٹر نے مریض کے درد کو پہچاننا تھا اس پہ روحانی محنت نہیں ہوئی جس کی وجہ سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے ۔

اسی طرح تھانے اور کچہریوں کا حال ہے غرضیکہ ہر شعبے میں یہی حالات ہیں وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ ہم نے مادی دنیا میں محنت کی اور ترقی کی تلاش میں لگے رہے ہمیں نہ ترقی ملی نہ منزل ملی کاش کہ ہم مادی دنیا اور روحانی دنیا دونوں میں محنت کرتے تو ہمیں ترقی بھی مل جاتی اور دشمن پہ غلبہ بھی مل جاتا۔

آج بھی وقت ہے مادی دنیا میں محنت کرنے کے ساتھ ساتھ روحانی دنیا میں بھی محنت کریں ان شاءاللہ ترقی و کامیابی تمہارے قدم چومے گی اللہ ہمیں مادی دنیا میں محنت کرنے کے ساتھ ساتھ روحانی دنیا میں بھی محنت کر کے ترقی کی راہوں پہ چلنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔ آمین ۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 225 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Hafiz Zahid

Read More Articles by Hafiz Zahid: 7 Articles with 1491 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: