چین میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لایا جائے

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

امریکہ،برطانیہ، فرانس، جرمنی، جاپان، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، بھارت، ترکی، انڈونیشیا، جنوبی افریقہ، جیارجیا، بلجیئم یہاں تک کہ بنگلہ دیش بھی چین میں پھنسے اپنے شہریوں کو نکال کر لے گئے۔چین کے وسط میں ووہان، صوبہ ہوبے اور گردونواح میں پاکستان کے کم ازکم 30ہزار طلباء اور 10ہزاردیگر شہری پھنسے ہوئے ہیں۔ مگر عمران خان حکومت اپنے شہریوں کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت تماشہ دیکھ رہی ہے۔ وزیراعظم کے مشیر صرف سیاست کر رہے ہیں۔ زلفی بخاری دروغ گوئی سے بھی کام لے رہے ہیں کہ کسی بھی ملک نے چین سے اپنے شہری نہیں نکالے۔ جب کے جو ممالک اپنے شہریوں کو قبول کرتے ہیں، ان کی سلامتی اور حفاظت میں دلچسپی لیتے ہیں، انہوں نے کرونا وبا سے متاثرہ علاقوں سے اپنے طلباء اور دیگر شہریوں کا انخلاء کر لیا۔ تا ہم کمبوڈیا جیسے غیر سنجیدہ، لا پروااور تیسری دنیا کے غریب ممالک اپنے شہریوں کو نکالنے میں عدم دلچسپی دکھا رہے ہیں۔ وائرس کے پھیلاؤ کے باعث حکومت پاکستان کی جانب سے چین میں پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپس نہ لانے کا فیصلہ غیر ذمہ دارانہ ہے۔اس کی کوئی منطق نہیں۔ اپوزیشن کی سخت تنقیدبجا ہے۔

پاکستانی مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیسوں کی ضرورت نہیں بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ جب بھارت، مراکش، بنگلہ دیش، منگولیا، سری لنکاجیسے ممالک نے بھی اپنے شہری خصوصی طیاروں میں نکال لئے ، ایسے انہیں چین سے نکال کر وطن واپس لایا جائے۔ پاکستانی طلباء وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی ذوالفقار بخاری کے دعوے مسترد کر دیئے ہیں۔ جن میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی طلبا کے اکاؤنٹس میں پیسے بھیج دیئے ہیں یا انہیں مفت کھانا اور دیگر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔یہ سب دعوے بے بنیاد ہیں۔ ان کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔

پاکستان کو اس وقت چین کے ساتھ عملی تعاون کرنا چاہیئے۔ چین میں چہرے ڈھانپنے کی فیس ماسکز کی کمی ہے۔ نئی ماسکز مارکیٹ میں آنے کو دو ہفتہ درکار ہیں۔حکومت ماسکز سمیت ڈاکٹروں کی ٹیمیں بھی روانہ کرے۔ بعض پاکستانی طلباء متاثرہ علاقوں میں رضاکارانہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔چین کی حکومت پاکستانیوں کا خاص خیال رکھ رہی ہے۔ انہیں خوراک، پیسے، شیلٹر فراہم کررہی ہے۔ یونیورسٹیوں کے اندر بھی ہسپتال قائم ہیں۔ پاکستانیوں کا طبی معائنہ ہو رہا ہے۔ ابھی تک کسی پاکستانی کے متاثر ہونے کی اطلاعات نہیں۔ کراچی آنے والے ایک طالب علم میں وائرس کی تشخیص کی گئی ہے۔ یہ طالب علم ووہان یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا۔ بعض دیگر طلباء بھی چین سے واپس آئے ہیں۔ مگر ابھی تک اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاور یا کسی دیگر بڑے شہر میں ہسپتالوں میں آئسولیشن سنٹرز یا خصوصی وارڈ مختص نہیں کئے گئے ۔ یہ مجرمانہ غفلت ہے۔ سرکار اپنے شہریوں کو مفت تعلیم، صحت، شیلٹر، خوراک، حفاظت، روزگار فراہم کرنے کی پابند ہے لیکن یہاں حکومت کا واحد کام بس اپوزیشن پر تنقید ہی رہ گیا ہے۔ٹیکسوں پر ٹیکس لگائے جا رہے ہیں۔اس لئے چین میں پھنسے پاکستانی مایوس ہو رہے ہیں۔ وہ دیگر ممالک کا ذمہ دارانہ کردار اور اپنے شہریوں کو نکالنے کے لئے فوری اقدامات دیکھ رہے ہیں۔ یکے بعد دیگر ملکوں کے طیارے اپنے طلباء کو لے کر جا رہے ہیں اور پاکستانی آس بھری نظروں سے عمران خان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ حکومت کیسے اپنے شہریوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہی ہے۔ اگر چہ صوبہ ہوبے کے ہیلتھ کمیشن کے مطابق 49 افراد کو صحت یابی کے بعدہسپتال سے فارغ کردیا گیا۔2 فروری تک، صوبہ میں مجموعی طور پر دس ہزار افراد کے متاثر ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ واقعات کی تصدیق ہوئی ہے۔ مجموعی طور پر 215 افراد کو علاج کے بعد ہسپتال سے فارغ کردیا گیا۔ فی الحال تقریباً 9ہزار افراد اسپتال میں زیر علاج ہیں، وہ نامزد طبی اداروں میں الگ علاج کروا رہے ہیں۔

زلفی بخاری کا بیان جھوٹ کے زمرے میں آتا ہے کہ ابھی تک کسی بھی ملک نے اپنے طلبہ کو چین سے نہیں نکالا اور کسی بھی ملک کی طرف سے اپنے شہریوں کو نکالنے کی معلومات غلط ہیں۔ حکومت کو سنجیدگی سے پاکستانی شہریوں کی ذمہ داری لینی چاہیے۔ووہان میں پھنسے پاکستانی سٹوڈنٹس کافی پریشان ہیں۔ ان کی دادرسی اور انہیں محفوظ پُرسکون رکھنے کیلئے وزارت برائے سمندر پار پاکستانی کو فوری ایکشن لینا چاہیئے۔سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر شبلی فرازنے جمعہ کوکہاکہ حکومت نے طلبہ کے اکاؤنٹس میں 840 ڈالر جمع کروائے ہیں۔کسی بھی پاکستانی طالب علم نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔ کئی طلباء نے کہا کہ یہ سب جھوٹ ہے۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے قواعد اور چینی حکومت کے اقدامات پر حکومت پاکستان کے مکمل اعتماد کے پیش نظر پاکستانی طلبہ کو ابھی واپس نہیں لایا جا رہا۔ انہوں نے طلبا کو واپس نہ لانے کے سرکاری موقف کا اعادہ کیا۔ پاکستان کیسے اپنے شہریوں کوکسی کے رحم و کرم پر چھوڑ سکتا ہے۔ چین دوست ملک ہے۔ اس کے اقدامات بہترین ہیں مگر، پاکستان کیسے صرف اعتماد پر ہی اکتفا کرر ہا ہے۔ ڈاکٹر ظفر مرزا کہتے ہیں کہ جب ان طلبا کو واپس لایا جائے گا تو اس سے پہلے ان طلبہ کو چین میں 14 روز ایک کیمپ میں گزارنے ہوں گے ،جہاں ان کی طبی نگرانی ہو گی۔ڈاکٹر مرزا صرف اپنی جان چھڑانے کی بات کر رہے ہیں کہ ووہان میں اس وقت 120 ممالک کے شہری موجود ہیں اور وہ بھی چینی اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے ایک متضاد بات کہی کہ ابھی تک پاکستان کے پاس کرونا وائرس کی تشخیص کرنے والی کٹس موجود نہیں اور توقع ہے کہ پاکستان کو یہ کٹ موصول ہو جائیں گی۔ڈاکٹر ظفر مرزا کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اس معاملے پر اپنے چینی ہم منصب سے رابطے میں ہیں۔ چین پاکستانی طلبا کے لیے وہ سب کر رہا ہے جو کیا جانا چاہیے، مگر پاکستان کا کردار کیا ہے۔

سینیٹر عثمان کاکڑ کے مطابق چینی شہری پاکستان آرہے ہیں لیکن پاکستانیوں کو نہیں آنے دیا جارہا۔پاکستانی وطن واپس آنا چاہتے ہیں۔ پاکستانیوں کو واپس لاکر ان کے لیے ایک جگہ مختص کی جائے، حکومت40ہزارپاکستانیوں کو کیسے بے یارو مددگار چھوڑ سکتی ہے۔ اگر ہم ٹی بی کے علاج، پولیو کے خاتمے اور خسرہ کو روکنے میں ناکام ہوئے تو اس بنیاد پراس وائرس پر قابو پانے میں ناکامی کی بات کیسے کی جا سکتی ہے۔اگر چہ چین میں تقریباً دو کروڑ افراد اسی مقام پر پھنس کر رہ گئے ہیں جہاں سے وائرس ’کرونا‘ پھیلنا شروع ہوا ۔ وہاں سے جہازوں اور ٹرینوں کو روک دیا گیا ہے تاکہ اس وائرس کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے، حالانکہ وائرس پہلے ہی دوسرے ممالک تک پھیل چکا ہے۔اس وائرس سے اب تک300سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، وائرس امریکہ تک پھیل چکا ہے۔چین میں ان دنوں نئے قمری سال کی مناسبت سے ہونے والی تقریبات منسوخ کر دی گئی ہیں۔لوگ سپرنگ فیسٹیول کے دوران پرہجوم مقامات پر جانے سے گریز کررہے ہیں تاکہ کرونا وائرس کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔اس میلے کی دو ہفتوں کی چھٹیاں ہیں۔ سیاحوں کی توجہ کا مرکز بننے والے ٹیمپل فیئرز سمیت کئی دیگر تقریبات کو منسوخ کیا گیاہے۔ بیجنگ دائتن اور لانگٹین ٹیمپل فیئر کو منسوخ کیا گیا۔ یہ میلے گذشتہ تین دہائیوں سے جاری ہیں اور گذشتہ سال پانچ روزہ تقریبات میں 14 لاکھ چینی اور غیرملکی سیاح شریک ہوئے۔ شیانتاو شہر، جس کی آبادی 15 لاکھ کے قریب ہے، کی انتظامیہ نے ہوبے ایکسپریس وے پر ٹول سٹیشن کے 30 داخلی راستے بند کر دیے تاکہ گاڑیوں کا داخلہ روکا جا سکے۔کہا جارہا ہے کہ یہ وائرس جانوروں کی وجہ سے پھیلا۔ رواں ہفتے شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق اس وائرس کا آغاز شاید چمگاڈروں اور سانپوں میں ہوا۔اس وائرس کی ابتدائی علامات میں بخار، کھانسی، سینے میں گھٹن اور سانس لینے میں مشکلات پیش آنا شامل ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اﷲ خان کے مطابق کورونا وائرس وبا بھی ہے ،آفت بھی ہے ،جس کے لیے وزارت خارجہ اور وزارت صحت کو اقدامات کرنے چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ چین میں پاکستانی سفارتخانہ موجود ہے لیکن کوئی ایکٹو نظر نہیں آ رہا جبکہ پاکستان میں بھی ابھی تک قرنطینہ نہیں بن سکا۔سینیٹر مشاہد اﷲ خان نے کہا کہ کوئی مسئلہ ہو تو ہم جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں، پاکستانیوں کا چین سے انخلا نہ کرنے کا فیصلہ غلط ہے کیوں کہ باقی ممالک اپنے لوگوں کا انخلا کر رہے ہیں۔ ہم نے تاحال کوئی حفاظتی اقدامات نہیں اٹھائے، ہمیں اس آفت اور وبا سے لڑنا چاہیے، مائیں رو رہی ہیں اور ہم نے بچوں کو نہ نکالنے کا فیصلہ کیا ہے ،ہمیں ماؤں کے رونے سے ڈرنا چاہیے۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ظفرالحق کے مطابق لوگ خود طیارے کا بندوبست کر کے غیر ملکی شہریوں کو متاثرہ علاقوں سے نکال رہے ہیں، حکومت کا پاکستانیوں کو چین سے نہ نکالنے کا فیصلہ درست نہیں، چین نے نہیں کہا کہ لوگوں کو یہاں رہنے دیں تو پھر بھی ٹھیک ہے۔جماعت اسلامی کے سربراہ سینیٹر سراج الحق کے مطابق حکومت پاکستان، چین میں پاکستانی طلبہ کے والدین کے ساتھ رابطے میں رہے، چین میں محصور پاکستانیوں کے پاس پیسے نہیں ۔حکومت تمام بین الاقوامی ائیرپورٹس پر کورونا وائرس تشخص کی کٹ مہیا کرے۔ چین میں موجود پاکستانی طلبہ کا بھی حق ہے کہ وہ محفوظ رہیں اور انہیں وہاں سے فوری نکالا جائے۔بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے حوالے سے چین تشخیص اور علاج پر تحقیق کررہا ہے جبکہ پاکستان میں تو کورونا وائرس کا علاج ممکن ہی نہیں۔ان کی رائے ہے کہ اگر کسی کو پاکستان میں کورونا وائرس ہو تو اسے بھی چین جانا پڑے گا لہٰذا چین میں مقیم افراد کو غیر ضروری طور پر واپس نہ بلوائیں ، چین میں ان کی بہتر نگہداشت ہو گی۔

پاکستان کو مشکل کی اس گھڑی میں چین کا ساتھ دینا چاہیے۔یہ باتوں سے نہیں بلکہ ماسکز سمیت درکار اشیاء کی فراہمی اور پاکستانیوں کے انخلاء سے مملن ہے۔ پاکستانیوں کو چین پر بوجھ نہ بنایا جائے۔ پاکستانی ڈاکٹرز ریسرچ میں چین کی مدد کریں۔ پاکستانی ڈاکٹرز چین جا کر مدد کریں۔یہ وائرس انسانیت کے لیے چیلنج ہے، اس لیے ہمیں چین کی حمایت کرنی چاہیے۔یہ خوش آئیند ہے کہ سندھ حکومت نے ہیلتھ سینٹرز پر قرنطینہ قائم کیے ہیں ۔ حکومت وائرس کی تشخیص کے لیے کٹ منگوائے۔ پاکستانی ائیرپورٹس پر اسکریننگ کورونا کی تشخیص کے حوالے سے کام نہیں کر رہی ہیں جبکہ چین میں پاکستانی سفارت خانے میں ہیلپ لائن بھی کام نہیں کر رہی۔ ووہان سے کراچی واپس آنے والے طالبعلم کو 2 ہفتوں کے لیے آئسولیشن (قرنطینہ) وارڈ میں داخل کیا گیا ہے۔ ارسلان کو گزشتہ روز آغا خان ہسپتال پہنچا دیا گیا اور وہ 14 روز تک ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں رہیں گے۔ ارسلان کے خون کے نمونے قومی ادارہ برائے صحت پہنچا دیے گئے اور انہیں ٹیسٹ منفی آنے کی صورت میں ہسپتال سے گھر جانے کی اجازت دی جائے گی۔ ارسلان کے مطابق انہوں نے ووہان یونیورسٹی سے رابطہ کیا تو انہوں نے تجویز دی کہ اگر پاکستان جانا چاہتے ہیں تو بہتر ہے کہ پاکستان چلے جائیں۔ارسلان کے مطابق اس وقت ووہان میں 559 پاکستانی موجود ہیں ان میں چھوٹے بچے بھی شامل ہیں جن کی عمریں 6 ماہ سے 10 سال کے درمیان ہیں۔وہ بھی حکومت سے چین میں مقیم پاکستانیوں کو باحفاظت وطن واپس لانے کی درخواست کر رہے ہیں۔این ڈی ایم اے نے تمام وفاقی وزارتوں اور صوبائی حکومتوں کو ایک مراسلہ ارسال کیا ہے کہ وائرس سے بچاؤ کے لیے پہلا اور فوری طریقہ مریضوں اور ڈاکٹر کی جانب سے فیس ماسکس اور دستانوں کا استعمال ہے۔ فیس ماسک اور قابل تلف دستانوں کی تمام صحت مراکز پر دستیابی ضروری ہے ۔حکومت تمام ایئرپورٹس پر مسافروں کی اسکرینگ کا اہتمام کرے، وائرس سے بچاؤ کے لیے ایک مربوط نظام تشکیل دے۔

کورونا وائرس سے بچنے کے لیے چند بنیادی تدابیر یہ ہیں:باقاعدگی سے 10 سیکنڈز تک اپنے ہاتھ صابن اور پانی سے دھوئیں، الکحل پر مبنی سینیٹائزر استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔چہرے پر ماسک پہنیں اور کھانسی یا نزلہ زکام سے متاثرہ افراد سے فاصلے پر رہیں کیونکہ بخار، کھانسی یا سانس لینے کے مسائل کو کورونا وائرس کی ابتدائی علامات بتایا گیا۔اگر آپ کو مذکورہ علامات میں سے کسی ایک کا سامنا ہے تو فوری ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔کھانسی یا چھینکنے کے دوران دیگر افراد کو جراثیم سے بچانے کے لیے منہ اور ناک کو ٹشو یا کپڑے سے ڈھانپ کر رکھیں، استعمال کے بعد ٹشو کو مناسب طریقے سے ضائع کریں۔جس علاقے میں وائرس کی تشخیص ہوئی وہاں مویشی مارکیٹ میں جاتے ہوئے جانوروں سے دور رہیں۔ایسا گوشت کھانے سے گریز کریں جو پوری طرح نہ پکا ہوا ہو، کچے گوشت کو آلودگی سے بچانے کے لیے احتیاط سے سنبھالیں۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 206 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 509 Articles with 170464 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More

Comments

آپ کی رائے
Language: