منیر نیازی

(Yousuf Alamgirian, Rawalpindi)
منیر نیازی کو اس جہان فانی سے رخصت ہوئے تین برس بیت گئے لیکن یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اب بھی ہمارے آس پاس کہیں موجود ہوں۔بہت کم لوگ اتنے گہرے نقوش چھوڑ کر جاتے ہیں جتنے منیر نیازی نے اردو زبان اور شعر و ادب کے حوالے سے چھوڑے ہیں۔ کون جانتا تھا کہ تقسیم کے بعد ہوشیار پور سے ہجرت کر کے آنے والا منیر نیازی ساہیوال میں کتابوں کی دکان کھولے گا اور بعد میں پاکستان نیوی جیسے ادارے کی ملازمت کو خیر باد کہتے ہوئے لاہور کے رائل پارک میں ڈیرہ جمائے گا۔ منیر نیازی لاہور آکر لاہوری نہیں ہوئے بلکہ نیازی ہی رہے۔ لاہور ان کا ہوگیا۔ لاہور، پاکستان اور پاکستان کا اردو ادب منیر نیازی کی دسترس میں تھا۔ ایک مرتبہ کسی نے منیر نیازی سے پوچھا کہ اس دور کا پنجابی کا سب سے بڑا شاعر کونسا ہے؟ منیر نیازی اپنے مخصوص انداز میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولے ’’کنوں پچھدا پیا ایں‘‘؟(کس سے پوچھ رہے ہو؟) گویا پنجابی کے سب سے بڑے شاعر ہی سے بڑے شاعر کا نام پوچھ رہے ہو۔

شاعر برادری کو جناب منیر نیازی سے ہمیشہ گلہ رہا کہ وہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتے۔ بالخصوص جب کوئی مشاعرہ ہوتا تو وہ اپنا کلام سنانے اور خوب داد سمیٹنے کے بعد چل دیتے۔ مجھے جناب منیر نیازی کو پہلی مرتبہ 1989 ء میں گوئٹے انسٹی ٹیوٹ گلبرگ لاہور میں منعقدہ ایک پنجابی مشاعرے میں دیکھنے کا موقع ملا۔ مشاعرے کے بعد فرمائش کا سلسلہ چلا تو راقم نے ان سے فرمائش کی کہ ’’کج شہر دے لوک وی ظالم سن۔ کن سانوں مرن دا شوق وی سی‘‘ سنا دیں۔ وہ فرمائش سن کر بہت خوش ہوئے لیکن کہنے لگے۔ ’’یہ غزل تو اب لوگوں کو ازبر ہوچکی ہے‘‘۔ آپ کو بھی یقیناً آتی ہی ہوگی۔ میں آپ کو اپنی ایک اردو غزل کے چند اشعار سناتا ہوں۔ غزل کے دو اشعار ملاحظہ کیجیے۔
خیال جس کا تھا، خیال میں ملا مجھے
سوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھے
گیا تو اس طرح گیا کہ مدتوں نہیں ملا
ملا جو پھر تو یوں کہ وہ ملال میں ملا مجھے

جناب منیر نیازی ایک سیلف میڈ انسان تھے۔ انہوں نے زندگی میں بے شمار محرومیاں دیکھیں۔ اس کے باوجود بھرپور زندگی بسر کی۔ وہ لاہور آئے تو بے سروسامان تھے۔ اب لاہور سے گئے ہیں تو اپنے چاہنے والوں کو بے سروسامان کر گئے ہیں۔ منیر نیازی جتنے بڑے شاعر تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں ویسی ہی وجیہہ شخصیت سے بھی نوازا تھا۔ میں نے انہیں جب بھی دیکھا سفید شلوار قمیض میں ہی ملبوس دیکھا۔ ان سے ملتے ہوئے ان کے چہرے پر ایک پروقار متانت دکھائی دیتی۔ بلاشبہ وہ ایک پرکشش شخصیت کے مالک تھے۔ اس کے باوجود کبھی ان کا کوئی سکینڈل سامنے نہیں آیا۔ وہ اپنی شریکِ حیات سے بہت محبت کرتے تھے۔ پہلی بیوی کی رحلت کے بعد جناب اشفاق احمد مرحوم کی وساطت سے ان کی دوسری شادی کردی گئی۔ ان کی دونوں شادیوں سے کوئی اولاد نہیں تھی۔ انہوں نے اپنی شاعری کو ہی اپنی اولاد جانا اور اپنے کلام کو بنا سنوار کر پروان چڑھایا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام اپنے اندر ایک منفرد جاذبیت رکھتا ہے غزل اور نظم کے علاوہ ان کا نثری کلام بھی اپنے ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ ان کی ایک نثری نظم’’ایک دفعہ‘‘ ملاحظہ کیجیے۔
ایک دفعہ
وہ مجھ سے لپٹ کر
کسی دوسرے شخص کے غم میں
پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی

منیر نیازی کی شاعری کے متعدد مجموعے شائع ہوئے جن میں تیز ہوا اور تنہا پھول، جنگل میں دھنک، دشمنوں کے درمیان شام، ماہِ منیر، چھ رنگین دروازے، آغازِ مستاں میں دوبارہ، ساعتِ سیار اور پہلی بات ہی آخری تھی‘‘ جیسی شہرہ آفاق کتب شامل تھیں۔

جناب منیر نیازی جب ذرا موڈ میں ہوتے تو ان کی جانب سے انتہائی اعلیٰ فقرے سننے کو ملتے۔ ایک شاعرہ کا تذکرہ وہ کچھ یوں کرتے کہ ا گر میرے گھر میں کوئی مرد آجائے تو میں اپنی بیوی کو اس سے پردہ نہیں کرواتا لیکن جب وہ شاعرہ آتی ہے تو میں اپنی زوجہ محترمہ کو اس سے پردے کی تلقین کرتا ہوں۔ گویا ہلکی پھلکی فقرے بازی ان کے مزاج کا حصہ بن چکی تھی۔انہوں نے مختلف شاعروں اور ادیبوں کے نام مختلف جانوروں کی مماثلت سے رکھے ہوئے تھے۔ منیر نیازی نے ان ناموں کو ڈرائنگ روم کی حد تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ قومی اخبارات کو دیئے گئے اپنے انٹرویوز میں بھی ان کا برملا اظہار کیا۔ ان کا ایک انٹرویو شائع ہوتا تو پھر اس کے بعد مختلف ادبی شخصیات کے جوابی حملوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا۔ منیر نیازی کی موت کے ساتھ ہی یہ سلسلہ بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا۔
اس آخری نظر میں عجب درد تھا منیر
جانے کا اس کے رنج مجھے عمر بھر رہا

جناب منیر نیازی نے زندگی کو بہت قریب سے دیکھا۔ دنیا کی سختیاں اور جھمیلے بھی سہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری ایک زندہ آدمی کی شاعری ہے۔ ان کی شاعری پڑھ کر ہر کوئی اپنے تئیں اپنے اپنے محبوبوں میں کھوجاتا ہے۔
کٹی ہے جس کے خیالوں میں عمر اپنی منیر
مزا تو جب ہے کہ اس شوخ کو پتا ہی نہ ہو

مجھے قوی امکان ہے کہ منیر نیازی کو خود اپنے بارے میں بھی شاید خبر نہ ہو کہ اپنی شاعری کی بدولت وہ کس طرح اپنے قارئین کے دلوں میں بستے تھے۔ بعض لوگ انہیں بھوت پریت، چڑیلوں، ڈائنوں اور خوف کا شاعر گردانتے تھے۔’’بہرکیف تنقید بازی‘‘ اپنی جگہ اور منیر نیازی کی شاعری اپنی جگہ
عادت ہی بنالی ہے تم نے تو منیر اپنی
جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری زندگی کو بے ثمر اس نے کیا
عمر میری تھی مگر اس کو بسر اس نے کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کل دیکھا اک آدمی، اٹا سفر کی دھول میں
گم تھا اپنے آپ میں، جیسے خوشبو پھول میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو مجھے بھلا دیں گے میں انہیں بھلا دوں گا
سب غرور ان کا میں خاک میں ملا دوں گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دن کے بعد اس سے جدا ہوگئے منیر
اس بے وفا سے اپنی طبیعت نہیں ملی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جانتا ہوں ایک ایسے شخص کو میں بھی منیر
غم سے پتھر ہوگیا لیکن کبھی رویا نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب کہاں ہوگا وہ اور ہوگا بھی تو ویسا کہاں
سوچ کر یہ بات جی کچھ اور بوجھل ہوگیا

اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستوں جیسے لافانی مصرعوں اور’’ہمیشہ دیر کردیتا ہوں‘‘ جیسی نظموں کا خالق منیری نیازی محبتوں کی فضاؤں میں تادیرہ زندہ رہے گا۔ زندگی فقط سانس لینے ہی کا نام تو نہیں۔ یہ تو خوشبوؤں کے ایک لا متناہی سلسلے کا نام ہے۔ کہ خوشبو تو صرف آتی ہے، جاتی کبھی نہیں۔ یہ خوشبو جناب منیر نیازی کے کلام کی صورت میں ہمیشہ تازہ رہے گی۔

انہوں نے صرف اردو ہی نہیں بلکہ پنجابی زبان میں بھی اپنی شاعری کے ذریعے نت نئے امکانات روشناس کروائے۔ ان کی ایک نظم ’’فراق دی رات‘‘
لمی رات فراق دی
جیویں ٹھنڈی سل
چڑھیا چن آسمان تے
کنبن لگا دل

ان کی پنجابی شاعری بالخصوص نظمیں قاری کو اپنے سحر میں مبتلا کرنے میں ثانی نہیں رکھتیں۔ نظم ’’اک کڑی‘‘ میں منیر نیازی جذبات کا اظہار کچھ کیوں کرتے ہیں۔
پیار کرن تو کافی پہلے
کنی سوہنی لگدی سی
اپنے مرن تو کافی پہلے
کنی سوہنی لگدی سی

جناب منیر نیازی کی رحلت پر لکھے گئے اس کالم کا مقصد ان کی شاعری کو تنقیدی نکتہ نگاہ سے پرکھنا ہرگز نہیں بلکہ یوں کہیے کہ ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے ہمارے محبوب شاعر منیر نیازی کے اشعار میں پنہاں ان کی شخصیت کا کھوج لگانے کی حقیر سی کاوش ہے۔

جناب منیر نیازی نے کسی جگہ کہا تھا’’لفظوں اور نظموں کے اپنے موسم ہوتے ہیں۔ ان کے شعری مجموعہ، ’’جنگل میں دھنک‘‘ میں شامل نظم’’خود کلامی‘‘ پڑھ کر تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس نظم کا موسم اب آیا ہے اور یہ موسم اب کبھی نہیں بدلے گا۔
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1565 Print Article Print
About the Author: Yousaf Alamgirian

Read More Articles by Yousaf Alamgirian: 51 Articles with 50130 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: