میرا فیصلہ قرآن کرے گا :قسط ١٢

(Azra Faiz, Wah)
کارو کاری جیسی بے رحم رسم کی سچی داستان جس میں ایک بے گناہ نے قرآنکو اپنا منصف بنایا اور پھر انصاف ہوگیا

میرے قلم میں تمہارا لہو بولے گا

رمضان کا مہینہ شروع ہوگیا تھا ۔سال کا یہ ایک ایسا مہینہ تھا جس میں گاؤں کی مسجد میں نہ صرف آذان کی آواز آتی بلکہ نمازی بھی ہوتے اور اسی طرح وہ بچے جنہوں نے گاؤں کی اس نابینا عورت جو حافظ قرآن تھی جس کے پاس بچے مختلف سورتیں اور نماز سیکھنے جاتے تھے ۔وہ بھی مسجد کا رخ کرتے یوں مسجد کے صحن میں بچوں کے زور زور سے قرآن پڑھنے کی آوازیں پورے گاؤں میں پھیل جاتیں اور رمضان کے مہینے کی برکت ہر سو پھیل جاتی ۔یوں بھی سادہ سے اس گا ؤں کے ذیادہ تر لوگ سادہ تھے ۔قرآن پڑھتے تھے لیکن یہ نہیں پتا تھا کہ اس میں ان کے لئے کیا پیغام ہے ۔اور کچھ مولویوں نے ڈرایا ہوا بھی ایسا تھا کہ تمہاری سمجھ میں نہیں آئے گا۔ ان کو تو بس یہ پتا تھا قرآن پڑھنے سے ثواب ملتا ہے ۔فوتگی میں قل خوانی میں جتنے ذیادہ قرآن پڑھے جائیں اتنا ہی فوت ہونے والے بندے کے گناہ جھڑ جا ئیں گے اور اسے جنت میں اعلی مقام ملے گا ۔رمضان کے مہینے میں ہر کوئی ذیادہ سے ذیادہ قرآن ختم کرتا ۔گاؤں کے بہت سے لوگو ں کو نہ قرآن پڑھنا آتا تھا اور نہ نماز لیکن اس کے باوجود وہ قرآنِ پاک کی ہر سطر پر بسمِ اللہِ الرحمنِ الرحیم پڑھتے اور انگلی سے اگلی سطر پر آتے اور یوں پورا قرآن ختم کرتے اسی طرح نماز میں بھی وہ مسلسل بسمِ اللہِ الرحمنِ الرحیم ہی پڑھتے ۔ سب کے چہرے خدا کی محبت میں سرشار ہوتے تب معلوم ہوتا کہ وہ اللہ کے علم کو اتنا نہ جاننے کے باوجود اس سے اتنی محبت کرتے ہیں اور اگر یہ سادہ لوگ اللہ کے علم کو جان لیں تو کبھی کو ئی گناہ ان سے سرزد نہ ہو ۔شیطان یہ اچھی طرح سے جانتا تھا اس لیۓ اس نے نہ صرف ان کو ایسے سرداروں کا محکوم بنا کر رکھا جنہوں نےاللہ کا پیغام (قرآن)کو ان سے دور رکھا بلکہ مولویوں کے حلوے اور سردار کی سرداری نے ان معصوم لوگوں کو اللہ کا حکم یا تو نہ مکمل بتایا یاپھر من گھڑت اور اللہ کی آیتوں کو اپنے مفاد کے لئے استعمال کیا۔اور گاؤں کے سادہ لوح لوگ یہ بھی نہ سوچتے کہ اللہ تو سب کا ہے وہ تمام انسانوں سے برابر کا انصاف کرتا ہے کیسے ہوسکتا ہے اتنی بڑی کائنات بنانے والا عورت کے ساتھ نا انصافی کرے گا ۔ وہ ایسے مردوں کو اس کا مالک کیسے بناۓ گا جو اسے بھیڑ بکری سے بھی کم درجہ دیتے ہوں اور کہتے ہوں اللہ نے ہمیں تمہارا مالک بنایا ہے ۔کاش ان کی سمجھ میں آجاتا کہ مالک تو بس ایک ہی ہے جو خیال بھی رکھتا ہے ۔پیدا بھی وہی کرتا ہے اور پالتا بھی وہی ہے اور انصاف بھی وہی کرتا ہے۔پیار بھی وہی کرتا ہے ۔ بس کسی کو ڈھیل دیتا ہے تاکہ اس کی پکڑ کر سکے آخر میں تو کسی کا صبر آزماتا ہے۔

اس دفع جو مولوی مسجد میں آیا تھا وہ دور کسی گاؤں کا تھا ۔مسجد میں مولوی صاحب کا اچھے سے استقبال کیا گیا ۔بچے اپنے گھر سے ساگ ،مکئی کی روٹی اور لسی لے آئے تھے ۔بڑوں سے ذیادہ بچے خوش تھے ۔ مسجد کے کچے صحن میں جھاڑو لگا یا گیا تھا اور صحن میں گاؤ ں کی عورتوں کے ہاتھ سے کھجور کے پتوں سے بنائی کئی صفیں بچھی ہوئی تھیں اس میں پینو کے ہاتھ سے بنائی گئی صف بھی موجود تھی ۔مسجد میں موجود قرآنِ پاک کو نئے ہاتھ سے کڑاہی کئیے گئے لال رنگ کے غلاف بھی پہنائے گئے ۔ہر طرف خوشبو ہی خوشبو تھی سوندھی مٹی کی۔ مسجد کی رونق نے پینو کے غم میں دکھی دلوں کو تھوڑی سی راحت دے دی تھی تقریبا گاؤں کے سب لوگ مولوی صاحِب سے ملنے آ ۓ لیکن رمضو ماما ابھی تک نہیں آیا تھا ۔

رمضو کو جاگے ہوئے کئی دن گزر گئے تھے اس کے گھر والے بھی پریشان تھے وہ سو نہیں پاتا تھا جیسے ہی سونے لگتا پینو کی چیخوں کی آوازیں سنائی دیتیں اور وہ اس کے خواب میں آکر کہتی ٌماما میڈا فیصلہ قرآن کریسے ٌ اور وہ چیخ کر کہتی ٌ قرآن میڈا فیصلہ کر ٌ وہ ایک دم گھبرا کر اٹھ بیٹھتا ۔پینو کا قتل اس کا پہلا قتل نہیں تھا نہ جانے کتنی بے گناہ اس کے ہاتھوں کالی ہوئیں۔کتنے دودھ پیتے بچے اپنی ماؤں سے محروم ہوۓ ، کتنی بے گناہ عورتیں کالی قبرسان پہنچیں ،کتنی سردار کی حویلی میں داسی بنائی گئیں لیکن کبھی پہلے اس کے ساتھ ایسا نہیں ہوا تھا یہ پہلا واقعہ تھا وہ خود بھی پریشان تھا پہلے پہل تو دوسرے لوگوں کی طرح وہ اپنا وہم سمجھا لیکن مسلسل پینو کا اس کے خواب میں آنا اور چیخنے نے اس کو بے آرام کردیا تھا ۔وہ سکون کی تلاش میں دور دور نکل جاتا کہ شاید اس گاؤں سے دور جانے پر اسے پینو کی چیخیں سنائی نہیں دیں گی ۔اسے کچھ ہوش نہیں تھا نہ اپنے کپڑوں کا اور نہ ہی اس پگ کا جس کی خاطر اس نے کئ زندگیاں داؤ پر لگا دیں ۔ اس مشکل گھڑی میں نہ تو سردار اس کے کچھ کام آرہا تھا اور نہ ہی اس کا دوست ابلیس جو اسے عزت کے لیکچر دینے آتا تھا ،اسے اس بات کے گھمنڈ میں ڈال دیا تھا کہ تم بہت طاقت ور ہو ۔نہ ان مولویوں کے ان پیروں کے تعویز اس کے کام آرہے تھے جو ا س کے قتل کے کارناموں پر اسے مبارکباد دیتے اور کہتے بے شک تم نے اللہ کا حکم مان کر بد کردار عورت کو اس کی سزا دی ہے اور اب جہنم کی آگ تمہیں نہیں چھو سکتی۔ وہ سب لوگ کہاں تھے جن کے دل اس کی ایک دھاڑ سے کانپ جاتے تھے جبکہ اب وہ پینو کی چیخوں سے ہی بچتا پھرتا تھا ۔جس کی زندگی میں اس شخص نے بات نہیں سنی تھی اب ہر پل وہ اس کے سامنے آکھڑی ہوتی اور اسی طرح قرآن سر پر رکھے کہتی ٌ ماما میں بے قصور ہوں ۔میرا فیصلہ قرآن کرے گا ٌ ،اب نہ وہ اسے دھتکار سکتا تھا نہ ہی اپنے کھسے سے اسے مار سکتا تھا وہ تو خود کبھی کسی کھڈے میں اوندھے منہ گرا ہوتا تو کبھی کسی پتھر سے ٹکرا کر خون بہہ رہا ہوتا ۔مکافاتِ عمل شروع ہوچکا تھا ۔اللہ کا فیصلہ آچکا تھا ۔بے شک قرآن اللہ نے پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کے لئیے بھیجا تھا لیکن جن لوگوں نے اس کا غلط استعمال کیا ۔ اللہ کی آیتوں کو سوچے سمجھے بغیر ،اپنے مفادات کے لئیے غلط طریقہ اختیار کیا ۔اس کے مطلب کو غلط رنگ دیا وہ اللہ کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے ۔دیر بدیر اس کے کٹہرے میں تو آئیں گے ۔پھر نہ کوئی سردار کو اس کی سرداری بچاۓ گی اور نہ کسی شیطان کے دوست کو اس کی دوستی پھر تو صرف آہوں کا سوال ہوگا ،آنسوؤں کا انصاف ہو گا ۔اب سردار کی طاقت نہیں خدا کو پکارے گئے الفاظوں کی طاقت ہوگی ۔اللہ اپنے اس وعدے کو پورا کرتا ہے کہ بے شک تباہی ہے ظالموں کے لئے جب وہ حد سے گزر جائیں۔
مسجد میں مولوی صاحب کا پہلا دن تھا ۔رات کو تراویح میں گاؤں کے کافی لوگ موجود تھے ۔پہلا روزہ اور وہ بھی جمعہ کا تھا لہذا کچھ بچے بھی موجود تھے ۔تراویح کے بعد لوگ اپنے گھروں میں چلے گئے ۔مولوی صاحب نے اپنا بستر لگایا ۔کیونکہ صبح سے بہت سے لوگوں سے ملنا ملانا رہا اس لئیے تھکاوٹ بہت ہوچکی تھی ۔مولوی صاحب نے سوچا صبح سحری کے لئیے بھی اٹھنا ہوگا اس لئیے اس نے لالٹین کی لو کم کی لیکن اچانک اندھیرے میں اسے کوئی شبیہ نظر آئی جیسے کوئی لڑکی کھڑی ہو بغیر کپڑوں کے اور اس کے منہ میں چوٹیا تھی پہلے وہ ڈر گیا لیکن اچانک وہ لڑکی غائب ہو گئی ۔مولوی صاحب نے اپنا وہم سمجھا اور تھکاوٹ کی وجہ جانا لیکن جیسے ہی مولوی صاحب آنکھیں بند کرتے وہ لڑکی پھر سے آنکھوں کے سامنے نظر آتی ۔مولوی صاحب نے بہت سی سورتیں پڑھیں کہ اگر کوئی آسیب ہے تو ختم ہو جائے لیکن ایسا نہ ہوسکا ۔مولوی صاحب کی اگر ایک آدھ گھنٹہ آنکھ لگی بھی تو اسی طرح اسے ایک لڑکی بگیر کپڑوں کے منہ میں چوٹیا ڈالے کھڑی نظر آئی اور تب وہ پسینہ پسینہ ہو کر اٹھ بیٹھا ۔تھوڑی دیر میں گاؤں کا ایک شخص ان کے لئیے سحری کا کھانا لے آیا لیکن مولوی صاحب کی حالت دیکھ کر حیران ہوگیا ۔کیا ہوا مولوی صاحب کیوں پسینہ پسینہ ہورہے ہیں ؟۔مولوی صاحب نے سارا واقعہ اسے سنایا اور کہا کہ اب میں اور اس مسجد میں نہیں رہ سکتا ۔تھوڑی دیر میں چند اور نمازی بھی آن پہنچے اور مولوی صاحب کو سمجھانے لگ گئے کہ آپ ایسا مت کریں ۔صرف یہی ایک مہینہ تو ہے جس میں یہ مسجد آباد ہوتی ہے اگر کوئی جنات یا آسیب ہوگا تو پڑھاٖئی سے ختم ہو جائے گا ۔اگر آپ بھی چلے گئے تو اتنے بابرکت مہینے میں یہ مسجد ویران ہو جائے گی لوگوں کے بے حد اسرار پر مولوی صاحب رکنے کے لئیے تیار ہو گئیے۔

(کیا مولوی صاحب کو نظر آنے والی لڑکی بھوت پریت تھی یا کچھ اور ؟ جانیں اگلی قسط میں )
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 585 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Azra Faiz

Read More Articles by Azra Faiz: 37 Articles with 29690 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: