پاک ترک دوستی

(Ghulam Ullah Kiyani, Islamabad)

ترک صدر طیب ایردوان نے ایک ایسے موقع پر دو روزہ دورہ پاکستان کیا جب بھارت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے استقبال کی تیاریاں ہو رہی ہیں اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل پیر کو اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔صدر ایردوان پاکستان میں ہر دل عزیز نام ہیں۔ ان کی کافی شہرت ہے۔ خاص طور پر ان کی کشمیری عوام کے بارے میں دلچسپی کو احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ آج بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب، ایوان صدر میں نماز جمعہ کی ادائیگی، دونوں ممالک کے کاروباری افراد اور صنعتکاروں سے خطاب میں صدر ایردوان نے ترک عوام کے جذبات کی خوب عکاسی کی ہے۔ان کا کہناتھا کہ پاکستان ان کے لئے دوسرے گھر کا درجہ رکھتا ہے، کشمیران کے لئے وہی ہے جوپاکستان کیلئے ہے۔آج دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھا رہے ہیں،ترک صدر اعتراف کرتے ہیں کہ پاکستانی حکومت کے مثبت اقدامات سے سرمایہ کاری اور تجارت کے لیے سازگار ماحول بن رہا ہے۔ترکی پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو بھرپور فروغ دے رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ صدر ایرداون ترک تاجروں اور صنعتکاروں کے بڑے وفد کے ساتھ پاکستان تشریف لائے۔

ترک عوام نے یہاں کے عوام کی جانب سے تحریک خلافت میں تعاون کبھی فراموش نہیں کیا۔ ترک نصاب میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔ترک صدر نے بھی اس کا اعتراف کیا کہ پاکستانی قوم نے جس طرح اپنا پیٹ کاٹ کرہماری مدد کی ، وہ کبھی نہیں بھول سکتے،دونوں ممالک کی دوستی مفاد پر نہیں عشق و محبت پر مبنی ہے۔ پاکستان ترقی و خوشحالی کی جانب رواں دواں ہے۔ایردوان نے یہ بھی کہا کہ ترک تحریک آزادی میں پاکستانی خواتین نے زیور اور بزرگوں نے جمع پونجی تک وقف کردی ، انہوں نے تحریک خلافت میں مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی کی خدمات کو بھی سراہا۔ ترکی کی آزادی میں برصغیر کے مسلمانوں کے جذبہ اور کردار کو وہ فراموش نہیں کرسکتے، ترک قوم کی جدو جہد کے وقت لاہور میں کئے گئے حمایتی جلسے آج بھی انہیں یاد ہیں۔جس طرح انہوں نے 2005کے زلزلہ اور اس کے بعد بھر پور عملی تعاون سے بھی اپنے اس عزم کی یاددہانی کرائی۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدر ایرداون کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت کے مثبت اقدامات سے سرمایہ کاری اور تجارت کے لئے ساز گار ماحول بن رہا ہے، اقتصادی ترقی چند دنوں میں حاصل نہیں ہوتی، مسلسل محنت و جدوجہد سے ممکن ہوتی ہے۔انہوں نے ایف اے ٹی ایف میں تمام تر دباؤ کے باوجود پاکستان کا ساتھ دینے کا یقین دلایا اور اﷲ تعالیٰ سے دعا کی کہ پاکستان اور ترک عوام میں محبت ہمیشہ قائم رہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی ترکی کا بھرپور ساتھ دیا، شدید دباؤ، غربت کے باوجود ترک قوم کو مدد فراہم کرنے پر ہم پاکستانی عوام کو نہیں بھول سکتے۔ ترک قوم35 سال سے علیحدگی پسند تنظیموں سے نبرد آزما ہے۔پاکستان نے پاک ترک اسکولوں کا نظام ترکی کے حوالے کیا جسے ترک حکومت حقیقی دوستی کا ثبوت قرار دیتی ہے۔ترک صدر کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام کے لیے دکھ کو ہم نے دل کی گہرائیوں سے محسوس کیا ہے، پاکستان میں زلزلے اور سیلاب کے دوران ترک عوام نے بھرپور مدد کی۔ شام میں ترکی کی موجودگی کا مقصد مظلوم مسلمانوں کو جابرانہ حملوں سے بچانا ہے،شام کے عوام کو عالمی برادری نے تنہا چھوڑ رکھا ہے، ترکی 40 ارب ڈالر خرچ کررہا ہے۔

کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل جبری پالیسیوں سے نہیں بلکہ انصاف، امن اور ڈائیلاگ کے ذریعے ممکن ہے، بھارت کے یک طرفہ اقدام سے کشمیری بھائیوں کی تکالیف میں مزید اضافہ ہوا ہے، مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ میں ترکی نے اپنا بھرپور موقف اپنایا ہے۔ ایردوان افغانستان میں امن کے لیے پاکستان کے اقدامات کو قابل تعریف سمجھتے ہیں، وہ فلسطین، قبرص اور کشمیر کے مسلمانوں کے لیے بھی دعا گو ہیں، مظلوم مسلمانوں کا ساتھ دیناوہ اپنا مذہبی اور اخلاقی فرض سمجھتے ہیں ہے۔ترک صدر نے کہا کہ سرحد اور فاصلہ مسلمانوں کے درمیان دوری پیدا نہیں کرسکتے، اﷲ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ امریکی صدر ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ سے متعلق منصوبہ امن نہیں بلکہ قبضے کا منصوبہ ہے، انہوں نے بیت المقدس کے معاملے پر اسرائیل کے خلاف پروقار اور مضبوط موقف اپنایا ہے۔ صدر رجب طیب اردوان پاکستان کے دو روزہ دورے میں ’روایتی یکجہتی اور تعلق‘ کے فروغ اور پاک ترک اسٹریٹجک شراکت داری میں مزید توسیع' کے بعد وطن واپس روانہ ہوگئے۔انقرہ اور سعودی عرب کے مابین مشرق وسطیٰ میں سیاسی منظر نامے کی وجہ سے کشیدگی، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور آرٹیکل 370 کی منسوخی، اسلاموفوبیا، پاکستان کی معاشی صورتحال اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (اے ایف ٹی ایف) جیسے مسائل کے تناظر میں ترک صدر کے دورہ کی کئی اعتبار سے اہمیت ہے۔ پاکستان اور ترکی کے مابین تجارتی تعلقات سے متعلق مشترکہ ورکنگ گروپ (جے ڈبلیو جی) اجلاس اور اس میں ہونے والے معاہدے خطے میں نئی تبدیلی کے تناظر میں دیکھے جاسکتے ہیں۔تین سال بعد پاکستان کا دورہ کرنے والے ترک صدر ر طیب ایردوان کا کشمیر پر ایک مرتبہ پھر پاکستان کی حمایت کرتے ہوئیکہنا کہ ہمارے لیے کشمیر کی حیثیت وہی ہے جو چناق قلعے کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ 1915 میں جب ترک فوج چناق قلعے کا دفاع کررہی تھی تو اس محاذ سے 6 ہزار کلو میٹر دوربرصغیر کی سرزمین پر ہونے والے مظاہرے اور ریلیاں ہماری تاریخ کے ناقابل فراموش صفحات پر درج ہوچکے ہیں۔اس وقت دونوں ممالک کے درمیان 80 کروڑ ڈالر کی تجارت ہو رہی ہے ،پاک ترک مشترکہ آبادی 30 کروڑ سے زائد ہے لہٰذا تجارت کو اس مقام تک لے جانے کی ضرورت ہے۔وہ تجارتی حجم کو ایک ارب ڈالر تک لے جانے کے بعد اسے 5 ارب ڈالر تک توسیع دینا چاہتے ہیں۔ ترکی میں 158پاکستانی سرمایہ کار کمپنیاں کام کر رہی ہیں، وہ ایک ماڈل کے تحت سرمایہ داروں کومشروط ترک شہریت کی پیشکش کر رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان ٹی وی، ریڈیو، سیاحت، ثقافت، خوراک، تجارت میں سہولت کاری، پوسٹل سروسز، ریلوے اور عسکری تربیت سمیت دیگر شعبوں میں مفاہمت کی یادداشتوں پردستخط اہمیت رکھتے ہیں۔اب پی ٹی وی پر عالمی شہرت یافتہ ڈرامہ 'ارطغرل' جلد اردو ترجمے کے ساتھپیش کیا جائے گا۔ تعلیم، مواصلات، صحت، ثقافت سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کے فروغ سے متعلق 13 معاہدے پاک ترک قریبی تعلقات کے عکاس ہیں۔توقع ہے کہ دونوں ممالک کے مابین مفاہمتی یادداشتوں سے پاک ترک تجارت میں نئے دور کا آغاز ہوگااور ترکی او آئی سی میں مسلہ کشمیر کو اجاگر کرنے اور کشمیر میں رائے شماری کے لئے اپنا کلیدی کردار ادا کرے گا۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 171 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 499 Articles with 164582 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More

Comments

آپ کی رائے
Language: