صحافتی دنیا کا آئینہ ……رویش کمار !

(M Shafi Mir, )

موجودہ دور جب جس طرح سے شعبہ سیاست میں داغدار، مالدار اور مکار لوگوں کی ہی انٹری ممکن ہے بلکہ یوں کہاں جائے مکاری، فریب کاری، دغابازی، اشتعال انگیزی، ظلم و جبر، انتقام گیری، دھونس دباؤ، ہٹ دھرمی اور عوام دشمنی سیاست کا دوسرا نام ہے تو بیجا نا ہوگا۔ قارئین حضرات موجودہ دور کی صحافت کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے ،جس طرح سیاست نا تجربہ کاروں کے ہاتھوں لوٹ کھسوٹ اور حصول ِمفادات کا ایک اہم ذریعہ بنا ہوا ہے بالکل اسی طرح سے مقدس پیشہ صحافت بھی کی حالت بھی قابلِ رحم بنی ہوئی ہے ، صحافتی شعبہ کی یہ حالت ِ غیر دیکھ کر کافی مایوسی ہوتی ہے کہچند نام نہاد برائے نام صحافیوں نے صحافت جیسے مقدس پیشے کو اس قدر داغدار کر دیا ہے کہ اب اِن دھبوں کو صاف کرناکوئی آسان کام نہیں ۔ گوکہ ایسی صورتحال میں صحافتی شعبے کی قدر و منزلت اور وقار کو تحفظ بخشنے کے لئے رویش کمار جیسے صحافی نے کمر کس لی ہے لیکن وقت کا تقاضا ہے کہ رویش کمار کے ساتھ ایسے لوگ جڑ جائیں جن کے اندر یہ جذبات ہیں کہ وہ بے لاگ صحافت کریں ۔ لیکن یہاں بھی مایوسی کا سامنا ہو تا ہے کہ رویش کمار جیسے باضمیر اور خودار صحافیوں کی تعداد بہت کم ہے اور ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ چندایک صحافی جو رویش کمارکی طرز صحافت کو اپنا کر حقائق کو سامنے لانے کی کوشش کرتے لیکن بدقسمتی سے انہیں وہ پلیٹ فارم میسر نہیں جہاں سے وہ حقائق کو سامنے لا سکیں ،یہی وجہ ہے کہ ابھی وہ ماحول نہیں بن پا رہا ہے جو ایک زندہ صحافت کا ثبوت ہو تا ہے۔ خاص طور پر ہمارے ملک بھارت میں صحافت کا معیار اِس سطح تک گرایا گیا ہے کہ اب جب کوئی صحافت کا نام سنتا ہے تو اُس کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، صحافت کو غلط سمت میں لیجایا گیا ہے۔ وقتی آرام اور آسائش کی خاطر چند بکے ہوئے صحافیوں نے صحافت جیسے مقدس پیشے کا مقام اِس قدر پامال کر دیا ہے کہ اب ہر کوئی شعبہ صحافت کے نام پر انگلی اٹھا کر یہ کہہ رہا ہے کہ ملک کا میڈیابکا ہوا ہے، کوئی کہتا ہے کہ ہندوستانی میڈیا سیاست دانوں کے ٹکڑوں پر پلتا ہے اور سیاست دانوں کی ہی چاپلوسیاں کرتا ہے۔ صحافتی شعبے کی اس طرح کی حالت کو دیکھ اُن صحافیوں کو بھی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو یہ چاہتے ہیں کہ سچی اور معیاری صحافت کو فروغ مل سکے۔ لیکن انہیں عام لوگوں کے سامنے خود کو ایک سچا صحافی پیش کرنے کیلئے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کیونکہ صحافیوں پر سے لوگوں کا بھروسہ اٹھ چکا ہے۔ آج کا عام انسان صحافی کو اپنا دشمن سمجھ رہا ہے۔اِس لئے وقت کا تقاضا ہے کہ صحافت کی گرتے اور بگڑتے ہوئے ماحول کو ڈگر پر لانے کیلئے رویش کمار جیسے صحافیوں کو کچھ مزید اقدامات کرنا ہونگے۔

میں ذاتی طور پر رویش کمار کی طرزِ صحافت کو سلام پیش کرتا ہوں جنھوں نے کٹھن حالات لے باجود سمجھوتہ نہیں کیا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جو لوگ کسی شعبے کے ساتھ جڑ کر بطورِ مشن ایمانداری سے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں یقینی طور وہ اُس شعبے کی قدر و منزلت اور اُس کی اہمیت کا خیال ضرور رکھتے ہیں ۔ ہمارے ملک میں جہاں ایک طرف سے صحافت چاپلوس نما صحافیوں کے ہتھے چڑھ کر داغدار اور فریبی سیاست دانوں کے دروازوں پر گھٹنے ٹیک کر اُن کی ہاں میں ہاں کا سُر ملاتے ہوئے دنیا بھر میں بدنام ہو رہی ہے وہیں اِس مقدس پیشے کی عزت و وقار اور بلندی کو بچانے کی خاطر این ڈی ٹی کے رویش کمار نے ایک باضمیر صحافی ہوتے ہوئے دنیا بھر میں یہ پیغام پہنچایا ہے کہ صحافت تب تک زندہ ہے جب تک رویش کمار جیسے سپوت شعبہ صحافت کے ساتھ جڑے ہیں ۔ حکومتی تنگ طلبیوں کے باجود بھی رویش کمار نے کبھی بھی اپنی پیشہ وارانہ سرگرمیوں کو متاثر نہیں ہونے دیا،وجہ رویش کمار کی خودداری ، دیانتداری تو تھی ہی لیکن اہم وجہ یہ ہے کہ رویش کمار کو ایک ایسا ادارہ میسر ہوا جس ادارے نے رویش کمار کی صلاحیتوں کا احترام کرتے ہوئے صحافت کے آزاد ہونے کا ثبوت پیش کیا۔اِس میں کوئی شک نہیں کہ رویش کمار کو اگراپنے ادارے NDTVکا بھر پورساتھ نہ ہوتا تو وہ اپنے فرائض یوں انجام دے پاتا یقینی طور پر رویش کمار کو اُن کے اپنے ادارے کی جانب سے بھر ساتھ ملا ہے ، اُن کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے، انہیں ادارے NDTVکی جانب سے حقائق کو سامنے لانے اور جھوٹ کا پردہ فاش کرنے کیلئے ایک اچھا پلیٹ فارم میسر تھا جہاں سے انھوں نے حق کی آواز کو بغیر کسی ڈر و خوف کے ایمانداری سے بلند کیا۔ادراہ NDTVاور رویش کمار دونوں ہی مبارکباد ی کے مستحق ہیں جنھوں نے شعبہ صحافت کی قدر و منزلت کو برقرار رکھنے کیلئے بے پناہ محنت کی۔ ہمیں NDTVجیسے اداروں اور رویش کمار جیسے صحافیوں کا شکریہ ادا کرنا چاہیے اور سلام کرنا چاہیے اِن کے جذبوں کو جنھوں نے ہمیں سچی صحافت اور بکی ہوئی صحافت کا فرق سمجھایا۔

جس طرح سے سیاست میں کیجروال نے بتا دیا کہ اچھی سیاست کسیکہا جاتا ہے اور اِس کے لئے ایک سیاست دان کے اندر کیا صلاحیت ہونی چاہیے؟بالکل اسی طرح سے صحافتی دنیا کے ایک قابل قدر اور بلند پایہ نام رویش کمار نے بھی لوگوں کو یہ سمجھا دیا کہ ایک صحافی کو کس طرح سے کام کرنا چاہیے۔صحافت کس بھلا کا نام ہے؟سچی صحافت کسے کہتے ہیں؟،صحافتی اصول و ضوابط کے تحت اور صحافتی پیشے کی قدر و منزلت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حقائق کی بنیاد پر کام کرنے کے لئے ایک صحافی کے اندر کس درجے کی صلاحیات موجود ہونی چاہیے یہ رویش کمار کی طرزِ صحافت کا ایک بہترین کردار ہے جس پر عمل کرنا اور اس طرزِ صحافت کو عملانا ہر اُس صحافی کے لئے مشعلِ راہ ہے جو صحافی عملی طور پرسچی صحافت پر یقین رکھتے ہوں۔

یوں تو سچی صحافت کا دعویٰ اُن نام نہاد اور چلوس و مخبر نما صحافیوں کا بھی ہے لیکن اچھی اور سچی صحافت کیا ہوتی ہے یہ ملک کے ہر باشندے کو اب معلوم ہو چکا ہے کیونکہ
یہ جو پبلک ہے سب جانتی ہے
اندر کیا ہے، باہر کیا ہے
یہ سب کچھ پہچانتی ہے
یہ جو پبلک ہے سب جانتی ہے

پبلک اب جان چکی ہے کہ رویش کمار نے کیوں کہا تھا کہ کچھ دیر کے لئے ٹی وی دیکھنا بند کرو جی ہاں !اُسے معلوم تھا کہ ٹی وی چینلوں پر محبت کی نہیں نفرت کی زبان بولی جاتی ہے ،بھائی کو بھائی کا دشمن بنایا جا رہا ہے ، ملک میں نفرتوں کا ایسا زہر گھولا جا رہا ہے اکثریت طبقہ اقلیتوں کو ملک دشمن کہہ کہہ کر موت کے گھاٹ اُتار دیتے ہیں۔ گوکہ ملک کی آزادی میں اقلیتی طبقہ نے سب سے زیادہ قربانیوں دی ہیں لیکن وقت کے بے رحم ہاتھوں آج اُس طبقے کو عتاب کا نشانہ بننا پڑ رہا ہے۔اُن کی قربانیوں کو فراموش کیا جا رہا ہے اُن پر دشمنی کا ٹیگ لگا کر ملک بدر کرنے کی سازشیں رچی جا رہی ہیں ۔ ملک کے بھائی چارے کو صرف اس لئے ختم کیا جا رہا ہے تاکہ اقتدار’’ستا‘‘کو آسانی سے حاصل کیا جا سکے۔ اس تمام صورتحال کو برپا کرنے کیلئے انتقامی سیاست اور بکی ہوئی صحافت کا مہا گٹھ بندھن ہوا تھا لیکن بلآخر پبلک مہا گٹھ بندھن کے سامنے سب کو گھٹنے ٹیکنے پڑے ،یوں اچھی سیاست اور سچی صحافت کا پرچم لہرا اُٹھا، حق کی جیت ہوئی اور باطل کو منہ کی کھانی پڑی !

کیجریوال کی جیت پر اِس وقت ہر کوئی یہ کہتا سنائی دے رہا ہے کہ واقعی سچی سیاست کی جیت ہوئی لیکن جہاں تک راقم کا ذاتی خیال ہے یہ جیت اُس سچی صحافت کی ہوئی جس نے سیاست دانوں کو اس قدر ننگا کر دیا کہ انہیں مجبوراً اپنا طرزِ سیاست بدلنا پڑا۔سیاست دانوں منفی سوچ اور اپروچ کو بھول کر عوامی مسائل اور اپنی کارکردگی پر ووٹ مانگنا پڑا، سچی صحافت نے سیاست دانوں کو سبق سکھا دیااور لوگوں کو بیدار کیا یہی وجہ ہے کہ لوگوں نے سیاستدانوں کی کارکردگی کو ووٹ دیا، خیالی پلاؤ نہیں کام کی بنیاد پرحق رائے دہی کا استعمال کیا۔ جھوٹی سیاست کرنے والوں اور بریانی کھانے کا الزام لگانے والوں کا اپنا پلاؤ بھی ضائع ہوگیا جسے اُنھوں عوام کو بہلانے پھسلانے کے لئے تیار کیا تھا۔

المختصر! میں اپنی طرف سے رویش کمار کی طرز صحافت کو سلام پیش کرتا ہوں اور اُن سے ایک مخلصانہ گزارش کرتا ہوں کہ وہ اپنی اِس طرز ِ صحافت کو عام کرنے کیلئے ملک کے کونے کونے اپنے ساتھ لوگوں کو جوڑنے کی کوشش کریں اور ملک کے اندر سچی صحافت کا ایک ایسا ماحول تیا ر کیا جائے کہ آنے والے وقت میں ہندوستانی صحافت کی مثالیں دی جائیں۔ دورِ حاضر میں ہندوستانی صحافت جس ذلت اور افسوسناک دور گزر رہی ہے اُس صورتحال سے باہر نکالنے کیلئے آپ جیسے ہی صحافیوں کو کچھ اقدمات کرنا ہونگے، بالخصوص میری آپ سے گزارش ہو گی کہ جموں و کشمیر جو کہ اِس وقت صحافت اور سیاست کی گندی سازشوں کی وجہ سے مشکل اور کٹھن حالات میں پھنسا ہوا ہے اِ س جانب آپ کو توجہ ہمارے لئے باعث ِ راحت ہوگی۔ اپنے مشہورو معروف پروگرام پرائم ٹائم میں تھوڑا سا ٹائم جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال پر دینے کی مودبانہ گزارش ہے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 128 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MOHAMMAD SHAFI MIR

Read More Articles by MOHAMMAD SHAFI MIR: 36 Articles with 16130 views »
Ek Pata Hoon Nahi Kam Ye Muqader Mera
Rasta Dekhta Rehta Hai Sumander Mera
.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: