جس جھولی میں سوچھید ہوئے

(Sarwar Siddiqui, Lahore)

بحث زوروں پر تھی ہرکوئی اپنے پسندیدہ سیاستدانوں کے حق میں دلائل دے رہا تھا کچھ نیا شوشہ چھوڑ کر تماشا دیکھتا: اس سے محظوظ ہوتا پھر کوئی نئی پھلجھڑی چھوڑ دیتا جو جلتی پرتیل کا کام کر دیتی ایک صاحب نے تنگ آکر کہا چھوڑو۔۔ اب اپوزیشن کو سال بعد احتجاج کرنے کا خیال آیا ہے یہ کیا بات ہوئی؟ دوسرے نے ہاں میں ہاں ملائی میاں نوازشریف کی مسلم لیگ ن، آصف زرداری کی پیپلزپارٹی ،فضل الرحمن کی جے یو آئی ،قوم پرست رہنما الگ چاروں صوبوں کی علاقائی جماعتیں اور ان کے رہنما یعنی سب کے سب حکومت کے خلاف۔۔۔ اوپر سے مہنگائی، بیروزگاری اور ٹیکسز کی بھرمار عجیب وختہ ۔کمال ہے بھئی ۔بس اب عمران خان حکومت گئی ایک جیالا حلق پھاڑ کر چیخا۔۔۔ چپ۔۔۔ایک بزرگ نے ڈانٹا ایسی یاتیں نہ کر زرداری ناراض ہو جائے گا یہ سنتے ہی جیالے کی ہنسی کو پریشر بریک لگ گئی۔۔۔ویسے اپوزیشن جماعتیں متحدہو جائیں تو حکو مت کو وخت پڑ سکتاہے ایک نے رائے دی

شیخ رشید اورعمران خان کے بارے میں کیا کہوں ایک موٹے سے سخص نے ہاتھ اٹھا کر،منہ پھلا کرکہا فضل الرحمن کے بارے میں مجھے یقین ہے وہ سیاسی دوکاندارہے

’’اس سے پہلے لوگوں کے شیخ الاسلام کے بارے میں بھی یہی خیالات تھے پھر وہ خوداس کی نفی کرتے پھرے

’’کسی ایک کا نام لو دبلاپتلا پاٹ دار آوازمیں ترت بولا ۔۔۔جو سیاسی دوکاندار نہیں۔۔۔اس کی آواز سن کر سب کوجیسے سانپ سونگھ گیا۔۔ ایسی چپ کہ سب خاموش حیرت سے ایک دوسرے کے منہ کی طرف دیکھنے لگے ۔۔۔یہ نظام ہی ایساہے کسی نے وقفے کے بعد خاموشی توڑتے ہوئے کہا

میں نظام کی بات نہیں کررہا دبلاپتلاپھرگویاہوا ۔۔۔ہے کوئی سنگل پرسن۔۔جس کے بارے میں آپ کا دل گواہی دے کہ وہ سیاستدان ہے سیاسی دوکاندارنہیں۔۔ شایدکسی کے پاس اس تلخ سوال کا کوئی جواب نہیں تھا ۔۔۔ بزرگ نے کہا طاہرالقادری کے پروگرام یاطریقہ ٔ کار سے اختلاف ہو سکتاہے لیکن اس کی باتیں دل میں ترازو ہو جاتی ہیں

جب تک۔۔۔ایک اور آواز گونجی جب تک یہ سسٹم تبدیل نہیں ہوتامجھے تو بہتری کی کوئی امید نظرنہیں آتی
میں اکثرسوچتا رہتاہوں پاکستان میں جمہوریت سے مراد شاید خاندانی بادشاہت ہے میاں نوازشریف کے 22عزیز واقارب حکومت میں موجود تھے اس سے قبل یہی صورتحال پیپلز پارٹی کی تھی مذہبی جماعتوں کا حال شاید سب سے برا ہے دن رات جمہوریت، جمہوریت کا راگ الاپنے والوں میں اختلاف رائے بھی برداشت کرنے کا حوصلہ نہیں پارٹی ورکرتوبہت دورکی بات ہے یہ اپنی پارٹی کے ارکان ِ اسمبلی کو ملازم جتنے حقوق دینے کیلئے تیار نہیں ہے جتنا غورکریں دل کو یقین ہوتا جاتاہے ملک میں جمہوریت کے نام پر سول ڈکٹیٹر شپ موجودہے شاید ذوالفقارعلی بھٹو سے لے کر عمران خان تک سب جمہوری حکمرانوں کو انہی روایات سے پیارہے تبھی تو ان کو سینے لاکر رکھنا فخرسمجھا جاتاہے اس صورت ِ حال کے ذمہ دار عوام بھی ہیں جوتسلیم بھی کرتے ہیں زبان سے اظہار بھی لیکن انہوں نے ان سیاسی جماعتوں کو ایمان کا حصہ بنایا ہواہے ۔۔جب بھی کوئی یہ پو چھتاہے کسی ایک سیاستدان کا نام لو جو سیاسی دوکاندار نہیں سب بغلیں جھانکتے لگتے ہیں۔ کمال، حیرت ،افسوس اور اس سے بڑھ کریہ شرم کی بات نہیں کہ ہمارا دامن خالی ہے ہم کسی سنگل پرسن کو بھی نہیں جانتے جس کے بارے میں دل گواہی دے کہ وہ سیاستدان ہے سیاسی دوکاندارنہیں یعنی یہ ایسا قحط الرجال ہے جس کے بارے میں علامتی طورپر کہا جا سکتا ہے
قافلہ ٔ حجاز میں ایک بھی حسین ؓ نہیں

جب تک اکثریت فیصلہ نہ کرلے کہ ہم نے اس ملک میں وہ جمہوریت لانے کی کوشش کرنی ہے جس کے ثمرات سے عوام فیضیاب ہوں تبدیلی آنا ممکن ہی نہیں اس حقیقت سے بھلا انکارکیا جا سکتاہے کہ موجودہ ارکان ِ اسمبلی کوعام آدمی کے مسائل سے دلچسپی ہے نہ تعلق۔ یہ عام آدمی کے بارے میں سوچتے بھی نہیں ہوں گے بیشتر سیاستدان قومی وسائل پر قابض ہیں جبکہ عام آدمی کودووقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں بندہ پاؤ آدھا کلو گوشت لینے چلا جائے قصائی کا انداز ایسا بے رحم ہوتاہے غریب کا دل کرتاہے گوشت نہ کھائے اس سے بہتر ہے کہ زہر کھا لے ۔ ان حالات میں عمران خان نے موروثی سیاست اور کرپشن کے خلاف مورچہ سنبھالا ہواہے جبکہ شیخ الاسلام طاہر القادری اور شیخ رشید عوامی ایشوپر بات کرتے کرتے تھک گئے ہیں ہرشخص موجودہ سسٹم کے خلاف ہے لیکن اپنے اپنے سیاسی رہنماؤں کے خلاف بات کرنا اور سننا گناہ سمجھتاہے ۔ایک بات بڑی عجیب ہے شیخ رشید ،عمران خان اورطاہر القادری تینوں موجودہ سسٹم کے خلاف ہیں اول الذکر دونوں تو سسٹم کا حصہ بن چکے ہیں اور شیخ الاسلام نے حالات سے مایوس اور دل برداشتہ ہوکر چپ کا روزہ رکھ لیاہے یہ تینوں موجودہ استحصالی سسٹم کی حامی قوتوں کو ٹف ٹائم دینا بھی چاہتے ہیں لیکن ان میں بھی کوئی اشتراک ِ عمل نہیں ۔۔۔تال میل بھی نہیں ۔۔۔منصوبہ بندی نظر آرہی ہے نہ حکمت ِ عملی ۔۔۔ علیحدہ علیحدہ تنہا تنہا۔۔ کیا تبدیلی س طرح بھی لائی جا سکتی ہے حالانکہ ہم خیال قوتوں کے باہمی اشتراک سے بہت کچھ کیا جاسکتاہے کزن کی حکومت میں بھی عوامی تحریک کے شہیدوں کو انصاف نہیں ملا کسی اور کے متعلق کیا کہاجاسکتاہے مموجودہ صورت ِ حال میں بہتری نہ لائی جاسکی تو یقین سے پیش گوئی کی جاسکتی ہے عمران خان نمک کی کان میں رہتے رہتے نمک بن جائیں گے قائد اعظمؒ پھر ذوالفقارعلی بھٹو اب عمران خان کی شکل میں عوام کو روشنی کی ایک کرن نظر آئی تھی کہ تبدیلی آئے گی عمران خان ہمارے نجات دہندہ ثابت ہوں گے لیکن امیدوں کے گلاب سوکھ رہے ہیں اب یہ بات غورطلب ہے کہ ہم اتنے تہی دامن ہیں کہ ہمارے پاس تمام دکاندارہیں کام کا سیاستدان ایک بھی نہیں دور کہیں دور استاد امانت علی ۔۔انشاء جی کی غزل گارہے تھے
جس جھولی میں سو چھید ہوئے
اس دامن کا پھیلانا کیا؟
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 115 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sarwar Siddiqui

Read More Articles by Sarwar Siddiqui: 116 Articles with 26661 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: